استخارہ سنت کے مطابق کیجیے

جمع وترتیب: مفتی عمر انور بدخشانی
استاذ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

کتاب کا تعارف

بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان سنت نبوی سے جتنا دور ہوتا جاتا ہے اتنا ہی بدعات اور گمراہیوں میں گھرتا چلا جاتا ہے ، جیسے جیسے وقت گذرتا جارہا ہے اسلام کی سادہ اور آسان تعلیمات کے بارے میں بخوبی اس کا مشاہدہ بھی سامنے آرہا ہے کہ زندگی کے جس گوشے میں سنت طریقے کو چھوڑا گیا وہاں خرابیوں نے جنم لیا، پھر وہ آسان کام مشکل اور زحمت بن گیا اور اسے پورا کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت استخارہ کے ساتھ بھی اسی قسم کا معاملہ ہوتا جارہا ہے ، استخارہ کا طریقہ حدیث نبوی میں صراحت کے ساتھ موجود ہے ، لیکن عوام میں استخارہ کا آسان اور مسنون عمل شعبدہ بازی اور جادو کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے ، استخارہ کیا ہے؟ اس کی حقیقت اور مقصد کیا ہے ؟ استخارہ کب کرنا چاہیے ؟ استخارہ خود کرنا چاہیے یا کسی سے کروانا چاہیے ؟ استخارہ کے لیے کیا کوئی خاص وقت مقرر ہے ؟ پیش نظر کتاب میں استخارہ سے متعلق مذکورہ اور دیگر ضروری باتوں کو سنت نبوی اور حضرات علماء کرام کی تشریحات کی مدد سے اس کتاب میں جمع کردیا گیا ہے ، ساتھ ہی استخارہ سے متعلق مختلف قسم کی جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں ہیں ان کی بھی نشاندہی کردی گئی ہے ۔

 اللہ تعالی نے اپنے فضل اور بزرگوں کی برکت سے اسے کو بہت مقبولیت عطا فرمائی ، یہ مضمون ماہنامہ بینات جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں پہلی بار قسط وار شائع ہوا ، اس کے بعد ماہنامہ دار العلوم دیوبند، الحق دار العلوم حقانیہ ، الفاروق جامعہ فاروقیہ اور اس جیسے دیگر کئی وقیع جرائد میں بھی شائع ہوا، علاوہ ازیں گذشتہ بارہ سال سے  مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بھی بہت زیادہ پڑھا گیا ، دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین

عمرانور بدخشانی

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کے تاثرات

استخارہ مسنون عمل ہے ، حضور ﷺ ، صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کو استخارہ کی باقاعدہ تعلیم دیا کرتے تھے ، استخارہ کرنا سعادت مندی اور نہ کرنا یا اسے ترک کردینا یہ محرومی کی علامت ہے ، ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ استخارہ کا اہتمام کرنے والا ناکام نہیں ہوتا، اور مشورے کا اہتمام کرنے والے کو شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی، اس وقت امت مسلمہ کا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ وہ اس مسنون عمل سے بے خبر ہے ، دوسری طرف استخارے کے نام پر لوگوں نے کئی خرافات متعارف کروا رکھی ہیں جو سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دے کر ان سے مال ہتھیانے میں مصروف ہیں، ایسے مواقع پر اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ استخارے کی حقیقت ، اس کا مسنون طریقہ اور اس کے فوائد وثمرات کو عام فہم دینی انداز میں پیش کریں ، اس سے جہاں عوام الناس کی صحیح دینی رہنمائی ہوگی وہاں ایک سنت کا احیا بھی ہوگا، اوردین نا آشنا دور میں کسی سنت کا احیا کرنا مقام شہادت پانے کے مترادف ہے ۔

اللہ تعالی علمائے دین کو جزائے خیر عطا فرمائے انہوں نے اس موضوع پر مختصر ومفصل کئی کتابچے اور رسالے مرتب فرمائے ہیں جن سے امت فائدہ اٹھارہی ہے ، اکابر امت کے انہی علمی جواہر پاروں سے استفادہ کرتے ہوئے ہماری جامعہ کے استاذ عزیزم مولوی محمد عمر انور سلمہ نے استخارے کے موضوع پر ایک مضمون لکھا تھا جو ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، بینات کی اشاعت میں شامل ہونے کی وجہ سے اور عوام الناس کے لیے عام فہم اور سہل انداز میں ہونے کی وجہ سے یہ مضمون بہت پسند کیا گیا ، کئی معاصر رسالوں نے اسے شامل اشاعت بھی کیا ، یہ پذیرائی اس مضمون کے قابل استفادہ ہونے کی دلیل ہے ۔

عزیزم مولوی محمد عمر انور کو اللہ تعالی جزائے خیر دے انہوں نے امت کی طلب وضرورت کے پیش نظر اس مضمون کو طبع کرکے شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے ، اللہ تعالی اس مفید کوشش کو بار آورا فرمائے ، موصوف کو اس قسم کے کاموں کی مزید توفیق نصیب فرمائے اور ان کے علم وعمل میں برکت وترقی مقدر فرمائے ، آمین

ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

رئیس جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

۱۴۳۲-۴-۲۴

2,644 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!