Menu Close

قربانی یا گوشت ضائع کرنے کے بجائے غریب کی مدد کرنے میں کیا حرج ہے ؟ از مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ

qurbani karny aur goosht zaya karny kay bajay ghareeb ki madad karna

قربانی کے بجائے پیسے خیرات کرنا

سوال

اگر کوئی شخص قربانی دینے کا ارادہ رکھتا ہو ،اور وہ قربانی کے پیسوں سے قربانی دینے کے بجائے کسی مستحق (غریب) شخص کی خدمت کرے ،جس کو واقعتا ضرورت ہو تو کیا قربانی کا ثواب مل جائے گا یا قربانی کا ثواب صرف قربانی ہی سے ملتا ہے؟ یاد رہے کہ قربانی دینے والا ویسے اس غریب شخص کی خدمت نہیں کرسکتا۔

جواب

جس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہو، اس کے ذمہ قربانی کرنا ہی ضروری ہے۔ غریبوں کو پیسے دینے سے قربانی کا ثواب نہیں ہوگا، بلکہ یہ شخص (واجب قربانی چھوڑنے کی وجہ سے) گناہ گار ہوگا۔ اور جس کے ذمہ قربانی واجب نہیں اس کو اختیار ہے، خواہ قربانی کرے یا غریبوں کو پیسے دیدے، لیکن دُوسری صورت میں قربانی کا ثواب نہیں ہوگا، صدقے کا ثواب ہوگا۔

کیا قربانی کا گوشت خراب کرنے کے بجائے اتنی رقم صدقہ کردیں ؟

سوال

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ عیدِ قربان کے موقع پر مسلمان قربانی کے جانور ذبح کرتے ہیں اور یوں اکثر لوگ گوشت زیادہ یا خراب ہونے کی وجہ سے نالیوں میں ضائع کردیتے ہیں، مختصر یہ کہ یوں پھینک دیتے ہیں، کیا اگر کوئی انسان چاہے تو قربانی کے جانور جتنی رقم کسی شخص کو بطور امداد دے سکتا ہے؟ کیا یہ اسلامی نقطہٴ نظر سے دُرست ہے؟

جواب

قربانی اہل استطاعت(صاحب نصاب) پر واجب ہے، قربانی کے بجائے اتنی رقم صدقہ کردینے سے یہ واجب ادا نہیں ہوتا، بلکہ قربانی کرنا ہی ضروری ہے۔ گوشت کو ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ کی بے شمار مخلوق ہے، خود نہ کھاسکے تو دُوسروں کو دےدے۔

سنن الترمذی، فضل الأضحیۃ، رقم الحدیث: 1493 :عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ’’ما عمل آدمی من عمل یوم النحر أحب إلی اللّٰہ من إھراق الدم

سنن الدارقطنی، باب الصید والذبائح والأطعمۃ، رقم الحدیث: 34 : عن ابن عباسؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’ماأنفقت الورق فی شییٔ أفضل من نحیرۃ فی یوم العید‘‘

سنن ابن ماجه (2/ 1044):عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا

وفی البدائع الصنائع 66/5: ومنھا أن لا یقوم غیرھا مقامھا حتی لو تصدق بعین الشاۃ أو قیمتھا فی الوقت لا یجزیہ عن الأضحیۃ ، لأن الواجب تعلق بالإراقۃ ، والأصل أن الوجوب إذا تعلق بفعل معین أنہ لا یقوم غیرہ مقامہ کما فی الصلاۃ والصوم وغیرھما، شامی 320/6

فی رد المحتار 6/313 کتاب الأضحیۃ : (قولہ أی إراقۃ الدم) قال فی الجوھرۃ : والدلیل علی أنھا الإراقۃ لو تصدق بین الحیوان لم یجز ، والتصدق بلحمھا بعد الذبح مستحب

و فی رد المحتار 6/313 کتاب الأضحیۃ : ھی ذبح حیوان مخصوص بنیۃ القربۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال فی البدائع : فلا تجزی التضحیۃ بدونھا ، لأن الذبح قد یکون للحم ۔۔۔۔ الخ

آپ کے مسائل اور ان کا حل ، جلد پنجم

یہی مسئلہ انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

828 Views
Posted in Urdu, اسلامی قانون و فقہ

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!