Menu Close

تحقیق یا تحریف ؟ تجدّد پسندوں کے تضادات – معاشرے میں فتنہ وانتشار ، از مفتی محمد تقی عثمانی

تحقیق یا تحریف ؟ تجدّد پسندوں کے تضادات - معاشرے میں فتنہ وانتشار

عنوانات: مفتی عمر انور بدخشانی

(یہ مضمون اگرچہ بظاہر ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘ کو خطاب کرکے لکھا گیا تھا جس کے سربراہ اُس وقت ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب تھے ،لیکن در حقیقت یہ تمام ’’اہل تجدّد ‘‘سے خطاب ہے اور مضمون کے مندرجات عہد حاضر میں بھی تروتازہ ہیں)۔

تمہید

بلاشبہ ہمارے زمانے میں ایسے بے شمار فقہی مسائل پیدا ہوگئے ہیں جن کے حل کے لیے ضرورت ہے کہ علم دین میں تفقہ اور بصیرت رکھنے والے اہل تقوی علماء اجتماعی طور پر سوچ بچار کریں ، اوران میں سے بہت سے مسائل ایسے بھی ہیں جنہیں اسلام کے متفقہ اصولوں کی روشنی میں حل کرنے کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ علمائے دین اور مختلف جدید علوم کے ماہرین یک جا ہو کر بیٹھیں اورمتفقہ طور سے ان مشکلات کاحل تجویز کریں جو اس زمانے میں پورے عالم اسلام کو پیش آرہی ہیں ،اس عظیم الشان کام کی ضرورت واہمیت علماء کے طبقوں میں عرصے سے محسوس کی جارہی ہے اوراس مقصد کے لیے بعض مقامات پر کام بھی ہورہا ہے ،لیکن وسائل کی کمی کے باعث ابھی تک یہ کوششیں کوئی منظم اور اجتماعی رنگ اختیار نہیں کرسکیں ،موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد اس اہم کام کے لیے ایک ادارہ قائم کیا،ہمارے موجودہ دستور کی دفعہ ۲۰۷ میں اس ادارے کے قیام کا مقصد یہ بتایا گیاہے کہ اس ادارے کے ذریعے ایک طرف اسلامی مسائل کی تحقیق کی جائے ،اور دوسری طرف معاشرے کو ’’صحیح اسلامی بنیادوں‘‘ پر استوار کیا جائے ،اور صدر پاکستان جناب فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صاحب اپنی خود نوشت سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں :

میں نے اسلامی نظریے کی ایک مشاورتی کونسل اور ایک اسلامی تحقیقاتی ادارہ تشکیل دیا ہے جو ہمارے قانونی مسائل کا مذہب کی روشنی میں مطالعہ کرکے حکومت کو مشورے دے سکے ،یہ طریقہ ہمارے قوانین کو اسلام کے رجحانات سے ہم آہنگ کرنے میں ہمارے قانون سازوں کی مدد کرے گا ،لیکن ان قوانین کے قابل عمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں آج کے معاشرے کی ضرورت کا پورا لحاظ رکھا گیا ہو‘‘ (فرینڈس ناٹ ماسٹرس، ص۱۰۶، باب ہشتم)۔

کامیابی کی شرائط:نیک نیتی اور درست طریقہ

اس مقصد کے مبارک اور اہم ہونے میں کس کو کلام ہوسکتا ہے ،یہ مقصد تو علماء اور ہر اسلامی ذہن رکھنے والے انسان کی آرزوؤں کے عین مطابق تھا ،ملک کے مروجہ قوانین کے فرسودہ نظام کو بدل کر اسے اسلامی سانچے میں ڈھالنے کااہم کام اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ،لیکن کوئی ادارہ خواہ کتنی نیک نیتی کے ساتھ اور کتنے ہی نیک مقصد کے لیے قائم کیا جائے ، صرف اس وقت مفید نتائج پیدا کرسکتا ہے جبکہ اس کا طریق کار درست ہو، اس کے ارباب بست وکشا متعلقہ مسائل کو سلامت فکر کے ساتھ سوچنے کے اہل ہوں ، ان کے ذہن میں کام کا ایک معقول اور مرتب خاکہ ہو ، اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہو وہ درست اور سیدھا ہو ، جب تک یہ شرائط پوری طرح پائی نہ جائیں کسی ادارے سے کامیابی کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔

تجدد پسند ی:مسائل کا حل یا معاشرے میں انتشار اور فتنہ سازی

یہی وجہ ہے کہ ’’ادارہ تحقیقات اسلامی‘‘ اب تک اپنے مقصد تاسیس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکا ، اس کو قائم ہوئے کئی سال گزرچکے ہیں ، لیکن نہ صرف یہ کہ ابھی تک وہ کوئی مفید کام انجام نہیں دے سکا ،بلکہ اس کی وجہ سے ملک میں انتشار اورخلفشار کی ایک افسوس ناک فضا قائم ہوگئی ہے ۔ اس بات کا اعتراف نہ کرنا حقیقت ناشناسی ہوگی کہ اب تک اس نے مسائل حل کرنے کے بجائے مسائل کھڑے کیے ہیں ، معاشرے کی مشکلات دور کرنے کے بجائے مشکلات پیدا کی ہیں ، فتنے دبانے کے بجائے فتنے جگائے ہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ جس ادارے کو قوم کی امنگوں اور آرزوؤں کا مرکز ہونا چاہیے تھا وہ ابھی تک قوم کا ذرہ برابر اعتماد حاصل نہ کرسکا ،خوش فہمیوں کی جنت میں بسنا عقل مندی کا تقاضا نہیں ہے ، پاکستان کے دس کروڑ مسلمانوں کے دل ٹٹول کر دیکھیے ، آپ کا ضمیر گواہی دے گا کہ یہ لوگ اس ادارے کو لا پتا ادارہ نہیں سمجھتے ، ان کے دلوں میں اس کے اب تک کے ’’کارنامے‘‘ کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں اوراس پر بے اعتمادی کاعالم یہ ہے کہ اگر وہ کوئی صحیح بات بھی کہہ دے تو لوگوں کی نگاہ میں مشکوک ہوجاتی ہے ۔

آج کی صحبت میں ہم مختصرا ان اسباب سے بحث کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ایک انتہائی مفید ادارے کو انتہائی مضر اور ناکام بنادیا ہے اور جن کی بنا پر ملک میں اتحاد و اتفاق کےرشتے استوار ہونے کے بجائے اختلاف وانتشار اور نزاع وجدال کی ناخوش گوار فضا پیدا ہورہی ہے ، یہ معاملہ کسی ضد، ہٹ دھرمی ،بات کی پچ یا کسی کے ذاتی وقار کا نہیں ہے ، معاملہ قوم کے ایک ایسے اجتماعی مسئلے کا ہے جس پر اس ملک میں اسلامی طرز فکر اور طرز زندگی کی بقا موقوف ہے ،اوراگر اسے پوری سنجیدگی اورسلامت فکر کے ساتھ حل نہ کیا گیا تو یہ قوم کبھی اس منزل مقصود کو نہ پاسکے گی ،جس کے دل آویز تصور نے اس سے پاکستان بنوایا تھا ، اس لیے وقت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ افراد اس مسئلے پر نہایت ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ جذباتی نعروں سے بلند ہوکر غور وفکر کریں۔

تحقیق اور تحریف میں فرق

ہمارے نزدیک اس ادارے کی ناکامی کا اہم ترین سبب یہ ہے کہ اس کے رجال کار موجودہ زندگی کے مسائل کا اسلامی حل تلاش کرتے وقت ’’تحقیق ‘‘ اور’’تحریف‘‘ کے درمیان فرق نہیں کرسکے ، انہوں نے ’’تحقیق‘‘ کو ’’تحریف ‘‘ کے ہم معنی قرار دے کر مسائل کے وہ سطحی حل تلاش کیے ہیں جو کسی طرح بھی اسلام کے مزاج سے میل کھانے والے نہیں ہیں۔

تجدد پسند محققین کے مفروضے اور تجدد کی ذہنیت کے تانے بانے

موجودہ زمانے کے اسلامی محققین کا فرض منصبی یہ تھا کہ وہ اس بات کی تحقیق کریں کہ بیسویں صدی کے انسان کو جو مسائل درپیش ہیں ان کے بارے میں اسلام کی اصل ہدایات کیا ہیں ؟انہیں کس طرح روبہ عمل لایاجاسکتا ہے ؟اوراگر اس راستے میں کچھ عملی دشواریاں ہیں تو انہیں کس طرح سے دور کیا جاسکتا ہے ؟ان حضرات کا فرض یہ تھا کہ مغربی نظام زندگی کا تقلیدی ذہن کے بجائے تحقیقی اور تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لیتے ، اس میں جو چیزیں اسلام کے اصول سے متصادم نظر آتیں انہیں رد کرکے مسلمانوں کے لیے وہ متبادل راستے تجویز کرتے جو ایک طرف اسلامی اصولوں کے مطابق ہوں ،اوردوسری طرف ان میں عصر حاضر کی ضروریات کا پورا لحاظ رکھاگیا ہو،لیکن ادارہ تحقیقات اسلامی کے محققین کا طرز عمل اس کے بالکل برخلاف ہے ،انہوں نے ایک طرف تو یہ فرض کرلیا ہے کہ تیرہ سو برس پہلے کے اسلامی اصول واحکام (معاذ اللہ)اب فرسودہ ہوچکے ہیں ، اور موجودہ دور میں ان پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ان میں کچھ بنیادی تبدیلی نہ کرلی جائیں (ان تبدیلیوں کو وہ ’’نئی تعبیریں‘‘ کہتے ہیں )،دوسری طرف ان کے ذہن میں یہ بات پوری طرح جم چکی ہے کہ مغربی تہذیب وتمدن کے تمام فکری اور عملی مظاہر سراسر خیر وبرکت ہیں اور جب تک مسلمان انہیں جوں کا توں قبول نہ کرلیں گے موجودہ زمانے میں ان کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے ۔

بس ان ہی دو مفروضات کے تانے بانے سے ’’تجدد‘‘ کی ذہنیت تیار ہوئی ہے اوراسی کے نتیجے میں ان کے کام کا انداز یہ رہا ہے کہ وہ مغرب کی طرف سے آئے ہوئے جس طرز فکر یا جس طرز عمل کو دیکھتے ہیں پہلے اس کے بارے میں یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ یہ سو فیصد درست ہے ،اورموجودہ زمانے میں اسے اختیار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ، پھر ان کی’’تحقیق‘‘ کا سارا زور اس بات پر صرف ہوتا ہے کہ جس رخ اورجس تدبیر سے ہوسکے اسے اسلام کے مطابق ثابت کیا جائے ، بلکہ اسلام کو اس کے مطابق بنایا جائے ، خواہ اس کے لیے اسلام کے اجماعی مسلمات کو بدلنا پڑے ، خواہ سنت اورحدیث کا انکار کرنا پڑے ، اور خواہ قرآن کریم کی آیات میں کھینچ تان کر نے کے لیے نئی لغت نصنیف کرنی پڑے، ہمارے نزدیک یہی وہ طرز عمل ہے جس کے لیے ’’تحقیق‘‘ کے بجائے ’’تحریف‘‘ کا لفظ استعمال ہونا چاہیے۔

تجدد پسندی یا احساس کمتری!

ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے ، اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ اس کے اصول واحکام کسی انسانی ذہن کی پیداوار نہیں ہیں ، بلکہ انہیں اس علام الغیوب نے قرار کیا ہے ، جو قیام قیامت تک کی ہر انسانی ضرورت سے پوری طرح باخبر ہے ، اگر آپ کو اس بات پر بھروسہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے اسلام میں قیامت تک پیدا ہونے والے ہر مسئلے اور ہر مشکل کا اطمینان بخش حل موجود ہے ، توپھر آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بیسویں صدی کی مشکلات کا حل بھی ہمیں اسلام کے انہیں اصولوں میں ملے گا جو چودہ سو برس پہلے سرکار دو عالم محمد مصطفی ﷺ لے کر تشریف لائے تھے ، شرط یہ ہے کہ آپ اس احساس کمتری سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں ، جس نے آپ کی نگاہ میں مغرب کو ’’معیارحق‘‘ بنارکھا ہے ، جب آپ ایک مرتبہ ہمت کرکے ذہن سے تقلید مغرب کے پردے اٹھادیں گے تو آپ کو پوری خود اعتمادی کے ساتھ مسائل کو سوچنے سمجھنے کا موقع ملے گا، پھر آپ کو موجودہ زمانے میں زندہ رہنے کے وہ راستے نظر آئیں گے جومغرب کے پامال راستوں سے الگ ہونے کے باوجودعصر حاضر کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں گے ، اور ان پر گامزن ہوکر آپ سکون اور قرار کی وہ دولت حاصل کرسکیں گے جو کبھی مغرب کے وہم وتصور میں بھی نہیں آئی ۔

حقیقت پسندی یا مغربی دنیا کے طعنوں کا خوف؟

ہوسکتا ہے ہماری یہ بات آپ کو تلخ محسوس ہو ،لیکن اگر آپ کی لغت میں ’’حقیقت پسندی‘‘ کا لفظ کوئی معنی رکھتا ہے تو اپنے دل کو ٹٹول کردیکھیے ،وہ گواہی دے گا کہ اب تک اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے وقت آپ کو یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں اہل مغرب ہمیں ’’رجعت پسندی‘‘ کا طعنہ نہ دے بیٹھیں ، کہیں وہ ہمیں توہم پرست یا غیر مہذب نہ کہہ دیں ، بس! یہی خوف ہے جو آپ کواصل اسلامی ہدایات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرنے دیتا ، اور آپ صرف انہیں باتوں کو ’’اسلام‘‘ ثابت کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں جنہیں مغرب کی طرف سے ’’روشن خیالی‘‘ کا خطاب ملاہوا ہے ،اس طریق کار کی بدولت ہوسکتا ہے کہ آپ کو اہل مغرب میں کچھ نیک نامی میسر آجائے ، لیکن اس طریقے سے آپ کے مسائل کبھی حل نہیں ہوسکتے ، نہ آپ اس طرح ایک زندہ اور آزاد قوم کے حقوق حاصل کرسکتے ہیں ،پھر آپ کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ غیروں کو خوش کرکے اپنوں سے بگاڑ لینا کون سی دانش مندی کا تقاضا ہے ؟اکبر مرحوم کی یہ نصیحت آج بھی آپ کو دعوت فکر وعمل دتی ہے کہ :

بے وفا کہہ دیں تمہیں اہل حرم اس سے بچو!
دیر والے کج ادا کہہ دیں ، یہ بدنامی بھلی!

ہم نے آپ کے طرز عمل کی جو تشریح کی ہے اگر اس میں آپ کو کوئی مبالغہ محسوس ہوتا ہے تو اپنے اب تک کے طرز عمل کا ایک حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر دیکھ لیجیے ،ہماری اس بات کی تصدیق ہوجائے گی۔

تجدد پسندی اور سود وانشورنس

آپ نے دیکھا کہ مغرب نے اپنی بینکاری کا سارا نظام ’’سود‘‘ پر قائم کیا ہوا ہے اوراسی نظام کو’’ نئی تہذیب‘‘ کی نمایاں خصوصیات میں سے شمار کیا جاتا ہے ، بس ! یہ دیکھ کر آپ نے اپنی تمام فکری توانائیاں اس بات پر صرف کردی کہ کسی طرح تجارتی سود کو حلال قرار دیا جائے ، آپ نے اس بات کی کبھی تحقیق نہ کی کہ بینکاری کے لیے سودی نظام ہی کیا ضروری ہے ؟اسے مضاربت کے اصولوں پر کیوں نہیں چلایاجاسکتا؟ آپ نے پوری امت اسلامیہ کی مخالفت مول لے کر سود مفرد اور سود مرکب کا فرق تو نکال لیا ، مگر مغرب کے سودی نظام کی مخالفت کرکے بلاسود بینکاری کے وہ اصول دریافت نہ کرسکے جن سے تقسیم دولت زیادہ ہموار اور زیادہ منصفانہ طریقے پر عمل میں آسکتی ہے ۔

آپ نے دیکھا کہ انشورنس کو مغرب میں ’’تہذیب‘‘ کی علامت سمجھا جاتا ہے ، آپ نے اسے جوں کا توں قبول کرلیا ،اوراسلام کو اس کے مطابق ثابت کرنے کے لیے قرآن وسنت میں تاویلات شروع کردیں ، لیکن آپ نے کبھی اس پہلو سے غور نہیں فرمایا کہ اگر انشورنس کے مروجہ نظام میں تھوڑی سی تبدیلی کرلی جائے تو وہ نہ صرف اسلام کے اجماعی اصولوں کے مطابق ہوسکتا ہے ،بلکہ زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے ۔

تجدد پسندی اور خاندانی منصوبہ بندی

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مغربی ممالک خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب دے رہے ہیں ، آپ نے بھی اس کی تبلیغ شروع کردی ، اور قرآن وسنت کی جو نصوص اس کے خلاف دکھائی دیں اپنا سارا زور ان کی تاویلات پر خرچ کردیا ، لیکن کبھی آپ نے یہ نہ سوچا کہ چین اپنی ستر کروڑ آبادی کے ساتھ کس طرح زندہ ہے ؟ضبط ولادت پر عمل کیے بغیر اس نے مختصر سی مدت میں معاشی ترقی کی یہ منزلیں کس طرح طے کرلیں ہیں ؟اور اب بھی بقول مسٹر چو این لائی ہر نیا بچہ ان کے لیے مسرت کا پیغام کیوںلاتا ہے ؟آپ نے اہل مغرب کے شور وشغب میں نومولود بچے کے صرف ایک منہ کو دیکھا اورپھر پریشان ہوگئے کہ اس کے لیے غذا کہاں سے آئے گی ؟ آپ نےاس کے دوہاتھوں پر نظر نہ فرمائی جن کی اہمیت کے پیش نظر اسرائیل جیسا چھوٹا ملک مسلسل تکثیر آبادی پر عمل کررہا ہے ،اہل مغرب نے یہ کہہ دیا تھا کہ کثرت آبادی ترقی پذیر ممالک کے لیے مضر ہے ، آپ نے ان کے اس ’’مخلصانہ مشورے‘‘ کو قبول کرکے خاندانی منصوبہ بندی کو ضروری قرار دے دیا ،مگر کبھی اس پہلو سے غور نہ فرمایا کہ ویت نام نے امریکہ کا ناک میں دم کس طرح کررکھا ہے ؟اور مغرب کو چین کے ڈراؤنے خواب کیوں نظر آتے ہیں؟ امریکیوں نے نعرہ لگایا تھا کہ ہم مشرق میں صرف ان ممالک کو امداد دیں گے جو ضبط ولادت پر کاربند ہوں ، آپ نے سمجھا کہ یہ ہماری ہمدردی میں ایسا کہتے ہیں ، لیکن کبھی آپ نے اس کی تحقیق نہ فرمائی کہ اسرائیل ضبط ولادت پرکاربند نہیں ہے ، اس کے باوجود امریکہ اسے امداد کیوں دیتا رہاہے؟

تجدد پسندی اور تعدد ازواج

آپ نے سنا کہ تعداد ازواج مغربی ممالک میں ممنوع ہے ،اور ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ان کی نگاہ میں عیب ہے ،آپ نے اپنے دامن سے (معاذ اللہ ) اس داغ کو دھونے کے لیے یہ معذرت پیش کردی کہ ہمارے مذہب نے اسے صرف ایمرجنسی کی مخصوص صورتوں میں جائزکیا تھا اب وہ جائز نہیں ہے ، اس مقصد کے لیے قرآن کریم کی آیات کے اندر کھینچ تان کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، لیکن آپ نے کبھی اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش نہیں فرمائی کہ اہل مغرب کو کبھی بھی ایک سے زائد بیویوں کی ضرورت کیوں نہیں ہوتی ؟اور ’’نئی تہذیب‘‘ کی بدولت ہر ہوٹل ، ہر نائٹ کلب اور ہرپارک میں جس ’’تعدد ازواج‘‘ پر عمل کیا جاتا ہے اس کی موجودگی میں انہیں ضابطے کی دوسری شادی کی ضرورت ہی کیا ہے ؟اہل مغرب نے اس بات کی تشہیر کی تھی کہ تعدد ازواج کرنے والے بیویوں پر ظلم کرتے ہیں ، آپ نے کہا کہ اس ظلم کوروکنا اسلام کا عین منشا ہے ،اس لیے آپ نے تعدد ازواج کو حرام قرار دے دیا،لیکن آپ نے یہ نہ سوچا کہ بے شمار افراد اپنی تنہا ایک بیوی پر ظلم کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،بلکہ ایسے لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے ، لہذا اس طرز فکر کاتقاضا تو یہ ہے کہ ایک شادی کرنا بھی ممنوع قرار دیا جائے ۔

تجدد پسندی اور خواتین کا پردہ

آپ نے دیکھا کہ اہل مغرب پردے کو معیوب سمجھتے ہیں ،چنانچہ آپ نے بے پردگی کے جواز کے لیے قرآن وسنت کے اجماعی احکام میں رد وبدل شروع کردی ، لیکن کبھی اس پہلو سے تحقیق نہ فرمائی کہ پردے کو چھوڑ کر اہل مغرب اخلاقی تباہی کے کس کنارے تک پہنچ گئے ہیں ؟اوراس معاملے میں مغرب کے سنجیدہ مفکرین کی واویلا کا سبب کیا ہے ؟

تجدد پسندی اور مخلوط طریقہ تعلیم

آپ نے دیکھا کہ مغرب میں مخلوط طریقہ تعلیم رائج ہے ، آپ نے اسے بھی ’’تہذیب‘‘ کی علامت سمجھ کر اس کی تبلیغ شروع کردی ،لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ فرمائی کہ کنسے رپورٹس نے امریکی معاشرے کی جو تصویر کھینچ کردنیا کے سامنے رکھی ہے اس کے اسباب کیا ہیں ؟ نہ آپ نے کبھی اس پر غور فرمایا کہ ہمارے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور مسلسل گرتے ہوئے معیار تعلیم کی ذمہ داری کن کن چیزوں پر عائد ہوتی ہے ۔

تجدد پسندی اور معجزات

آپ نے مطالعہ کیا کہ بہت سے اہل مغرب معجزات کو توہم پرستی قرار دیتے ہیں ، چنانچہ آپ نے ان تمام معجزات کو بے اصل کہہ دیا جن کا مفصل ذکر قرآن کریم میں آیا ہے ،اوراس کے نتیجے میں پورے قرآن کو شاعرانہ تمثیل قرار دے دیا ، لیکن آپ نے کبھی یہ نہ سوچا کہ جن لوگوں نے ابتداءمعجزات کا انکار کیا تھا وہ خدا کے وجود کو بھی (معاذ اللہ) توہم پرستی کی بدترین قسم کہا کرتے تھے ، انہوں نے وحی اور رسالت کا بھی مذاق اڑایا تھا ، دوسری طرف کبھی آپ نے اس طرف بھی توجہ نہیں کی کہ سائنس کی ترقی سے جو نت نئی تحقیقات سامنے آرہی ہیں وہ کتنی تیزی سے معجزات کو انسانی ذہن سے قریب کررہی ہیں ۔

خواتین پر ہونے والے سنگین مظالم کے متعلق تجدد پسندوں کی چشم پوشی

پھر اب تک آپ نے صرف ان مسائل کو اپنا موضوع بنایا ہے جو اہل مغرب کے اٹھائے ہوئے ہیں ، اوراپنے معاشرے کے بیشتر حقیقی مسائل جنہیں حل کرنے کی شدید ضرورت ہے ، ان کی طرف آپ نے کوئی توجہ نہیں فرمائی ، اس کی واضح نظیر یہ ہے کہ آپ نے اس ناانصافی کو تو دیکھا جو تعدد ازواج پر عمل کرنے والے اپنی بیویوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں ، حالانکہ تعدد ازواج کی بنا پر ہونے والے مظالم ہمارے معاشرے میں خال خال ہیں ، اور دوسری قسم کے مظالم سے کوئی خاندان ، کوئی محلہ اور کوئی بستی خالی نہیں ، ہمارے معاشرے میں ایسی عورتیں آپ کو اکا دکا نظر آئیں گی جو سوکنوں کی وجہ سے مظالم کا شکار ہیں ،لیکن ایسی بیویوں کی تعداد بے شمار ہیں جن کی کوئی سوکن نہیں ،مگر ان کی ازدواجی زندگی شوہر کی ناخدا ترسی کی وجہ سے جہنم بنی ہوئی ہے ، ایسی عورتوں کی تکلیف نے آپ کے دل میں کوئی ٹیس پیدا نہ کی ؟ان کی بے بسی پر آپ کو کوئی رحم نہیں آیا ؟ان کو ظلم کے پنجے سے رہائی دلانے کے لیے آپ نے کوئی کوشش نہ فرمائی ؟

شادی ،بیاہ، جہیز، مہر، نان ونفقہ ، سکنی اور سسرالی تعلقات سے متعلق جن جاہلانہ رسموں نے ہمارے معاشرے کو جکڑ رکھا ہے ان کے خلاف آپ نے قلم کو کوئی جنبش نہ دی ؟عدالتوں کے ناقص اور فرسودہ نظام نے جو حصول انصاف کو جوئے شیر لانے کے مترادف قرار دے دیا ہے ، اس کے بارے میں آپ نے کوئی تحریک نہ اٹھائی ؟ شادی بیاہ کے معاملات میں بس آپ کو ایک ہی بڑی چیز دکھائی دی اور وہ تھی ’’تعدد ازواج‘‘ جس پر عمل کرنے والے معاشرے میں مشکل سے دس فیصد تھے ، چنانچہ آپ نے اپنی تمام تر ’’تخلیقی صلاحیتیں‘‘ اسے ممنوع قرار دینے میں صرف کردیں ،خدارا غور فرمایے اس ’’تل اوجھل پہاڑ‘‘ کا سبب اس کے سوا اورکیا ہے کہ تعدد ازواج کا مسئلہ مغرب نے اٹھا رکھا تھا ، اس لیے وہ آپ کو سب سے زیادہ اہم نظر آیا ، اور دوسرے تمام مسائل ’’دیسی‘‘ تھے ،انہیں حل کرنے کی آپ کو کوئی جلدی نہ تھی ۔

خواتین پر تین طلاق کا ظلم اور تجددپسندوں کی چشم پوشی

پھر جن مسائل کی طرف آپ نے توجہ فرمائی ہے ان کو حل کرنے کا انداز بھی آپ نے عجیب ہی اختیار فرمایا ہے معاشرے میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں بجائے اس کے کہ آپ ان کی تہہ تک پہنچ کر ان کے حقیقی اسباب تلاش کرتے ، آپ نے ان کے ایسے سرسری اور آسان حل تجویز کیے ہیں کہ ناطقہ سربگریباں ہوجاتا ہے ،اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کے سبب عوام میں یہ جاہلانہ طرز عمل چل نکلا ہے کہ وہ بات بات پر اپنی بیویوں کو تین طلاقیں دے ڈالتے ہیں ، بلاشبہ یہ طرز عمل انتہائی غلط اور ناجائز ہے ، اس کی وجہ سے بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں ، اس لیے اس کی اصلاح کے لیے ضرورت تھی کہ اس بات کی خوب نشر واشاعت کی جاتی کہ تین طلاقیں دینا شرعی طور پر کتنا بڑا گناہ ہے ،نیزاس بات کی تحقیق کی جاتی کہ ایسے گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے لیے کوئی تعزیر مقرر کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ اس کے بجائے آپ نے مسئلہ کا حل یہ نکالا کہ تین طلاقوں کو تین شمار کرنے سے ہی انکار کردیا ، مردوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ خواہ کتنی ہی طلاقیں دے ڈالیں ، یہ تسلیم ہی نہ کیا جائے گا کہ تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں ، کیا اس کی مثال بالکل ایسی نہیں ہے کہ آپ ایک مظلوم کے ہاتھ پکڑتے ہیں ،نہ اسے ظلم پر کوئی تنبیہ کرتے ہیں ، اس کے بجائے مظلوم سے یہ کہتے ہیں کہ تم مار کھاتے رہو، ہم تسلیم ہی نہ کریں گے کہ کسی نے تمہیںمارا ہے ، خدا کے لیے سوچیے ! کیا مظلو م سے ظلم اسی طرح دور کیا جاتا ہے ؟

تجدد پسندوں کا تضاد:یتیم پوتے کو میراث اور بھانجوں بھتیجوں پر ظلم !

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ بعض مقامات پر یتیم پوتا اپنے دادا کے مرنے کے بعد بے سہارا اور بے بس رہ جاتا ہے ، آپ نے اس کی بے بسی کا یہ علاج کیا کہ اس کے چچاؤں کی میراث کا حصہ کاٹ کر اسے دلوادو، آپ کی نظر اس طرف نہ گئی کہ اگر یہ سلسلہ شروع کردیا گیا تو یتیم بھتیجے اور یتیم بھانجے نے کیا قصور کیا ہے کہ وہ اپنے چچا اور ماموں کی میراث سے محروم رہیں ؟ نہ آپ نے اس بات پر غور فرمایا کہ ایک شخص کی بے بسی دور کرنے کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ دوسروں کی جیب پر زبردستی ڈاکہ ڈالا جائے ، اس قسم کے بے کسوں کی امداد کے لیے اسلامی فقہ میں ’’کتاب النفقات‘‘ ، ’’کتاب الوصیۃ‘‘ اور ’’کتاب الزکوۃ‘‘ موجود ہیں ، اگر ان احکام کو صحیح طور پر جاری وساری کردیا جائے تو ایسے بے کسوں کی امداد کہیں بہتر طریقے پر ممکن ہے ۔

جدت پسندی کا نتیجہ:انتشار، خلفشار اوراضطراب

مذکورہ بالا مثالوں پر جو شخص بھی سنجیدگی اور غیر جانب داری کے ساتھ غور کرے گا وہ لازما اس نتیجے پر پہنچے گا کہ معاشرے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ادارہ تحقیقات اسلامی اور اس کے ہم نوا اہل تجدد کا طرز فکر بنیادی طور پر ہی درست نہیں ہے ، اوراسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اب تک نہ صرف یہ کہ ملک وملت کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکے ، بلکہ انہوں نے ملک بھر میں انتشار ، خلفشار ، بے چینی اور اضطراب پیدا کردیا ہے ، کاش ! کہ اس اہم ترین ادارے کے ارباب حل وعقد اس بات پر نیک نیتی کے ساتھ غور کرسکیں کہ جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ ملی اتحاد کے لیے کتنا مضراور خطرناک ہے ؟

ہم نے یہ گزارشات کسی گروہی تعصب کی بنا پر پیش نہیں کیں ، یہ اس بات کا خیر خواہانہ اور درد مندانہ اظہار ہے جسے ہم سرا و علانیۃ حق سمجھتے ہیں ،اور جس پر سنجیدگی سے غور کرنا ملک کے ہر حساس مسلمان کا فرض ہے ، ہم یہ گزارشات اس امید پر پیش کررہے ہیں کہ :

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ ترے دل میں اترجائے مری بات

اس کے بعد اہل تجدد کے طرز واستدلال اورفکر ونظر سے متعلق کچھ اور بھی عرض کرنا ہے ،وہ ان شاءاللہ کسی آئندہ صحبت میں عرض کریں گے ۔

یہ مضمون انگریزی میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلنک کریں:

332 Views
Posted in Featured, Urdu, اسلام اور عصر حاضر

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!