Menu Close

عقل کا فریب اور باطنیہ و قرامطہ ، از مفتی محمد تقی عثمانی

aqal ka faraib aur batiniyyah o qaramitah mufti muhammad taqi usmani

عقل دھوکہ دینے والی ہے

آج کل عقل پرستی کا بڑا زور ہے ،کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کو عقل کی میزان پر پرکھ کر اور تول کر اختیار کریں گے ،لیکن عقل کے پاس کوئی ایسا لگا بندھا ضابطہ فارمولا اورکوئی لگا بندھا اصول نہیں ہے ، جو عالمی حقیقت رکھتاہو ، جس کو ساری دنیا کے انسان تسلیم کرلیں ،اور اس کے ذریعہ وہ اپنے خیر وشر اور اچھائی برائی کا معیار تجویز کرسکیں ، کون سی چیز اچھی ہے ؟کونسی چیز بری ہے ؟ کونسی چیز اختیار کرنی چاہیے ؟ کونسی چیز اختیار نہیں کرنی چاہیے ؟ یہ فیصلہ جب ہم عقل کے حوالے کرتے ہیں تو آپ تاریخ اٹھاکر دیکھ جایے ، اس میں آپ کو یہ نظر آئے کہ اس عقل نے انسان کو اتنے دھوکے دیے ہیں جس کا کوئی شمار اور حد وحساب ممکن نہیں ، اگر عقل کو اس طرح آزاد چھوڑدیا تو انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے ، اس کے لیے تاریخ سے مثال پیش کرتا ہوں ۔

باطنیہ اور قرامطہ کے لیڈرکا گھناؤنا نظریہ

آج سے تقریبا آٹھ سو سال پہلے عالم اسلام میں ایک فرقہ پیدا ہوا تھا ، جس کو ’’باطنی فرقہ‘‘ اور ’’قرامطہ‘‘ کہتے ہیں ، اس فرقے کا ایک مشہور لیڈر گزرا ہے ، جس کا نام عبید اللہ بن حسن قیروانی ہے ، اس نے اپنے پیروکاروں کے نام ایک خط لکھا ہے ،وہ خط بڑا دل چسپ ہے ، جس میں اس نے اپنے پیروکاروں کو زندگی گزارنے کے لیے ہدایات دی ہیں ، اس میں وہ لکھتا ہے :

’’میری سمجھ میں یہ بے عقلی کی بات نہیں آتی ہے کہ لوگوں کے پاس اپنے گھر میں ایک بڑی خوب صورت ، سلیقہ شعار لڑکی بہن کی شکل میں موجود ہے اور بھائی کے مزاج کو بھی سمجھتی ہے ، اس کی نفسیات سے بھی واقف ہے ، لیکن یہ بے عقل انسان اس بہن کا ہاتھ اجنبی شخص کو پکڑا دیتا ہے ، جس کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ نباہ صحیح ہوسکے گا یا نہیں ؟ وہ مزاج سے واقف ہے یا نہیں ؟ اور خود اپنے لیے بعض اوقات ایک ایسی لڑکی لے آتے ہیں جو حسن وجمال کے اعتبار سے بھی ، سلیقہ شعاری کے اعتبار سے بھی ، مزاج شناسی کے اعتبار سے بھی اس بہن کے ہم پلہ نہیں ہوتی ، میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اس بے عقلی کا کیا جواز ہے کہ اپنے گھر کی دولت تو دوسرے کے ہاتھ میں دے دے ، اوراپنے پاس ایک ایسی چیز لے آئے جو اس کو پوری راحت وآرام نہ دے ، یہ بے عقلی ہے ، عقل کے خلاف ہے ، میں اپنے پیرووں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بے عقلی سے اجتناب کریں اوراپنے گھر کی دولت کو گھر ہی میں رکھیں ‘‘(الفرق بین الفرق ، للبغدادی ، ص ۲۹۷، بیان مذاہب الباطنیۃ،للدیلمی ، ص۸۱)۔

اوردوسری جگہ عبید اللہ بن حسین قیراونی عقل کی بنیاد پر اپنے پیرووں کو یہ پیغام دے رہا ہے ، وہ کہتا ہے کہ :

’’یہ کیا وجہ ہے کہ جب ایک بہن اپنے بھائی کے لیے کھانا پکاسکتی ہے ، اس کی بھوک دور کرسکتی ہے ،اس کی راحت کے لیے اس کے کپڑے سنوار سکتی ہے ،اس کا بستر درست کرسکتی ہے تو اس کی جنسی تسکین کا سامان کیوں نہیں کرسکتی ؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟یہ تو عقل کے خلاف ہے ‘‘(حوالہ بالا)۔

کیا صرف عقل ہی آخری معیار ہے ؟ اچھے اوربرے کی تمیز کے لیے کونسی عقل کو بنیاد بنایاجائے؟

قرآن وسنت کا کوئی حکم عقل سلیم کے مخالف نہیں ،لیکن سب سے پہلے متعین کرنے کی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کی عقل دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ، لہذا اچھے برے کی تمیز کے لیے کونسی عقل کو بنیاد بنایاجائے ؟ اگردنیا کے تمام معاملات کا فیصلہ اور قانون سازی اس خالص عقل کی بنیاد پر کی جانے لگے جو ہر قسم کی دینی پابندیوں سے آزاد ہو تو دنیا میںایک ایسی فوضویت اورانارکی کا دور دورہ ہوگا جس کی موجودگی میں انسانیت کی بالکلیہ تباہی یقینی ہے ،وجہ یہ ہے کہ اگر انسانی عقل کو ہر قسم کی حدود وقیود سے آزاد کردیا جائے تو اس سے وہ پیش پا افتادہ اخلاقی مسلمات اورحقائق بھی ثابت نہیں ہوسکتے جنہیں ایک شریف بچہ بھی درست سمجھتا ہے ، مثلااپنی بہن کے ساتھ بدکاری کا ارتکاب ایسا گھناؤنا جرم ہے جسے دنیا کے کسی مذہب وملت اور کسی قوم میں بھی پسند نہیں کیا جاتا، یہاں تک کہ وہ بدترین ملحد جو خدا ورسول کو بھی نہیں مانتے وہ بھی اس فعل کو انتہائی برا سمجھتے ہیں ،لیکن اگر آپ خالص اور آزاد عقل کی بنیاد پر اس گھناؤنے فعل کو ناجائز ثابت کرنا چاہیں تو ہرگز نہیں کرسکتے ،کیونکہ خالص اور آزاد عقل کی بنیاد پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بہن اپنے بھائی کو راحت پہنچانے کے لیے کھانا پکاتی ہے ، اس کے سونے کے لیے بستر تیار کرتی ہے ، اس کے کپڑے سیتی ہے ، اس کی ضروریات کو سنوار کر رکھتی ہے ، وہ بیمار ہوجائے تو اس کی تیمار داری کرتی ہے ، غرض اپنے بھائی کو آرام پہنچانے کے لیے اس قسم کی جو خدمت بھی انجام دیتی ہے تو معاشرہ اسے اچھی نگاہ سے دیکھتا ہے اوراس کی تعریف کرتا ہے ،لیکن اگر یہی بہن اپنے بھائی کی جنسی تسکین کے لیے اپنے آپ کو پیش کرے تو ساری دنیا اس پر لعنت وملامت کی بوچھاڑ کردیتی ہے ، اگر ہر معاملہ کا تصفیہ خالص اور آزاد عقل کے حوالے سے کیا جائے تو وہ بالکل بجا طور پر یہ سوال کرسکتی ہے کہ اگر ایک بھائی اپنی بہن سے ہر قسم کا آرام حاصل کرسکتا ہے تو جنسی آرام حاصل کرنا کیوں ممنوع ہے ؟یہ سوال اخلاق اور رسم ورواج کی مقرر کی ہوئی حدود کے تحت انتہائی اچنبھا بلکہ گھناؤنا محسوس ہوتا ہے ،لیکن جو عقل کسی قسم کی حدود وقیود کی پابند نہ ہو اس کو آپ یہ کہہ کر مطمئن نہیں کرسکتے کہ یہ فعل اخلاقی اعتبار سے انتہائی پست اور گھناؤنا فعل ہے ۔

’’نسب کا تحفظ کوئی عقلی اصول نہیں‘‘

سوال یہ ہے کہ خالص عقلی نقطہ نظر سے اس میں کیا خرابی ہے ؟ آپ کہیں گے کہ اس سے اختلاط انساب کا فتنہ پیدا ہوتا ہے ، لیکن اول تو برتھ کنٹرول کے اس دوور میں اس جواب کے کوئی معنی ہی نہیں رہے ، اوراگر بالفرض اس سے اختلاط انساب ہوتا بھی ہو تو خالص عقل کی بنیاد پر ثابت کیجیے کہ اختلاط انساب بری چیز ہے ، کیونکہ وہاں بھی ایک آزاد عقل یہ کہہ سکتی ہے کہ اختلاط انساب کو برائی قرار دینا مذہب واخلاق کا کرشمہ ہے ،اور جو عقل مذہب واخلاق کی زنجیروں سے آزاد ہو اس کے لیے کسی برائی کو برائی ثابت کرنے کے لیے کسی خالص عقلی دلیل کی ضرورت ہے ۔

حیا اور بےحیائی کے متعلق آزاد عقل کا جواب

آپ کہیں گے کہ یہ عمل انتہائی درجے کی بے حیائی ہے ، لیکن خالص اور آزاد عقل اس کے جواب میں یہ کہے گی کہ ’’حیا‘‘ اور’’بےحیائی ‘‘ کے یہ سارے تصورات مذہب ، اخلاق یا سماج کے بنائے ہوئے ہیں ،ورنہ عقلی اعتبار سے یہ عجیب معاملہ ہے کہ ایک عورت اپنے جسم کو ایک قطعی انجان آدمی کے حوالے کردے تو یہ ’’حیا داری ‘‘ ہے ،اور جس بے تکلف شخص کے ساتھ اس کا بچپن گزرا ہے اس کے حوالے کرے تو یہ ’’بے حیائی ‘‘ ہے !۔

خلاف فطرت کے متعلق آزادعقل کا جواب

آپ کہیں گے کہ انسانی فطرت اس عمل سے انکار کرتی ہے ،لیکن آزاد عقل اس کے جواب میں کہتی ہے کہ اس عمل کے غیر فطری ہونے کی دلیل عقلی کیا ہے ؟درحقیقت یہ عمل اس لیے خلاف فطرت معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں سے سماج اس کو برا سمجھتا آراہ ہے ، اگر سماج کے بندھن کو توڑ کر خالص عقل سے سوچیں تواس عمل میں قباحت کیا ہے ؟ غرض آپ خالص عقل کی بنیادپر اس سوال کو حل کرنا چاہیں گے تو یہ قیامت تک حل نہیں ہوسکے گا۔

اوریہ محض ایک مفروضہ ہی نہیں ، آج کی آزاد عقل نے تواس قسم کے بے شمار سوالات اٹھا ہی رکھے ہیں ، پرانے زمانے میں بھی جب کسی نے خالص اور آزاد عقل کے ذریعہ دنیا کے معاشرتی مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے وہ ہمیشہ عقلی سوال وجواب کی اس بھول بھلیاں میں پھنس کر رہ گیا ہے ، یقین نہ آئے تو فرقہ باطنیہ کے حالات کا مطالعہ کیجیے ، اس فرقہ کا ایک مشہور لیڈر عبید اللہ بن حسن قیروانی اپنی کتاب ’’ السیاسۃ والبلاغ الاکید والناموس الاعظم ‘‘ میں لکھتا ہے :

’’اس سے زیادہ تعجب کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ لوگ عقل کا دعوی کرنے کے باوجود اس قسم کی بے عقلیاں کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک حسین وجمیل بہن یا بیٹی موجود ہوتی ہے ، اورخود ان کی بیوی ایسی حسین نہیں ہوتی ، اس کے باوجود وہ اپنی بہن یا بیٹی کو اپنے اوپر حرام سمجھ کر اس کو ایک اجنبی شخص کے حوالے کردیتے ہیں ، اگر یہ جاہل عقل سے کام لیتے تو انہیں احساس ہوتا کہ ایک اجنبی کے مقابلہ میں اپنی بہن اور بیٹی کے وہ خود زیادہ حق دار تھے ، دراصل اس نادانی کی ساری وجہ یہ ہے کہ ان کے رہنما نے ان پر دنیا کی لذتیں حرام کردی ہیں ‘‘۔

’’عقلی اعتبار سے یہ کوئی برائی نہیں‘‘

اس گھناؤنی عبارت کی شناعت وخباثت پر جتنی چاہے لعنت بھیجتے رہیے ، لیکن ساتھ ہی دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ خالص اور آزاد عقل کی بنیاد پر اس دلیل کا کوئی جواب آپ دے سکتے ہیں ؟ واقعہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے جو عقل پرست صبح و شام آزاد عقل کی رٹ لگاتے رہتے ہیں ، اگر وہ سب مل کر اس اعتراض کا خالص عقلی جواب دینا چاہیں تب بھی قیامت تک نہیں دے سکتے ۔

باطنیہ کی قرآن میں تحریف

اور پھر کمال یہ ہے کہ یہ عبید اللہ قیروانی جس کی عبارت اوپر لکھی گئی ہے قرآن کا کھلا منکر نہیں تھا ،بلکہ دوسرے باطنیہ کی طرح قرآن میں عقل کی بنیاد پر تاویلات کیا کرتا تھا ،اوریہ دعوی کیا کرتا تھا کہ قرآن کے جو معنی ظاہری طور پر سمجھ میں آتے ہیں در حقیقت وہ مراد نہیں ہیں ، بلکہ یہ سب کچھ مجاز و استعارہ اور تمثیل وتشبیہ ہے جس کا حقیقی مطلب کچھ اور ہے ۔

آزاد عقل اور زنا کی حرمت

اسی طرح اگر آپ مطلق زنا کی حرمت آزاد اور خالص عقل سے ثابت کرنا چاہیں تو یہ بھی ممکن نہیں ہوگا ، کیونکہ آزاد عقل یہ سوال کرسکتی ہے کہ اگر دو مرد وعورت باہمی رضامنید سے بدکاری کا ارتکاب کرنا چاہیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟اوراسی بنا پر مغربی قوانین میں باہمی رضامندی سے زنا کرلینا کوئی جرم نہیں ہے ،کیونکہ ان قانون سازوں کو زنا بالرضاء میں کوئی خالص عقلی خرابی نظر نہیں آتی ، بلکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے برطانیہ کی مجلس قانون ساز نے بھاری اکثریت سے تالیوں کی گونج میں یہ قانون منظور کیا ہے کہ دو مردوں کا باہمی رضامندی سے لواطت کا ارتکاب قانونا بالکل جا ئز ہے ،اس قانون سازی کی وجہ بھی یہی تھی کہ خالص عقلی طور پر اس عمل میں کوئی قابل سزا بات نظر نہیں آئی۔

اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ، انسانی ذہن کے بنائے ہوئے قوانین کا یہ لازمی خاصہ ہے کہ وہ انسانیت کی صحیح تربیت کرکے اس کو امن وسکون سے ہمکنار کرنے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں ،اور ان کے ذریعہ انسان عقل کے نام پر ایسی ایسی بے عقلیاں کرتا ہے کہ الامان ! وجہ یہ ہے کہ جب ’’خالص عقل‘‘ قانون سازی کی بنیاد ٹھہری تو اس دنیا میں ہر انسان کی عقل دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ، زمانے کا کوئی عام چلن اگر ایک زمانے کے افراد کو کسی ایک عمل کی اچھائی یا برائی پر متفق کرتابھی ہے تو کسی دوسرے زمانے کی عقل اسی عمل کے بارے میں کوئی مختلف رائے دے دیتی ہے ،کیونکہ عقل کے پاس کوئی ایسا متفقہ معیار نہیں جس کی بنیاد پر اقدار کا تعین کیا جاسکے ، اوراس کی روشنی میں صحیح قوانین بنائے جاسکیں ،چنانچہ عہد حاضر کے ماہرین قانون بھی عقل وفہم کے ہزار دعووں کے باوجود سالہا سال کی بحثوں کے بعد یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ قانون سازی کا یہ بنیادی مسئلہ ہم ابھی طے نہیں کرسکے کہ قانون سازی کے لیے کسی چیز کو اچھا یا برا سمجھنے کا کیا معیار ہمیں مقرر کرنا چاہیے ؟!

وحی الہی سے آزادی کا نتیجہ

غرض یہ کہ اگر وحی الہی کی رہنمائی سے قطع نظر کرکے عقل کو بالکل مادر پدر آزاد چھوڑدیا جائے تو اچھے برے کی تمیز کرنے کے لیے کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی ، انسان کو گمراہی اوربے عقلی کے ایسے ایسے تاریک غاروں میں گرا کر چھوڑتی ہے کہ جہاں رشد وہدایت کی کوئی ہلکی سی کرن بھی نہیں پڑی ، وجہ یہ ہے کہ وحی الہی کی رہنمائی کے بغیر جب انسان نری عقل کو استعمال کرتا ہے تو وہ اسے آزاد عقل سمجھتا ہے ،لیکن درحقیقت وہ اس کی نفسانی خواہشات کی غلام ہوکر رہ جاتی ہے جو عقل کی غلامی کی بدترین شکل ہے ، جو لوگ ہر کام میں خالص عقل کی پیروی کا دعوی کرتے ہیں وہ درحقیقت انتہا درجہ کی خود فریبی میں مبتلا ہیں ، ان کے مقابلہ میں وہ لوگ زیادہ حقیقت پسند اور جرات مند ہیں جو کھل کر یہ کہتے ہیں کہ ہماری عقل آزاد نہیں ، بلکہ ہماری خواہشات نفس کی غلام ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی اصل بنیاد اس عقل پر نہیں جو خواہشات نفس کی غلام ہو ، بلکہ اس عقل پر ہے جو اللہ تعالی کی عطا کی ہوئی ہدایات کی پابند اوراپنے حدود کار سے اچھی طرح واقف ہو اوریہی عقل سلیم کی تعریف ہے ۔

ماخوذ از : علوم القرآن و اصلاحی خطبات جلد اول ، از حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

853 Views
Posted in Featured, Urdu, اسلام اور عصر حاضر, عقیدہ و کلام

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!