Menu Close

شیخ اکبر ابن عربیؒ اور غیر تشریعی نبوت ، از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

شیخ اکبر ابن عربیؒ اور غیر تشریعی نبوت

اشکال

شیخ محی الدین ابن عربی اور بعض بزرگوں کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مطلقاً نبوت مرتفع نہیں ہوئی، بلکہ تشریعی نبوت مرتفع ہوئی ،اور حدیث نبوی ’’لا نبی بعدی ‘‘کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہ ہوگا کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے خلاف ہو۔ بلکہ آپ ہی کی شریعت کے ماتحت ہوگا۔

جواب

شیخ محی الدین ابن عربی اور کل اولیاء ،عارفین اور تمام صوفیائے کرام اس پر متفق ہیں کہ نبوت ختم ہوگئی اور نبی اکرم ﷺ خاتم الانبیاء اورآخری نبی ہیں اور جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرے وہ کافر اور مرتد اور واجب القتل ہے ، نبوت بالکلیہ منقطع ہوگئی ، آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی کوئی نبوت باقی نہیں رہی ،البتہ نبوت کے کچھ اجزاء اور کچھ کمالات امت کے افراد میں باقی ہیں ، حضور ﷺ کے بعد نبوت کی کوئی قسم باقی ہیں کہ جس کے ملنے سے کسی کو نبی کہا جاسکے ، البتہ نبوت کے کچھ اجزاء اورکچھ خصائل اور کچھ شمائل باقی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے :

ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات

ترجمہ: نبوت تو جاتی رہی اور بشارت دینے والے خواب باقی رہ گئے ۔

رؤیائے صالحہ اور نبوت

حدیث میں ہے کہ رؤیائے صالحہ نبوت کا چالیسواں جز ہیں اور کمالات نبوت کے ساتھ متصف ہونا اتصاف بالنبوۃ کو مستلزم نہیں ،جس طرح سر انسان کا جز ہے ،مگر سر کو انسان نہیں کہہ سکتے ،اسی طرح رؤیائے صالحہ نبوت کا جز ہے ،مگر اس کو نبوت نہیں کہہ سکتے ،اور سچا خواب دیکھنے والے کو نبی نہیں کہہ سکتے ، اور صوفیاء حضرات کا یہ کلام عین شریعت کے مطابق ہے ،اور کوئی عالم ،علماء شریعت میں سے اس کا منکر نہیں ۔

جاننا چاہیے کہ یہاں آیات اور احادیث میں دو مضمون آئے ہیں :
ایک مضمون تو یہ ہے کہ یہ عہدہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا،قیامت تک عہدہ نبوت کسی کو نہیں دیا جائے گا، دوسرا مضمون یہ ہے کہ نبی امی (فداہ نفسی وابی وامی )اشخاص انبیاء تمام کے خاتم ہیں ، پیغمبروں کے جس قدر افراد دنیا میں آنے وہ آچکے اور نبی اکرم ﷺ اس سلسلہ کے آخری نبی فرد ہیں ، پہلے مضمون کو حدیث میں اس عنوان سے بیان کیا گیا :

عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال ،قال رسول اللہ ﷺ یا أیھا الناس انہ لم یبق من النبوۃ إلا المبشرات (رواہ البخاری فی کتاب التعبیر)۔

ترجمہ :حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے لوگوں ! نبوت میں سے صرف مبشرات(بشارت دینے والے خواب) باقی رہ گئے ہیں ۔

اور دوسری حدیث میں ہے :’’ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات‘‘۔

اسی قسم کی احادیث عہدہ نبوت کے ارتفاع وانقطاع کے بیان کے لیے آئی ہیں ۔

دوسرا مضمون کہ نبی امی ﷺ سلسلہ نبوت کے افراد اور اشخاص کے خاتم ہیں ، اس کو قرآن کریم نے ’’خاتم النبیین ‘‘کے عنوان سے اور حدیث نے ’’خاتم الانبیاء ‘‘اور ’’آخرالانبیاء ‘‘ اور ’’لانبی بعدی‘‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے ،اوریہ دوسرا مضمون پہلے مضمون کے منافی تو کیا ہوتا،بلکہ غایت درجہ مؤید اور مستلزم ہے ۔

شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی یہی مراد ہے کہ نبوت ختم ہوگئی اور نبوت کے کچھ اجزاء اور کمالات اورمبشرات باقی ہیں چنانچہ شیخ فتوحات میں فرماتے ہیں:

فاخبر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان الرؤیا جزء من اجزاء النبوۃ فقد بقی للناس فی النبوۃ ھذا وغیرہ ومع ھذا الا یطلق اسم النبوۃ ولا النبی الا علی المشرع خاصۃ فھجر ہذا الاسم لخصوص وصف معین فی النبوۃ(فتوحات ج۲ ص۴۹۵)۔

ترجمہ: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتلا دیا کہ سچا خواب نبوت کا ایک جزء ہے۔ لوگوں کے لئے نبوت میں اس قسم کے اجزاء باقی رہ گئے ہیں۔ مگر باوجود اس کے لفظ نبوت اور لفظ نبی کا اطلاق سوائے مشرع کے (یعنی جو خدا کی طرف سے احکام شریعہ لے کر آئے) اور کسی پر نہیں ہوسکتا اس نام کی بندش نبوت میں کسی خاص صفت کی بناء پر کردی گئی ہے۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

فما تطلق النبوۃ الا لمن اتصف بالمجموع فذلک النبی وتلک النبوۃ التی حجرت علینا وانقطعت فان جملتہا التشریع بالوحی الملکی وذلک لا یکون الا لنبی خاصۃ(فتوحات ج۳ ص۵۶۸)۔

ترجمہ:نبوت کا اطلاق جب ہی ہوسکتا ہے کہ جب نبوت کے تمام اجزاء کے سائقہ علی وجہ الکمال والتمام موصوف ہو۔ پس ایسا ہی نبی اور ایسی ہی نبوت جو تمام اجزاء کو جامع اور حاوی ہو ہم پر (یعنی اولیاء پر) بند کر دی گئی اور منقطع ہوگئی۔ اس لئے کہ منجملہ اجزاء نبوت تشریع احکام ہےکہ جو فرشتہ کی وحی سے ہو اور یہ امر نبی کے ساتھ مخصوص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا۔

شیخ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا ہلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ اذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ

جب کسریٰ شاہ فارس ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا اور جب قیصر شاہ روم ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا،پس جس طرح قیصروکسریٰ کے مرجانے کے بعد قیصروکسریٰ کا نام ختم ہوا مگر ملک فارس اور روم موجود رہا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت اور نبی کا نام اٹھ گیا۔ مگر نبوت اور اس کے اجزاء مسلمانوں میں باقی رہے، یعنی قرآن وحدیث اور کمالات نبوت۔

شیخ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ختم ہو گئی۔ البتہ اس کے کچھ اجزاء اور کمالات اور مبشرات باقی ہیں۔ (جیسا کہ: ’’ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات‘‘ سے صاف ظاہر ہے) اور نبی اور نبوت کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ نبوت کے تمام اجزاء (جن میں تشریعی احکام بوحی ملکی بھی داخل ہے) علی وجہ الکمال والتمام متحقق نہ ہوں اور تشریع احکام بوحی ملکی نبی اور مقام نبوت کے لئے لازم ہے۔ بغیر تشریع کے نبوت متحقق نہیں ہوسکتی۔ نبوت کا اصل دارومدار تشریع پر ہے۔ جب تشریع نہ ہو تو نبوت بھی نہیں۔ معلوم ہوا کہ شیخ کے نزدیک غیرتشریعی نبوت نبوت ہی نہیں بلکہ وہ اجزاء نبوت ہیں جن کو اصطلاح صوفیاء میں ’’ولایت ‘‘کہاجاتا ہے۔

لہٰذا شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کی طرف یہ نسبت کرنا کہ وہ غیر تشریعی نبوت کی بقاء کے قائل ہیں بالکل غلط ہے۔ ان کے نزدیک تشریع نبوت کا جزو لاینفک ہے بغیر تشریع کے ان کے نزدیک نبوت ہی متحقق نہیں ہوسکتی نہ یہ کہ نبوت تو ہے۔ مگر غیرتشریعی ہےاور جو اجزاء نبوت کے باقی ہیں نہ وہ نبوت ہیں اور نہ ان کی بناء پر نبوت اور نبی کا اطلاق جائز ہے اور اگر بالفرض یہ معنی تسلیم بھی کر لئے جائیں تو عجیب نہیں کہ شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کا نبوت غیرتشریعی کی بقاء سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف اشارہ ہوکہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نزول کے بعد بھی نبی ہوں گے مگر وہ تشریعی نبی نہ ہوں گے۔ یعنی اپنی سابقہ شریعت پر عامل نہ ہوں گے بلکہ شریعت محمدیہ کے تابع اور ماتحت ہوں گے۔

علاوہ ازیں جب صدہا نصوص اور احادیث نبوی اور آثار صحابہ و تابعین اور کل علماء شریعت وطریقت کی تصریحات سے یہ معلوم ہوگیا کہ ختم نبوت امت محمدیہ کا اجتماعی عقیدہ ہے اور خود شیخ اکبرؓ کی بے شمار تصریحات نصوص اور فتوحات وغیرہ میں موجود ہیں کہ نبوت حضور ﷺ پر ختم ہوگئی اور آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو پھر ان تصریحات کے بعد شیخ کی مجمل اور مبہم عبارات کو پیش کرنا اور ختم نبوت کے بارے میں شیخ کی صریح عبارات کو نظر انداز کردینا اور نصوص شریعت اوراجماع امت کے خلاف راہ نکالنا کونسا دین اور عقل ہے (احتساب قادیانیت ،ج۲، ص۵۴تا۵۸)۔

265 Views
Posted in Urdu, تزکیہ و احسان – تصوف, عقیدہ و کلام

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!