Menu Close

تکفیر اور حق تکفیر: کیا کسی غیر مسلم کو ’’کافر‘‘ بتانا توہین ہے؟ از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

تکفیر اور حق تکفیر، غیر مسلم کو کافر کہنا

از: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

قانون فطرت

کوئی انسان خود اپنی مرض اور خواہش سے دنیا میں پیدا نہیں ہوا ہے ،اور نہ کوئی شخص اپنی خواہش اور مرضی سے دنیا سے واپس ہوتا ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی اور طاقت ہے جو انسان کو دنیا میں بھیجتی ہے ،اورایک مقررہ وقت کے بعد اسے واپس بلا لیتی ہے ، یہ کون سی طاقت ہے ؟

اس سلسلہ میں ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ سب اس فطرت کی کرشمہ سازی ہے جو پوری کائنات میں جاری وساری ہے ، جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں اور ملحد ودہریہ ہیں ، کائنات کے وجود اوراس کے بقا کے سلسلہ میں ان کا یہی نقطہ نظر ہے ۔

دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ فطرت کو پھر بھی ایک خالق کی ضرورت ہے ، جس نے مختلف چیزوں میں الگ الگ صلاحیتیں رکھی ہیں ، ایسا کیوں ہوا کہ آگ جلاتی ہے اورپانی ٹھنڈک دیتا ہے ؟ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ آگ ٹھنڈی ہوتی اور پانی گرم ہوتا ، گلاب کی فطرت میں سرخی اور موتیے کی فطرت میں سفیدی رکھی گئی ، بکری ایک مسکین طبیعت جانور ہے اور شیر درندہ صفت ، یہ اختلاف فطرت کیوں ہے ؟پھر اگر زندگی اور موت فطرت کے تابع ہوتی ہر شخص کو ایک متعینہ وقت پر ہی موت آتی ، ہر شخص ایک مقررہ وقت پر ہی باپ بنتا ، لیکن ایسا نہیں ہے ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس قانون فطرت کا بھی کوئی خالق ہے ، جس کے سامنے فطرت سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے اور پل پل اس کے حکم کی تابع دار ہے، اسی اَن دیکھے وجود کا نام ’’خدا‘‘ہے ، خدا کے ماننے والوں کے مقابلہ ،خدا کے انکار کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ معمولی اورانگلیوں پر قابل شمار رہی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا یقین بجائے خود فطرت انسانی کا ایک حصہ ہے ، دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ، قریب قریب یہ ان سب کے درمیان قدرمشترک ہے ۔

دو متضاد چیزیں بیک وقت درست نہیں ہوسکتیں

جو لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ اس بات کو بھی ماننے پر مجبور ہیں کہ ان کو اسی طریقہ کو اپناناچاہیے جو خدا کی طرف سے ان کے لیے مقرر کیا گیا ہو،کیونکہ جو کسی مشین کو بناتا اور وجود میں لاتا ہے اسی کی ہدایت کے مطابق وہ چیز استعمال بھی کی جاتی ہے ، خدا کے بتائے ہوئے طریقہ زندگی کا نام ’’دین‘‘ہے ،اوراسی کو لوگ ’’مذہب ‘‘سے بھی تعبیر کرتے ہیں،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دو متضاد چیزیں بیک وقت درست نہیں ہوسکتیں ،اگر کوئی شخص یہ کہے کہ دن ورات ایک ہی ہے ، روشنی اور اندھیرا جداگانہ حقیقتیں نہیں ہیں ، میٹھا اور نمکین ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ،تویہ بات یقینا سچائی کے خلاف ہوگی ، یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی کو میٹھا پسند ہو تو نمکین پسند کرنے والوں کو برا بھلا نہ کہے ، اگر کسی کو اندھیرا بھاتا ہو تو وہ روشنی پسند کرنے والوں سے الجھے نہیں ، لیکن یہ کہنا کہ روشنی اور اندھیرا دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے ، یقینا ایک خلاف عقل اور خلاف واقعہ بات ہوگی۔

وحدت ادیان -ایک دھوکہ

اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اصل دین ایک ہی ہے ، اسی دین کو لے کر پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام اس کائنات میں اترے،اسی کی دعوت حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہما السلام نے ، اسی نعرہ حق کو حضرت موسی اور انبیاء بنی اسرائیل علیہم السلام نے اپنے اپنے عہد میں بلند فرمایا ، ہر قوم اور ہرزبان میں اسی صراط مستقیم کی سوغات لے کر انبیاء پہنچے جس کا سلسلہ آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر مکمل ہوا

ان الدین عند اللہ الاسلام

اس لیے اسلام ’’وحدت دین‘‘ کا قائل ہے نہ کہ ’’وحدت ادیان ‘‘کا ، خدانے کھانے کے لیے الگ نالی بنائی ہے اورسانس لینے کے لیے الگ نالی ، اگر کوئی شخص سانس کی نالی میں کھانے کا لقمہ رکھ دے ،تواس کی جان کے لالے پڑجائیں گے ، اسی طرح نجات کی طرف لے جانے والا راستہ ایک ہی ہے ، یہ کہنا کہ ’’راستے الگ الگ ہیں اور منزل ایک ہی ہے‘‘ ،بظاہر ایک اچھا نعرہ معلوم ہوتا ہے ، لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ تمام دواؤں کا ایک ہی اثرہوتا ہے ۔

جو لوگ مذاہب کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں وہ دراصل مذہب کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہیں ، جو لوگ ایک خدا کو مانتے ہوں ، جو تین خداؤں پر یقین رکھتے ہوں اور جو تین کروڑ خداؤں کے سامنے سرجھکاتے ہوں ، یہ سب برابر کیسے ہوسکتے ہیں اورکیوں کر سوچاجاسکتا ہے کہ بیک وقت یہ تمام باتیں درست ہوں گی ؟جن لوگوں نے خدا کی طاقت کو مختلف لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے اورجن کے نزدیک خدا قادر مطلق ہے ، اس کی طاقت میں کوئی شریک وسہیم نہیں ، یہ دونوں سچائی پر کیسے ہوسکتے ہیں ؟اس لیے یہ کہنا کہ ’’تمام مذاہب حق ہیں ، راستے الگ الگ ہیں اورمنزل ایک ہی ہے‘‘ ، اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔

ایسی صورت میں ہر مذہب کو اپنے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے کوئی نہ کوئی تعبیر اختیار کرنی ہوتی ہے ، اس تعبیر کے لیے ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جو دوسرے مذہب پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں ، ان کے لیے اہانت آمیز لفظ استعمال کیا جائے ، جیسے ہندومذہب کی بعض کتابوں میں غیر ہندو کے لیے ’’ملیچھ‘‘(ناپاک) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، ظاہر ہے کہ یہ دوسروں کے لیے اہانت آمیز تعبیر ہوگی ، دوسری صورت یہ ہے کہ ایک تعبیر اس مذہب کے ماننے والوں کے لیے ہو اورایک اس کے نہ ماننے والوں کے لیے ، جس کا مقصد ان کے نقطہ نظر کا اظہار ہو ،اکثرآسمانی کتب میں یہی صورت اختیار کی گئی ہے ، جیسے حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو یہودا کی نسبت سے ’’یہودی ‘‘، اور حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان رکھنے والوں کو حضرت عیسی کی نسبت سے’’ عیسائی ‘‘کہاگیا اور تورات وانجیل میں اس زمانے کے اس دین حق پرایمان نہ رکھنے والوں کے لیے ’’کافر‘‘کا لفظ استعمال کیا گیا ،اور اس انکار کو ’’کفر‘‘ کہا گیا ۔

لفظ ’’کفر‘‘ کا مطلب اور قرآن کریم میں اس کا استعمال

یہی تعبیر آخری ، مکمل اورمحفوظ کتاب ہدایت قرآن مجید میں بھی اختیار کی گئی ہے ، جو لوگ اس کی تعلیمات پر یقین رکھنے والے ہیں ان کو ’’مسلم‘‘ یا ’’مؤمن‘‘ کہا گیا ، یعنی احکام اسلام کو ماننے والا اوراسلامی تعلیمات پر یقین رکھنے والا اوراس کے انکار کو ’’کفر‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیاگیا،چنانچہ قرآن مجید میں دین اسلام سے انحراف اور اس انحراف پر یقین رکھنے والوں کے لیے مختلف صیغوں میں ’’کفر‘‘اور ’’کافر‘‘ کا 494 بار استعمال کیا گیاہے ، مگر یہ کوئی نئی تعبیر نہیں ہے ۔

عربی زبان میں ’’کفر‘‘ کے اصل معنی چھپانے کے آتے ہیں ،اسی لیے رات کے لیے بھی ’’کافر‘‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے پردہ ظلمت میں لوگوں کو چھپاتی ہے ،کاشتکار چونکہ بیج کو زمین کی تہہ میں چھپاتا ہے ،اس لیے عربی زبان میں ’’کاشت کار‘‘ کو بھی بعض اوقات ’’کافر‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے (مفردات القرآن 559/2) غالبا اسی مناسبت سے یہ لفظ سمندر اور اندھیرے بادل کے لیے بھی استعمال ہوا ہے (القاموس المحیط605) کہ سمندراپنی تہوں میں کتنی ہی جمادات ونباتات کو چھپائے ہوئے ہے اور گھنابادل دھوپ اورفضا میں پائی جانے والی چیزوں کے لیے حجاب بن جاتا ہے ، اور جو شخص ناشکرا اورجذبہ شکر سے عاری ہو وہ گویا اپنے محسن کی طرف سے آنے والی نعمت کو پردہ خفا میں رکھ دیتا ہے ، اس لیے ناشکری کے لیے بھی ’’کفر‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ، خود قرآن مجید میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے (مفردات القرآن559/2)

کسی بھی زبان میں ایک لفظ کا جو حقیقی معنی ہوتا ہے ،وہ براہ راست اور بالواسطہ مناسبتوں کی وجہ سے نئے نئے پیکر میں ڈھلتا رہتا ہے ، ناشکری میں نعمتوں سے جحود وانکار کا معنی پایا جاتا تھا ، اسی مناسبت سے ’’کافر‘‘ کا معنی مطلق انکار کرنے والا قرارپایا،اورجو لوگ اسلامی عقیدہ اور نظام حیات کو نہ مانتے ہوں ان کے لیے ’’کافر‘‘اوران کی انکاری فکرکے لیے ’’کفر‘‘ کا لفظ استعمال ہونے لگا

واعظم الکفر جحود الوحدانیۃ والشریعۃ والنبوۃ ، مفردات القرآن559/2

قرآن مجید میں بھی غیر مسلموں کے لیے ’’کافر‘‘ کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ، علمائے یہود سے کہا گیا کہ تم اسلام کے اولین منکر نہ بن جاؤ

ولا تکونوا اول کافربہ

قرآن نے ایک موقع پر حج کو فرض قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو اس کو نہ مانے تو اللہ تعالی کو کوئی پرواہ نہیں 

ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین

مشرکین مکہ آخرت کے جزا وسزا کے منکر تھے،چنانچہ ان کے انکار آخرت کو قرآن میں اس طرح تعبیر کیا گیا

وھم بالآخرۃ ھم کافرون

یہاں ’’کفر‘‘کے معنی انکار اورتسلیم نہ کرنے کے ہی ہیں ، قرآن نے قیامت کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ اہل دوزخ جب شیطان پر لعنت ملامت کریں گے تو شیطان نہایت ڈھٹائی سے کہے گا کہ تم نے جو مجھ کو خدا کا شریک ٹھہرایا تھا ، میں اس کا انکار کرتا ہوں ،اس انکار کو قرآن نے ’’کفر‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے

انی کفرت بما اشرکتمون من قبل

اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے اورسحر کا انکار کرنے والے کے توحید سے منکر ہونے کو لغوی معنی میں ’’کفر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے

ولما جائھم الحق قالوا ھذا سحر وانا بہ کافرون

دیکھیے !یہاں شرک کے انکار کو نہیں ، بلکہ توحید کے انکار کو ’’کفر‘‘کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ، گویا لغت کی رو سے ’’کفر‘‘کے معنی چھپانے ، ناشکری کرنے ، انکار کرنے اورنہ ماننے کے ہوئے۔

لفظ’’کفر‘‘نقطہ نظر کا اظہار ہے

قرآن نے جو اسلام نہ قبول کرنے والوں کو ’’کافر‘‘کہا ہے ، وہ اسی معنی میں ہے کہ یہ شخص اسلامی تعلیمات کا انکار کرتا ہے ، گویا ’’کافر ‘‘کے معنی ’’غیر مسلم ‘‘کے ہوئے ، جیسے کوئی شخص ہندونہ ہو تو اس کو’’ غیر ہندو ‘‘،اورعیسائی نہ ہو تو اس کو’’ غیر عیسائی‘‘ کہا جاتا ہے ، اسی طرح جو شخص اسلام کو نہ مانتا ہو اسے ’’غیر مسلم ‘‘کہا جائے گا، عربی زبان میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ’’کافر‘‘کا لفظ ہے ، یعنی ایسا شخص جو خدا کو ایک نہ مانتا ہو اوراسلامی افکار ومعتقدات کا قائل نہ ہو ، اس میں نہ کوئی خلاف واقعہ بات ہے ، نہ کسی کی اہانت ہے ، نہ نفرت وعداوت کا اظہار ہے ، اگر کسی غیر مسلم کو مسلمان زبردستی ’’مسلمان ‘‘ کہتے ، جیسا کہ ہمارے ہندو بھائی ان لوگوں کو بھی ہندو کہنے پر مصرہیں ،جو پوری وضاحت وصراحت اوراصرار کے ساتھ اپنے ہندو ہونے کا انکار کرتے ہیں ، تویہ یقینا ان کی توہین کی بات ہوتی ، پس حقیقت یہ ہے کہ اگر اس لفظ کے معنی پر غور کیا جائے تو جن لوگوں کے لیے یہ تعبیر اختیار کی جارہی ہے ، ان کے لیے یہ تعبیر محض ان کے نقطہ نظر کا اظہار ہے ، نہ کہ یہ عداوت ونفرت پر ابھارنے والی تعبیر ہے ۔

کیا ایک کافر کے لیے لفظ ’’کفر‘‘ میں توہین اور تمسخر ہے؟

پھر غور کیجیے کہ قرآن مجید میں زیادہ تراہل مکہ کو ’’کافر‘‘کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے ،اگر اس تعبیر میں توہین اورتمسخر مقصود ہوتا توعرب جو اس زبان کے رمز آشنا اورذوق ادب کے حامل تھے ، وہ اس پر معترض ہوتے ، لیکن اہل مکہ کی طرف سے کوئی ایسا احتجاج سامنے نہیں آیا،بلکہ خود غیر مسلم اپنے کافر ہونے کا اقرار واعتراف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ تم جو پیغام لے کر آئے ہو ہم اس سے نفرت کرتے ہیں 

انا بما ارسلتم بہ کافرون

عجیب بات ہے کہ اس وقت اسلام کے خلاف مغربی میڈیا اور سنگھ پریوار نے جو بے جا شورش شروع کررکھی ہے ، وہ ایسی تیز آندھی کی طرح ہے کہ اس میں ارنے والے خس وخاشاک کو بھی لوگوں نے گل وثمر سمجھ رکھا ہے اوردنیا آنکھ بند کرکے اس پر آمین کہتی جاتی ہے ، سنگھ پریوار کے لوگ تو اپنے تعصب اور جہالت میں اس قسم کی بے معنی باتیں کہتے ہی رہتے ہیں ، پچھلے دنوں بمبئی کی ایک عدالت کا جو فیصلہ سامنے آیا ، وہ نہایت حیرت کا باعث ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی مقصود کو سمجھے اوراس کی مناسب تحقیق کیے بغیراس کو توہین آمیز اور نفرت انگیز تعبیر قرار دے دیا گیا ، کسی مسلمان کو ’’کافر‘‘کہنا تویقینا اس کی توہین ہے ،کیونکہ یہ اس دعوی اسلام کو جھٹلانے کے مترادف ہے ،لیکن جو شخص مسلمان نہ ہو اس کو کافر کہنا ایک سچائی کااظہار ہے نہ کہ توہین ۔

حوالہ: اسلام اور جدید فکری مسائل، از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسی موضوع پر مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

178 Views
Posted in Beliefs, Fatwa, Islamic Beliefs, Urdu, عقیدہ و کلام

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!