Menu Close

فرقہ باطنیت کا فتنہ کیا ہے ؟ از مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

batni firqa batiniyyat kia hai

ترتیب وپیشکش: مفتی عمر انور بدخشانی

تعارف وپس منظر: اسلام کو ماڈرن بنانے اوراسے زمانہ اور انسانی خواہشات کے ساتھ چلانے کے لیے اس میں تحریف وترمیم کرنے والوں کی ایک خاص تکنیک یہ بھی ہے کہ قرآن وسنت کے الفاظ واصطلاحات کے جو معانی اور مفہوم خود شارع نے متعین کیے ہیں اورجن کے حقائق ملت مسلمہ میں تواتر اورتسلسل سے چلے آرہے ہیں ان قطعی اور ابدی معانی کا اپنے الفاظ واصطلاحات سے تعلق اور رشتہ کاٹ دیا جائے ،اورپھر نبوت ورسالت ،سنت واجتہاد، اجماع وقیاس، صلوۃ وزکوۃ وغیرہ شرعی اصطلاحات کی جو من مانی تشریح دل میں آئے وہ اختیار کی جائے اوران میں اتنی توسیع کردی جائے کہ تمام حرام اورگناہوں پر اسلام کا ٹھپہ لگایا جاسکے ،اسلام کے فکری وعملی نظام کو تہہ وبالا کرنے کے لیے عصر حاضر کے نام نہاد متجددین اورمحققین یہی حربے آزمارہے ہیں۔

متجددین اور مستشرقین کا یہی فتنہ تیسری صدی ہجری میں ’’باطنیت‘‘ کے روپ میں ظاہر ہوا جس نے دین وشریعت کی تمام اصطلاحات کے نئے معانی اورمفہوم متعین کیے ، دین کے بنیادی اصولوں تک کو بدل ڈالا، فرقہ باطنیہ کو مصر میں صدیوں تک عبیدی سلطنت (فاطمیین ۲۹۶ھ تا ۵۶۷ھ) کی شکل میں اقتدار وعروج حاصل رہا اوراقتدار کے سایہ میں مسلسل اسلامی عقائد واعمال شریعت وسنت سے تمسخر وکھیل ہوتا رہا ، یہاں تک کہ قانون میراث میں ترمیم کی گئی ، تراویح اورچاشت کی نماز پڑھنے پر لوگوں کو تعزیر دی جانے لگی ، اسی سلطنت کے ایک فرمان روا ظاہر الدین اللہ نے شراب کی عام اجازت دی ،اہل حق مقہور ومظلوم اور اہل غالب وحاوی رہے ، یہاں تک کہ حفاظت دین کے لیے سنت خداوندی کا ظہور سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمۃ کی شکل میں ہوا ، جنہوں نے اس فتنہ کی سرکوبی کی ۔

ذیل میں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی شہرہ آفاق کتاب ’’تاریخ دعوت وعزیمت ‘‘ جلد اول کا ایک حصہ پیش کرتے ہیں جس سے ’’فرقہ باطنیہ‘‘ اور ان کے’’ اجتہادات وتحقیقات‘‘ پر روشنی پڑتی ہے اورموجودہ دور کی ’’باطنیت‘‘ کا ان سے موازنہ کیا جاسکتا ہے ۔

باطنیت کا فتنہ
تحریر:مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

فلسفہ کے ساتھ ساتھ اور اس کے اثر سے ایک نیا فتنہ پیدا ہوا جو اسلام کے حق میں اور نبوت کی تعلیمات کے لیے فلسفہ سے بھی زیادہ خطرناک تھا ، یہ ’’باطنیت‘‘ کا فتنہ ہے ، اس کے بانی اور داعی اکثر ان قوموں کے افراد تھے جو اسلام کے مقابلہ میں اپنی سلطنتیں اوراقتدار کھوچکے تھے ، اورظاہری مقابلہ اور جنگ سے ان کی بازیافت کی کوئی امید نہ تھی ، یا شہوت پرست اور لذت پسند لوگ تھے ،اوراسلام ان کی زندگی پر حدود وقیود عائد کرتا تھا ،یا شخصی اقتدار اورسرداری کے حریص تھے ،ان تمام مختلف مقاصد کے لوگ ’’باطنیت‘‘ کے نشان کے نیچے جمع ہوگئے ۔

انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اسلام کو جنگی طاقت سے شکست نہیں دے سکتے ، نہ مسلمانوں کو کفر والحاد کی کھلی ہوئی دعوت دے سکتے ہیں ، اس لیے کہ اس سے ان کے مذہبی احساسات بیدار ہوجائیں گے ، اور مقابلہ کی قوت ابھر آئے گی ، انہوں نے اس کے لیے ایک نیا راستہ اختیارکیا ۔

’’ظاہر ‘‘و’’باطن ‘‘کا مغالطہ

انہوں نے دیکھا کہ شریعت کے اصول وعقائد اورحکام ومسائل کو الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اورانسانوں کے سمجھنے اورعمل کرنے کے لیے ایسا ضروری تھا:

وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم (سورہ ابراہیم)۔

ترجمہ :اور ہم نے کوئی پیغمبر دنیا میں نہیں بھیجا مگراپنی قوم ہی کی زبان میں تاکہ لوگوں پر مطلب واضح کردے ۔

ان الفاظ کے معنی ومفہوم متعین ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان سے ان کی تشریح اوراپنے عمل سے ان کی تعیین کردی ہے ، یہ معنی ومفہوم امت میں عملی ولفظی طور پر تواتر وتسلسل سے چلے آرہے ہیں ، اور ساری امت ان کو جانتی اور مانتی ہے ، نبوت ورسالت ، ملائکہ ، معاد ، جنت، دوزخ ، شریعت ، فرض وواجب ، حلال وحرام ، صلوۃ وزکوۃ ، روزہ وحج ، یہ سب وہ الفاظ ہیں جو خاص دینی حقائق کو بیان کرتے ہیں ،اور جس طرح یہ دینی حقائق محفوظ چلے آرہے ہیں اسی طرح ان دینی حقائق کو ادا کرنے والے یہ الفاظ بھی محفوظ چلے آرہے ہیں ، اوراب دونوں لازم وملزوم بن گئے ہیں ۔

جب نبوت ورسالت ، یانبی یا صلوۃ یا زکوۃ کا لفظ بولا جائے گا تو اس سے اس کی وہی حقیقت سمجھ میں آئے گی ،اور وہی عملی شکل سامنے آئے گی جو رسول اللہ ﷺ نے بتلائی ، اورصحابہ کرام نے اس کو سمجھا ، اس پر عمل کیا ،اوراس کو دوسروں تک پہنچایا ، اوراسی طرح نسلا بعد نسل وہ چیز امت تک منتقل ہوتی رہی ، انہوں نے اپنی ذہانت سے اس نکتہ کو سمجھا کہ الفاظ ومعانی کایہ رشتہ امت کی پوری زندگی اور اسلام کے فکری وعملی نظام کی بنیاد ہے ، اوراسی سے اس کو وحدت اور اپنے سرچشمہ اوراپنے ماضی سے اس کا ربط قائم ہے ، اگر یہ رشتہ ٹوٹ جائے اور دینی الفاظ و اصطلاحات کے مفہوم ومعانی متعین نہ رہیں ،یا مشکوک ہوجائیں تو یہ امت ہر دعوت اورہر فلسفہ کا شکار ہوسکتی ہے ، اوراس کے سنگین قلعہ میں سینکڑوں چور دروازے اوراس کی مضبوط دیواروں میں ہزاروں شگاف پیدا ہوسکتے ہیں ۔

اس نکتہ کو پاجانے کے بعد انہوں نے اپنا سارا زور اس تبلیغ پر صرف کیا کہ ہر لفظ کے ایک ظاہری معنی ہوتے ہیں ،اورایک حقیقی اور باطنی (معنی)، اسی طرح قرآن وحدیث کے کچھ ظواہر ہیں اور کچھ حقائق ، ان حقائق سے ان ظواہر کو وہی نسبت ہے جو گودے اورمغز سے چھلکے اورپوست کو ہے ، جہلاء صرف ان ظواہر کو جانتے ہیں ،اور ان کے ہاتھ میں پوست ہی پوست ہے ، عقلاء حقائق کے عالم ہیں ،اوران کے حصہ میں مغز آیا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ دراصل حقائق کے رموز واشارات ہیں ،ان سے وہ مراد نہیں جو عوام سمجھتے اور عمل کرتے ہیں ، ان سے مراد کچھ اور چیزیں ہیں ،جن کا علم صرف’’ اہل اسرار ‘‘کو ہے ، اور انہیں سے دوسروں کو حاصل ہوسکتا ہے ، جو ان حقائق تک نہیں پہنچا اورظواہر میں گرفتار ہے وہ ظاہری بیڑیوں اورشریعت کی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے ، اورنہایت نیچی سطح پر ہے ، جو حقائق ورموز کی بلند سطح تک پہنچ جاتا ہے اس کی گردن سے یہ طوق وسلاسل اترجاتے ہیں اوروہ شریعت کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے(۱) ،یہی اس آیت کا مفہوم ہے :

ویضع عنھم اصرھم والاغلال التی کانت علیھم (سورہ الاعراف)۔

ترجمہ:(پیغمبر) اس بوجھ سے نجات دلائے گا جس کے تلے دبے ہوئے ہیں اوران پھندوں سے نکالے گا جن میں گرفتار ہیں ۔

فرقہ باطنیہ کے نزدیک دین وشریعت کی اصطلاحات کے معانی

جب یہ اصول تسلیم کرلیا گیا اور حقائق وظواہر کے اس فلسفہ کو قبول کرلیا گیا توانہوں نے نبی ، وحی ، نبوت، ملائکہ ، آخرت اوراصطلاحات شرعیہ کی من مانی تشریح کرنی شروع کردی جس کے بعض نادر نمونے یہ ہیں :

’’ نبی اس ذات کا نام ہے جس پر’’ قوت قدسیہ صافیہ ‘‘کا فیضان ہو ،’’ جبریل‘‘ کسی ہستی کا نام نہیں ، صرف’’ فیضان‘‘ کا نام ہے ،’’ معاد‘‘ سے مراد ’’ہر چیز کا اپنی حقیقت کی طرف واپس آجانا ہے ‘‘،’’ جنابت‘‘ سے مراد’’ افشائے راز ‘‘ہے ، ’’غسل ‘‘سے مراد ’’تجدید عہد ‘‘،’’ زنا‘‘ سے مراد ’’علم باطن کے نطفہ کو کسی ایسی ہستی کی طرف منتقل کرنا جو عہد میں شریک نہ ہو‘‘ ،’’ طہارت ‘‘سے مراد ’’مذہب باطنیہ کے علاوہ ہر مذہب سے برأت ‘‘، ’’تیمم ‘‘سے مراد ’’ماذون ( اجازت یافتہ ) سے علم کا حصول‘‘ ،’’ صلوٰۃ ‘‘سے مراد ’’امام وقت کی طرف دعوت ‘‘،’’ زکوۃ‘‘ سے مراد ’’اہل استعداد و صفا میں اشاعتِ علم‘‘ ،’’ صیام (روزہ) ‘‘سے مراد ’’افشائے راز سے پرہیز و احتیاط ‘‘،’’ حج‘‘ سے مراد ’’اس علم کی طلب جو عقل کا قبلہ اور منزل مقصود ہے‘‘ ،’’ جنت‘‘ ، علم باطن ، ’’جہنم ‘‘علم ظاہر ،’’ کعبہ‘‘ خود نبی کی ذات ہے ،’’ بابِ کعبہ ‘‘سے مراد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ، قرآن مجید میں ’’طوفانِ نوح ‘‘سے مراد ’’علم کا طوفان ‘‘ہے ، جس میں اہلِ شہادت غرق کر دیئے گئے ،’’ آتشِ نمرود‘‘ سے مراد ’’نمرود کا غصّہ ‘‘ہے نہ کہ حقیقی آگ ’’، ذبح ‘‘سے مراد جس کا ابراہیم کو حکم دیا گیا تھا ، بیٹے سے عہد لینا ،’’ یاجوج ماجوج ‘‘سے مراد’’ اہلِ ظاہر ‘‘ہیں ،’’ عصائے موسیٰ ‘‘سے مراد ان کی’’ دلیل اور حجّت ‘‘ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔‘‘
(قواعد عقائد آلِ محمد (باطنیہ) تالیف محمد بن حسن الدیلمی یمانی زمانۂ تالیف ۷۰۷ھ ص ۸ – ۱۶)۔

باطنیت : نبوت محمدی کے خلاف بغاوت

الفاظِ شرعی کے متواتر و متوارث معنی و مفہوم کا انکار اور قرآن و حدیث کے ظاہر و باطن اور مغز و پوست کی تقسیم ، ایسا کامیاب حربہ تھا ، جس سے اسلام کے نظامِ اعتقاد و نظامِ فکر کے خلاف سازش کرنے والوں نے ہر زمانہ میں کام لیا۔ اسلام کی پوری عمارت کو اس طرح آسانی سے ڈائنامیٹ کیا جا سکتا تھا اور اسلام کے ظاہری خول کے اندر ریاست اندرونِ ریاست قائم کی جا سکتی تھی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کی صدیوں میں جن فرقوں نے اور منافقین کی جس جماعت نے نبوتِ محمدی کے خلاف بغاوت کرنی چاہی، اس نے باطنیت کے اسی حربہ سے کام لیا اور اس معنوی تواتر و توارث کا انکار کر کے پورے نظامِ اسلامی کو مشکوک و مجروح بنا دیا۔ اور اپنے لئے دینی سیادت بلکہ نئی نبوت کا دروازہ کھول لیا۔ ایران کی’’ بہائیت‘‘ اور ہندوستان کی ’’قادیانیت‘‘ اس کی بہترین مثالیں ہیں(۲)۔

ظاہر ہے کہ ان نکتہ آفرینیوں کو (جن کی چند مثالیں اوپر پیش کی گئی ہیں) کوئی سلیم الطبع آدمی قبول نہیں کر سکتا تھا لیکن علم کلام کی معرکہ آرائیوں نے عالمِ اسلام میں ایسا ذہنی انتشار پیدا کر دیا تھا اور فلسفہ کے اثر سے لوگوں میں پیچیدہ اور غامض مضامین کا (خواہ اس کے اندر کوئی مغز نہ ہو) ایسا مذاق پیدا ہو گیا تھا کہ ایک طبقہ پر باطنیوں کا جادو چل گیا، جنہوں نے قدیم علم ہیئت علم طبیعات اور یونانی الہٰیات کے مسائل اور یونانی اصطلاحات عقل اول وغیرہ کو آزادی سے استعمال کیا تھا۔ اور مختلف اثرات اور مختلف اغراض سے لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ کچھ جذبۂ انتقام میں کچھ اسرار و رموز کے شوق میں کچھ غلط قسم کی ظاہریت اور تقشف کے رد عمل میں کچھ بوالہوسی اور نفس پرستی کی آزادی کے لالچ میں کچھ اہلِ بیت کے نام سے اس طرح باطنیوں نے ایسی خفیہ تنظیم قائم کر لی جس سے طاقتور اسلامی حکومتیں عرصہ تک پریشاں رہیں۔ عالمِ اسلام کی بعض لائق ترین اور مفید ترین ہستیاں (نظام الملک طوسی و فخر الملک وغیرہ) ان کا شکار ہوئیں(۳)، عرصہ تک کسی بڑے عالم اور مسلمان بادشاہ یا وزیر کو اس کا اطمینان نہیں تھا کہ صبح وہ صحیح سلامت اٹھے گا۔ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ اصفہان میں اگر کوئی شخص عصر تک اپنے گھر واپس نہ جاتا تو سمجھ لیا جاتا کہ وہ کسی باطنی کا شکار ہو گیا، اس بدامنی کے علاوہ انہوں نے ذہن و ادب اور علم کو بھی متاثر کرنا شروع کیا، اور دین کے اصول و نصوص اور قطعیات کی تاویل و تحریف اور عام الحاد کا دروازہ کھل گیا۔

ایک نئی شخصیت کی ضرورت

فلسفہ اور باطنیت کے ان اسلام کش اثرات کے لئے ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی، جس کو علومِ عقلیہ و نقلیہ دونوں میں پوری بصیرت اور دستگاہ حاصل ہو اور وہ تمام علوم میں مجتہدانہ نظر اور اپنا خود مقام رکھتا ہو جو اپنے ذہن خداداد جودت طبع اور دقتِ نظر میں فلاسفۂ یونان اور بہت سے قدیم ائمہ فکر سے کم نہ ہو، جو بہت سے علوم کو نئے طریقہ سے مدوّن کرنے کی قابلیت رکھتا ہو، جو وفورِ علم اور وسعت ِ نظر کے ساتھ دولتِ یقین سے بھی مالا مال ہو، اور اس نے اپنے ذاتی تفکر، تلاش و تحقیق، اور ریاضت و عبادت سے دین کے ان ابدی حقائق پر نیا ایمان حاصل کیا ہو، اور وہ نئے اعتماد ، تازہ یقین کے ساتھ علٰی وجہ البصیرۃ دین کی پیروی اور رسول ﷺ کے اقتداء کی طرف دعوت دیتا ہو، نیز عالم اسلامی اور علمی دنیا میں اپنے علم و یقین اور فکر و نظر سے ایک نئی روح اور زندگی کی ایک نئی لہر پیدا کر دے، پانچویں صدی کے عین وسط میں اسلام کو ایسی شخصیت عطا ہوئی جس کی عالمِ اسلام کو سخت ضرورت تھی، یہ شخصیت امام غزالی ؒ کی تھی۔

حواشی

(۱)’’تعطیل شریعت ‘‘ کا مستقل عقیدہ بھی پایا جاتاتھا ، ایک باطنی امام وداعی سیدنا ادریس لکھتے ہیں:

بعث اللہ محمد بن اسماعیل وھو نبی ناطق نسخ شریعۃ محمد ﷺ

یعنی محمد بن اسماعیل کو اللہ تعالی نے نبی ناطق کی حیثیت سے مبعوث فرمایا ،اور انہوں نے محمد ﷺ کی شریعت کو منسوخ کردیا (عاصمہ نفوس المھتدی وقاصمۃ ظھور المعتدین لسیدنا ادریس)معز الدین اللہ فاطمی سے بھی ایسے ہی اقوال منقول ہیں۔

(۲)’’قادیانیوں‘‘ نے بھی باطنیوں کی طرح الفاظ کو قائم رکھتے ہوئے ان کا نیا مفہوم بیان کیا ہے۔ اور معنوی توارث و تواتر کا عملاً انکار کیا ہے۔ ختم نبوت، مسیح و نزول مسیح، معجزات، دجال وغیرہ سب الفاظ وہی ہیں، مگر ان کی تشریح و تطبیق میں باطنیوں کی طرح اختراع و ایجاد سے کام لیا ہے۔ مرزا صاحب کی کتابیں اور مولوی محمد علی کی تفسیر اس کی مثالوں سے بھری ہوئی ہیں۔

’’بہائیوں‘‘ نے بالکل نئی شریعت وضع کی ہے، جس کے بعض دفعات یہ ہیں : ’’روزہ سال میں ایک ہی مہینہ کا ہے، مگر مہینہ ۱۹ دن کا ہے۔ روزہ کی ابتداء صبح صادق کے بجائے طلوع آفتاب سے ہے۔ ۱۱ سال سے ۴۲ سال تک انسان احکامِ شرعی کا مکلف رہتا ہے، پھر پابندیاں اٹھ جاتی ہیں، وضو فرض نہیں ہے مستحب ہے۔ عورتوں پر نظر جائز ہے۔ کوئی پردہ نہیں۔ جس گھر میں بانی مذہب (باب) کی ولادت ہوئی ہے، اس کی زیارت واجب ہے۔ جماعت کی نماز صرف جنازہ میں مشروع ہے، ایمان کے بعد کوئی چیز نجس نہیں بلکہ محض مذہب بابی کی پیروی سے آدمی طاہر ہو جاتا ہے، پھر کبھی گندہ نہیں ہوتا۔ بلکہ جس چیز کو اس کا ہاتھ لگ جاتا ہہے وہ بھی طاہر ہو جاتی ہے۔ پانی ہمیشہ طاہر و مطہر رہتا ہے۔ بہائیوں کا قانونِ میراث علیحدہ ہے (حاضر العالم الاسلامی بحوالہ فرنچ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) موسیو ہوارٹ نے اپنے مقالہ ’’بابیت‘‘ میں صحیح لکھا ہے کہ باب نے اسلام میں اصلاح کے نام سے ایک نئے دین کی تشکیل کی ہے، جس کے عقائد و اصول علیٰحدہ ہیں اور اس کو نئی سوسائٹی اور ہئیت اجتماعیہ کے منشور کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہی صورت حال قادیانیت کی ہے۔ دونوں جگہ ایک نئی نبوت اور ایک نئے نظام دینی کی تاسیس ہے،در حقیقت یہ سب باطنیت کی صدائے باز گشت ہے۔

(۳)باطنیوں کے ہاتھ شہید ہونے والوں کی مفصل فہرست کے لئے ملاحظہ ہو ’’نظام الملک طوسی‘‘ ص ۵۶۰ – ۵۶۳۔

(ماخوذ از تاریخ دعوت وعزیمت ج 1 ص 123- 129، سید ابوالحسن علی ندوی ؒ )

455 Views
Posted in Featured, Urdu, اسلام اور عصر حاضر, سیرت رسول و تاریخ, عقیدہ و کلام

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!