Menu Close

ذو الحجہ کے پہلے دس دن قربانی کرنے والے کے لئے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم کیوں ہے؟ مفتی محمد تقی عثمانی

ذو الحجہ کے پہلے دس دن قربانی کرنے والے کے لئے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم کیوں ہے؟

ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی جو حکم سب سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوجاتا ہے وہ ایک عجیب وغریب حکم ہے، وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کسی کو قربانی کرنی ہو تو جس وقت وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھے اس کی بعد اس کے لئے بال کاٹنا او رناخن کاٹنا درست نہیں، چونکہ یہ حکم نبی کریمﷺ سے منقول ہے اس واسطے اس عمل کو مستحب قرار دیا گیا ہے کہ آدمی اپنے ناخن اور بال اس وقت تک نہ کاٹے جب تک قربانی نہ کرلے۔(ابن ماجہ، کتاب الاضاحی)۔

بظاہر یہ حکم بڑا عجیب وغریب معلوم ہوتا ہے کہ چاند دیکھ کربال اور ناخن کاٹنے سے منع کردیا گیا ہے، لیکن بات دراصل یہ ہے کہ ان ایام میں اللہ تعالیٰ نے حج کی عظیم الشان عبادت مقرر فرمائی اور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد الحمدللہ اس وقت اس عبادت سے بہر اندوز ہوتی ہے، ان دنوں وہاں یہ حال ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ کے اندر ایک ایسا مقنا طیس لگا ہوا ہے جو چاروں طرف سے فرزندان توحید کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے، ہر لمحے ہزاروں افراد اطراف عالم سے وہاں پہنچ رہے ہیں اور بیت اللہ کے اردگرد جمع ہورہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو حج بیت اللہ کی ادائیگی کی یہ سعادت بخشی ہے، ان حضرات کے لئے یہ حکم ہے کہ جب وہ بیت اللہ شریف کی طرف جائیں تو وہ بیت اللہ کی وردی یعنی احرام پہن کر جائیں اور پھر احرام کے اندر شریعت نے بہت سی پابندیاں عائد کردیں، مثلاً یہ کہ سلا ہوا کپڑا نہیں پہن سکتے، خوشبو نہیں لگاسکتے، منہ نہیں ڈھانپ سکتے وغیرہ وغیرہ، ان میں سے ایک پابندی یہ ہے بال اور ناخن نہیں کاٹ سکتے۔

حضور سرورعالم ﷺ نے ہم پر اور ان لوگوں پر جو بیت اللہ کی پاس حاضر نہیں ہیں اور حج بیت اللہ کی عبادت میں شریک نہیں ہیں، اللہ تعالی کے کرم کو متوجہ فرمانے اور ان کی رحمت کا مورد بنانے کے لئے یہ فرمادیا کہ ان حجاج بیت اللہ کے ساتھ تھوڑی سی مشابہت اختیار کر لو، تھوڑی سی ان کی شباہت اپنے اندر پیدا کرلو اور جس طرح وہ بال نہیں کاٹ رہے ہیں تم بھی مت کاٹو، یہ ان اللہ کے بندوں کے ساتھ شباہت پید ا کردی جو اس وقت حج بیت اللہ کی عظیم سعادت سے بہراندوز ہورہے ہیں۔

ہماے حضرت ڈاکٹر محمد عبدالحئی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمتیں بہانے ڈھونڈتی ہیں، جب ہمیں یہ حکم دیا کہ ان کی مشابہت اختیار کر لو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر جو رحمتیں نازل فرمانا منظور ہے اس کا کچھ حصہ تمہیں بھی عطا فرمانا چاہتے ہیں تاکہ جس وقت عرفات کے میدان میں اللہ کے بندوں پر رحمت کی بارشیں برسیں اس کی بدلی کا کوئی ٹکڑا ہم پر بھی رحمت برسادے تو یہ شباہت پیدا کرنا بھی بڑی نعمت ہے اور حضرت مجذوب صاحبؒ کا یہ شعر بکثرت پڑھا کرتے تھے کہ:

تیرے محبوب کی یارب شباہت لے کر آیا ہوں

حقیقت اسکو تو کردے میں صورت لیکر آیا ہوں

کیا بعید ہے کہ اللہ اس صورت کی برکت سے حقیقت میں نزل فرمادے اور اس کی رحمت کی جو گھٹائیں وہاں برسیں گی انشاء اللہ ہم اور آپ اس سے محروم نہیں رہیں گے۔

ہمارے حضرت والا رحمہ اللہ کا مذاق یہ تھا کہ فرماتے تھے کہ کیا اللہ تبارک وتعالی اس بنا پر محروم فرمادیں گے کہ ایک شخص کے پاس جانے کے لیے پیسے نہیں ہیں ؟ کیا اس واسطے اس کو عرفات کی رحمت سے محروم فرمادیں گے کہ اس کو حالات نے جانے کی اجازت نہیں دی ، اور اس واسطے وہ نہیں جاسکا؟ایسا نہیں ہے ، بلکہ اللہ تبارک وتعالی ہمیں اور آپ کو بھی اس رحمت میں شامل فرمانا چاہتے ہیں ، البتہ تھوڑی سی توجہ اور دھیان کی بات ہے ، بس تھوڑی سی فکر اور توجہ کرلو کہ میں تھوڑی سے شباہت پیدا کررہا ہوں ، اور اپنی صورت تھوڑی سی اس جیسی بنارہا ہوں ، تو پھر اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل سے ہمیں بھی اس رحمت میں شامل فرمادیں گے ، ان شا ء اللہ تعالی۔

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

1,673 Views
Posted in Urdu, اسلامی قانون و فقہ

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!