Menu Close

وقت کے تقاضے اور علماء، تجدّد پسندوں کا اِسلام و عیسائیت اور علماء و پوپ کے درمیان غلط موازنہ، از مفتی محمد تقی عثمانی

وقت کے تقاضے اور علماء، تجدّد پسندوں کا اِسلام و عیسائیت اور علماء و پوپ کے درمیان غلط موازنہ

عنوان بندی: مفتی عمر انور بدخشانی

وقت کے تقاضے

’’علماء کو وقت کے تقاضوں کے ساتھ چلنا چاہیے‘‘ ، یہ وہ نعرہ ہے جو ہم اورآپ تقریبا ہر روز کسی نئے اسلوب کے ساتھ سن لیتے ہیں ، ہمارے بہت سے قومی رہنما اس جملے کو بار بار دہراتے ہیں ،اور اب تو ہماری اعلی سطحی محفلوں میں جب کبھی کوئی دینی بحث آتی ہے تو اس جملے کی صدائے بازگشت ضرور سنائی دیتی ہے ،ہمارے ملک کا ایک طبقہ جو جدت پسندی کی آڑ میں اسلام کے متفقہ اصول واحکام پر عمل جراحی کرنے میں مصروف ہے ، علماء حق کو اپنی راہ کا سب سے بڑا سنگ گراں سمجھتا ہے ، وہ اپنی سب سے بڑی کامیابی اس میں سمجھتا ہے کہ علماء کو جس رخ اور جس تدبیر سے ہوسکے متہم اوربدنام کیا جائے ، اس لیے اس نے ’’تقاضائے وقت‘‘ کے مبہم جملے کو جدید ذہنوں کے مسحور کرنے کا اچھا طلسم سمجھ کر اختیار کیا ہے ،اوراسی کا سہارا لے کر وہ قوم اور اصحاب اقتدار سے آئے دن یہ اپیلیں کرتا رہتا ہے کہ علماء ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ، اس لیے وہ قابل گردن زدنی ہیں ،اور ان کی کوئی بات قابل التفات نہیں ۔

ان لوگوں کا معاملہ تو ہم اللہ پر چھوڑتے ہیں ، جس سے کسی دل کا کوئی بھید پوشیدہ نہیں ، لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں پورے خلوص، دیانت اور سنجیدگی کے ساتھ علماء پر یہ بدگمانی ہے کہ وہ عہد حاضر کے تقاضوں سے بے خبر ہیں ، اور اسی بے خبری کے نتیجے میں ہر نئی چیز کی مخالفت کرتے ہیں ، آج کی محفل میں ہم ایسے ہی حضرات سے کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اس گفتگو سے پہلے ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر وہ واقعتا سچے دل سے اسلام اور مسلمانوں کے بہی خواہ ہیں تو اس معاملے پر نہایت ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غور کریں ،اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے ذہن کو محض جذباتی نعروں کی گرفت سے آزاد کرکے یہ سوچنے کی کوشش فرمائیں کہ ’’وقت کے تقاضوں ‘‘ کا کیا مطلب ہے ؟انہیں پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟اوراس سلسلے میں علماء پر جو الزامات عائد کیے جارہے ہیں ،واقعات کی دنیا میں ان کی کیا حقیقت ہے ؟

وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا کیا مطلب ہے ؟

سب سے پہلے متعین کرنے کی بات یہ ہے کہ ’’وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے‘‘ کا مطلب کیا ہے ؟ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دن رات وقت کے تقاضوں کی اہمیت کا درس دینے میں مصروف ہیں ، خود ان کے ذہن میں ان تقاضوں کا کوئی واضح تصور نہیں ہے ، وہ ہمیشہ یہ مبہم نعرے لگاتے آئے ہیں کہ علماء وقت کے تقاضوں کے مخالف ہیں ،لیکن انہوں نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ آخر وہ کون سے تقاضے ہیں ، جن کی مخالفت پر علماء نے کمر باندھ رکھی ہے ؟اگر وقت کے تقاضوں کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی کے ان تمام وسائل سے آراستہ ہونے کی کوشش کریں جن کے بغیر موجودہ دنیا میں آزادی کا سانس لینا ممکن نہیں رہا ، تو بلاشبہ یہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ،لیکن خدا کے لیے کوئی ہمیں یہ بتلائے کہ وہ کون سا عالم دین ہے جس نے وقت کے اس تقاضے کو ناجائز بتلایا ہے ؟کس عالم نے کب یہ فتوی دیا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی کوشش حرام ، ناجائز ،لایعنی یا بے کار ہے ؟ماضی قریب میں سائنس نے کیسی کیسی حیرت انگیز ترقیاں کی ہیں ،خود ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے نت نئی ایجادات کے کتنے انبار لگ گئے ہیں، ان میں سے کتنی ایجادات ہیں جن کی علماء کی طرف سے مخالفت کی گئی ہو ؟بجلی ، تار، ٹیلی فون ، ٹیلی پرنٹر، وائر لیس ریڈیو، ٹرانزسٹر، ٹیپ ریکارڈر، کاریں ، موٹریں، ہوائی اور دخانی جہاز، ریل گاڑیاں ، حربی سامان میں ٹینک ، توپیں ، انواع واقسام کے بم ،لڑاکا طیارے ، آبدوز کشتیاں ، راکٹ، میزائل ، ریڈار، صنعت میں طرح طرح کی مشینیں اورکارخانے ، زراعت میں ٹریکٹر ، کیمیاوی کھاد، جراثیم کش دوائیں ، طب میں جراحت کے ترقی یافتہ آلات ، تشخیص کے لیے ایکسریز اوراسکرین کی مشینیں ، علم وہنرمیں صنعت وتجارت ، سائنس ،حساب ، ریاضی، جغرافیہ ، فلکیات ، معاشیات ، سیاسیات کے ترقی یافتہ علوم وفنون ، ان میں سے کون سی چیز ہے جس کی علماء نے مخالفت کی ،یا اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہوں ؟

بہتان:کس عالم دین نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی مخالفت یا ممانعت کی ؟

خود ہمارے ترقی پذیر ملک کی بیس سالہ تاریخ ہمارے سامنے ہے ،اس عرصے میں علماء حق اور تمام دینی ومذہبی طبقات کی خواہشات کے عین مطابق ہمارا ملک الحمد للہ مادی اور معاشی ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا کہیں سے کہیں پہنچ گیا ہے ، کتنے عظیم معاشی منصوبے اس عرصے میں تکمیل تک پہنچے ، بڑے بڑے کارخانے بنے ، وسیع وعریض سڑکیں تعمیر ہوئیں ، آب پاشی کے لیے کتنی نہریں نکالی گئیں ، دریاؤں پر بڑے بڑے بند باندھے گئے ، مواصلات کا فرسودہ نظام رفتہ رفتہ بدلا گیا ، مختلف علوم وفنون کے کالج اور یونی ورسٹیاں وجود میں آئیں ، بے شمار بنجر علاقوں کو زیر کاشت لایاگیا ، آخر کون عقل سے کورا اِنسان ہے جو ان ترقیات سے ناخوش ہو؟ خدا کے لیے کسی ایک عالم دین کا نام بتایے جس نے یہ کہا ہو کہ مادی ترقی کے یہ راستے اختیار نہ کرو، اپنے ملک میں ماہر سائنس دانوں کو پیدا نہ کرو، لوگوں کو انجینئرنگ کی اعلی تعلیم نہ دلواو، کارخانے نہ بناؤ، سڑکیں ، پل ،نہریں اور بند تعمیر نہ کرو، ملک کے دفاع کے لیے ترقی یافتہ اسلحہ تیار کرنے کی کوشش نہ کرو، فوجوں کو جدید مشینی جنگ کی اعلی تربیت نہ دو ، مواصلات کے ترقی یافتہ ذرائع اختیار مت کرو، یا نئے علوم وفنون کی تعلیم وتربیت بند کردو؟

اگر یہ باتیں کسی عالم دین نے نہیں کیں ،اور ظاہر ہے کہ کون کہہ سکتا ہے ؟تو پھر علمائے حق پر اس بے سروپابہتان کی بغض وعداوت کے سوا اور کیا تاویل کی جاسکتی ہے ؟ہمیں تو بحمد اللہ !علمائے حق کے طبقے میں ایسے بے شمار علماء معلوم ہیں جن کی امنگوں اور آرزوؤں کا مرکز پاکستان ہے ، اوران کے دل کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اسلام کے صراط مستقیم پر گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ مادی اعتبار سے بھی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے ، یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات علماء ایک طرف تو مسلمانوں کو یہ تاکید کرتے آئے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ماہرانہ تحصیل ہمارے فرائض کا ایک اہم جز ہے ، اور اگر ہم نے اپنے اس فریضے میں کوتاہی کی تو ہم اللہ کے حضور مجرم ہوں گے ، دوسری طرف ان کی شبانہ روز دعائیں اسی کام کے لیے وقف ہیں جس کو صرف علیم وخبیر جانتا ہے ۔

جولوگ طبقہ علماء کے جلیل القدر رہنماؤں کے ارشادات وتحریریں پڑھتے رہتے ہیں ان پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ علماء نے نہ صرف یہ کہ کبھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں کی ، بلکہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کو اس کی ترغیب بھی دیتے رہے ہیں ، اس کے باوجود ایک طبقہ ہے جو شب وروز یہ راگ الاپتا رہتا ہے کہ علماء ترقیات کے مخالف ہیں ، انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی سے چڑ ہے ، وہ وقت کے تقاضوں کو اہمیت نہیں دیتے ،اور وہ ہر نئی چیز کے دشمن ہیں ۔

جھوٹ کے مبلغ گوبلزکے فلسفہ پر عمل

جھوٹ کے سب سے زیادہ ہوشیار مبلغ گوبلز نے سچ کہا تھا کہ اگر جھوٹ کو شدت کے ساتھ پھیلایاجائے تودنیا اسے سچ سمجھنے لگتی ہے ، ہمارے ’’جدت پسند‘‘ حضرات گوبلز کے اس مقولے پر عمل کرتے رہے ہیں ، یہاں تک کہ اب بہت سے اچھے خاصے پڑھے لکھے اور سنجیدہ لوگ بھی ان کے اس نعرے کو سچ سمجھنے لگے ہیں ، حالانکہ یہ وہ سفید جھوٹ ہے جس سے بڑھ کر شاید کوئی اور جھوٹ ماضی قریب میں پروپیگنڈا کی مشینریوں نے تیار نہ کیا ہو۔

ہاں ! اگر یہ حضرات رقص وموسیقی ، فحاشی وعریانی ، بے پردگی وآوارگی ، مخلوط تعلیم اور زن ومرد کے آزادانہ اختلاط ، سودی نظام بینکاری اور ضبط ولادت جیسی چیزوں کو وقت کے تقاضے اور ترقی کے اسباب سمجھتے ہیں تو بلاشبہ علمائے حق نے ہمیشہ ان چیزوں کی کھل کر مخالفت کی ہے ،انہیں کرنی ہی چاہیے تھی ، اب بھی کرتے ہیں ، اورآئندہ بھی کرتے رہیں گے ، لیکن خدا کے لیے ہمیں یہ بتلائیں کہ عقل وخرد کی کون سی منطق ان چیزوں کو وقت کا تقاضا اور ترقی کا سبب قرار دیتی ہے ؟

جدید مہلک ترقی پر خود مغربی دنیا کا اضطراب اور بے چینی

جو حضرات ان چیزوں کو وقت کے تقاضے سمجھتے ہیں ، ہم انہیں چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کسی معقول دلیل کے ساتھ یہ بتلائیں کہ آخر رقص وموسیقی اور مادی ترقی میں کیا جوڑ ہے ؟فحاشی اور عریانی کے بغیر کونسی ترقی رک جاتی ہے ؟بے پردگی اور مخلوط تعلیم سے سائنس اور ٹیکنالوجی کو کیا مدد ملتی ہے ؟اوربینکاری کو غیر سودی نظام پر چلانے سے معاشی ترقی کی راہ میں کون سی رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے ۔

آپ رقص وموسیقی ، بے پردگی اور مخلوط مجالس جیسی چیزوں کو وقت کے تقاضے قرار دیتے ہیں ،لیکن حالات کے پیش نظر ہمارا اعتقاد تو یہ ہے کہ آج وقت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی تقاضا نہیں ہے کہ عالم اسلام ان تمام چیزوں کا پوری جرات کے ساتھ قلع قمع کرڈالے ، اس لیے کہ ان چیزوں کی ہلاکت آفرینیاں جس قدر اس بیسویں صدی میں ظاہر ہوئی اتنی پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں، خود وہ مغرب جس کی تقلید کے شوق میں آپ ان چیزوں کو وقت کے تقاضے سمجھ رہے ہیں آج اپنی اس خام کاری پر بری طرح مضطرب اور بے چین ہے ، آج دنیا کوئی پڑھا لکھا انسان اس چیخ وپکار سے بے خبر نہیں ہوسکتا جو ان اشیاء کی تباہ کاریوں پر مغرب کے اہل فکر میں مچ رہی ہیں، پھر خدا را آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ وقت کا تقاضا کیا ہے ؟آیا یہ کہ عالم اسلام بھی مغرب کے ان نقوش قدم پر چلتا ہوا اخلاقی تباہی کے اس مہیب غار میں جاگرے ؟یا یہ کہ مغرب کے اس ہولناک انجام سے سبق لے کر ہمیشہ کے لیے اس خطرناک راستے سے توبہ کرلے ؟

مغربی تہذیب کی ان لعنتوں کو وقت کے تقاضے اور ترقی کے اسباب قرار دینے والا طبقہ اپنے آپ کو ’’جدت پسند‘‘ کہتا ہے ، لیکن حیرت کی بات ہے کہ فکر وعمل کے میدان میں وہ مغرب کے ان ہی فرسودہ نظریات کا پرچار کررہا ہے جنہوں نے مغرب کو سلگتے ہوئے داغوں کے سوا کچھ نہیں دیا، جن لوگوں کی نظر جدید حالات پر ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے ان پرانے نظریات کے بارے میں مغرب کا انداز فکر کتنی تیزی سے بدل رہا ہے ، اور ان تمام موضوعات پر فلسفہ اور سائنس کی نئی تحقیقات کیا ثابت کررہی ہیں؟ مثال کے طور پر ایک مسئلہ آبادی ہی کو لے لیجیے ، جدید ماہرین معاشیات کی ایک بھاری تعداد تحدید نسل اور ضبط ولادت کی مخالف ہے اوراس کے پاس دلائل کا جو تازہ ترین ذخیرہ ہے اس سے متاثر ہوکر ایسے ماہرین معاشیات کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، مگر ہمارے ’’جدت پسند‘‘ ہیں کہ ابھی تک مالتبس کے اسی دقیانوسی نظریے کو سینے سے لگائے ہوئے چلے آرہے ہیں ، جسے پھینک کر زمانہ دو سو برس آگے نکل چکا ہے ۔

ہمارے جدت پسند طبقے رقص وموسیقی، بے پردگی ، مخلوط تعلیم اور مغربی طرز معاشرت جیسی چیزوں کو ترقی کا سبب قرار دیتے ہیں اور ملا کی تعلیمات کو تنزل کا، لیکن ذرا گوش ہوش کے ساتھ سنیے ، علامہ اقبالؒ کیا فرماتے ہیں :

قوت مغرب نہ از چنگ ورباب
نے زرقص ودختران بے حجاب
نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے زعریاں ساق ونے از قطع موت
محکمی اورا نہ از لادینی است
نے فروغش از خط لاطینی است
قوت افرنگ از علم وفن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع وبرید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست

الزام اوربہتان کی وجہ :اسلام کو عیسائیت پر اور عالم اسلام کو مغرب پر قیاس کرنا(پاپائیت)

اس گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے جدت پسند حضرات ، علماء پر وقت کے تقاضوں اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی مخالفت کا جو الزام عائد کرتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے ؟یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ’’جدت پسند‘‘ طبقہ اس انتہائی غیر معقول بات کو اس قدر شد ومد کےساتھ کیوں پھیلارہاہے؟ اس کی اصل وجہ تو خود اسی کو معلوم ہوگی ، جہاں تک ہم نے غور کیا اگر اس پروپیگنڈے کی پشت پر کچھ مخصوص مفادات نہیں تو درحقیقت اس کے پیچھے ایک نفسیاتی عامل کار فرماہے ، ہمارے جدت پسند طبقے کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اسلام کو عیسائیت پر اور عالم اسلام کو مغرب پر قیاس کررہا ہے ، اس نے یہ دیکھا کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے وقت وہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عیسائیت اور اس کے علماء تھے ، جب تک مغرب پر ان کی بالادستی پوری طرح قائم رہی مغرب کا پورا خطہ جہالت کی اندھیریوں میں بھٹکتا رہا ، انہوں نے اپنی سیادت کے دور میں ہر اس تحریک کو زبردستی کچلنے کی کوشش کی جو عوام میں علمی بیداری پیدا کرنے کے لیے کھڑی ہوئی،جان ہس اورجیروم جیسے لوگوں کو کانٹنس کے شہر میں زندہ جلایاگیا ، گلیلیو جیسے سائنس دانوں کو اس بنا پر مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ سائنس کے میدان میں نئی راہیں کھولنا چاہتے تھے ، لیکن رفتہ رفتہ بیداری کی یہ تحریکیں ہر طرف سے اٹھنی شروع ہوئیں ، اور تشدد ان کی راہ نہ روک سکا ، بالآخر مارٹن لوتھر، جان کالون اور زونگلی جیسے لوگوں نے ہمت کرکے پاپائیت کے اس سنگ گراں کو راستے سے ہٹایا اوران تحریکوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کیے ، پھر آخری دور میں روسو، ہارنیک اور رینان جیسے تجدد پسندوں نے مذہب میں مزید تبدیلیاں کرکے اسے عصر حاضر کی سائنٹیفک تحقیقات کے بالکل مطابق بنادیا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ مغرب کے مذہب پسند طبقوں میں لوتھر، کالون ،روسو اور ہارنیک جیسے لوگوں کو ’’مصلحین ‘‘ کا خطاب ملاہوا ہے ، انہیں قومی ہیرو تسلیم کیا جاتا ہے ، اور نئی نسل کے جو لوگ مذہب سے بالکل ہی بیگانہ نہیں ہوئے انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے عیسائی مذہب میں بنیادی تبدیلیاں کرکے قوم کو اس پاپائی تسلط سے نجات دلائی جو ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔

تجدد پسندوں کی غلطی :اسلام کو عیسائیت اور علماء کو پوپ پر قیاس کرنا (پاپائیت)

اب عالم اسلام کے تجدد پسند اسلام کو عیسائیت پر قیاس کرکے اس میں بھی اس قسم کی ترمیمات کرنا چاہتے ہیں ، وہ اسلام کو عیسائیت کے ، علمائے اسلام کو پوپ صاحبان کے ،اوراپنے آپ کو لوتھر اور روسو کے قائم مقام سمجھتےہیں ، اس تصور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ علمائے اسلام کی مخالفت کرکے اس امت کے مصلح بننا چاہتے ہیں ، ان کا خیال یہ ہے کہ عنقریب کوئی ہنری ہشتم اٹھے گا اور ان کے ان نظریات کو سرکاری طور پر سند قبول عطا کرکے ہمیشہ کے لیے نافذ کردے گا، اورآنے والی نسلیں ان کی اس روش پر اسی طرح عقیدت ومحبت کے پھول نچھاور کریں گی جس طرح موجودہ مغربی نسل لوتھر، کالون، زونگلی، روسو، ہارنیک اور رینان پر نچھاور کررہی ہیں ۔

مگر ہمارا خیال یہ ہے کہ انہیں بڑا ہی زبردست مغالطہ لگا ہے ،اور ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہونے والا نہیں ہے ، انہوں نے اسلام کو عیسائیت پر اور علماء کو پوپ صاحبان پر قیاس کرکے بڑی سخت غلطی کی ہے ، عیسائی مذہب کا جو غیر فطری تصور تیسری صدی عیسویں کے بعد عام ہوگیا تھا ،اس میں ہرگز اتنی سکت نہ تھی کہ وہ قیامت تک زمانے کا ساتھ دیتا رہے ، اور زمانے کی نو بہ نو سائنٹیفک تحقیقات سے آنکھیں ملاسکے ، وہ جہالت اورتوہم پرستی کی تاریکی تھی ، جس کا علم کی روشنی کے سامنے ٹھہرنا ممکن ہی نہ تھا ، اس لیے سائنس اس کے لیے ایک زبردست خطرہ بن کر سامنے آئی ، اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا کہ وہ یا تو سائنس کی کھل کر مخالفت کریں ،یا اپنے مذہب کو چیڑپھاڑ کر اس قابل بنائیں کہ وہ سائنس کی جدید تحقیقات کا ساتھ دے سکے ، ان کے پوپ صاحبان نے ابتدا میں پہلا راستہ اختیار کرکے سائنس کو شجرہ ممنوعہ قرار دے دیا ، لیکن سائنس اس زمانے کی حقیقی ضرورت تھی ، اور محض بلادلیل دعوے اس کا راستہ نہیں روک سکتے تھے ، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی یہ کوشش ناکام ہوگئی ۔

اس مرحلے پر تجدد پسندوں نے دوسرا راستہ اختیار کرکے مذہب میں ترمیم وتغیر شروع کی ، اوراسے کھینچ تان کر اس قابل بنادیا کہ وہ کم از کم عہد جدید کے انسان کے سامنے ایک اضحوکہ نہ بن سکے ، یہ بلاشبہ عیسائی مذہب پر ان کا ایک احسان تھا،اور اگر وہ یہ احسان نہ کرتے تو یہ مذہب عقلیت پسندی کے سیلاب میں کبھی کا بہہ چکا ہوتا ، اورآج اس کا نام ونشان بھی موجود نہ ہوتا، عیسائی تجدد پسندوں کی کاریگری سے عیسائی مذہب کو یہ فائدہ ہوا کہ اگرچہ اس کے بنیادی نظریات بالکل بدل گئے ، لیکن کم از کم اس کا نام اورظاہری ڈھانچہ آج بھی باقی ہے ، عیسائیت پر تجدد پسندوں کا یہی وہ احسان ہے جس نے انہیں اپنی قوم کا ہیرو بنایا، اورجس کی وجہ سے بیشتر عیسائی دنیا انہیں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔

اسلام اور عیسائیت میں واضح اور بنیادی فرق

لیکن اسلام کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ، وہ دین فطرت ہے ،اور قیام قیامت تک زندہ رہنے کے لیے آیا ہے ، اس میں اپنی قدیم اور اصلی تعبیرات کے باوصف ہرزمانے اور ہر دور کی تحقیقات کے ساتھ قدم ملاکر چلنے کی پوری صلاحیت ہے ، اس لیے سائنس اس کے لیے نہ کبھی خطرہ بنی ہے نہ بنے گی ، بلکہ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ سائنس کی نئی نئی تحقیقات عام طور سے ان کے معتقدات اور تعلیمات کو اور بے غبار کردیتی ہیں ، اس لیے نہ اسے سائنس کی مخالفت کرنے کی ضرورت ہے نہ اپنے آپ کو بدلنے کی ، یہی وجہ ہے کہ علمائے اسلام نے کبھی پوپ صاحبان کی طرح سائنس کی مخالفت نہیں کی ، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ انسانی معلومات میں جتنا جتنا اضافہ ہوگا اسلام کے بیان کردہ حقائق اور نکھریں گے ،اورچونکہ امت اسلامیہ یقین رکھتی ہے کہ اسلام اللہ کا بنایا ہوا دین ہے اسے کسی زمانے میں بدلنے کی ضرورت نہیں ، اس لیے اس نے ہمیشہ اس دین میں ترمیم وتحریف کی کوششوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھاہے ۔

اسلام :عیسائیت کی طرح بے جان یا مردہ نہیں 

خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو اسلام عیسائیت کی طرح بے جان مذہب ہے جسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقیات سے کچھ خطرہ ہو، نہ علمائے اسلام نے پوپ صاحبان کی طرح کبھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی مخالفت کی ہے ، اور نہ اس دین کو اپنی بقا کے لیے کسی مارٹن لوتھر یا روسو اور رینان کی ضرورت ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس دین کی تاریخ میں جتنے لوگوں نے تجدد یا ترمیم وتحریف کی کوششیں کی ہیں انہیں مذمت اورملامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکا، اس دین کی تاریخ میں تجدد اورترمیم وتحریف کی تحریک اٹھانے والے لوتھر اور کالون نہیں کہلائے ، ہماری تاریخ کے اہل تجدد کا نام مسیلمہ ، عبد اللہ بن سبا، ابو موسی مزدار، حسن بن صباح ، قرمط، ابو الفضل ،فیضی اور کمال اتاترک رہا ہے ،جن میں سے بیشتر کی اولاد بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے شرماتی ہوگی ، لوتھراور کالون کی مخالفت کرنے والوں کا نام آج اکثر عیسائیوں میں بری طرح لیا جاتا ہے ، لیکن تاریخ اسلام میں اہل تجدد کے مخالفین ابوبکر صدیقؓ ، علی بن ابی طالب ؓ ، احمد بن حنبلؒ ، محمود غزنویؒ اورمجدد الف ثانی ؒ اپنے ناموں سے آج بھی زندہ جاوید ہیں ، اور جب تک انسانیت کا ضمیر زندہ ہے ان مقدس ہستیوں پر عقیدت ومحبت کے پھول نچھاور کرنے والے ان شاء اللہ باقی رہیں گے ۔

افسوس ہے کہ ہمارے موجودہ تجدد پسند حضرات اسلام اور عیسائیت کے اس عظیم فرق کو نہیں سمجھ پارہے ہیں اور اس غلط فہمی کے نتیجے میں علمائے اسلام کو برا بھلا کہنے ، ان کی مخالفت کرنے ، ان پر بہتان باندھنے اور الزامات عائد کرنے میں مصروف ہیں ، ہم پوری خیر خواہی اور درد مندی کے ساتھ ان سے یہ گذارش کرتے ہیں کہ وہ نہایت ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ اپنی اس روش پر نظر ثانی کریں ، ورنہ جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ کسی طرح بھی اسلام اور مسلمانوں کے لیے ملک وملت کے لیے اورخود ان کے لیے اچھا نہیں ہے :

کیں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است

کاش ! کہ ہماری یہ گذارشات ان پر کوئی مفید اثر چھوڑ سکیں!

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

64 Views
Posted in Urdu, اسلام اور عصر حاضر

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!