Menu Close

رجم کی شرعی حیثیت ، از مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ

رجم کی شرعی حیثیت ، از مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ

ترتیب و عنوانات: مفتی عمر انور بدخشانی

رجم کا مطلب اور مقصد

رجم ’’سنگسار ‘‘کرنے کو کہتے ہیں، اسلامی سزائوں میں یہ سب سے سخت سزا ہے جو بدکاری جیسے گھنائونے جرم پر دی جاتی ہے، اس سزا کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ،اگر چار مرد گواہی نہ دے سکیں ،یا ان کی گواہی میں تضاد یا تعارض ہو توگواہ حد قذف (تہمت لگانے کی سزا سے) بچ نہ سکیں گے۔

شریعت مطہرہ کا اس سے مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ اشاعت فاحشہ سے پاک ہو، اس لیے بدکاری جیسا گناہ اور اُس کے چرچے کو اسلامی معاشرہ سے نیست و نابود کرنا مقصود ہے،موجودہ دور بدکاری اور اس کے چرچے سے پاک معاشرہ کا تصور نہیں کرسکتا ،کیونکہ دو سو سال سے جو نظام زندگی چل رہا ہے اُس میں شعوری یا غیرشعوری طور پر ڈارون کانظریہ ارتقاء کار فرما ہے، ڈارون کا نظریہ ارتقاء اگرچہ اب عقلی و استدلالی طور پر اہل علم و تحقیق کے نزدیک فرسودہ ہوچکا ہے، لیکن اس میکانکی نظریہ کے اثراتِ بدنے دنیا کے نظریہ ہائے زندگی کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا۔

امت مسلمہ میں رجم کا انکار صرف خوارج نے کیا

حقیقت یہ ہے کہ رجم ایک ایسا اتفاقی مسئلہ ہے جس سے اسلامی شریعت میں خوارج کے علاوہ کسی نے انکار نہیں کیا، امت محمدیہ نے کبھی سرمو اس سے انحراف نہیں کیا، تعامل و توارث نے اس کے حد ہونے اور اسلامی سزا ہونے پر ہمیشہ مہر تصدیق ثبت کی، اسلامی فرقوں میں سے شیعہ و معتزلہ نے بھی اس سے انکار نہیں کیا ،صرف خوارج نے اس سے انکار کیا، ابن رشد القرطبی لکھتے ہیں:

فاما الثیب الاحرار المحصنون فان المسلمین اجمعوا علی ان حدھم الرجم الافرقۃ من اھل الاھواء فانھم رأوا ان حدکل زانٍ الجلد وانما صارالجمھور للرجم لثبوت احادیث الرجم فخصصوا الکتاب بالسنۃ اعنی قولہ تعالٰی الزنیۃ والزانی الآیہ ( بدایۃ المجتہد،ص ۴۳۵ ج ۲)۔

’’آزاد شادی شدہ محض کے متعلق سارے مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ان کی سزا رجم ہے سوائے خواہشات کے بندے ایک قلیل جماعت کے کہ ان کی رائے یہ ہے کہ ہر زانی کی سزا کوڑے لگانا ہے۔ جمہور نے رجم کو اس لیے اختیار کیا کیونکہ رجم کی احادیث ثبوت کے درجہ کو پہنچ چکی ہیں، ان حضرات نے کتاب یعنی آیت کریمہ الزانیۃ والزانی کی حدیث سے تخصیص کرلی۔‘‘

رجم کی سزا پر صحابہ کرام کا اجماع

اور شیخ کمال ابن الہمام فتح القدیر میں تحریر فرماتے ہیں:

علیہ اجماع الصحابۃ ومن تقدم من علماء المسلمین وانکار الخوارج الرجم باطل لانھم انکر واحجیۃ اجماع الصحابۃ فجھل مرکب بالدلیل بل ھو اجماع قطعی وان انکروا وقوعہ من رسول اللہ ﷺ لانکارھم حجیۃ خبر الواحد فھو بعد بطلانہ بالدلیل لیس مما نحن فیہ لان ثبوت الرجم عن رسول اللہ ﷺ متواتر المعنی کشجاعۃ علی، وجود حاتم ،والآحاد فی تفاصیل صورۃ و خصوصیاتہ اما اصل الرجم فلا شک فیہ۔( فتح القدیر، ج ۵ ص ۱۳)۔

’’رجم پر صحابہ کرام ؓ اورعلماء کا اجماع ہے، خوراج کا رجم کا انکار باطل ہے ،کیونکہ اگر وہ اجماع صحابہ کی حجیت کا انکار کریں تو اہ ایک دلیل قطعی کے ساتھ جہل مرکب ہے ،کیونکہ صحابہ کا اجماع، اجماع قطعی ہے اور اگر وہ اس بات کا انکار کریں کہ رجم رسول اللہ ﷺ نے کیا کیونکہ وہ خبر واحد کی حجیت کا انکار کرتے ہیں تو ان کی یہ بات دلیل سے باطل ہونے کے بعد خبر واحد سے نہیں ،کیونکہ رجم کا ثبوت رسول اللہ ﷺسے علی ؓ کی شجاعت اور حاتم کی سخاوت کی طرح متواتر ہے ،رجم کی تفاصیل اورجزئیات خبر واحد سے ثابت ہیں البتہ نفس رجم میںکوئی شبہ نہیں‘‘۔

شیخ ابن الہمام نے اس مختصر سی عبارت میں چند اہم نکات اٹھائے ہیں:

(الف) رجم پر صحابہ و تابعین اور امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف تحیہ) کے علماء اورفقہاء کا اجماع و اتفاق۔
(ب) رجم پر تواتر۔
(ج) جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ گویا اجماع اور تواتر کے منکرہیں۔
(د) رجم کی تفاصیل اور جزئیات کے بارے میں اخبار آحاد ہیں ،اصل رجم پر تواتر معنوی ہے۔

علامہ آلوسی بغدادی اپنی بے نظیر تفسیر روح المعانی میں رقم فرماتے ہیںـ:

’’صحابہ کرام، تابعین، ائمہ عظام، علماء امت سب کا اجماع ہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا تاآنکہ وہ مرجائے، خوارج کاانکار باطل ہے ،کیونکہ اگر وہ صحابہ کے اجماع کا انکار کریں تو وہ یقینا جہل مرکب ہے، اور اگر وہ رجم کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کیونکہ وہ خبر واحد کا انکار کرتے ہیں تو یہ بات بھی غلط ہے ،کیونکہ رجم کا ثبوت تواتر معنوی سے ثابت ہے ،اور یہ لوگ بھی تواتر معنوی کو تواتر لفظی کی طرح حجت سمجھتے ہیں جس طرح کہ عام مسلمان سمجھتے ہیں ،لیکن صحابہ کرام ؓ سے ان کے انحراف اور علماء و روایان حدیث کے پاس ان کے کم آنے جانے نے ان کو بہت سی گمراہیوں میں ڈال دیا، اسی لیے خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیزؒ کے سامنے ان لوگوں نے جب یہ کہاکہ رجم کتاب اللہ میں نہیں ہے تو عمر بن عبدالعزیزؒ نے کہا کہ نمازوں کی رکعات اور زکوٰۃ کی مقدار بھی تو قرآن کریم میں نہیں ہے، خوارج نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے عمل اور مسلمانوں کے توارث سے ثابت ہے۔ خلیفہ راشد نے فرمایا کہ رجم بھی اسی طرح ہے‘‘ ( آلوسی بغدادی، روح المعانی، ج ۱۰، ص ۸۹)۔

رجم کے متعلق خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز ؒ کا خوارج سے مکالمہ

خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ؒ کا خوارج سے جو مکالمہ ہوا ہے وہ بہت دلچسپ ہے ،اور ہمارے زمانہ کے خوارج- جو رجم کا انکار کرتے ہیں- کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، ابن قدامہ نے المغنی میں اس کو تفصیل سے نقل کیا ہے:

’’خوارج کے نمائندے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورخلیفہ راشد کے خلاف انہوں نے جو چارج شیٹ پیش کی، اس میں رجم کا مسئلہ بھی تھا، وہ یوں گویا ہوئے:

خوارج: قرآن کریم میں صرف جلد(کوڑوں کی سزا) ہے، رجم نہیں ہے ،اسی طرح تم عورتوں کے لیے معذوری کے زمانہ کی نماز کی قضاء کے قائل نہیں ہو، روزے کی قضاء کے قائل ہو، حالانکہ نماز روزہ سے زیادہ مؤکد ہے۔

عمر بن عبدالعزیز: کیا تم صرف قرآن کریم پر عمل کرتے ہو؟

خوارج: ہاں!

عمر بن عبدالعزیزؒ: قرآن کریم میں فرض نمازوںکی تعداد، نماز کے ارکان کی تعداد، نماز کے اوقات کہاں ہیں؟ اسی طرح یہ کہ فلاں نماز میں اتنی رکعتیں ہیں فلاں میں اتنی قرآن میں کہاں ہے؟ زکوٰۃ کس مال میں واجب ہوتی ہے اور کس میں نہیں؟ زکوٰۃ کی مقدار کتنی ہے؟ زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟ یہ سب قرآن کریم میں کہاں ہے؟

خوارج : ہمیں کچھ مہلت دیجیے۔

خلیفہ راشدنے مہلت دے دی ایک روز کے مشورے کے بعد حاضر ہوئے۔

خوارج: قرآن کریم میں تو یہ سب کچھ نہیں ہے۔

عمر بن عبدالعزیز: پھر تم ان کے کیسے قائل ہوئے؟

خوارج: رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے ان پر عمل کیا۔

عمر بن عبدالعزیز: رجم پر بھی رسول اللہ ﷺ نے عمل کیا اور آپ ﷺ کے بعد خلفاء نے اس پر عمل کیا۔ معذوری کے زمانہ کے روزوں کے بارے میں بھی آپ ﷺ نے قضاء کا حکم دیا، ازواج مطہرات نے اور آپ کے صحابہ کرامؓ کی بیویوں نے روزے قضا کیے( ابن قدامہ المغنی، ج ۸ ص ۱۵۸ کتاب المحدود)۔

رجم کےمتعلق اہم نکات اور خوارج کی تکفیر

اصل یہ ہے کہ رجم کے سلسلہ میں حسب ذیل نکات نہایت اہم ہیں:

(الف) تواتر و توارث
(ب) اجماع صحابہ
(ج) امت محمدیہ کا اتفاق اور ہر دور میں شادی شدہ زانی پر رجم کا اطلاق۔
یہ امور نہایت ہی قوی بلکہ قوی تر ہیں، یہی وجہ ہے کہ خوارج کی رجم کے انکار کی وجہ سے تکفیر کی گئی۔

امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری اپنی بے نظیر کتاب ’’اکفار الملحدین‘‘ میں علامہ خفاجی کی ’’شرح الشفاء‘‘ سے نقل کرتے ہیں:

کتکفیر الخوارج بابطال الرجم للزانی والزانیۃ المحصنین فانہ مجمع علیہ، صار معلومًا من الدین بالضرورۃ( محمد انور شاہ، اکفار الملحدین، ص ۵۸)۔

’’رجم چونکہ متفق علیہ ہے، لہٰذا ضروریات دین میں داخل ہے، اسی لیے شادی شدہ مرد و عورت زانی کی سزا رجم کے انکار کی وجہ سے خوارج کی تکفیر کی جاتی ہے‘‘۔

سنت متواترہ : انکار یا تاویل کی سزا

وفاقی شرعی عدالت کے جج صاحبان صرف منکرین حدیث، قادیانیوں اورخوارج کی طرف سے جج نہیں بنائے گئے ہیں، بلکہ اسلامیان پاکستان کے جج ہیں، اور پاکستانی دستور کا ان حضرات نے حلف اٹھایا ہے جس میں کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنے کی ضمانت دی گئی ہے اور اسلامیان پاکستان قرآن و سنت دونوںکو اپنے قانون کا ماخذ سمجھتے ہیں۔ کیا ان حضرات کو معلوم نہیں کہ سنت متواترہ کسے کہتے ہیں اور سنت متواترہ کے انکار اور اُس میں تاویل کی کیا سزا ہے؟ اگر ان کو نہیں معلوم تو ہم بتلائے دیتے ہیں:

امام غزالی ؒ کی ’’فیصل التفرقہ‘‘ سے مولانا انور شاہ کشمیری ؒ نقل کرتے ہیں:

ولا بد من التنبیہ علی قاعدۃ اخریٰ، وھو ان المخالف قد یخالف نصًا متواترًا ویزعم انہ مؤول ولکن ذکر تاویلًا لاانقداح لہ اصلًا فی اللسان لاعلی بعد ولاقرب فلذلک کفر وصاحبہ مکذب وان کان یزعم انہ مؤول(محمد انور شاہ، اکفار الملحدین ص ۵۸)۔

’’ایک قاعدہ پر تنبیہ ضروری ہے وہ یہ کہ مخالف کبھی نص متواتر کا انکار کرتا ہے اور اس میں ایسی تاویل کرتا ہے جو قریب یا دور سے اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتی تو ایسے منکر کی تکفیر کی جائے گی اور اس کو نص متواتر کا تکذیب کرنے والا سمجھا جائے، اگرچہ وہ خودکو تاویل کرنے والا سمجھے۔‘‘

اب ہم مذکورہ نکات میں سے ایک ایک نکتہ کو حسب ترتیب سابق لیتے ہیں، تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے:

(الف) تواتر معنوی و توارث

جیسا کہ آپ علامہ ابن الہمام اور علامہ آلوسی بغدادی کے کلام میں پڑھ چکے ہیں کہ رجم کے بارے میں تواتر معنوی ہے، یعنی نفس رجم پر اس قدر کثیر روایات ہیں اور اتنے راویان حدیث اس کو بیان کرنے والے ہیں کہ اُن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے، تاہم رجم کی شرائط و کیفیات خبرواحد سے ثابت ہیں اسی کو’’ تواتر معنوی ‘‘کہا جاتا ہے ،تواتر معنوی کا امت کے کسی گروہ یا فرد نے بھی انکار نہیں کیا ہے ،بلکہ سب اس کو حجت اور دلیل تسلیم کرتے ہیں۔ ابھی آپ خوارج اور خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیزؒ کامکالمہ پڑھ چکے ہیں اس کے بین السطور سے واضح ہے کہ تواتر معنوی کا ان سے بھی انکار نہ ہوسکا اور بادل ناخواستہ اس کے سامنے سرنگوں ہوگئے اور اپنی زبانوں پر مہر سکوت ثبت کرلی۔

اصل یہ ہے کہ حکمت الٰہی سے احکام اسلام میں تدریج و ترتیب نمایاں رہی، یعنی سب کے سب احکام یکدم نہیں اتر گئے، بلکہ واقعات کے مطابق احکام خداوندی نازل ہوتے رہے، یہ تو ہرعقل مند سمجھتا ہے کہ بدکاری سے زیادہ کوئی گناہ نہیں ہے، نسب کا اختلاط، معاشرہ کی نجاست، بداخلاقی کی انتہاء، خاندانوں کی بے عزتی، حیوانیت ،پھر جبکہ شادی شدہ اس فعل کا ارتکاب کریں، غرض بدترین حرکت ہے ،اس لیے ناممکن تھا کہ اسلام جیسا مکمل و کامل دین اس کی سزا سے خالی ہو، اس لیے اس کی سزا مع دوسرے شرائط و قیود بیان کی گئی، لیکن اسی ترتیب و تدریج کے ساتھ جیسا کہ اسلامی احکام کا خاصہ ہے۔

ہجرت نبوی کے بعد یہودیوں کے رجم کا پہلا واقعہ اورقرآن کریم

ہجرت نبوی کے بعد سب سے پہلا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ یہودیوں کی بستی میں ایک مردو عورت نے شادی شدہ ہونے کے باوجود اس فعل بد کا ارتکاب کرلیا، یہود تو رسول اکرم ﷺ کا امتحان لینے کی فکر میں رہتے تھے، حضو ر کی خدمت میں آپہنچے اور جھٹ سے سوال کردیا، رسول اکرم ﷺ کو وحی کے ذریعہ بتلایا گیا کہ تورات میں اس سلسلہ میں رجم مذکور ہے، لیکن یہود نے اس سزا کو تبدیل کردیا ہے، قرآن کریم میں بھی یہ واقعہ مذکورہے اور حدیث کی صحیح و معتبر کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

وکیف یحکمونک وعندھم التوراۃ فیھا حکم اللہ ثم یتولون من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین

’’اور یہ لوگ آپ کو کس طرح منصف بنائیں گے جبکہ ان کے پاس توریت ہے جس میں اللہ کاحکم (رجم) موجود ہے پھر اس کے بعد منہ موڑتے ہیں اور وہ ہرگز ماننے والے نہیں۔‘‘

اس آیت کے ذیل میں بغوی نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خیبر کے ایک یہود مرد اور عورت نے جو کنوارے نہ تھے زنا کیا۔ باوجودیکہ توریت میں اس جرم کی سزا رجم تھی، مگر ان دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے۔ آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ یہ شخص جو یثرب میں ہے ان کی کتاب میں زانی کے لیے رجم کا حکم نہیں ہے (کیونکہ اس وقت تک شریعت محمدیہ میں زنا کا حکم اترا ہی نہیں تھا جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا) اس لیے ان کو حکم مقررکرلینا چاہیے، آپ کو وحی کے ذریعہ سب کچھ بتلادیا گیا، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میرے فیصلہ پر رضامند ہوگے؟ انہوں نے اقرار کیا، آپ ﷺ نے رجم کا حکم بتلایا۔ وہ لوگ اس سے پھر گئے۔ آخرحضور نے فرمایا کہ فدک کا رہنے والا ابن صوریا تم میں کیسا شخص ہے ؟سب نے کہا کہ آج روئے زمین پر شرائع موسویہ کا اس سے زیادہ جانے والا کوئی نہیں۔ آپ ﷺ نے اس کو بلوایا اور نہایت شدید حلف دے کر پوچھا کہ توریت میں اس گناہ کی سزا کیا ہے؟ باوجودیکہ دوسرے یہود اس حکم کو چھپانے کی کوشش کررہے تھے جس کا پردہ حضرت عبداللہ بن سلام کے ذریعہ سے فاش ہوچکا تھا، تاہم اب صوریا نے جو ان کا مسلم و معتمد تھا کسی نہ کسی وجہ سے اس کا اقرار کرلیا کہ بے شک توریت میں اس جرم کی سزا رجم ہی ہے۔ بعدہٗ اس نے سب حقیقت ظاہر کی کہ کس طرح یہود نے رجم کو حذف کرکے یہ سزا رکھ دی کہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں اور کالا منہ کرکے اور گدھے پر الٹا سوار کرکے گشت کرایا جائے۔ حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں پر توریت کے حکم کے مطابق رجم کی سزا جاری فرمائی۔

رجم کا پہلا واقعہ کب پیش آیا؟

یہ واقعہ کب کا ہے ؟اس کے متعلق مولانا انور شاہ کشمیریؒ، قسطلانی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ واقعہ ۴ ہجری کا ہے (انور شاہ: العرف الشذی باب رجم المحصن) اس کے بعد سورۂ نساء کی مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں:

واللاتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتو فاھن الموت اویجعل اللہ لھن سبیلًا واللذان یأتیانھا منکم فاذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوا عنھما ان اللہ کان توابا رحیما

’’اور جو کوئی بدکاری کرے تمہاری عورتوں سے تو گواہ لائو ان پر چار مردانیوں سے پھر اگر وہ گواہی دیں تو بند رکھیو اُن عورتوں کو گھروں میں یہاں تک کہ اٹھا لے ان کو موت یا مقرر کردے اللہ ان کے لیے کوئی سبیل۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلی آیت جو ہم نے نقل کی اُس میں ’’حکم اللہ‘‘ سے مراد اور اس آیت کریمہ میں ’’سبیل‘‘ سے مراد رجم ہی ہے، جو لوگ قرآن کریم میں ’’رجم‘‘ کا انکار کرتے ہیں وہ ایک بہت بڑی حقیقت کا انکار کرتے ہیں، رسول اکرم ﷺ قرآنی مجملات کے بیان کرنے والے ہیں، آپ کا منصب ہی یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’لتبین للناس مانزل الیھم ‘‘یعنی قرآنی مجملات کی تبیین و تعیین، اورایک عام عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ بیان، مبین سے علیحدہ ہوتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے ’’سبیل‘‘ کی تشریح فرمائی کہ اس سے مراد شادی شدہ زانی کے لیے رجم اور غیرشادی شدہ کے لیے جلد (کوڑا)ہے جیسا کہ صحیح ترین احادیث میں وارد ہے، اسی کے ساتھ ہی ساتھ شادی شدہ زانی کے لیے رجم اور غیرشادی شدہ زانی کے لیے جَلد کی سزا قرآن کریم میں نازل ہوئی، جَلد کی سزا سورۂ نور میں نازل ہوئی، سورۂ نور کا زمانہ نزول ۵ ہجری کے بعد کا ہے، اس کے لیے قرینۂ واضح موجود ہے کہ واقعہ افک محدثین و مؤرخین کے قول صحیح کے مطابق ’’غزوۂ مریسیع‘‘ میں پیش آیا تھا اور یہ غزوہ ۵ ہجری میں یا اس کے بعد کا ہے۔

علامہ نووی ؒ نے اپنی بے نظیر کتاب الاسماء واللغات (ج۳) میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی والدہ ماجدہ ام رومان کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ ام رومان کی وفات غزوۂ مریسیع کے بعد ہوئی، وہ واقعہ افک میں موجود تھیں اس کے متعلق حدیث و سیرت کی ناقابل تردید شہادتیں موجود ہیں۔ امام موصوف نے غزوہ مریسیع کو ۵ ہجری یا اس کے بعد تحریر فرمایا ہے۔

رجم کی سزا قرآن کریم میں صراحۃًکیوں نہیں ؟

غرض جَلد اور رجم کی سزائیں وحی متلو سے نازل ہوئیں، جلد کی سزاقرآن کریم میں تلاوت و عمل دونوں اعتبار سے باقی رکھی گئی اور رجم کی سزا تلاوت کے اعتبار سے اٹھالی گئی، تاہم تواتر معنوی اور عمل کے اعتبار سے باقی رکھی گئی، رجم کی سزاتلاوت کے اعتبار سے کیوں اٹھالی گئی اور اس کی حکمت کیا تھی۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی ؒ جو اس فن کے شناور اور اس بحر بے کنار کے غواض ہیں، ان سے پوچھیے، موصوف فرماتے ہیں:

’’اس قدر سننا چاہیے کہ بعض وقت ہول و خوف مضمون اس وحی کا مقتضی ہوتا ہے کہ بار بارکان اس کو نہ سنے جیسے کہ الشیخ والشخۃ اذا زنیا فارجموھا یعنی شادی شدہ مرد اور عورت جس وقت زنا کریں، پس سنگسار کرو تم ان کو کہ اس میں بیان سخت تر عذاب کا ہے‘‘( تفسیر عزیزی اردو ترجمہ، ص ۶۸۳)۔

حضرت شاہ صاحبؒ نے ایک بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے، حضرتؒ کے فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ایک مرد عورت جن کواللہ تعالیٰ نے عقل و خرد، ہوش و حواس کی نعمتوںسے سرفراز کیا ہو، پھر اس کے ساتھ اسلام وایمان کی نعمت بے بدل عطا کی ہو بایں ہمہ وہ دونوں لذت ازدواج چشیدہ اور اس سے آشنا ہوں پھر وہ حرکت قبیحہ کا ارتکاب کریں، یہ امر عقلاً مستبعد اور بعید از قیاس ہے، کیونکہ ان پر ظاہری اور باطنی نعمتیں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں، اس لیے ان نعمتوں کے مقابلہ میں اس کو سزا بھی اسی قدر شدید دی گئی جس کا تصور بھی روح فرسا اور کربناک ہے، یعنی اس کو پتھر مار مارکر ختم کردیا جائے۔ ایساشخص جو ان نعمتوں سے سرفراز ہو اور یہ اس کمینی حرکت کا ارتکاب کرے اور اس پر اس قدر سخت سزا، اس کا تذکرہ اُس کتاب عظیم میں جس کا پہلا مقصد تلاوت اور بار بار کی تلاوت ہے، مناسب نہیں، اسی لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ اس کو تلاوت سے تو حذب کردیا جائے، البتہ اس جرم کبیر پر سزا کو برقرار رکھا جائے، چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے آیت جَلد اترنے کے بعد چار موقعوں پر رجم کا حکم صادر کرنے کے بعد اس حکم کی تاکید اور توثیق فرمادی، ان چار واقعات کی تفصیل کتب حدیث میں اسانید صحاح کے ساتھ موجود ہے۔

رجم کے واقعات آیت زنا کے نزول کے بعدپیش آئے

منکرین رجم کا یہ بیان کہ رجم کے واقعات آیت جَلد کے نازل ہونے سے قبل کے ہیں مبنی برحقیقت نہیں ہے، بلکہ کذب اور افتراء کا مجموعہ ہے، یہ لوگ تاریخ سے کوئی شہادت پیش نہیں کرسکے، بلکہ تاریخ اور حدیث کی شہادت ان کے خلاف ہے۔ علامہ حازمی ؒ -جو ناسخ و منسوخ کے اور حدیث و تاریخ کے امام ہیں -رقم فرماتے ہیں:

وقد روی حدیث ماعز نفر من احداث الصحابہ نحو سھل بن سعد وابن عباس وغیرھما ورواہ ایضًا نفر تأخر اسلامھم ( الاعتبار للحازمی، ص ۲۰۳)۔

’’ماعز اسلمی کی حدیث کو سہل بن سعد، عبداللہ بن عباس اور دوسرے نوعمر صحابہؓ نے بیان کیا۔ اسی طرح ایسے حضرات نے جن کا اسلام مؤخر ہے‘‘۔

ماعز اسلمی کے واقعہ رجم کو بیان کرنے والے صحابہ کرام سہل بن سعد، عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ ؓ ہیں، جبکہ اول الذکر دونوں صحابہ نوعمر صحابہ ہیں اور ثانی الذکر متاخر الاسلام صحابی ہیں،یعنی ان کا اسلام ۷ ہجری میں ثابت ہے، اس لیے یہ واقعہ تقریباً ۷ ہجری یا اس کے بعد کا ہے۔ اسی طرح امرأۃ جہینہ یا غامدیہ کا واقعہ بھی ۸ہجری سے پہلے یا ۷ ہجری کے آخر کا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس واقعہ کی تفصیلات میں یہ جز بھی ملتا ہے کہ حضرت خالد بن الولید ؓ نے اس خاتون کے جب ایک پتھر مارا تو ان کی پیشانی سے خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ اس پر حضرت خالد نے ان کو برا بھلا کہا۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت خالد کو سختی سے منع کیا اور اس خاتون کی جرأت ایمانی اور اس قدر سخت سزا کے لیے خود کو پیش کرنے کی تعریف و توصیف فرمائی اور اس کی نجات کی بشارت دی۔ ابودائود میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔ حضرت خالدبن الولید ۶ ہجری کے بعد اسلام لائے ہیں، چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر حضرت خالد کفار کے کیمپ میں موجود تھے اور مسلمانوں کو مکہ سے روکنے کے لیے سواروں کا ایک دستہ لے کر آئے تھے(بخاری، کتاب الشروط)۔

منکرین رجم کا عبد اللہ بن اوفی کی روایت سے استدلال اوراس کا جواب

منکرین رجم اس موقعہ پر حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں، حدیث یہ ہے:

عن الشیبانی قال سالت عبداللہ بن ابی اوفٰی عن الرجم قال رجم النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت اقبل النور ام بعدہ قال لاادری( بخاری، ص ۱۰۱۱ ج ۲ کتاب المحاربین والمرتدین)۔

’’شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفٰی سے رجم کے بارے میں پوچھا ،انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے رجم کیا ،میں نے پوچھا سورہ نور سے پہلے یا بعد میں؟ موصوف نے فرمایا مجھے نہیں معلوم۔‘‘

اس روایت سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں کہ رجم کے واقعات آیت جَلد کے نازل ہونے سے پہلے کے ہیں۔

۱- پہلی بات تو حدیث مذکور میں یہ ہے کہ اس روایت میں صحابی نے جزم و یقین کے ساتھ کچھ نہیں فرمایا اور قرائن واضحہ گزشتہ سطور میں بیان کیے جاچکے ہیں، جس سے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ رجم کے واقعات سورۂ کے نازل ہونے کے بعد کے ہیں، لاعلمی کے مقابلہ میں علم زیادہ راجح ہے۔

۲- دوسری بات یہ ہے کہ یہاں رجم کے مذکورہ بالا چار واقعات کے بارے میں نہیں پوچھا جارہا ہے، بلکہ یہودی اور یہودیہ کے رجم کے بارے میں سوال کیا جارہاہے کہ یہ واقعہ سورہ نور کے نازل ہونے سے پہلے پیش آیا یا اس کے بعد تو اس کے جواب میں صحابی نے اپنے لاعلمی ظاہر کی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس روایت کو امام بخاریؒ اہل کتاب کے رجم میں لائے ہیں، چنانچہ امام موصوف نے اپنی صحیح میں باب قائم کیا ہے’’ باب اھل المذمۃ واحصانھم اذا زنوا ورفعوا الی الامام‘‘، دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض طرق میں ’’قبل النور‘‘ کے بجائے قبل المائدۃ کے الفاظ آئے ہیں۔ مسند احمد بن منیع میں یہ لفظ ہیں :

فقلت بعد سورۃ المائدۃ او قبلھا( عمدۃ القاری بحوالہ حاشیہ بخاری، ص ۱۰۱۱ ج ۲)۔

مطلب یہ تھا کہ سورہ مائدہ میں یہ آیت موجود ہے:

وکیف یحکمونک وعندھم التوراۃ وفیھا حکم اللہ

آیت کریمہ کی موجودگی میں کس طرح رسول اکرم ﷺ نے بحیثیت حَکم اُن کو رجم کرنے کا حکم دیا، گویا سائل نے آپ ﷺ کی تحکیم کو مستبعد جانا تو صحابی نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔

۳-تیسرا امریہ کہ حضرت عبداللہ، یہود کے اس واقعہ پر موجود نہیں تھے اور نہ اسلام لائے تھے ،وہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اسلام لائے، رسول اکرم ﷺ کے اسفار و مغازی میں سب سے پہلے حدیبیہ میں شریک ہوئے۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں:

وشھد عبداللہ الحدیبیۃ وروی احادیث شھیرۃ ثم نزل الکوفۃ سنۃ ست او سبع وثمانین وجزم ابونعیم فیما رواہ البخاری عنہ سنۃ سبع وکان اٰخر من مات بھا من الصحابۃ( الاصابۃ، ص ۲۷۱ ج ۳)۔

’’حضرت عبداللہ صلح حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے مشہور احادیث روایت کیں، پھر ۸۶ ھ یا ۸۷ھ میں کوفہ میں قیام پذیر ہوئے۔ابونعیم نے ۸۷ھ پر جزم کیا ہے۔ صحابہ ؓ میں کوفہ میں سب سے آخر میں وفات پائی۔‘‘

عبداللہ بن ابی اوفٰی کے لاعلمی ظاہر کرنے کی وجہ واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ وہ یہود کے اس واقعہ کے وقت اسلام ہی نہیں لائے تھے۔

رجم کے متعلق حضرت عمرفاروق ؓکی صریح روایت

علاوہ ازیں منکرین رجم ایک محتمل روایت سے تو استدلال کرتے ہیں، فاروق اعظم ؓ کی یہ روایت صریح ان کی نگاہوں سے کیوں اوجھل ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے:

ان اللہ بعث محمدًا ﷺ بالحق وانزل علیہ الکتاب فکان مما انزل اللہ ایۃ الرجم فقرأناھا وعقلناھا ووعیناھارجم رسول اللہ ﷺ ورجمنا بعدہ فاخشی ان طال بالناس زمان ان یقول قائل واللہ مانجد ایۃ الرجم فی کتاب اللہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلھا اللہ تعالٰی والرجم فی کتاب اللہ حق علی من زنٰی اذا احصن من الرجال والنساء اذا قامت البینۃ اوکان الحبل اوالاعتراف( صحیح بخاری، ص ۱۰۰۹ ج ۲)۔

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ور آپ پر کتاب نازل کی، رجم کی آیت بھی اتاری، ہم نے اس کو پڑھا اور سمجھا اور یاد رکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے آپ کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر ہے کہ کچھ عرصہ گذر جانے کے بعد کوئی کہنے والا کہے کہ ہم آیت رجم اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے، تو یہ لوگ اللہ کے ایک فریضہ نازل شدہ کے چھوڑنے سے گمراہ ہوجائیں گے۔ رجم اللہ کی کتاب میں حق ہے زانی پر جبکہ وہ محصن ہو، خواہ وہ مرد ہو یا عورت جبکہ ثبوت موجود ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو‘‘۔

حضرت فاروق اعظم ؓ کی ایک تقریر کا ایک ٹکڑا ہے جو موصوف نے اپنی خلافت کے آخری حج سے واپسی پر دیا، جس میں تمام صحابہ کرام ؓ موجود تھے۔ دوسری ناقابل تردید سیرت و حدیث کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطبہ میں عہد فاروقی کے فوجی کمانڈر اور اہم شخصیتیں موجود تھیں اور اس خطبہ کے چند ہی دن کے بعد فاروق اعظم اپنے رب سے جاملے۔

رجم کا تسلسل صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں

منکرین رجم اس موقع پر بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ دیکھو یہ مولوی لوگ فاروق اعظم پر کتنا بڑا الزام لگاتے ہیں کہ آیت رجم قرآن میں موجودہے، حالانکہ حضرت فاروق اعظم کا مقصد یہ تھا کہ آیت رجم قرآن میں نازل ہوئی تھی ،لیکن اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی اور اس کا حکم باقی رہ گیا۔ حضرت کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے کہ وہ آج بھی موجود ہے، حضرت عمر ؓ کے خطبہ بلیغہ میں :

’’رجم رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم ورجمنا بعدہ‘‘

تسلسل رجم کو بیان کررہا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے رجم کیا اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانہ میں بھی رجم جاری رہا، رجم کی سزا میں کبھی بھی انقطاع نہیں ہوا۔ حضرت عثمان غنی ؓ کے زمانہ میں بھی رجم جاری رہا۔ حضرت علی ؓ کے زمانہ میں بھی رجم کے واقعات ملتے ہیں۔ ہمدانی خاتون شراحہ کا واقعی سیرت و حدیث کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ راقم کے سامنے اس وقت حدیث کی معتبر کتاب مصنف عبدالرزاق موجود ہے۔ اس کے ص ۳۲۶ ج ۷ پر یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ پھر حضرت علیؓ کے یہاں دوسرے واقعات بھی ملتے ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ:

ان امرأۃ جاء ت الٰی علی، فقالت ان زوجھا وقع علٰی جاریتھا، فقال ان تکونی صادقہ نرجمہ( مصنف عبدالرزاق ج ۷ ج ۳۳۰)۔

ایک عورت حضرت علی ؓ کی خدمت میں آئی اور شکایت کی کہ اس کے شوہر نے اس کی لونڈی کے ساتھ بدکاری کی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر تو سچی ہے تو ہم اُسے رجم کریں گے۔

حضرت علی ؓ کے عہد خلافت کے دوسرے واقعات کہ شادی شدہ کے لیے رجم اور غیرشادی شدہ کے لیے جَلد متعدد روایات سے ثابت ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے مصنف عبدالرزاق از ص ۳۰۴ تا ۳۰۶

پھر تابعین، تبع تابعین کے زمانہ میں بھی یہی تسلسل جاری رہا۔ ابن شہاب زہری مشہور تابعی ہیں، اُن کا فتویٰ محدث عبدالرزاق نے نقل کیا ہے:

فحد المحصن الرجم اذا کان حرًا ( مصنف عبد الرزاق،ص ۳۰۶ ج ۷)۔

’’شادی شدہ کی حد رجم ہے اگر وہ آزاد ہو۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ رجم پر امت کا اجماع و اتفاق ہے اور خوارج کے علاوہ کسی متنفس نے کسی دور میں اس سے اختلاف نہیں کیا۔

حافظ ابومحمد بن حزم نے ’’مراتب اجماع‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ان اجمالیات کا ذکر کیا ہے جن کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ رجم کو امام موصوف نے ان ہی اجماعیات میں داخل کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

اتفقوا انہ اذا زنٰی کما ذکرنا وکان قد تزوج قبل ذلک وھو بالغی حر عاقل حرۃ مسلمۃ بالغۃ نکاحا صحیحا و وطئھا۔۔۔۔۔۔۔ ان علیہ الرجم (مراتب الاجماع)۔

’’تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص بدکاری کا ارتکاب کرے اسی طریقہ سے جس کو ہم نے بیان کیا ہے اور اس سے قبل وہ نکاح کرچکا ہو اور وہ بالغ مسلمان آزاد ہو کسی آزاد مسلم بالغہ عورت سے نکاح صحیح اور اس سے ہمبستری بھی کرلی تو اس پر رجم ہے۔

ماخوذ از: رجم کی شرعی حیثیت، از مکتبہ بینات ، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی

159 Views
Posted in Featured, Urdu, اسلامی قانون و فقہ, قرآن و تفسیر

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!