Menu Close

وحی ، کشف اور الہام میں فرق اور ان کا حکم، از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

وحی ، کشف اور الہام میں فرق اور ان کا حکم

کشف

عالم غیب کی کسی چیز سے پردہ اٹھا کر دکھلا دینے کا نام’’ کشف ‘‘ہے، کشف سے پہلے جو چیز مستور تھی، اب وہ مکشوف یعنی ظاہر اور آشکارا ہوگئی۔ قاضی محمد اعلیٰ تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (کشاف اصطلاحات الفنون ص۱۲۵۴) میں لکھتے ہیں:
’’الکشف عند اہل السلوک ہو المکاشفہ رفع حجاب راگویند کہ میان روح جسمانی است کہ ادراک آں بحواس ظاہری نتواں کرد۔ الخ!‘‘

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی صفائی اور نورانیت پر موقوف ہے۔ جس قدر قلب صاف اور منور ہوگا۔ اسی قدر حجابات مرتفع ہوں گے۔ جاننا چاہئے کہ حجابات کا مرتفع ہونا قلب کی نورانیت پر موقوف تو ہے مگر لازم نہیں(احیاء العلوم ج۳ ص۱۶)۔

الہام

کسی خیر اور اچھی بات کا بلانظروفکر اور بلاکسی سبب ظاہری کے من جانب اﷲ قلب میں القاء ہونے کا نام’’ الہام ‘‘ہے ،جو علم بطریق حواس حاصل ہو وہ ’’ادراک حسی ‘‘ہے ،اور جو علم بغیرطور حس اور طور عقل، من جانب اﷲ بلاکسی سبب کے دل میں ڈالا جائے وہ ’’الہام ‘‘ہے۔ الہام محض موہبت ربانی ہے ۔اور فراست ایمانی جس کا حدیث میں ذکر آیا ہے وہ من وجہ کسب ہے اور من وجہ وہب ہیں،’’ کشف ‘‘اگرچہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے ’’الہام ‘‘سے عام ہے، لیکن کشف کا زیادہ تعلق امور حسیہ سے ہے اور الہام کا تعلق امور قلبیہ سے ہے۔

وحی

وحی لغت میں مخفی طور پر کسی چیز کے خبر دینے کا نام ہے۔ خواہ وہ بطریق اشارہ وکنایہ ہو یا بطریق خواب ہو یا بطریق الہام ہو یا بطریق کلام ہو،لیکن اصطلاح شریعت میں وحی اس کلام الٰہی کو کہتے ہیں کہ جو اﷲ کی طرف سے بذریعہ فرشتہ نبی کو بھیجا ہو۔ اس کو وحی نبوت بھی کہتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے ،اور اگر بذریعہ القاء فی القلب ہو تو اس کو’’ وحی الہام ‘‘کہتے ہیں جو اولیاء پر ہوتی ہے ،اور اگر بذریعہ خواب ہوتو اصطلاح شریعت میں اس کو’’ رویائے صالحہ ‘‘کہتے ہیں جو عام مومنین اور صالحین کو ہوتا ہے، کشف اور الہام اور رویائے صالحہ پر لغۃً وحی کا اطلاق ہوسکتا ہے، مگر عرف شرع میں جب لفظ ’’وحی ‘‘کا بولا جاتا ہے تو اس سے وحی نبوت ہی مراد ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے قرآن کریم میں باعتبار لغت کے شیطانی وسوسوں پر بھی وحی کا اطلاق آیا ہے ’’کما قال تعالٰی:

وان الشیٰطین لیوحون الے اولیائہم
وکذالک جعلنا لکل نبی عدوا شیٰطین الانس والجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غرورا

لیکن عرف میں شیطانی وسوسوں پر وحی کا اطلاق نہیں ہوتا۔

وحی اور الہام میں فرق

’’وحی نبوت ‘‘قطعی ہوتی ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتی ہے اور امت پر اس کا اتباع لازم ہوتا ہے اور نبی پر اس کی تبلیغ فرض ہوتی ہے، اور’’ الہام ‘‘ظنی ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء نہیں ہوتا، کیونکہ حضرات انبیاء معصوم عن الخطاء ہیں اور اولیاء معصوم نہیں، اسی وجہ سے الہام دوسروں پر حجت نہیں اور نہ الہام سے کوئی حکم شرعی ثابت ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ استحباب بھی الہام سے ثابت نہیں ہو سکتا۔

نیز علم احکام شرعیہ بذریعہ وحی انبیاء کرام علیھم السلام کے ساتھ مخصوص ہے ،اور غیرانبیاء پر جو الہام ہوتا ہے سو وہ از قسم بشارت یا از قسم تفہیم ہوتا ہے۔ احکام پر مشتمل نہیں ہوتا جیسے حضرت مریم علیھا السلام کو جو وحی الہام ہوئی وہ از قسم بشارت تھی نہ کہ از قسم احکام، اور بعض مرتبہ وحی الہام کسی حکم شرعی کی تفہیم اور افہام کے لئے ہوتی ہے۔

الہام کے مراتب

اور جس طرح رویائے صالحہ میں مراتب اور درجات ہیں جو شخص جس درجہ صالح اور جس درجہ صادق ہے اسی درجہ اس کا رؤیا بھی صالحہ اور صادقہ ہو گا۔ اسی طرح الہام میں بھی مراتب ہیں جس درجہ کا ایمان اور جس درجہ کی ولایت ہوگی، اسی درجہ کا الہام ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ اگر میری امت میں کوئی محدث من اﷲ ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔ سو جاننا چاہئے کہ یہ تحدیث من اﷲ الہام کا ایک خاص مرتبہ ہے جو خواص اولیاء کو حاصل ہوتا ہے جو ان کی زبان سے نکلتا ہے، وہ حق ہوتا ہے اور صدق اور وحی خداوندی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ بلکہ حق جل شانہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ حق کا ظہور اور صدور اسی محدث من اﷲ کی زبان سے ہو۔ ’’کما قال تعالٰی فی قصۃ موسٰی علیہ السلام، حقیق علے الااقول علی اﷲ الا الحق‘‘ یہ تحدیث الٰہی مرتبہ فاروقیہ ہے۔ اس کے اوپر مرتبہ صدیقیت ہے اور اس کے اوپر مرتبہ نبوت ورسالت ہے۔

وحی رحمانی اور وحی شیطانی میں فرق

اگر واردات قلبیہ کسی امر خیر اور امر آخرت یعنی حق جل شانہ کی اطاعت کی طرف داعی ہوں تو وحی رحمانی ہے اور اگر دنیاوی شہوتوں اور نفسانی لذتوں کی طرف داعی ہوں تو وہ وحی شیطانی ہے(کذافی خواتم الحکم ص۱۵۶، مدارج السالکین ج۱ ص۲۷)۔

حضرات صوفیائے کرام کا مطلب

جس طریق حق جل شانہ نے ’’وحی ‘‘کو معنی لغوی کے اعتبار سے مقسم قرار دے کر اس کے تحت میں وحی نبوت اور الہام اور شیطانی وسوسوں کو داخل فرمایا اور ’’الہام ‘‘کو معنی لغوی کے اعتبار سے ’’الہام فجور ‘‘اور ’’الہام تقویٰ ‘‘کی طرف تقسیم فرمایا: ’’فالہمہا فجورہا وتقواہا‘‘ اور لفظ ’’ارسال ‘‘معنی لغوی کے اعتبار سے شیطان لعین کے لئے آیا ہے۔ ’’انا ارسلنا الشیٰطین علی الکفرین‘‘
اسی طرح حضرات صوفیاء نے ’’نبوت ‘‘کو بمعنی لغوی لے کر مقسم بنایا، یعنی خداتعالیٰ سے اطلاع پانا اور دوسروں کو اطلاع دینا،اس معنی لغوی کو مقسم بنایا اور حضرات انبیاء کی نبوت اور وحی شریعت اور اولیاء کی ولایت اور الہام معرفت کو نبوت بمعنی لغوی کے تحت میں داخل فرمایا ،اور نبوت کے لئے چونکہ تشریع احکام ضروری ہے اور ولایت میں کوئی حکم شرعی نہیں ہوتا۔ اس لئے حضرات صوفیاء نے نبوت ورسالت کا نام نبوت تشریعہ رکھا اور ولایت کا نام نبوت غیرتشریعی رکھا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شریعت میں نبوت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نبوت تشریعہ اور ایک نبوت غیرتشریعی ،بلکہ نبوت بمعنی لغوی کی دو قسمیں ہیں:ایک اصطلاح نبوت جس کے لئے تشریع احکام لازم ہے اور نبوت بمعنی لغوی کی دوسری قسم ولایت اور الہام ہے جس سے صرف حقائق اور معارف کا انکشاف ہوتا ہے۔ مگر اس سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ کشف اور الہام سے مستحب کا درجہ بھی ثابت نہیں ہوتا اور حضرات صوفیاء نے نہایت واضح طور پر اس کی تصریح کر دی ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بالکل بند ہوچکا ہے اور جس قسم کی وحی حضرات انبیاء پر اترتی تھی وہ بالکل مسدود ہوگئی۔ اب نہ یہ منصب باقی ہے اور نہ کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ اپنے اوپر نبی اور رسول کے لفظ کا اطلاق کرے۔ نبوت بالکل ختم ہوگئی۔ اولیاء کے لئے نبوت میں سے صرف وحی الہام باقی ہے اور حفاظ قرآن کے لئے باقی ہے۔ حدیث میں ہے: ’’من حفظ القرآن فقد درجت النبوۃ بین جنبیہ‘‘ جس نے قرآن کو حفظ کر لیا تو اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان نبوت داخل کر دی گئی۔

اور علماء اور خواص امت کو منصب رسالت میں یہ حصہ ملا کہ وہ احکام شریعت کی تبلیغ کریں اور فقہاء اور مجتہدین کو منصب رسالت سے یہ حصہ ملا کہ کتاب وسنت اور شریعت کی روشنی میں اجتہاد واستنباط کریں اور غیرمنصوص امور کا حکم اصول شریعت کے ماتحت رہ کر خداداد نور فہم اور نور تقویٰ سے قران اور حدیث سے نکال کر امت کو فتویٰ دیں۔ اس طرح مجتہدین کو تشریح احکام کا ایک حصہ عطاء ہوا اور یہ بھی تصریح فرمائی کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر اﷲ کے یہ احکام اور یہ اوامر اور نواہی نازل ہوئے ہیں وہ مدعی شریعت ہے ہم اس کی گردن اڑادیں گے،تو کیا مرزاقادیانی کے نزدیک تمام اولیاء اور علماء اور حفاظ قرآن نبی ہو سکتے ہیں اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے؟ حضرات صوفیاء کی اس تحقیق سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر اولیاء کو نبوت غیرتشریعہ سے حصہ ملا ہے تو فقہاء اور مجتہدین کو تو نبوت تشریعہ سے حصہ ملا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کے نزدیک ائمہ اجتہاد تو تشریعی نبی ہونے چاہیں،بلکہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے نبوت بمعنی لغوی (یعنی خدا سے خبر پانا اور دینا) کو اس قدر عام فرمایا کہ کسی موجود کو اس سے خالی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ فتوحات کے ایک سو پچیسویں باب میں فرماتے ہیں:

’’اعلم ان النبوۃ اللتی ہی الاخبار من شی ساریۃ فی کل موجود عند اہل الکشف والوجود لکنہ لایطلق علی احد منہم اسم نبی ولا رسول الاعلی الملائکۃ الذی ہم رسل‘‘ (کبریت احمر ج۱ ص۱۱۸)

جاننا چاہئے کہ نبوت جس کے معنی لغت میں خبردینے کے ہیں وہ اہل کشف کے نزدیک تمام موجودات میں سرایت کئے ہوئے ہیں، لیکن معنی شرعی کے اعتبار سے نبی اور رسول کا اطلاق بجز فرشتوں کے اور موجودات پر نہیں کیا جائے گا۔

اب دیکھئے کہ اس عبارت میں تمام مخلوقات اور تمام موجودات کے لئے ثابت فرمادیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتلادیا کہ نبوت بمعنی لغوی یعنی اخبار عن الشی تمام موجودات میں جاری وساری ہے۔ مگر معنی شرعی کے اعتبار سے کسی پر نبی اور رسول کا اطلاق درست نہیں۔ شہد کی مکھیوں کے لئے وحی اور ہرنفس کے لئے الہام کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے: ’’واوحی ربک الی النحل۔ فالہہما فجورہا وتقوہا‘‘ معلوم ہوا کہ وحی اور الہام کے فیض سے حیوانات بھی محروم نہیں۔ خداوند ذوالجلال کی وحی اور الہام کی تاربرقی ہر ایک مخلوق کے دل میں لگی ہوئی ہے:

سب سے ربط آشنائی ہے تجھے
دل میں ہر ایک کے رسائی ہے تجھے

اس مسئلہ کی تحقیق اور تفصیل درکار ہو تو بوادر النوادر ص۶۲۰تا۶۳۶ مصنفہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی قدس سرہ اور مسک الختام مصنفہ ناچیز اور الشہاب مصنفہ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی مراجعت کریں۔ واﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم!

صوفیاء کے شطحیات

صوفیاء کرام کے یہاں ایک باب ہے جس کو شطحیات کہتے ہیں۔ شطحیات، شطحی یا شطح کی جمع ہے۔ اصطلاح صوفیاء میں شطح کی تعریف یہ ہے کہ جو بات غلبہ حال اور غلبہ وارد کی وجہ سے بے اختیار زبان سے نکل جائے اور بظاہر قواعد شریعت کے خلاف معلوم ہوتی ہے اس کو شطح کہتے ہیں۔ ایسے شخص پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ دوسروں کو اس کی تقلید جائز ہےخود حضرات صوفیاء نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ ان شطحیات پر کسی کو عمل پیرا ہونا جائز نہیں بلکہ جس شخص پر یہ احوال نہ گزرے ہوں وہ ہماری کتابوں کا مطالعہ بھی نہ کرے، تاکہ فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔

الہام کا حکم شرعی

حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کی وحی اور الہام کی حجیت میں تو کیا کلام ہوسکتا ہے حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کا تو خواب بھی حجت قطعیہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض خواب کی بناء پر بیٹے کے ذبح کا ارادہ فرمایا جس کی حق جل شانہ نے قرآن میں مدح اور توصیف فرمائی،البتہ اولیاء اﷲ کے الہام میں کلام ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ الہام کا حکم یہ ہے کہ اگر الہام کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ اور قواعد شریعت کے خلاف نہ ہو تو اس پر عمل کرنا جائز ہے۔ واجب نہیں اور جو الہام کتاب وسنت اور شریعت کے خلاف ہو اس پر عمل کرنا بالاجماع جائز نہیں جوالہام قرآن وشریعت کے خلاف ہو وہ الہام رحمانی نہیں بلکہ وہ الہام شیطانی ہے۔ بلکہ الہام کے صادق اور کاذب ہونے کا معیار ہی کتاب وسنت کی موافقت اور مخالفت ہے،صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کبھی اپنے الہام پر عمل نہ فرماتے تھے۔ جب تک کہ کتاب وسنت سے اس کی تصدیق وتائید نہ ہو جائے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ ابوسلیمان درانی رحمۃ اللہ علیہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ الہام پر اس وقت تک عمل نہ کرو جب تک آثار سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فتوح الغیب میں فرماتے ہیں کہ الہام اور کشف پر عمل کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ قرآن اور حدیث اور اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔
قاضی ثناء اﷲ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ارشاد الطالبین میں فرماتے ہیں کہ اولیاء اﷲ کا الہام علم ظنی کا موجب ہے۔ اگر کسی ولی کا کشف اور الہام کسی حدیث کے خلاف ہو اگرچہ وہ حدیث خبر آحاد میں سے ہو بلکہ اگر ایسے قیاس صحیح کے بھی خلاف ہو کہ جو شرائط قیاس کو جامع ہو تو اس جگہ بمقابلہ کشف والہام قیاس کو ترجیح دینی چاہئے اور یہ مسئلہ تمام سلف اور خلف میں متفق علیہ ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی ؒ اور کشف والہام

اب مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک عبارت مع ترجمہ نقل کی جاتی ہے:

بداں، ارشدک اﷲ تعالٰی والہمک سواء الصراط کہ از جملہ ضروریات طریق سلوک اعتقاد صحیح است کہ علمائے اہل سنت آں را از کتاب وسنت وآثار سلف استنباط فرمودہ اند وکتاب وسنت را محمول داشتن برمعانی کہ جمہور علمائے اہل حق بمعنی علمائے اہل سنت وجماعت آں معنی راز کتاب وسنت فہمیدہ اندنیز ضروری است واگر بالفرض خلاف آں معانی مفہومہ بکشف والہام امرے ظاہر شود آں را اعتبار نیاید کردد ازاں استعاذہ باید نمود۔ مثلاً آیات واحادیث کہ از ظواہر آنہا توحید وجود مفہوم می شود وہم چیں احاطہ وسریان وقرب ومعیت ذاتیہ معلوم می گرد وچوں علمائے اہل حق ازاں آیات واحادیث ایں معنی نفہمیدہ اند اگردر اثنائے راہ برسالک ایں معانی منکشف شود وموجود جزیکے نیابدیا اور ابالذات محیط داند وقریب ذاتا بیابد ہرچید اور دریں وقت بواسیر غلبہ حال سکر معذورات اما باید کہ ہمیشہ بحق سبحانہ تعالیٰ ملتجی ومتضرع باشد کہ اور را ازیں ورطہ بر آوردہ امورے کہ مطابق آرائے صائبہ علمائے اہل حق ست بروئے منکشف گرداند وسرموئے خلاف معتقدات حقہ ایشاں ظاہر نسازد بالجملہ معانی مفہوم علمائے اہل حق را مصداق کشف خود باید ساخت و محک الہام خود راجزاں نباید داشت چہ معانی کہ خلاف مفہومہ ایشان است از حیز اعتبار ساقط است زیرا کہ ہر مبتدع وضال معتقدات مقتدائے خود را کتاب وسنت می داند وباندازہ افہام رکیکہ خود ازاں معانی غیر مطابقہ می فہمد یضل بہ کثیراً ویہدی بہ کثیراً۔ وآنکہ گفتم کہ معانی مفہومہ اہل حق معتبر است۔ وخلاف آں معتبر نیست بنابرآں است کہ آں معانی را از تتبع آثار صحابہ وسلف صالحین رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین اخذ کردہ اندواز انوار نجوم ہدایت ایشاں اقتباس فرمودہ اند۔ لہٰذا نجات ابدی مخصوص باایشاں گشت وفلاح سرمدی نصیب شاں آمد ’’اولئک حزب اﷲ الا ان حزب اﷲ ہم المفلحون‘‘ واگر بعضے از علماء باوجود حقیت اعتقاد وفرعیات مداہنت نمایند ومرتکب تقصیرات باشد درعملیات انکار مطلق علماء نمادن وہمہ را مطعون ساختن انصافی محض است ومکابرہ صرف بلکہ انکار است از اکثر ضروریات دین چہ ناقلاں آں ضروریات ایشانند وناقدان جیدہ آں را از رویہ ایشانند۔ لولا نورہدایتہم لما اہتدینا لولا تمییزہم الصواب من الخطاء لغویناہم الذین بذلوجہد ہم فی اعلاء کلمۃ الدین القویم واسلکوا طوائف کثیرۃ من الناس علی صراط مستقیم فمن تابعہم نجی ومن خالفہم ضل واضل(مکتوب دوصدو ہشتادو ششتم از جلد اوّل مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ)۔

ترجمہ: ’’اے عزیز! جان لے (خدا تجھے سمجھ عطاء کرے اور سیدھے راستہ کی ہدایت کرے) کہ طریق سلوک کے ضروری امور میں سے صحیح عقیدہ رکھنا ہے۔ جو علماء اہل سنت نے قرآن وحدیث اور آثار سلف سے اخذ کیا ہے اور قرآن وحدیث کو انہی معانی پر محمول کرنا بھی ضروری ہے جو علمائے حق یعنی علمائے اہل سنت وجماعت نے قرآن وحدیث سے سمجھے ہیں اور اگر بالفرض ان اہل سنت کے سمجھے ہوئے معانی کے خلاف کشف والہام کے ذریعہ کوئی بات ظاہر ہو تو اس کا اعتبار نہ کرنا چاہئے۔ مثلاً وہ آیتیں اور حدیثیں جن کے ظاہری پہلوؤں سے وحدۃ الوجود سمجھ میں آتی ہے یا اسی طرح باری تعالیٰ کا ذاتی لحاظ سے ہر جگہ حاوی وساری ہونا اور ذاقی قرب ومعیت معلوم ہوتی ہے۔ چونکہ علمائے حق نے ان آیات واحادیث سے یہ معنی نہیں سمجھے ہیں تو اگر راہ سلوک کے دوران میں یہ باتیں منکشف ہوں اور ایک (خدا) کے سوا کسی کو موجود نہ پائے یا خدا کو بالذات محیط سمجھے اور بالذات قریب پائے تو اگرچہ وہ سالک بوجہ سکر کی حالت کے غلبہ کے اس وقت معذور ہے۔ لیکن اسے ہمیشہ اﷲتعالیٰ سے التجاء کرنی چاہئے کہ اﷲتعالیٰ اس کو اس چکر سے نکال کر اہل حق علماء کی درست رائے کے موافق امور اس پر ظاہر فرمادے اور ان سچے عقیدوں کے خلاف بال برابر بھی ظاہر نہ ہونے دے۔ غرض اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی کو اپنے کشف کا معیار بنانا چاہئے اور اس کے علاوہ اور کسی چیز کو اپنے الہام کی کسوٹی نہیں بنانا چاہئے۔ کیونکہ جو معانی اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی کے خلاف ہیں وہ درجہ اعتبار سے گرے ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ (یوں تو) ہر مبتدع اور گمراہ اپنے پیشوا کے معتقدات کو قرآن وحدیث سمجھتا ہے اور اپنی ناقص اور پوچ سمجھ کے مطابق قرآن وحدیث سے حقیقت کے خلاف معانی سمجھتا ہے۔ (اور قرآن سے بہت سے گمراہ ہو جاتے ہیں اور بہت راہ پاتے ہیں) اور یہ جو میں نے کہا کہ اہل حق کے سمجھے ہوئے معانی معتبر ہیں اور اس کے خلاف معتبر نہیں یہ اس بناء پر ہے کہ انہوں نے ان معانی کو صحابہ رضی اللہ عنھم اور سلف صالحین رحمھم اللہ سے اخذ کیا ہے اور ان کے ستارہ ہدایت سے نور حاصل کیا ہے۔ اسی لئے ابدی نجات اور دائمی فلاں ان کے لئے مخصوص ہوگئی۔ (یہ لوگ ہیں اﷲتعالیٰ کی جماعت اور سن لو کہ اﷲ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے)
اگر بعض علماء باوجود صحیح عقائد جاننے کے جزئیات وفرعیات میں حق کو چھپائیں اور اعمال میں تقصیر کریں تو اس سے مطلقاً تمام علماء کا انکار کرنا اور سب کو ملامت کرنا کھلی بے انصافی اور ہٹ دھرمی ہے۔ بلکہ یہ چیز دوسرے الفاظ میں اکثر ضروریات دین سے انکار کردینا ہے۔ کیونکہ ضروریات دین کے روایت کرنے والے اور ان میں کھوٹے کھرے کی تمیز کرنے والے ہی علماء ہیں کہ اگر ان کا نور ہدایت نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاسکتے اور اگر ان کی طرف سے حق وباطل میں تمیز نہ کی جاتی تو ہم بھٹک جاتے۔یہی وہ حضرات ہیں جنہوں نے اپنی آخری کوشش تک دین کا بول بالا کرنے کے لئے صرف کر دی ہے اور انسانوں کے بہت سے گروہوں کو سیدھے راستہ پر چلایا ہے۔ پس جس نے ان کا اتباع کیا اس نے نجات وفلاح پائی اور جس نے ان کی مخالف کی وہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کے لئے گمراہی کا ذریعہ بنا۔‘‘

مرزاقادیانی کو اپنے الہام پر خود بھی یقین نہ تھا

مرزاقادیانی کے الہامات چونکہ القاء شیطانی تھے۔ اس لئے خود مرزاقادیانی کو بھی اپنے الہامات پر یقین نہ تھا۔ چنانچہ مرزاقادیانی تحریر فرماتے ہیں: ’’میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے… ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳)
اپنے الہامات کو ظاہر پر حمل نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مرزاقادیانی کو شبہ تھا کہ یہ الہامات خدا کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف سے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو یقین تھا کہ یہ الہامات منجانب اﷲ نہیں بلکہ ان کے نفس کے من گھڑت ہیں اور قرآن اور حدیث کے بھی خلاف ہیں۔ مگر اندیشہ یہ تھا کہ لوگ اس الہام کو سن کر متوحش ہوں گے۔ اس لئے سوچتے تھے کہ قرآن اور حدیث میں کس طرح تاویل کر کے الہام کو اس کے مطابق بنادوں۔

’’واخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلٰی اٰلہ وصحبہ اجمعین وعلینا معہم یا ارحم الراحمین‘‘

محمد ادریس کان اﷲ لہ وکان ہو ﷲ آمین
۲۰؍جمادی الثانی ۱۳۷۳ھ، یوم چہار شنبہ

ماخوذ از: احتساب قادیانیت جلد۲

250 Views
Posted in Urdu, عقیدہ و کلام

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!