Menu Close

آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی: اُردو تفسیروں میں شاہکار اضافہ ، از مولانا طلحہ رحمانی

asan bayan ul quran tafseer usmani

تعارف: مولانا طلحہ رحمانی امام اہل سنت مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ (مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کے صاحبزادے ہیں، اس حیثیت سے وہ ایک طرف حضرت تھانویؒ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری رحمہ اللہ کے پوتے ہیں تو دوسری طرف حضرت تھانوی وحضرت مدنی رحمھما اللہ کے مسترشد ومجاز محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے نواسے ہیں ، مولانا طلحہ رحمانی اس وقت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے میڈیا کوآرڈینیٹرکی خدمات کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، آسان بیان القرآن مع تفسیرعثمانی کے تعارف پر مشتمل مولانا کا یہ مفید اور معلوماتی مضمون وفاق المدارس کے ترجمان ماہنامہ وفاق المدارس اور دیگر کئی جرائد ورسائل میں شائع ہوچکا ہے ۔

تفسیر عثمانی وبیان القرآن کا تعارف اور اکابر کے تاثرات

اردو زبان میں ترجمہ و تفسیر قرآن میں حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی ’’بیان القرآن‘‘ اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن نوراللہ مرقدہ وشیخ الاسلام حضرت علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کا ترجمہ و تفسیر موضع فرقان (تفسیرعثمانی) کو جو مقبولیت حاصل ہے وہ یقینا عنداللہ قبولیت سے بھی سرفراز ہے۔

تقریباً ایک صدی قبل شیخ الہندؒ نے مالٹا میں دوران اسیری مکمل ترجمہ اور اس کے بعد چار پاروں کی تفسیر بھی لکھی، بعد کے چھبیس پاروں کی تفسیر آپ کے تلمیذ رشید شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے مکمل فرمائی، حضرت عثمانیؒ نے اس ترجمہ کے بارے میں فرمایا کہ: ’’ترجمہ کی نسبت میں اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان کے طول وعرض میں قرآن کے جو تراجم موجود ہیں شاید ہی کوئی ہوگا جو نہایت صحیح اور مستند ہونے کے باوجود اس قدر موجز، پُرمغز، شگفتہ اور نظم قرآن کی پوری پوری رعایت کرنے والا ہو‘‘۔

اسی طرح جانشین شیخ الہند، شیخ العرب و العجم علامہ سید حسین احمد مدنیؒ نے لکھا: ’’اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے علامۂ زماں، محقق دوراں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کو دنیائے اسلام کا درخشندہ آفتاب بنایا ہے۔ مولانا موصوف کی بے مثل ذکاوت، بے مثل تقریر، بے مثل تحریر، عجیب وغریب حافظہ، عجیب وغریب تبحر وغیرہ کمالاتِ علمیہ ایسے نہیں ہیں کہ کوئی شخص منصف مزاج ان میں تامل کرسکے جن حضرات کو مولانا سے کبھی بھی کسی قسم کے استفادہ کی نوبت آئی ہے وہ اس سے بخوبی واقف ہیں‘‘۔

آگے حضرتؒ نے مزید لکھا: ’’جس طرح امام الائمہ حضرت شیخ الہند قدس سرہ العزیز کو بامحاورہ ترجمہ قرآن کی طرف متوجہ فرماکر صلاحِ عباد کیلئے عظیم الشان سامان ہدایت مہیا فرمادیا تھا اسی طرح اس کے بعد مولانا شبیر احمد صاحب موصوف کی توجہ تکمیلِ فوائد اورازالۂ مغلقات کی طرف منعطف فرماکر تمام عالم اسلامی اور بالخصوص اہل ہند کیلئے عدیم النظیر حجۃِ بالغہ قائم کردی۔ ان حواشی اور مہتم بالشان فوائد سے نہ صرف ترجمہ مذکورہ میں چار چاند لگ گئے ہیں بلکہ ان بیشمار شکوک وشبہات کا بھی قلع قمع ہوگیا ہے جوکہ کوتاہ فہموں کو اس کتاب اللہ اور دین حنیف کے متعلق پیش آتے رہے ہیں۔ یقیناً مولانا نے بہت سی ضخیم ضخیم تفسیروں سے مستثنٰی کر کے سمندروں کو کوزہ میں بھردیا ہے‘‘۔

مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ رحمہ اللہ نے تفسیر عثمانی کے بارے میں لکھا: ’’حضرت مترجم طاب اللہ ثراہ کے ترجمہ کے متعلق کچھ لکھنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے۔ فوائد تفسیریہ کے متعلق اس قدر عرض کرنا بجا نہ ہوگا کہ معارف قرآنیہ کو اردو زبان میں اس خوبی، خوشنمائی، شگفتگی، متانت، سلالت، فصاحت، بلاغت کے ساتھ منصہ شہود پر لانا حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی ؒکا ہی حصہ تھا۔ آپ کی سعی مقبول ہوئی اور حق تعالی کے فضل وکرم نے مولانا موصوف کے قلم حقیقت رقم سے معارف و حکم قرآنیہ کا یہ بیش بہا ذخیرہ اہل ہند کیلئے مہیا فرمادیا‘‘۔

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری الحسینیؒنے تفسیر عثمانی کی بابت لکھا: ’’ہم سب کے بزرگ شیخ العالم حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے ترجمہ قرآن مجید وفوائد عصر حاضر کے متبحر عالم، فقیہ، محدث و مفسر حضرت الاستاذ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ کے تکمیل کردہ فوائد یک بہ یک میرے سامنے آئے۔ میری مشتاق نگاہیں دیر تک وارفتگی کے ساتھ ان سے سعادت اندوز ہوتی رہیں‘‘۔
آگے مزید لکھتے ہیں: ’’بہرحال دل یہ کہتا ہے کہ دونوں بزرگوں نے سلف صالحین کے ان خزانوں کو جو موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے جامع مانع شکل میں ایک جگہ جمع کردیا ہے‘‘۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ نے تفسیر عثمانی کے حوالہ سے یوں رقم فرمایا: ’’اللہ تعالی نے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ سے احیائے دین کی جہاں اور بہت سی خدمات لی وہاں آخر عمر میں اسیر مالٹا بناکر خلق اللہ کے اژدھام سے چھڑواکر تخلیہ میں بٹھایا اور فرقان حمید کا بہترین ترجمہ کروایا۔ سورۃ البقرہ سے سورۃ النساء کے حواشی بھی لکھوائے۔ حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ کو اللہ تعالی جزائے خیر عطاء فرمائے جنہوں نے محنت شاقّہ برداشت فرماکر مضامین قرآن حکیم کا ایک بہترین نچوڑ تشنگانِ علوم معارفِ قرآنیہ کے سامنے رکھ دیا‘‘۔

اردو زبان کی مقبول عام اور مایۂ ناز دوسری تفسیر حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کی ’’بیان القرآن‘‘ ہے۔ اس شہرہ آفاق تفسیر کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: ’’یہ تفسیرمیں نے کامل شرح صدر کے ساتھ لکھی ہے ، اس کی قدر توان لوگوں کو ہوگی جنہوں نے کم از بیس معتبر تفسیروں کا مطالعہ کیا ہو، وہ دیکھیں گے کہ وہ مقامات جہاں سخت اشکالات واختلافات واقع ہوئے ہیں ان کا حل کیسی سہولت کے ساتھ قوسین کے اندر صرف چند الفاظ بڑھادینے سے ہوگیا ، یہ اللہ تعالی کا محض فضل ہے ‘‘۔

اسی طرح محدث کبیر حضرت علامہ سید انورشاہ کاشمیری رحمہ اللہ نے ایک دفعہ درس بخاری کے دوران تفسیر بیان القرآن کے بارے میں فرمایا: ’’میں ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ اردو کا دامن علم وتحقیق سے خالی ہے ، لیکن مولانا تھانویؒ کی تفسیر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اپنی رائے میں ترمیم کرنا پڑی اوراب سمجھتا ہوں کہ اردو بھی بلند پایہ علمی تحقیقات سے بہرہ ور ہے ‘‘۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تفسیر بیان القرآن کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’تفسیر بیان القرآن میں بڑی بڑی کتابوں کی مبسوط اور مفصل بحثوں کا خلاصہ اور نتیجہ نکال کر رکھ دیا گیا ہے ‘‘۔

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے تفسیر بیان القرآن کے بارے میں لکھا: ’’علامہ شاہ محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قرآن کریم کا بہترین ترجمہ کیا ہے، اس ترجمہ کے ساتھ حضرت تھانوی نے اردو میں تفسیر بھی تحریر فرمائی جس میں دیگر تفاسیر کے مطالعہ کے بعد بڑی محنت اورجدوجہد کے ساتھ اہم اور مفید امور کو جامع اور مختصر انداز میں تحریر فرمایا ، اور مشکل مقامات کو نہایت عمدگی کے ساتھ حل کیا ‘‘۔

مشاہیرِ امت نے مذکورہ مایہ ناز تفاسیر کے بارے میں جو لکھا ہے اس میں چند اقتباسات کی جھلک سے افادیت اور مقبولیت عامہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،اردو زبان کی قدرے مفصل مقبول عام تفاسیر میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی آٹھ آٹھ جلدوں میں ’’معارف القرآن‘‘ اور حضرت مولانا عبدالماجد دریا آبادیؒ کی چھ جلدوں میں ’’تفسیر ماجدی‘‘ قابل ذکر ہیں، ان تینوں قابل ذکر تفاسیر میں حضرت تھانویؒ کی تفسیر بیان القرآن سے تسہیل و تشریح کے باعث معروف ہیں، ان تفاسیر میں جابجا تفسیر عثمانی سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیا جو یقینا دنیائے علم سے وابستہ لاتعداد افراد کیلئے بہت بڑا علمی خزانہ ہے،پون صدی سے زائد عرصہ سے تفسیر عثمانی سے جہاں طبقہ علم سے متعلق افراد سیراب ہوئے وہیں سعودی حکومت کی جانب سے کئی سالوں تک دنیا بھر کے اردو زبان سے وابستہ افراد میں سالوں حجاج و زائرین میں تقسیم بھی کی جاتی رہی،

تسہیل کی ضرورت

اہل علم بخوبی واقف ہیں کہ مذکورہ دونوںتفاسیر میں قدیم اردو وافر طور پہ مستعمل ہے، کئی اہم علمی نکات کے حل کیلئے تسہیل کی ضرورت درپیش ہوتی تھی۔ اردو زبان کی ان اہم معتبر و مستند تفاسیر سے استفادہ کی غرض سے ان طالبین کیلئے مختلف علاقائی زبانوں سے تعلق رکھنے والوں میں بھی جامع تسہیل کی عرصہ سے خواہش کا اظہار بھی کیاجارہا تھا اور مزید علوم دینیہ سے وابستہ وہ افراد جو مفصل تفاسیر کے مطالعہ کیلئے خلاصہ و سہل کی ضرورت کا احساس بھی رکھتے تھے،سالوں سے اس اہم کام کی ضرورت کو اللہ تعالی نے برادر عزیز مولانا عمرانور بدخشانی سلمہ اللہ سے مذکورہ دونوں تفاسیر کو یکجا ویکساں طور پہ سہل اردو میں تین جلدوں پہ مشتمل اردو کی تفاسیر میں ایک بہترین شاہکار اضافہ کا سبب بنایا ہے۔، اس جامع تفسیر کے فوائد و ترتیب لکھنے سے قبل ’’برادرم موصوف‘‘ کی نسبتوں کا اجمالا تذکرہ بھی رقم کردیا جائے۔

نوجوانوں کیلئے ایک مثال مولانا عمر انور

مولانا عمر انور بدخشانی سلمہ اللہ فاضل نوجواں ہیں عظیم مرکز علم وصفاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون میں بزرگ استاد حضرت قاری حبیب الرحمن حفظہ اللہ سے حفظ قرآن کی سعادت کے بعد درس نظامی کی تکمیل اور اپنے محبوب استاد فقیہ وقت حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒکے زیر نگرانی فقہ اسپیلائزیشن (تخصص فی الفقہ) کے بعد اپنے مادر علمی میں تدریس اور تدوین فتاوی میں تقرری ہوئی،تکمیل درس نظامی یعنی دورہ حدیث (عالمیہ مساوی ایم اے) میں ملک بھر کے مدارس میں اول پوزیشن حاصل کی۔

موصوف برادر عزیز مولانا عمرانور سلمہ اللہ دور حاضر میں علوم نقلیہ و عقلیہ کے ماہر، مفسر قرآن، شارح واستاد حدیث، ممتاز مدرس، مدبر ومربی اور محدث العصر علامہ بنوریؒ کے فرزند نسبتی (داماد) حضرت مولانا محمد انور بدخشانی حفظہ اللہ کے باصلاحیت فرزند ہیں۔ حضرت بدخشانی حفظہ اللہ کی علمی و تحقیقی خدمات سے اہل علم خوب واقفیت رکھتے ہیں۔ تقریبا چالیس سے زائد مطبوعہ اردو، فارسی اور عربی زبان میں درسی و فنی کتب کے مصنف ہیں، جن میں درس نظامی میں شامل کئی کتب فنون کی تسہیل بھی شامل ہیں، تقریباً چھ جلدوں پہ مشتمل آپ کی تفسیر قرآن زیر طبع ہے۔ آپ کا لکھا ہوا فارسی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ سعودی حکومت کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں چھپواکر حجاج وزائرین میں تقسیم بھی کیا جارہا ہے۔ چند برس قبل وفات پانے والی آپ کی والدہ ماجدہ رحمہااللہ فقیہ وقت مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی نواسی تھیں۔ جو عظیم علمی مرکز جامعہ دارالعلوم کراچی کے احاطۂ خاص میں علمائے ربانین ومرشدین امت اور اپنے آبائو اجداد کے پہلو میں آسودہ خاک ہیں۔

مولانا عمر انور سلمہ اللہ جامعہ بنوری ٹائون میں تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ شعبۂ دارالتصنیف و مجلس دعوۃ والحقیق سے بھی منسلک ہیں۔ گلشن اقبال کراچی کی بڑی جامع مسجد قباء کے امام و خطیب اور اسی مسجد میں عوامی حلقہ درس قرآن کے بہترین مدرس بھی ہیں۔ اور عرصہ سے ہفتہ وار درس قرآن و اصلاحی آن لائن کے علمی سلسلہ کے بھی روح رواں ہیں۔ تقریبا گزشتہ دو دہائیوں سے رمضان المبارک میں تراویح میں ختم قرآن اور خلاصہ تفسیر سے بھی کئی حضرات فیضیاب ہورہے ہیں۔
تین جلدوں پہ مشتمل شاہکار قابل صد آفرین تفسیری خدمت کے ساتھ چند دیگر عنوانات پہ بھی بہترین جامع کتب بھی مرتب فرمائی ہیں۔ جن میں :’’قرآنی دعائیں مناجاتِ انبیاء و صالحین‘‘،’’مستند خلاصہ مضامینِ قرآنی‘‘،’’استخارہ سنت کے مطابق کیجیے‘‘،’’اسلام اور دور حاضر کے شبہات و مغالطے‘‘اور مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کی سیرت پہ شاہکار ’’النبی الخاتمؐ‘‘ کی تسہیل، تدوین و حواشی پہ بھی بہت خوب کام کیا ہے،برادر موصوف سلمہ‘ اللہ کی مذکورہ کتب مطبوعہ موجود ہیں، جبکہ کئی اہم عنوانات پہ آپ کی تصنیفی و تحقیقی کاوشیں مزید جاری ہیں۔

مذکورہ چند تعارفی علمی وخاندانی نسبتوں کے ساتھ اللہ نے عمر میں ’’چھوٹے‘‘ نسبتوں و کمالات میں ’’بڑے‘‘ برادر مولانا عمر انور سلمہ اللہ کو درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تحریر وخوش نما خطاطی کی فنی باریکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت سمیت کتب بینی کی دنیا کے ایک بہترین مطالعہ کا حسیں ذوق بھی عطاء فرمایا ہے۔ اس عمر رواں کے چند برسوں میں تفسیر قرآن، علوم و فنون سے لگائو جہاں اپنی خاندانی نسبتوں کی امین ہیں وہیں ’’برادر موصوف سلمہ‘ اللہ‘‘ کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز بھی بناتی ہیں۔

تحصیل علم سے حیاتِ عمل کے چند برسوں کے اوقات کو جس درجہ قیمتی بنایا وہ طلاب علم کیلئے بھی یقیناً ایک نمونہ اور مثال ہے,’’برادر موصوف‘‘ سے قربت کی کئی وجوہات میں جہاں مذکورہ علمی و خاندانی نسبتیں ہیں وہیں راقم کے ’’ماموں جان‘‘ جانشین محدث العصر مولانا سید سلیمان بنوری حفظہ اللہ(نائب رئیس و استاد الحدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون کراچی) سے ہمہ وقت کا تعلق خاص کا ہونا بھی اہم وجہ ہے۔ اسی بناء پہ سالوں برادر محترم سے ملاقاتیں کبھی روز روز اور کبھی چند ایام کے تعطل کے بعد ہونا ایک روایتی سا معمول رہا ہے۔ ابھی تقریبا تین برس قبل والد ماجد امام اہل سنت حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ کی حیات و خدمات پہ ماہنامہ بینات کی جانب سے شائع ہونے والے اشاعت خاص کی تیاری میں تصحیح وتزین، عنوانات و سرورق سے لیکر طباعت تک کے کئی مراحل و امور کی انجام دہی میں راقم کی عملاً موصوف کے ساتھ ہمراہی رہی، اور الحمدللہ مہنیوں کا کام دنوں اور دنوں کا گھنٹوں میں ہونے میں برادر محترم کی جہاں کاوشوں کا ثمرہ رہا وہیں ان کا اپنی نسبتوں کی بناء پہ تعلق خاص کا بھی بڑا دخل رہا۔ اس دوران راقم کے بے باک مزاج کو تحمل سے برداشت کر کے جس جذبہ و اخلاص اور بے لوث ہوکر ایک تاریخی دستاویز کو مرتب کرنے میں جو بنیادی کردار ادا کیا اس پہ خاندانِ کامل پوریؒ و بنوریؒ ہمیشہ ان کا ممنون مند اور دعاگو رہا ہے اور ان شاء اللہ رہے گا۔ اس تاریخی اشاعت کے ایام میں انکی کئی پوشیدہ صلاحیتیں راقم پہ آشکارہ ہوئیں جس سے برادر موصوف سلمہ اللہ سے والہانہ تعلق وباہمی محبت مزید گہری سے گہری ہوتی گئی۔

اک حسیں اتفاق

چند برس قبل موصوف سے معمول کے مطابق جامعہ میں سرِ راہ ملاقات ہوئی تو اپنی گاڑی سے ایک کتاب نکال کر دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ایک کوشش کی ہے‘‘میں نے دیکھا تو ’’اسلام اور دور حاضر کے شبہات و مغالطے‘‘نام کی کتاب تھی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کی تحریر کردہ ہزاروں صفحات پہ مشتمل مضامین وکتب اور سینکڑوں بیانات کے مرتب مجموعوں سے ’’برادر موصوف‘‘ نے انتہائی علمی فراست و بصیرت سے جمع وترتیب دیکر عوام و خواص کیلئے یکساں مفید کاوش پہ مشتمل تھی۔ مولانا نے بتایا کہ یہ آج ہی پبلشر نے چند نسخہ بھیجے ہیں۔ بقیہ چند دنوں کے بعد چھپ کر آئیں گی۔ اس کتاب کی بابت لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ چند روز قبل بھائی مولانا عمر انور سے جامعہ میں ملاقات اور نشست ہوئی تو اپنی گاڑی سے ایک مجلد کتاب کا نسخہ منگواکر دیکھایا تو ’’آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی‘‘ نام درج تھا۔ اس پہ جلد اوّل کی نشان دہی بھی تھی۔ تسہیل و ترتیب ’’عمر انور بدخشانی‘‘ بھی درج تھا۔ برادر موصوف نے بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے اس عنوان پہ کام کررہا تھا اور اب اللہ نے اس کو مکمل فرمایا ہے۔ اور آج ہی اس کا ایک نسخہ پریس سے آیا ہے۔ اور آپ کو سب سے پہلے دکھا رہا ہوں۔ دل سے خوب دعائیں نکلیں اور پھر اس بابت موصوف سے کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ تقریباً تین برس قبل انہوں نے جب ’’اسلام اور دور حاضر کے شبہات ومغالطے‘‘ پیش کی تھی تو اس وقت بھی حسن اتفاق سے راقم کو ہی پہلی کتاب پیش کی تھی۔ اور اب یہ شاہکار تفسیر بھی دکھائی تو دل باغ باغ ہوگیا۔ لیکن بہرحال اس بار انہوں نے صرف دکھانے پہ اکتفا کیا اور وجہ یہ بتائی کہ یہ تین جلدیں ایک ساتھ طباعت کے مراحل میں ہیں پھر ایک ساتھ پیش کریں گے۔

آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی

اردو زبان میں بیان القرآن و تفسیر عثمانی کو اللہ نے جس قبولیت سے نوازا ہے اس سے ہر صاحب علم خوب واقف ہے۔ برسوں ان تفاسیر سے لاتعداد عوام و خواص مستفید ہوتے چلے آرہے ہیں۔ خصوصاً درس و تدریس کی دنیا سے وابستہ اہل علم نے ان ہی دو تفاسیر سے بنیادی طور پہ استفادہ کیا۔ مولانا عمر انور سلمہ اللہ نے اس تفسیر کے سرورق پہ ترتیب سے یوں لکھا ہے:
1) ترجمۂ قرآن- شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمہ اللہ
2) خلاصہ تفسیر- حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ
3) فوائد تفسیر- شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ

اساتذہ کرام، ائمہ مساجد اورطلبہ وطالبات کے لیے آسانی

برادرم مولانا عمرانور سلمہ اللہ نے مذکورہ تین خصوصیات کو یکجا کر کے آیت بہ آیت ترجمہ، تفسیر کا خلاصہ اور فوائد کو سہل اردو میں ترتیب دیا ہے۔ پہلی جلد فاتحہ تا سورہ توبہ، دوسری جلد سورہ یونس تا قصص اور تیسری جلد سورہ روم تا سورہ والناس ہے۔ ہمارے مدارس دینیہ میں درس نظامی میں تفسیر جلالین سے قبل تین سالوں (ثالثہ، رابعہ، خامسہ) میں ترجمہ و تفسیر پڑھانے کی ترتیب کے بھی مطابق ہے۔ جبکہ درجہ ثانیہ میں آخری عم پارہ نصاب میں شامل ہے۔ مذکورہ ترتیب سے پڑھانے والے اساتذہ و طلباء کرام کیلئے یکساں مفید اور ایک بہترین جامع خلاصہ تفسیر بھی ہے۔

مساجد میں دروس قرآن کے حلقوں کیلئے بھی یہ تفسیر ایک جامع مربوط خلاصہ کی صورت میں معین و مفید ہوگی،سالانہ دورہ تفسیر پڑھانے اور پڑھنے والوں کیلئے بھی زبردست تحفہ ہے۔ جبکہ تفاسیر قرآن کے مستقل مطالعہ کا ذوق رکھنے والوں کیلئے بھی دو مایہ ناز تفسیر کی تسہیل اور خلاصہ کے طور پہ بھی ایک جامع مجموعہ ہے۔ برادر موصوف سلمہ‘ اللہ نے سالوں کی عرق ریزی سے تینوں جلدوں کی تیاری میں خوش خطی کے حسنِ ذوق کے مطابق کام کیا ہے۔ اللہ نے فن خوش نویسی وخطاطی کے رموز کے اعلی فنی صلاحیت کا خوب ذوق بھی عطاء کیا ہے۔ کئی شہرہ آفاق کتب و رسائل کے سرورق (ٹائٹل) آپ کے ذوق کے عکاس ہیں۔

پس منظر

تین جلدوں پہ مشتمل اس جامع تفسیر پہ راقم نے کا تبصرہ و تجزیہ سورج کو چراغ دیکھانے کی مانند ہوگا۔ اس جامع علمی شاہکار کی بابت برادرم سلمہ‘ اللہ یوں رقمطراز ہیں:
’’بندہ کے اس کام کی ابتدا تفسیر عثمانی سے ہوئی تھی، ویسے تو طالب علمی کے زمانہ سے ہی’’ تفسیر عثمانی‘‘ سے استفادہ کی کوشش رہی ، لیکن بعد میں درس وتدریس کے دوران اس کی اہمیت مزید دل میں جاگزیں ہوگئی ، مطالعہ کے دوران بارہا یہ خیال آتا کہ تفسیر عثمانی کوحواشی کے بجائے عام فہم اور آسان انداز میںمرتب کرکے پیش کیا جائے ، تاکہ مطالعہ کرنے والے کو تفسیری فوائد وحواشی ڈھونڈنے کی دشواری نہ ہو اور آیت کے ترجمہ کے ساتھ ہی اس کے تفسیری فوائد درج ہوجائیں تاکہ یکسوئی کے ساتھ قرآن کریم کی آیات کے مطالب ذہن نشین ہوسکیں، یہی بات کئی اساتذہ کرام اور متعدد باذوق رفقاء درس سے بھی سننے کو ملتی رہی ، چنانچہ اساتذہ کرام اور ساتھیوں سے مشورہ کے بعد تقریبا چھ سال قبل یہ کام اللہ کا نام لے کر شروع کردیا ، دیگر مصروفیات کے ساتھ جیسے جیسے موقع ملتا تھوڑا تھوڑا کرکے یہ کام ازخود کمپیوٹر پر کرتا رہا، الحمد للہ !تقریباتین ساڑھے تین سال کے عرصہ میں تفسیر عثمانی کی ترتیب نو کا کام اللہ تعالی نے مکمل کروادیا، اس کے بعد ساتھیوں کا اصرار رہا کہ اسے شائع کردیا جائے ، لیکن اللہ تعالی نے دل میں یہ بات ڈالی کہ تفسیر عثمانی کے ساتھ حضرت تھانویؒ کی شہرہ آفاق تفسیر’’بیان القرآن‘‘ کے ترجمہ وتفسیری فوائدکو آسان زبان میں ڈھال کرساتھ ہی شامل کردیا جائے ، اس طرح اردو زبان کی دو مستند اورمقبول ترجموں اورتفسیروں سے ایک ساتھ استفادہ آسان ہوجائے گا، چونکہ تفسیر بیان القرآن کے متداول مطبوعہ نسخے عصرحاضر کے اشاعتی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، جس کی وجہ سے صحیح طور پر استفادہ مشکل ہوتا جارہا ہے‘‘۔

آسان بیان القرآن : خصوصیات وامتیازات

مزید اس جامع خلاصہ کی افادیت وترتیب کو واضح کرنے کیلئے مولانا سلمہ اللہ نے چند نکات یوں لکھے ہیں:
’’اس تمہید وپس منظر کے بعد اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ اشاعت ’’آسان بیان القرآن مع تفسیرعثمانی‘‘ کی ترتیب بیان کردی جائے جس کے ضمن میں بقیہ متعلقہ تفصیلات بھی سامنے آجائیں گی:

1) قرآنی آیات کے متن کا ترجمہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کاتحریر کردہ ہے۔
2) ترجمہ کے بعد حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی تفسیربیان القرآن ہے، جس کا عنوان بندہ نے اپنے پرنانااورصاحب معارف القرآن مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی اتباع میں’’خلاصہ تفسیر‘‘ رکھا ہے ، حضرت مفتی صاحب قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ اس کا نام خلاصہ تفسیر رکھنا اس لیے موزوں ہوا کہ خود حضرت رحمہ اللہ نے خطبہ بیان القرآن میں اس کے متعلق فرمایا ہے کہ: ’’اس کو تفسیر مختصر یا ترجمہ مطول کہا جاسکتا ہے‘‘۔
3) تفسیر بیان القرآن کا ایک خاص وصف سورتوں اور آیات کے درمیان نظم یعنی ربط ومناسبت کا اہتمام ہے ، چنانچہ ’’خلاصہ تفسیر‘‘ کے عنوان کے بعد آیت کے ترجمہ وتفسیر سے پہلے اس آیت کا ماقبل سے ربط بھی آسان زبان میں بیان کردیا گیا ہے، آیتوں کے درمیان ربط کے علاوہ سورتوں کے درمیان ربط کا بھی حضرت نے اکثر اہتمام فرمایا ہے، بقول پروفیسرمولانا عبدالباری ندوی ؒ ’’بیان القرآن نے یہ خدمت بقدر ضرورت پوری فرمادی کہ ہر چھوٹا بڑا حصہ اور ہر چھوٹی بڑی آیت دوسری سے اس طرح مربوط ہوگئی ہے کہ ہر آیت کا قوسین کے ساتھ جو تفسیری ترجمہ فرمایا دیاگیا ہے اگر اس کو آدمی پڑھتا چلا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک بے تکلف مسلسل ومربوط کتاب پڑھ رہا ہے ‘‘۔
4) حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے ’’ تفسیر‘‘ کے عنوان سے ایک خاص اسلوب میں قرآنی آیت کا ترجمہ وتشریح کا اہتمام فرمایا ہے ، چونکہ قرآن کریم سمجھنے کے لیے بسا اوقات صرف ترجمہ کافی نہیں ہوتا اس لیے حضرت تھانویؒ نے ترجمہ کے ساتھ قوسین() میں کچھ تشریحی الفاظ یا جملے بڑھاکر قرآن کریم کے مضامین کی عمدہ وضاحت فرمائی ، البتہ قرآنی آیت کے ترجمہ میں لازمی احتیاط اورامتیاز کے پیش نظر اسے خط کشیدہ Overline بھی کررکھا تھا جو ترجمہ کے متن کی علامت ہے جس کا بندہ نے بھی اس اشاعت میں خاص طور پر اہتمام کیا ہے ، چنانچہ خط کشیدہ الفاظ میں ترجمہ قرآن ہے اور بیان القوسین () اس کی تفسیر ہے۔
5) ترجمہ وتفسیر کے بعد جہاںکسی ضروری بحث کا بیان یا کسی شبہ کا ازالہ ضروری ہواتو وہاں ترجمہ وتشریح کے بعد ’’ف‘‘ کا عنوان لگا کرحضرت تھانویؒ نے اس کو بھی مختصرا بیان فرمادیا ، چنانچہ بندہ نے ان تفسیری فوائد کو بھی الفاظ وتعبیرات کی معمولی تبدیلی کے ذریعہ مختصراور آسان زبان میں پیش کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے، آیت کے جس حصے سے متعلق تفسیری فائدہ ہے وہاں ’’فائدہ ‘‘کے بجائے آیت کے اس حصہ کو عنوان بناکر نشاندہی کی گئی ہے۔
6) تفسیر بیان القرآن میں ایک مستقل سلسلہ مسائل اخلاق وسلوک کا ہے ، یعنی جن جن آیات سے تزکیہ و اخلاقیات کا کوئی مسئلہ مستنبط ہوتا ہے وہاں اس کو حضرت تھانویؒ نے وجہ استنباط کے ساتھ ذکر فرمادیا ہے، اس اشاعت میں دیگر تفسیری فوائد کے ساتھ ساتھ ان مسائل تزکیہ واخلاق کو بھی آسان اورمختصرزبان میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
7) آیت کے خلاصہ تفسیر اور دیگر متعلقہ فوائد وتشریح کے بعد بیان القرآن کاحصہ پورا ہوجاتا ہے، اس کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے تفسیری فوائد ذکر کیے گئے ہیں، درمیان میں امتیاز کے لیے ایک لمبی سرخ لکیر ڈال دی گئی ہے ، تاکہ بیان القرآن اور تفسیر عثمانی میں امتیاز برقرار رہے، اور مطالعہ کرنے والا یہ بآسانی سمجھ جائے کہ اس امتیازی لکیر کے بعد اس مذکورہ آیت سے متعلق علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کے تفسیری فوائد شروع ہورہے ہیں۔
8) علامہ عثمانیؒ کے تفسیری فوائدعدد کی ترتیب کے اعتبار سے ہیں جس کی طرف اوپرآیت کے ترجمہ میں عدد کے ذریعے بھی نشاندہی کردی گئی ہے، البتہ جس آیت کے تحت فوائد عثمانی زیادہ یا تفصیلی تھے وہاں عدد کے ساتھ ساتھ آیت کے اس متعلقہ حصے کے ذریعہ بھی نشاندہی کردی گئی ہے۔
9) بیان القرآن کو آسان کرنے کے لیے دیگرتفاسیر کے ساتھ ساتھ درج ذیل تفسیروں سے بطورخاص مدد لی گئی…
۱۔معارف القرآن …مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ۔
۲۔تسہیل بیان القرآن …حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ۔
۳۔معارف القرآن …حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی صاحب رحمہ اللہ۔
۴۔تفسیر ماجدی …حضرت مولانا عبد الماجد دریاآبادی صاحب رحمہ اللہ (مسائل السلوک کی تسہیل کی حدتک)۔

اگر یہ کہا جائے توشاید مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ مجموعہ تفسیر ’’آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی‘‘اردو کی کئی بھاری اورضخیم تفسیروں کا ایک قسم کا خلاصہ اور متن ہے،  غرض اس مجموعہ میں برصغیر کے دو مستند مشہور ترجموں ترجمہ حضرت شیخ الہندء اورترجمہ حضرت تھانویؒ، اسی طرح دو مشہور تفسیریں: بیان القرآن اورتفسیر عثمانی یکجا ہوگئیں، ضخامت سے بچنے اور اس مجموعہ تفسیرکو تین جلدوں تک محدود رکھنے کے لیے’’آسان بیان القرآن‘‘ میں کچھ امور فی الحال شمولیت سے رہ گئے، اس ارادے اور امید پر کہ’’ آسان بیان القرآن‘‘ کو مستقل طور پران شاء اللہ بہت جلدعلیحدہ بھی شائع کیا جائے گا تواس میں وہ چیزیں بھی شامل کردی جائیں گی‘‘۔

اللہ تعالی برادر محترم مولانا عمرانور سلمہ اللہ کی اس کاوش کو امت کیلئے نافع بنائے، اور اس شاہکار کی اشاعت وطباعت میں جن جن احباب کی کوششیں اور کاوشیں شامل رہیں ان سب کو کلام الٰہی کی تمام برکات و فیوضات سے مستفیذ فرمائے۔ آمین یارب العالمین

333 Views
Posted in Urdu, قرآن و تفسیر

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!