اسلامی قانون شہادت میں خواتین کا کردار اور منکرین قرآن وحدیث ، از مفتی ولی حسن ٹونکیؒ

عناوین: مفتی عمر انور بدخشانی

تعارف: اسلام اورخواتین کی شہادت کے مسئلہ کو بعض لادینی عناصر اور کچھ ماڈرن خیال کے اسکالرز نے نہایت بے دردی سے تختہ مشق بنایا ، منکرین حدیث ، مغرب زدہ طبقہ اور ہمارے بعض فاضل وکلاء کے اخبارات وجرائد میں چھپنے والے ایسے مضامین میں اٹھائے گئے نکات اور غلط تاویلات کی ،مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے تحقیقی جائزہ لینے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ، یہ مضمون ماہنامہ الحق مارچ ۱۹۸۳ء میں شائع ہوا ۔

دعوی اور شہادت – تمہید

’’دعوی ‘‘کے سلسلہ میں اسلام کے قانون اور ضابطہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مدعی جب اپنا دعوی قاضی کے سامنے پیش کرتا ہے تو قاضی سب سے پہلے شرائط قبول دعوی کی جانچ پڑتال کرکے یہ دیکھتا ہے کہ دعوی قبول کرنے کے لائق ہے یا نہیں ؟اگر دعوی لائق قبول ہوتا ہے تو قاضی سماعت کے لیے دعوی قبول کرلیتا ہے ، تاریخی پیشی پر مدعی اور مدعا علیہ حاضر ہوتے ہیں ، مدعی دعوی پیش کرتا ہے ،مدعا علیہ اگر اقرار کرلیتا ہے تو مدعی کا دعوی ثابت ہوجاتا ہے ،مدعی علیہ کے انکار کی صورت میں مدعی سے شرعی ثبوت طلب کیا جاتا ہے ۔

شرعی ثبوت کا سب سے مؤثر ذریعہ ’’شہادت ‘‘ہے ،قرآن کریم نے شہادت کی بعض شرائط (گواہوں کی تعداد)دو مرد نہ ہونے کی صورت میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت کو معیار ثبوت قرار دیا ہے ، مدعی علیہ اگرگواہوں پر کوئی اعتراض نہ کرے یا گواہوں کی ’’عدالت‘‘ واضح ہوتو قاضی مدعی کے حق میں فیصلہ کردیتا ہے ، ورنہ قاضی گواہوں کا ’’تزکیہ‘‘ کراتا ہے ، تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ قاضی ان کی عدالت، صلاح کے بارے میں محلہ یا گاؤںکے معتبر اور قابل وثوق شخص سے ان کی شہرت ،دینی حالت ، مسجد میں نماز پڑھنے کی کیفیت ، کبائر سے پرہیز اور سچائی کی عادت کے متعلق معلومات حاصل کرتا ہے ، پھر ان معلومات کی روشنی میں مقدمہ کا فیصلہ کرتا ہے ، اگر گواہ عادل اور صالح قرار پاتے ہیں تو مدعی اپنے دعوی میں کامیاب قرار پاتا ہے ،ورنہ دعوی خارج کردیا جاتا ہے ۔

شہادت کے چند مرحلے

شہادت کے چند مراحل ہیں :
۱-تحمل: یعنی واقعہ کے وقت موجود ہو ،کسی امر کو دیکھنا یا سننا۔
۲-حفظ: دیکھے ہوئے سنے ہوئے امر کو یاد رکھنا۔
۳-اداء:یعنی جیسے دیکھا تھا یا سنا تھا اسے بلاکم وکاست قاضی کے سامنے بیان کرنا۔

قانون شہادت کے متعلق قرآن کریم کی چند ہدایات

قرآن کریم نے سب سے پہلے تو گواہوں کو یہ ہدایت کی:

ولا یأب الشھداء إذا مادعوا(البقرۃ)۔

گواہوں کو جب شہادت کے لیے بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔

یعنی اگر کوئی شخص یا چند اشخاص کسی معاملہ میں گواہ ہیں تو انہیں مدعی کے طلب کرنے پر یا بعض صورتوں میں قاضی کی طلب پر شہادت دینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ پیشی کے وقت حاضر ہونا چاہیے ۔

دوسری ہدایت قرآن کریم کی طرف سے یہ ہے :

ولا تکتموا الشھادۃ ، ومن یکتمھا فإنہ آثم قلبہ واللہ بما تعملون علیم(البقرۃ)۔

شہادت کو مت چھپاؤ اور جو اس کو چھپائے گا تو اس کا دل گناہ گارہوگا، اللہ تعالی تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہے ۔

یعنی گواہوں کو دوسری اہم تنبیہ یہ کی کہ جیسا دیکھا ہے یا سنا ہے اسے بلاکم وکاست بیان کردینا چاہیے ،گواہی کو تبدیل کرنے یا اس کو چھپانے سے صرف زبان ہی گناہ گار نہیں ہوگی ،بلکہ دل جو سارے اعضاء کا رئیس اورحیات ظاہری وباطنی کا محور ومرکز ہے گناہ آلودہوجائے گا۔

دل کو گناہوں سے اس طرح بار بار آلودہ کرنا موت قلب کا باعث ہوتا ہے ، جیسا کہ ایک صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ ’’بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑجاتا ہے ، بندہ اگر توبہ کرلے تو داغ مٹ جاتا ہے ، ورنہ وہ داغ پھیلتے پھیلتے دوسرے متواترگناہوں سے مل کر موت قلب کا باعث ہوجاتا ہے ‘‘،یہ فرماکر رسول اکرم ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی :

کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون(المطففین)۔

یہ بات نہیں ہے ،بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے ، ان کے شامت اعمال کی وجہ سے ۔

مجھے ڈر ہے اے دل زندہ کہ تو نہ مرجائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

پھر گواہی کے اخفا یا تبدیل کرنے میں ایک دوسرا گناہ بھی ہے کہ صاحب حق یعنی مدعی کے حق کا ضیاع ہے جو پہلے گناہ سے کسی طرح کم نہیں ہے، اسلام کے نظام عدل کا ایک اہم مقصد احیاء حقوق ہے ، یعنی ہر متنفس کی داد رسی اور اس کے ضائع شدہ حقوق میں امداد وتعاون تاکہ حق حقدار کو پہنچے اورغاصب خائب وخاسر ہو۔

قرآن کریم نے گواہوں کے بارے میں مزید ایک شرط یہ بیان فرمائی ہے :

ممن ترضون من الشھداء(البقرۃ)۔

ان گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔

پسندیدہ گواہوں سے کون مراد ہیں ؟ سورہ الطلاق کی آیت اس کی تشریح کرتی ہے :

وأشھدوا ذوی عدل منکم وأقیموا الشھادۃ للہ ذلکم یوعظ بہ من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا(الطلاق)۔

اوراپنے میں سے دو معتبرگواہ کرلیا کرو اورشہادت کو صحیح اور درست طریقہ پر گواہی کو ادا کرو اللہ کے واسطے ، اس نصیحت کے مخاطب وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالی اورآخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنادیتا ہے ۔

یہ آیت کریمہ سورہ بقرہ کی آیت کی شرح کررہی ہے کہ پسندیدہ گواہ سے مراد عادل گواہ ہیں ۔

دوسری ہدایت جو آیت کریمہ دیتی ہے کہ شہادت کو صحت اور سچائی سے ادا کیا کرو، تغیر وتبدل اور غلط طریقہ سے شہادت دینا اہل ایمان کا شیوہ نہیں ہے :

یا ایھا الذین امنوا کونوا قوامین للہ شھداء بالقسط ولا یجرمنکم شناٰن قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ھو أقرب للتقوی(المائدۃ)۔

اے ایمان والو! کھڑے ہوجایاکرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کے لیے انصاف کے ساتھ ، کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے انصاف کو ہرگز مت چھوڑو ، عدل وانصاف کرو ،یہی تقوی کے زیادہ قریب ہے ۔

اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو عدل وانصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہادت دینے کا حکم دیاگیا ہے ،بلکہ عدل وانصاف کے ساتھ شہادت کے علم بردار بننے کی تلقین کی گئی ہے ، دشمنی اور عداوت کی صورت میں بھی عدل وانصاف کا دامن نہ چھوڑنے کا حکم دیاگیا۔

شہادت کے چار مختلف درجے

آیات مبارکہ کے علاوہ جب احادیث کی طرف آتے ہیں تو کثرت سے اس باب میں احادیث وارد ہوئی ہیں فقہاء کرام نے ان ہی آیات واحادیث کو سامنے رکھ کر شہادت کے مختلف درجات قائم کیے اور احکام منضبط کیے ہیں ۔

شہادت کا پہلادرجہ: زنا اوربدکاری کے مقدمہ میں عورت کی گواہی کا حکم

اس میں چار مردوں کی شہادت معتبر ہوگی ، عورتوں کی شہادت غیر معتبر ہے ،اس سلسلہ میں مردوں کی شہادت ضروری ہے ،قرآن کریم میں ارشاد ہے :

فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم (النساء)۔

اور ان پر اپنوں میں سے چار گواہ بناؤ۔

سورۃ النور میں اس کی مزید وضاحت ہے :

لولا جاءوا علیہ باربعۃ شھداءفاذ لم یأتوا بالشھداء فاؤلئک عند اللہ ھم الکاذبون(النور)۔

یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے ، جب یہ لوگ اس پر چار گواہ نہ لاسکے تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے نزدیک جھوٹے ہیں ۔

یہاں ’’اربعۃ‘‘ سے چار مرد گواہ مراد ہیں ، عورتیں داخل نہیں ، کیونکہ عدد میں ’’مذکر‘‘کے لیے ’’مؤنث‘‘استعمال ہوتا ہے اور ’’مؤنث‘‘کے لیے ’’مذکر‘‘۔

رسول اکرم ﷺ ،حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہما کے زمانہ خیر سے طریقہ جاری ہوا کہ عورتوں کی شہادت حدود میں ناقابل قبول ہوگی ، محدث کبیر ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :

حدثنا حفص عن حججاج عن الزھری قال مضت السنۃ من رسول اللہ ﷺ والخلیفتین من بعدہ ان لا تجوز شھادۃ النساء فی الحدود

امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی سنت یہی ہے کہ عورتوں کی شہادت حدود میں جائز نہیں ۔

اسی طرح محدث عبدالرزاق اپنے ’’مصنف‘‘ میں روایت کرتے ہیں :

ان علی ابن ابی طالب قال لاتجوزشھادۃ النساء فی الحدود والدماء(بحوالہ نصب الرایۃ للزیلعی،ص۷۹)۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدود اور قصاص میں عورتوں کی شہادت جائز نہیں ہے ۔

امام شعبی، ابراہیم نخعی ، حسن بصری ، ضحاک رحمہم اللہ بیان کرتے ہیں کہ عورتوں کی شہادت حدود اور قصاص میں جائز نہیں ہے ، ان تمام حضرات کے آثار واقوال اس امر پر شاہدعدل ہیں کہ امت کا تعامل اسی پر رہا کہ عورتوں کی شہادت حدود وقصاص میں جائز نہیں ہے ، امام ابن شہاب زہری کے اثر میں حضرت صدیق اکبر ،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی جو تخصیص ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف ان دونوں حضرات کے نزدیک یہ حکم تھا ، بعدکے خلفاء اور علماء کے نزدیک یہ حکم نہیں تھا ، حضرات شیخینؓ کی تخصیص کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام ابن الہمام ؒ فرماتے ہیں :

وتخصیص الخلیفتین یعنی ابابکر وعمر رضی اللہ عنھما لأنھما اللذان کان معظم تقریر الشرع وطرق الأحکام فی زمانھما وبعدھما ما کان من غیرھما إلا الاتباع(ایضا)۔

ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ شریعت کے اہم احکام ان دونوں حضرات کے زمانہ میں تقریر پذیرہوئے اوراس کے بعد کے زمانہ میں صرف پیروی اور تقلید رہی ۔

زنا وبدکاری کے مقدمہ میں خواتین کی شہادت اور منکرین قرآن وحدیث

’’أربعۃ منکم‘‘ چار مردوں کے بارے میں صریح نص ہے ، قرآن حکیم جب سے نازل ہوا ہے سب نے اس سے یہی سمجھا ہے،لیکن اب منکرین حدیث کا ٹولہ جو درحقیقت منکر قرآن بھی ہے ، قرآن کی اس آیت میں عورتوں کو داخل کرنے کی کوشش کررہا ہے ، حالانکہ ’’منکم ‘‘ کاصیغہ مردوں کے لیے حقیقت ہے اور عورتوں کے لیے مجاز ہے ، حقیقت اصل ہے ، مجاز صرف اس وقت لیا جاتا ہے جب حقیقت شرعا وعرفا متعذر ہو اور سورہ بقرہ کی آیت نے جب مالی معاملات میں عورتوں کی شہادت دو مردوں کی شہادت نہ ہونے کی صورت میں قبول کرنے کا حکم دیا تواس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہاں صرف حقیقت مراد ہے ، مجازمراد نہیں ہے ، بلاشبہ قرآن مجید کے بعض خطابات میں عورتیں مردوں کے تابع ہوکر داخل ہوتی ہیں ،مگر صرف اس وقت جب آیت مطلق ہے ، اور دوسری جگہ اس کے خلاف قرینہ نہ ہو ، اورجب یہاں پر دوسری آیت عورتوں کی شہادت کو صرف مالی معاملات ، نکاح اور طلاق کے معاملات تک محدود کررہی ہے تو اس آیت میں عورتیں قطعا داخل نہیں ہوں گی ۔

منکرین قرآن وحدیث کی اسلامی علوم سے ناواقفیت اور جہالت

یہ امر بھی دل چسپی سے خالی نہیں کہ منکرین حدیث وفقہ کا یہ ٹولہ جو اجتہاد کا مدعی ہے نہ صرف ونحو، لغت اور اصول فقہ سے واقف ہے اور نہ اصول اجتہادسے ، ڈیڑھ سو سال تک انگریزوں کی حکومت کے زیر سایہ یہ حضرات اور ان کے والدین زندگی بسر کرتے رہے ، انگریزی اسکولوں ،کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے فرنگی زدہ ماحول میں تعلیم حاصل کی ، سرسید ، پرویز ، عمر احمد عثمانی کی خوشہ چینی کرتے رہے ، حدیث رسول سے انکار ان کا شیوہ رہا ، نہ اجماع امت اوراس کے مراتب کو جانا ، نہ قیاس کے طرق اوراس کے ارکان سے واقفیت حاصل کی ، نہ علت قیاس کی صلاحیت اور نہ عدالت کا عرفان حاصل کیا ، ساری عمر انگریزی طرز کی عدالتوں کے چکر لگاتے رہے ، اور اب حضرات چلے ہیں ابوبکر ،عمر ، عثمان ،علی ، عبد اللہ بن مسعود ، معاذ بن جبل، عائشہ، سعید بن المسیب ، سعید بن جبیر ، ابن شہاب زہری، قاضی شریح ، عامر شعبی ،ابوحنیفہ، مالک ، شافعی ، احمد بن حنبل ، صاحب ہدایہ ، سرخسی ، ابن الہمام ، نووی ، ابن قدامہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقابلہ کرنے کے لیے اوراپنے خود ساختہ اجتہادات سے قرآن کریم پر خامہ فرسائی کرنے کے لیے :

قیاس کن زگلستان من بہار مرا

انگریز کا قانون ان کے رگ وپے میں خون کی طرح گردشش کررہا ہے ، دستور اور قانون کی تعبیرات کا حق توججوں کودیتے ہیں ،لیکن قرآن کی تعبیر وتشریح کا حق نہ محمد رسول اللہ ﷺ کو دیتے ہیں، نہ ان کے کبار صحابہ ، نہ تابعین عظام اور نہ آئمہ کرام کو ، حالانکہ محمد رسول اللہ ﷺ پر قرآن کریم نازل ہوا ہے اور قرآن کریم کی تصریح کے مطابق قرآن کے مجملات کا بیان اور ان کی وضاحت آنحضرت ﷺ کا فرض منصبی ہے ، صحابہ کرام جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بلا واسطہ تلمیذ اور آپ کے انفاس قدسیہ کو جذب کرنے والے ، نزول قرآن کے مواقع کا مشاہدہ کرنے والے ، ان کے نزدیک قرآن مجید کی تشریح وتفسیر کے مستحق نہیں ہیں ،اسی طرح تابعین وائمہ جنہوں نے علوم اسلامیہ ودینیہ میں اپنی عمریں فنا کردیں ، آزاد فضا میں غلامی اوراس کے آثار سے دور رہ کر قرآن وحدیث پر غوروفکرکرکے فقہ کے نام سے اس قدر پڑی علمی میراث چھوڑی، ان کے خیال میں اس علمی میراث(فقہ) کو دریا برد کرکے شرائط اجتہاد کے بغیر علوم دینیہ وعربیہ سے عاری حضرات کی تحقیق انیق کو حرز جان بنایاجائے ، یہ حضرات اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ قانون شہادت کا مسئلہ قرآن وحدیث سے بیگانہ اور لارڈ میکالے کی قانونی موشگافیوں سے سرشار ججوں کی عدالتوں میں پیش کیاجائے ، جن کے مبلغ علم کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ کسی چھوٹے سے عائلی دعوے کا فیصلہ اسلامی قانون وضابطہ کے مطابق ان کی عدالتوں سے نہیں ہوتا ،کبھی صرف مدعیہ سے حلف نامہ لے کر فیصلہ کردیا جاتا ہے ، قضا علی الغائب کے قانون وضابطہ سے ناواقف ہیں ، طرفہ تماشا یہ ہے کہ عورت کو ایک حلف نامہ داخل کرنے پر خود مختاری دے دی جاتی ہے ، ان کی عدالتوں میں سو پچاس گواہ ہیں جو ہر مقدمہ میں گواہ ہوتے ہیں جن کو بآسانی پیسوں سے خریدا جاتا ہے ، وکیل کا دفترجھوٹے مقدمات بنانے کی فیکٹری ہے ، اسی لیے یہ لوگ گواہوں کے ’’تزکیہ‘‘ کے مخالف ہیں ، کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ تزکیہ سے بہت حد تک حقیقی گواہ اور پیشہ ور گواہوں کے درمیان خط تمیز قائم ہوجائے گا۔

اوپر کی تصریحات اور قرآن مجید کی آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ بدکاری کے مقدمہ میں چار گواہوں کی شرط اجتہادی مسئلہ نہیں بلکہ منصوص من القرآن ہے ۔

ایک دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ حضرات عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص کی تعریفات تک سے واقف نہیں ہیں ، جو قرآن کو سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں ، حالانکہ خود ان کے قانون کی تعبیر اور استنباط کے لیے اصول مقرر ہیں جس پر اب کتابیں بھی آگئی ہیں ۔

سورۃ البقرۃ کی آیت کے ’’اشارۃ النص‘‘ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عورتوں کی شہادت اصل نہیں ،بلکہ بدل ہے ، امام ابن الہمام ؒفرماتے ہیں :

ولأن فیہ شبھۃ البدلیۃ ولذا لا تقبل فیھا الشھادۃ علی الشھادۃ وذالک لأن قولہ تعالی فإن لم یکونا رجلین ،الآیۃ، ظاھرہ أنہ لا تقبل شھادتھن إلا عند عدم رجال یشھدون، وقد روی عن بعض العلماء ذالک فاعتبر حقیقۃ البدلیۃ لکن لما لم یکن ذلک معمولا بہ عند أھل الإجماع نزلت إلی الشبھۃ البدلیۃ والشبھۃ کالحقیقۃ فیما یندرئ بالشبھات(فتح القدیر ،ج۶ص۶)۔

کیونکہ اس میں بدلیت کا شبہ ہے ،اس لیے اس میں شہادت علی الشہادۃ قبول نہیں کی جاتی ،اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمانــ:’’اگر دو مرد نہ ہوں ‘‘الخ اس سے ظاہر یہی ہے کہ عورتوں کی شہادت مردوں کے نہ ہونے کی صورت میں قبول کی جائے گی ، اوریہ امر بعض علماء سے مروی ہے اس لیے حقیقت بدلیت کا اعتبار کیا گیا ، البتہ چونکہ یہ بات اہل اجماع کے نزدیک معمول بہ نہیں ہے (یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ عورتوں کی شہادت مردوں کے ہوتے ہوئے بالکل قبول نہ کی جاتی ، مگر ایسا نہیں ہے ،بلکہ مرد کے ساتھ عورتوں کی شہادت قبول ہوتی ہے ) تو اس کو شبہ بدلیت قرار دیا گیا ،اس بنا پر جن مقدمات میں شبہ کا فائدہ دیا جاتا ہے ان میں عورتوں کی شہادت قبول نہیں کی جاتی ،کیونکہ اس قسم کے مقدمات میں شبہ بھی حقیقت کی طرح عمل کرتا ہے ۔

مقدمات کی دو قسمیں

بات یہ ہے کہ دو قسم کے مقدمات ہیں :
۱-ایک وہ قسم جن میں شبہ کا فائدہ دیا جاتا ہے ،جیسے حدود وقصاص کہ ان میں پیغمبر ﷺ کی ہدایت ہے کہ ’’حدود وقصاص میں شبہ کا فائدہ دو‘‘ اس لیے ان میں شبہ بدلیت کی بنا پر عورتوں کی شہادت قبول نہیں کی جاتی۔
۲-دوسری قسم وہ مقدمات جو باوجود شبہات کے ثابت ہوجاتے ہیں ،مثلا نکاح ، طلاق، مالی مقدمات وغیرہ ، ان میں عورتوں کی شہادت قبول ہوجاتی ہے ، ان میں شبہ کا فائدہ دینے کا حکم نہیں ہے ، اس فقہی دقیقہ سنجی کو نہ سطحی ذہن قبول کرتا ہے ،اورنہ اس کی بلندیوں کا علوم عربیہ ودینیہ سے عاری ذہن ادراک کرسکتا ہے ۔

عبد القادر عودہ نے بالکل صحیح لکھا ہے :
’’رومن لاء جب بلند ہوتا ہے تو فقہاء کے معمولی مسئلہ کے برابر بھی نہیں ہوتا ، اور جب فقہ اپنی بلندیوں پر پہنچ کر بام عروج کے دائرہ میں داخل ہوتی ہے تو قانون کے خوگر اس کے ادراک سے عاجز ہوجاتے ہیں ،فرحم اللہ من انصف۔

شہادت کا دوسرا درجہ : بدکاری کے علاوہ دیگر حدود وقصاص کے مقدمہ میں عورت کی گواہی کا حکم

دوسرا درجہ شہادت کا بدکاری کے علاوہ دوسرے حدود وقصاص ہیں ان میں بھی عورتوں کی شہادت قبول نہیں کی جاتی ، اس کی وجوہات پچھلی سطور میں بیان کی جاچکی ہیں ۔

شہادت کا تیسرا درجہ: نکاح ، طلاق اوردیگر مالی مقدمات میں عورت کی گواہی کا حکم

تیسرا درجہ نکاح ، طلاق کے مقدمات اور دوسرے مالی مقدمات ہیں کہ ان میں عورتوں کی شہادت اس طرح قبول کی جاتی ہے کہ ایک مرد کے ساتھ دو عورتیں ہوں ، اس سلسلہ میں سورۃ البقرۃ کی آیت صریح نص ہے ، امام شافعیؒ کے نزدیک نکاح وطلاق کے مقدمات میں بھی عورتوں کی شہادت قبول نہیں کی جاتی ، صاحب ہدایہ نے اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل دلیل دی ہے :

نقصان عقل ، اختلال ضبط ، قصور ولایت ،اس کے جواب میں صاحب ہدایہ نے کہاہے کہ ان میں مشاہدہ ، ضبط،اداء تینوں اوصاف پائے جاتے ہیں ہیں ، اسی لیے نکاح ، طلاق وغیرہ میں ان کی شہادت قبول کرلی جاتی ہے ۔

ہدایہ کی اسی دلیل کو عمر احمد عثمانی نے ’’فقہ القرآن‘‘ میں بلا حوالہ نقل کیا ہے ، ایم آر ڈی والوں کا پہلا بیان جو اخبار میں شائع ہواتھا اس میں ’’فقہ القرآن‘‘ سے ہی نقل کیا گیا تھا ،لیکن یہ خیانت کی کہ ہدایہ کی پوری دلیل نقل نہیں کی ، ہدایہ میں تو یہ بھی مذکور ہے :

ونقصان الضبط بزیادۃ النسیان انجبر بضم الاخری فلم یبق بعد ذالک الا الشبہۃ فلذا لا تقبل فیما یندرئ بالشبھات وھذہ الحقوق تثبت مع الشبھات(ھدایہ ، ج۳، ص ۱۵۵)۔

زیادہ بھولنے کی وجہ سے جو ضبط میں کمی تھی وہ دوسری عورت کے ملانے سے پوری ہوگئی ،اب اس کے بعد صرف شبہ باقی رہ گیا ،اسی لیے عورتوں کی شہادت شبہ کا فائدہ دیے جانے والے مقدمات میں قبول نہیں ہوتی ، نکاح ،طلاق ایسے معاملات ہیں جن میں شبہ کا فائدہ نہیں دیاجاتا۔

سورۃ البقرۃ کی آیت کریمہ قطعی نص ہے ، تعجب ہے کہ اس آیت قرآن کا انکار کرکے اوراس میں غلط تاویل کرکے کس طرح ایک شخص ایمان بالقرآن کا دعوی کرسکتا ہے ، خصوصا اس وقت جبکہ جمہور امت کا اس پر اتفاق واجماع بھی ہو اور اسلام کے ہر دور میں اس پر تعامل وتوارث بھی ہو، پہلے آیت کریمہ کو سامنے رکھیے :

واستشھدوا شھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان ممن ترضون من الشھداء ان تضل احداھما فتذکر احداھما الاخری(البقرۃ)۔

اورگواہ کرو دو مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جو پسندیدہ ہوں کہ اگرایک بھول جائے تو دوسری یاد دلائے ۔

امام ابوبکر جصاص رازیؒ نے اس مسئلہ پر کوئی اختلاف نقل نہیں کیا ،بلکہ اتفاق نقل کیا ہے ،’’تزکیہ شہود‘‘ پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اسے قرآن کریم کی آیات سے ثابت کیا ہے ۔(ملاحظہ ہو احکام القرآن ،ج۱۱، ص۵۰۶)۔

شیخ ابوبکر ابن العربی نے اس آیت پر بڑی عمدہ بحث کی ہے ،انہوں نے بھی کوئی اختلاف نقل نہیں کیا ،بلکہ بعض اشکالات کے جوابات بھی دیے ۔

ایک اشکال یہ ہوسکتا تھا کہ ایک ہی عورت پر اکتفا کیاجانا چاہیے ،کیونکہ بھولنے کی صورت میں اس کے ساتھ جو مرد ہے وہ اسے یاد دلادیتا ہے ،اس کا جواب انہی کے الفاظ میں سنیے:

فالجواب فیہ ان اللہ سبحانہ شرع ما أراد وھو أعلم بالحکمۃ و أوفی بالمصلحۃ ولیس یلزم أن یعلم الخلق وجوہ الحکمۃ وأنواع المصالح فی الأحکام وقد أشار علماءنا أنہ لو ذکرھا إذا نسیت لکانت شھادۃ واحدۃ فإذا کانت امرأتین وذکرت احداھما کانت شھادتھما شھادۃ رجل واحد کالرجل یستذکر فی نفسہ فیتذکر(احکام القرآن ابن العربی ، ج ۱،ص۲۵۵)۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی جس طرح چاہتا ہے شریعت نازل کرتا ہے ، مخلوق حکمت کے وجوہ اور احکام کی مصلحتیں نہیں جانتی ، ہمارے علماء نے اشارہ کیا ہے کہ ایک عورت کی صورت میں اگر مرد یاد دلائے تو عورت کی شہادت معتبر نہیں ہوگی ، یہ ایک مرد کی شہادت ہی شمار ہوگی ، جب دو عورتوں کی صورت میں ایک دوسری کو یاد دلائے تب دونوں کی شہادت ایک مرد کی طرح معتبر ہوگی ،جیسے ایک شخص اپنے دل میں شہادت کو یاد کرے اور شہادت یاد آجائے ۔

مسئلہ ’’السابعۃ وعشرون‘‘ کے عنوان سے ایک اور نفیس بحث کی ہے ،فرماتے ہیں کہ :آیت کریمہ میں لفظ ’’احداھما‘‘ کو مکرر کیوں کیا ؟ان تضل احداھما فتذکرہا الاخری فرمادیتے ! اس کا جواب دیا اگر ایسا ہوتا تو صرف ایک عورت کی شہادت ہوتی ،اسی طرح ’’فتذکر ھاالاخری‘‘ تو بیان ایک ہی طرف سے ہوتا ،کیونکہ یاد رکھنے والی کو یاد دلادیتی ، ’’احداھما‘‘ کے تکرار سے یہ فائدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کو بتائیں ، شہادت کے کچھ حصہ کو ایک یاد دلائے ،اور کچھ حصہ دوسری یاد دلائے ،یعنی دونوں ایک دوسرے کو یاد دلائیں ۔

مطلب یہ ہے کہ دونوں عورتیں مل کر ایک مرد کے برابر ہوں گی ،ایسا نہیں ہے کہ ایک عورت اصل ہو اور دوسری عورت تابع ومہمل ہو جس طرح یہ حضرات سمجھ رہے ہیں ۔

امام شافعیؒ کی والدہ کا واقعہ جس کو ایک صاحب نے اپنے انٹرویو میں نقل کیا ہے وہ اسی کا مؤید ہے کہ قاضی نے امام شافعیؒ کی والدہ کو الگ بیان لینے کے لیے بلایا،لیکن موصوفہ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے اپنی ساتھی عورت کو ساتھ رکھنے کا حکم دیا ہے ، اس لیے میں بیان دیتے وقت اسے ساتھ رکھوں گی ، آپ کو میرا یہ حق سلب کرنے کا حق نہیں ہے ۔

انہی صاحب نے اپنے انٹرویومیں یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی ہے کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے ،حالانکہ یہ مسئلہ قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہے ،اوراس قسم کے مسائل میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا، موسوعۃ الفقہ الاسلامی جلد ۱۲، ص ۶۲پر ہے :

واتفقوا علی قبول شھادۃ النساء مع الرجال فی الأموال اخذا من ھذہ الآیۃ

تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ عورتوں کی شہادت مردوں کے ساتھ مالی مقدمات میں اس آیت کی وجہ سے قبول کی جائے گی ۔

خواتین کی گواہی کا مسئلہ ہمیشہ سے متفقہ چلا آرہا ہے

انٹرویو محولہ بالا میں یہ بھی تاثر دیا گیا ہے کہ عورتوں کی شہادت کا مسئلہ شروع میں بھی مختلف فیہ رہا ہے ، اس سلسلہ میں مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیا گیا ہے ، مصنف عبد الرزاق ج۸، ص ۳۲۹ پر ایک باب ملتا ہے :’’باب ھل تجوز شھادۃ النساء مع الرجال فی الحدود وغیرہ‘‘پورے باب کے پڑھنے سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ تنہا عورتوں کی گواہی مرد کے بغیر عام مقدمات میں قبول نہیں کی جائے گی ، نکاح ،طلاق ،عتق اس قسم کے مسائل میں عورتوں کی شہادت قبول کی جائے گی ، دوسرے اقوال اس قسم کے بھی ملتے ہیں کہ طلاق میں قبول نہیں کی جائے گی ۔

حدود اور زنا کے بارے میں ایک دو شاذ قول ملتے ہیں ، ایک قول کے بعد تو ’’را‘‘ یا ’’منہ‘‘ (یہ صرف ان کی رائے ہے )کے الفاظ بھی ملتے ہیں ،تنہا عورتوں کی شہادت کے بارے میں کوئی شاذ قول بھی نہیں ہے ، بلکہ مصحح اور صاحب تعلیق کی طرف سے ابن حجرعسقلانیؒ کا یہ قول بھی قابل ملاحظہ ہے :

عن ابن المنذر أجمع العلماء علی القول بظاھر ھذہ الآیۃ ، فأجازوا شھادۃ النساء مع الرجال وخص الجمھور ذالک بالدیون والأموال ، وقالوا لا تجوز شھادتھن فی الحدود والقصاص واختلفوا فی النکاح والطلاق والنسب والولاء فمنعھا الجمھور وأجازہ الکوفیون(الفتح الباری،ج۵، ص۱۶۸ بحوالہ حاشیہ مصنف عبد الرزاق ،ج۸ ،ﷺ ۳۲۹)۔

ابن المنذر نے اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے سب نے اتفاق کیا ہے کہ عورتوں کی شہادت مردوں کے ساتھ جائز ہے ، جمہور اسے دیون اور اموال کے ساتھ خاص کرتے ہیں ، اسی طرح سب کا اتفاق ہے کہ عورتوں کی شہادت حدود وقصاص میں جائز نہیں ہے ، نکاح ،طلاق ، نسب ولاء وغیرہ میں اختلاف ہے ،جمہور کے نزدیک جائز نہیں ،مگر کوفیوں کے نزدیک جائز ہے ۔

انٹرویو نگار نے یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ’’اخبار القضاۃ‘‘ میں قاضی شریحؒ کے تذکرہ میں تحریر ہے کہ موصوف نے تنہاعورت کی گواہی قبول کی ،یہ بات بھی غلط ہے ۔

کتاب مذکور ص ۲۳۴،ج ۲ پر مشہور تابعی مسروق اور شریح کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ دونوں تنہا عورتوں کی شہادت بچہ کی پیدائش کے وقت اس کی زندگی وموت کے متعلق قبول کرتے تھے ، اور ان کی یہ شہادت جائز قرار دیتے تھے ، یہ شہادت کا چوتھا درجہ ہے جس میں عورتوں کی تنہا شہادت قبول کی جاتی ہے ۔

دوسرا مسئلہ شاید یہ ہو:

عن محمد أن رجلین اختصما إلی شریح وادعیا شھادۃ امرأۃ ورضیا بقولھا وأرسل إلیھا وجیئ بھا فسألھا فقضی بینھما بقولھا(اخبار القضاۃ ،ج۲، ص ۳۵۹)۔

دو شخصوں نے شریح کے ہاں دعوی دائرکیا اور دونوں نے ایک عورت کی شہادت کا دعوی کیا ، دونوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی ، چنانچہ عورت کو بلایا گیا ،اس کا بیان لیا گیا اوراس کے بیان پر فیصلہ کیا گیا ۔

یہ دعوی کی صورت ہی نہیں ، بلکہ تحکیم کی صورت ہے ،دوسرے یہ کہ مدعی اور مدعی علیہ اس کے بیان پر متفق تھے ، یہ نزاعی مقدمہ کا واقعہ ہی نہیں ہے ، اگر مدعی علیہ انکار کرتا ،پھر عورت کی شہادت پر فیصلہ کیا جاتا تب تو کچھ دلیل بنتی ۔

شہادت کاچوتھا درجہ :خواتین کے مخصوص معاملات میں عورت کی گواہی کا حکم

شہادت کا چوتھا درجہ یہ ہے کہ عورتوں کے مخصوص معاملات کے متعلق کوئی امر ہو تو اس میں تنہا عورت کی شہادت قبول کی جاتی ہے ، اس کی تفصیل کتابوں میں موجود ہے ۔

منکرین قرآن وحدیث کے گمراہانہ نظریات

اصل میں شہادت کا مسئلہ امت میں متفقہ مسئلہ تھا جیسا کہ آپ پہلے پڑھ چکے ہیں ، سب سے پہلے منکر قرآن وحدیث غلام احمد پرویز نے ’’مطالب الفرقان‘‘ میں اس مسئلہ پر خامہ فرسائی کی ، اس کے خوشہ چین عمر احمد عثمانی نے ’’فقہ القرآن‘‘ میں اس پر بحث کی ، حالانکہ عمراحمد عثمانی اپنے والد ماجدؒ کی زندگی میں غلام احمد پرویز سے ظاہری علیحدگی کرچکے تھے ،لیکن :’’فشابھا کلتاھما نجلاء‘‘کے مصداق تھے ،’’فقہ القرآن ‘‘ میں اس شخص نے قربانی کا انکار کیا ، طلاق رجعی کا انکار کیا ،نابالغ کے نکاح کو ناجائز قرار دیا ، کھانے پینے سے اگر کوئی قصدا روزہ توڑدے تو ان کے نزدیک اس پر کفارہ واجب نہیں ہے ، طلوع فجر کے بعد تک اگر کوئی کھاتا پیتا رہے تو اس کے باوجود اس کا روزہ ہوجائے گا، حج کے موقع پر انگریزی بال حلق وقصر کے قائم مقام ہیں ، عورتوں پر جمعہ کی نماز (جناب عمر احمد عثمانی کی اقتدا میں فرض ہے ) عیدین کی نماز کا بھی یہی حکم ہے ، تعدد ازواج کا منکر ہے ، عورت تمام امور میں قاضی بن سکتی ہے ،پردہ ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے ، جمعہ کی تعطیل قرآن کے منافی ہے وغیرہ وغیرہ ۔

اب ہم عمر احمد کے والد ماجد جن کے نام یہ کتاب معنون کی گئی ہے کی ’’اعلاء السنن‘‘ سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں :

ثم قولہ تعالی فإن لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان یدل علی أن المرأتین مثل رجل واحد فی الشھادۃ وما ینبغی أن یقبل فیہ شھادۃ الرجل ینبغی أن یقبل فیہ شھادۃ المرئتین إلا أنہ خص منہ الحدود والقصاص بالإجماع لأن فیہ شبھۃ البدلیۃ والحدود والقصاص یؤثر فیہ الشبھۃ فلا یقبل شھادتھن فیھا بخلاف غیر الحدود والقصاص لأنہ لا یؤثر فیہ الشبھۃ فتقبل فیہ شھادتھن(اعلاء السنن، ج۱۵،ص ۱۴۳)۔

اللہ تعالی کا یہ فرمان کہ ’’اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ‘‘ اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ دو عورتیں شہادت میں ایک مرد کے برابر ہیں تو جن معاملات میں ایک مرد کی گواہی قبول ہوتی ہے ان میں دو عورتوں کی گواہی قبول ہونی چاہیے ،مگر اس قانون سے بالاجماع حدود وقصاص مستثنی ہیں،کیونکہ اس میں شبہ بدلیت ہے اور چونکہ حدود و قصاص میں شبہ اثر کرتا ہے اس لیے ان کی گواہی قبول نہیں ہوگی بخلاف حدود وقصاص کے علاوہ دیگر معاملات کے ان میں چونکہ شبہ اثر نہیں کرتا اس لیے ان معاملات میں ان کی گواہی کرلی جائے گی ۔

منکرین قرآن وحدیث کاحضرت خدیجہ ؓ وعائشہؓ کی روایات سے استدلال – خبر اورشہادت میں فرق

یہ حضرات حضرت خدیجۃ الکبری، حضرت عائشہ صدیقہ اوردوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی روایات واخبار سے استدلال کرتے ہیں ، یہ خبر وشہادت میں فرق نہیں سمجھتے ، شہادت اور خبر میں فرق سمجھنے کے لیے یہ حضرات تدریب الراوی ج۱، ص ۱۳۳ ’’من الامور المہمۃ تحریر الفرق بین الروایۃ والشہادۃ‘‘الخ دیکھ لیں تو بہتر ہوگا،باقی ایسی صورتوںمیں جس میں صرف عورتیں شہادت دینے والی ہوں اگر وہ اتنی کثیر ہوں جو تواتر کی حد تک پہنچ جائیں تو قاضی خبرمتواتر پر فیصلہ دے سکتا ہے ، اسی طرح قوی قرائن پر فیصلہ کے احکام ’’معین الحکام‘‘ص ۱۱۰ پر دیکھے جاسکتے ہیں ، ایم آر ڈی والوں نے عورتوں سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے اور موجودہ حکومت سے اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے بیان دیا تھا ، اس کا جواب جامعہ علوم اسلامیہ کے علماء کی طرف سے بر وقت دے دیا گیا تھا اور اس میں مراتب الاجماع لابن حزم اندلسی کے حوالہ سے بھی لکھاگیا تھاکہ یہ مسئلہ نص قطعی سے ثابت ہے ، اس پر پوری امت کا اجماع ہے ،اوریہ ان اجماعی مسائل میں سے ہے جن کا منکر کافر ہے ، اب اس مسئلہ پر وکلاء اور جج صاحبان خامہ فرسائی کررہے ہیں ہیں ،وہ صرف اس لیے ہے کہ شروع سے وکلاء اور جج صاحبان اسلامی قانون اوراس کے نفاذ کے مخالف بلکہ مدمقابل رہے ہیں اور یہ مسئلہ تحقیق انیق کا مسئلہ نہیں بلکہ شکم کا مسئلہ ہے ۔

آخر میں ہم ان حضرات کی بصیرت کے لیے جس کی امید نہیں ہے امام العصر حضرت مولانا محمد انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’اکفار الملحدین‘‘ سے چند سطور نقل کرتے ہیں :

وقع الإجماع عن علماء الدین علی تکفیر کل من دافع نص الکتاب ای منع ونازع فیما جاء صریحا فی القرآن کبعض الباطنیۃ الذین یدعون لھا معان آخر غیر ظاھرھا(ص۵۷)۔

علماء دین کا اجماع ہے ایسے شخص کی تکفیر پر جو کتاب اللہ کی نص صریح کا انکار کرے جو قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ،اس کو نہ ماننا یااس میں اختلاف کرنا قرآن کریم کے انکار کے مترادف ہے ،جیسے بعض باطنیہ جو قرآن کے ظاہری معنی چھوڑ کر دوسرے معنی لیتے ہیں۔

جدید مرتب کردہ قانون شہادت دستور کے عین مطابق ہے ،کیونکہ دستور میں قرآن وسنت کو ماخذقانون قراردیا گیا ہے ، دستور کے مطابق منکرین قرآن وسنت کو اس سلسلہ میں گفتگو کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، پہلے وہ اپنا عقیدہ قرآن وسنت کے بارے میں درست کریں ، توبہ کے بعد تجدید ایمان کریں تاکہ دستور کے مطابق وہ اس مسئلہ پر گفتگو کرنے کے اہل ہوں ،پھر گفتگو کریں ، ورنہ انہیں کسی بھی دینی مسئلہ میں دخل اندازی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، یہ چند سطور ہم نے اس لیے لکھ دی ہیں :شاید کہ اترجائے تیرے دل میں مری بات، واللہ یقول الحق وہو یہدی السبیل۔

2,153 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!