Menu Close

اردو کے ذخیرہ تفاسیر میں ایک منفرد اضافہ،آسان بیان القرآن مع تفسیر عثمانی

asan bayan ul quran and tafseer e usmani

تحریر: مولانا محمد یاسر عبد اللہ
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

اردوئے معلا کے تفسیری ادب میں‘‘تفسیرِ بیان القرآن’’اور‘‘فوائدِ عثمانیہ’’(تفسیرِ عثمانی) کسی تعارف کے محتاج نہیں، دونوں اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر عوام وخواص کے حلقوں میں ابتدائے اشاعت سے مقبول اور‘‘بقامت کہتر بقیمت بہتر’’کا مصداق قرار پائی ہیں، حضرت تھانوی کی ’’بیان القرآن‘‘ کو دیکھ کر آخری دور میں برِ صغیر کے نام وَر محقق ومتبحر محدث وفقیہ اور‘‘مشکلات القرآن’’جیسی شاہ کار کتاب کے مؤلف، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی نوکِ زباں پر وہ تاریخی جملہ آیا تھا کہ:‘‘جب سے بیان القرآن دیکھنے کا اتفاق ہوا، یہ معلوم ہوا کہ اردو کی تصنیف میں اب علوم موجود ہیں’’۔

حضرت تھانوی کے فیض یافتہ حضرت مفتی محمد حسن امرتسری رحمہ اللہ (بانی جامعہ اشرفیہ لاہور) راوی ہیں کہ مولانا تھانوی فرماتے تھے:‘‘بیان القرآن کی سرخیوں میں علوم القرآن ہیں، ان کے اندر غور کرنے سے قرآن کے علوم کا اور غرضِ مسوق لہ الکلام (جس غرض کے لیے کلام لایا گیا ہے) کا پتہ چل جاتا ہے’’۔ (الکلام الحسن:۲۹۳)۔

نیز فرماتے تھے:‘‘اس تفسیر میں ایک ایسی چیز ہے جس کو میں نے بڑی مشقت اور محنت سے جمع کیا ہے اور وہ اب تک کسی دوسری تفسیر میں میری نظر سے نہیں گزری، وہ یہ کہ مضامینِ قرآنیہ کی سرخیاں آیات کے شروع میں لگادی ہیں کہ اہلِ علم تو اگر قرآن کے حاشیے پر یہ عنوانات ہی لکھ لیں تو پوری تفسیر کا کام ان سے لے سکتے ہیں’’۔ (ملفوظات حکیم الامت: ۲۴/۲۱۴)۔

بیان القرآن’’کو اردو کی ’’جلالین‘‘ بھی کہا گیا ہے اور‘‘جلالین’’کے حل میں اس سے مدد بھی بہت ملتی ہے۔ ماضی قریب میں ہندوستان کے معروف فقیہ اور پختہ کار عالم قاضی مجاھدالاسلام صاحب کا بیان ہے کہ:’’جلالین کے حل کے لئے ’’بیان القرآن‘‘ سے بہتر کوئی تفسیر نہیں، حضرت تھانوی کی خلاصہ تفسیر اردو کی جلالین ہے، جس میں جلالین کی پوری خوبیاں آگئی ہیں اور اس کی خامیوں کی اصلاح بھی ہو گئی ہے، پھر کہنے لگے کہ اردو میں ہونے کی وجہ سے اسے معمولی تفسیر نہ سمجھو، یہ کتابوں کی غواصی کے بعد مرتب کی گئی ہے، اور اس میں مغز ہی مغز ہے، چھلکے شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں‘‘ (حیاتِ مجاھد ص:۲۱۲) ۔

حضرت تھانوی کے مسترشد اور جدید تعلیم یافتہ حلقوں میں منفرد شناخت کے حامل مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ کے بقول:’’اسے اگر اردو کی ساری تفسیروں کا سرتاج سمجھا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو‘‘۔ (نقوش وتاثرات: ۴۴۹) ۔

واقعہ یہ ہے کہ’’بیان القرآن‘‘کے بعد لکھی گئی اردو کی بیشتر تفسیروں کے تقابلی مطالعے میں اس کتاب سے استفادہ کی جھلک دکھائی دیتی ہے، نسبتا مختصر تفسیر ہونے کے باوجود تفسیری ذوق کی تسکین کا باعث اور بہتیری تفسیروں سے مستغنی کرتی ہے، بعض اوقات حضرت تھانوی رحمہ اللہ ایک جملے بلکہ ایک لفظ کے اضافے سے چٹکیوں میں مشکلاتِ قرآنی سے متعلق الجھے عقدے حل کرجاتے ہیں۔ حضرت تھانوی فرماتے تھے:‘‘بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ تمہاری تفسیر میں کیا ہے؟ میں یہ کہا کرتا ہوں کہ جب کسی مقام پر اشکال ہو تو اول اور تفسیروں میں دیکھو، تب معلوم ہوگا کہ اس میں کیا ہے!‘‘ (ملفوظات حکیم الامت:۱۸/۲۸۶)۔

اسی اہمیت کی بنا پر تفسیر پر کئی یونی ورسٹیوں میں متعدد تحقیقی مقالات لکھے جاچکے ہیں، جن میں نمایاں ڈاکٹر ریحانہ ضیاء صدیقی کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان:’’تفسیر بیان القرآن مولانا اشرف علی تھانوی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘چھپ چکا ہے اور انٹرنیٹ پر بھی دست یاب ہے۔

کچھ ایسا ہی حال حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے ترجمہ قرآن اور اس پر مولنا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کے گہر بار قلم سے لکھے گئے‘‘فوائدِ عثمانیہ’’کا بھی ہے،‘‘تفسیر عثمانی’’کا امتیازی مقام اس وقت نکھر کر سامنے آتا ہے جب کسی آیت کی تفسیر میں متداول تفسیری لٹریچر نظر سے گزار کر چند سطروں میں اس کا خلاصہ محفوظ کرنا پیشِ نظر ہو۔

مولانا عثمانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے بسا اوقات ان فوائد میں محض چار سطریں لکھنے کے لئے چار چار سو صفحات پڑھے ہیں۔’’تفسیرِ عثمانی‘‘مختصر ہونے کے باوجود جامعیت کی حامل، بڑی تفاسیر سے مستغنی کرتی اور آیات کا باہمی ربط واضح کرتی ہے، معاصر دنیا کے اشکالات کے کافی وشافی جوابات پر مشتمل ہے، متعدد تفسیری اقوال میں راجح تفسیر متعین کی گئی ہے، نیز علمی ذوق کی تسکین کے لئے جا بجا لطیف اشارات کیے گئے ہیں، جن سے مشکلاتِ قرآنی کے حل میں بھی مدد ملتی ہے۔

اردو کے تفسیری ادب میں شاہ کار کی حیثیت رکھنے والی ان دونوں تفسیروں کے متعلق متعدد اہلِ علم کے نہاں خانوں میں یہ آرزو مچلتی تھی کہ یہ دونوں یکجا شائع کردی جائیں تو علما وطلبائے علم کے لیے مفید کام ہوگا، مشیتِ ایزدی سے اس کام کا قرعہ ہمارے استاذ زادے اور جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے استاذ، برادرِ مکرم مولانا محمد عمر انور بدخشانی کے نام نکلا، جنہیں اللہ تعالی نے اکابر کے علوم وتالیفات کو سلیقہ مندی کے ساتھ معاصر اسلوب میں پیش کرنے کی خوبی عطا فرمائی ہے اور استاذِ محترم مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہم جیسے قرآن کریم کے رمز آشنا مفسر ومحدث کے دامنِ شفقت سے نسبی و علمی وابستگی نے ان میں ذوقِ قرآنیات کی شمع روشن کی ہے، برادر موصوف نے حال میں سات سالہ خاموش جدوجہد کے بعد اردو کی ان دو عظیم تفسیروں کو یکجا کردیا ہے۔

کتاب کا اسلوب یہ ہے کہ متنِ قرآنی کے تحت ترجمہ شیخ الہند رکھا گیا ہے، بعد ازاں’’خلاصہ تفسیر‘‘کے عنوان سے پہلے آسان زبان میں’’بیان القرآن‘‘سے سورتوں اور آیات کا باہمی ربط ومناسبت درج کیا گیا ہے، اس کے بعد’’بیان القرآن‘‘کی تفسیر لائی گئی ہے، جس میں خط کشیدہ الفاظ میں حضرت تھانوی کا ترجمہ قرآن، بین القوسین ان کی تفسیر اور حسبِ ضرورت دیگر فوائد بھی مذکور ہیں، نیز تفسیری فوائد کے ساتھ تزکیہ واخلاق کے مسائل بھی ضمن میں آگئے ہیں۔’’بیان القرآن‘‘کا حصہ پورا ہونے کے بعد سرخ امتیازی لکیر ڈال کر مولانا عثمانی رحمہ اللہ کے تفسیری فوائد نمبر وار درج کیے گئے ہیں اور متن میں بھی عدد کے ذریعے ان کی نشان دہی کی گئی ہے۔ زمانی بعد اور نسبتا زیادہ دقت کی بنا پر’’بیان القرآن‘‘کی زبان سہل کی گئی ہے، جبکہ’’تفسیرِ عثمانی‘‘کو کسی لفظی ترمیم کے بغیر جوں کا توں لیا گیا ہے۔

تین جلدوں پر مشتمل اس تفسیر میں دو ترجمے (ترجمہ شیخ الہند وترجمہ تھانوی) اور دو تفسیریں جمع ہوگئی ہیں، تینوں جلدوں کو وفاق المدارس کے تحت درسِ نظامی کی نصابی ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے (جلدِ اول از ابتدا تا انتہائے سورہ توبہ، جلدِ دوم از ابتدائے سورہ یونس تا انتہائے سورہ قصص اور جلدِ سوم از ابتدا سورہ عنکبوت تا آخر) ترتیب دیا گیا ہے۔ یوں درسِ نظامی میں متوسط درجات کے اساتذہ وطلبا کے لیے ایک خوان پر دو علمی سوغاتیں سجادی گئی ہیں۔ ان گوناگوں خوبیوں کے ساتھ کتاب کا سادہ وپُرکشش سرورق، عمدہ طباعت اور دیدہ زیب کاغذ قلب ونظر کو جلا بخشتے ہیں۔

اللہ کرے کہ ان بزرگوں کے اخلاص وللہیت کی برکت سے اعلی نسبتوں کی حامل یہ تفسیری خدمت بھی شرفِ قبولیت ومقبولیت کا حظِ وافر حاصل کرے اور فضلا وطلبائے علم میں تفسیری ذوق کی آبیاری کا ذریعہ ثابت ہو، آمین یا رب العالمین!

بشکریہ : روزنامہ اسلام ، کراچی، اشاعت 9 اگست، 2019

735 Views
Posted in Urdu, قرآن و تفسیر

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!