Menu Close

اللہ کے غفور ورحیم اور لمبی زندگی کی امید پر توبہ نہ کرنا، از مولانا اشرف علی تھانویؒ

gunah aur tauba

تسہیل وترتیب: مفتی عمر انور بدخشانی

گناہ اور توبہ کے متعلق بعض شبہات کے جواب

اب عوام کے بعض شبہات کا جواب دیا جاتا ہے جن سے وہ دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں ،اور دوسروں کو بھی دھوکہ میں ڈالتے ہیں ، جب کبھی ان سے نیک اعمال کے التزام اور گناہوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے تو ان شبہات کو پیش کرتے ہیں ، یہ شبہات دو قسم کے ہیں :

۱-ایک قسم وہ شبہات ہیں جن سے ’’صریح کفر‘‘ لازم آتا ہے ، مثلا یہ شبہ کہ دنیا نقد ہے اورآخرت اُدھار، اور نقد بہتر ہوتا ہے اُدھار سے ، یا یہ شبہ کہ دنیا کی لذت یقینی ہے اور آخرت کی لذت مشکوک، تو یقینی کومشکوک کی امید میں کس طرح چھوڑ دیں ؟ جیسے کسی نے کہا ہے :

اب تو آرام سے گزرتی ہے
عاقبت کی خبر خدا جانے

چونکہ ہمارا روئے سخن (خطاب) اس وقت اہل ایمان کی طرف ہے ،اس لیے ان شبہات کو صرف نظر کرتے ہیں:

۲- دوسری قسم وہ شبہات ہیں جن کا باعث (سبب) جہالت اور غفلت ہے ، اس مقام پر ان کا جواب دینا مقصود ہے ۔

اللہ کے غفور ورحیم ہونے کے بھروسہ پر گناہ کرنا

۱-ایک شبہ ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی بڑے غفور ورحیم ہیں ، میرے گناہوں کی وہاں کیا حقیقت ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک وہ غفور ورحیم ہیں ، مگر قہار ومنتقم (قہر کرنے اور انتقام لینے والے) بھی تو ہیں ، سو تم کو یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ تمہارے لیے ضرور مغفرت ہوگی ، ممکن ہے کہ قہر وانتقام ہونے لگے ۔

اس کے علاوہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ غفور ورحیم اس شخص کے لیےہیں جو پچھلے گناہوں سے توبہ کرے اور آئندہ کی اصلاح کرے ،جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ: پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے جہالت سے برا کام (خواہ کچھ بھی ہو) کرلیا ، پھر اس کے بعد توبہ کرلی (جو توبہ کا طریقہ مقرر ہے) اور (آئندہ کے لئے) اپنے اعمال درست کر لئے تو آپ کا رب اس(توبہ) کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے۔

اور جو شخص توبہ کے بغیر مرجائے تو اپنے گناہ کے بقدر توسزا کا مستحق ہے ، اورفضل کا کوئی روکنے والا نہیں ، مگراس شخص کے پاس کیا دلیل ہے کہ میرے ساتھ یہی معاملہ ہوگا؟

لمبی زندگی کی امید پر توبہ نہ کرنا

۲-ایک شبہ یہ ہوتا ہے کہ میاں ! ابھی کیا جلدی ہے ، آگے چل کر توبہ کرلیں گے ، اس شخص سے یہ کہنا(چاہیے) کہ تم کو کیسے معلوم ہوگیا کہ ابھی تم مزید زندہ رہوگے؟ ممکن ہے کہ رات کو سوتے کے سوتے رہ جاؤ، یا اگر زندگی بھی ہوئی تو توبہ کی شاید توفیق نہ ہو ، یاد رکھو ! کہ گناہ جس قدر بڑھتاجاتا ہے دل کی سیاہی بڑھتی جاتی ہے ،روزبروز توبہ کی توفیق کم ہوتی جاتی ہے ، یہاں تک کہ اکثر بغیرتوبہ کے مرجاتا ہے ۔

توبہ کے بھروسہ پر گناہوں پر جرأت

۳-ایک شبہ یہ ہوتا ہے کہ میاں ! گناہ تو کرلیں ، پھر توبہ کرکے معاف کرالیں گے ، اس شخص سے یہ کہنا چاہیے کہ ذرا اَپنی اُنگلی آگ کے اندر ڈال دو، پھر اس پر مرہم لگادیں گے ،لیکن یہ ہرگز گوارا نہ ہوگا، پھرافسوس ہے کہ معصیت پر کیسے جرات ہوتی ہے ؟! اس شخص کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ توبہ کی توفیق ضرور ہو ہی جائے گی ، یااگر توبہ کی تو اللہ کے ذمہ واجب ہے کہ توبہ قبول ہی کرلیں ، پھر یہ کہ بعض گناہ ایسے ہیں کہ اللہ تعالی کے روبرو ان سے توبہ کرلینا کافی نہیں ،بلکہ صاحب حق سے معاف کرانے کی ضرورت ہے ۔

ماخوذ از : جزاء الاعمال ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

356 Views
Posted in Urdu, تزکیہ و احسان – تصوف

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!