Menu Close

شب معراج کی تعیین ، فضیلت ، خاص عبادات، 27 رجب کا روزہ اور رجب کے کونڈوں کی حقیقت ، از مفتی محمد تقی عثمانی

شب معراج کی تعیین ، فضیلت ، خاص عبادات، 27 رجب کا روزہ اور رجب کے کونڈوں کی حقیقت ، از مفتی محمد تقی عثمانی rajab aur shab e miraj ki khas ibadat aur miraj ka rozah rajab kay koonday mufti muhammad taqi usmani

ماہ رجب کے بارے میں لوگوں کے درمیان طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیل گئی ہیں ، ان کی حقیقت سمجھ لینے کی ضرورت ہے ، اس پورے مہینہ کے بارے میں جوبات صحیح سند کے ساتھ حضور اقدس ﷺ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب آپ رجب کا چاند دیکھتے تو چاند دیکھ کر آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ :

اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان

اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرمایے،اورہمیں رمضان تک پہنچادیجیے ۔

یعنی ہماری عمر اتنی کردیجیے کہ ہم اپنی زندگی میں رمضان کو پالیں ، گویا کہ پہلے سے رمضان المبارک کی آمد کا اشتیاق ہوتا تھا ، یہ دعا آپ ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے ، اس لیے یہ دعا کرنا سنت ہے ، اوراگر کسی نے رجب کے شروع میں یہ دعا نہ کی ہو تو وہ اب یہ دعا کرلے ، اس کے علاوہ اور چیزیں جو عام لوگوں میں مشہور ہوگئی ہیں ان کی شریعت میں کوئی اصل اور بنیاد نہیں ۔

کیا شب معراج کی فضیلت بھی شب قدر کی طرح ہے؟

۲۷ رجب کی شب کے بارے میں یہ مشہور ہوگیا ہے کہ یہ شب معراج ہے، اور اس شب کو ابھی اسی طرح گذارنا چاہئے جس طرح شب قدر گذاری جاتی ہے، اور جو فضیلت شب قدر کی ہے، کم وبیش شب معراج کی بھی وہی فضیلت سمجھی جاتی ہے، بلکہ میں نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہوا دیکھا کہ ’’شب معراج کی فضیلت شب قدر سے بھی زیادہ ہے‘‘ اور پھر اس رات میں لوگوں نے نمازوں کے بھی خاص خاص طریقے مشہور کردیئے کہ اس رات میں اتنی رکعات پڑھی جائیں، اورہر رکعت میں فلاں فلاں خاص سورتیں پڑھی جائیں، خدا جانے کی کیا تفصیلات اس نماز کے بارے میں لوگوں میں مشہور ہوگئیں، خوب سمجھ لیجئے! یہ سب بے اصل باتیں ہیں، شریعت میں ان کی کوئی اصل اور کوئی بنیاد نہیں۔

کیا شب معراج کی تاریخ یقینی طور پر۲۷ رجب ہی ہے؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۲۷ رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریمﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے، کیونکہ اس باب میں مختلف روایتیں ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے، بعض روایتوں میں رجب کا ذکر ہے، اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لئے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ کونسی رات صحیح معنی میںمعراج کی رات تھی، جس میں آنحضرتﷺ معراج پر تشریف لے گئے۔

اس سے آپ خود اندازہ کر لیں کہ اگر شب معراج بھی شب قدر کی طرح کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے جس طرح شب قدر کے بارے میں ہیں تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، لیکن چونکہ شب معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے ۲۷ رجب کو شب معراج قرار دینا درست نہیں۔

اوراگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آپﷺ ۲۷ رجب ہی کو معراج کے لئے تشریف لے گئے تھے، جس میں یہ عظیم الشان واقعہ پیش آیا، اور جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو یہ مقام قرب عطا فرمایا، اور اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخشا، اور امت کے لئے نمازوںکا تحفہ بھیجا تو بے شک وہی ایک رات بڑی فضیلت والی تھی، کسی مسلمان کو اس کی فضیلت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے! لیکن یہ فضیلت ہر سال آنے والی ۲۷ رجب کی شب کو حاصل نہیں۔

حضور کی زندگی میں 18 مرتبہ شب معراج کی تاریخ آئی لیکن !!!

پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ معراج سن ۵ نبوی میں پیش آیا، یعنی حضورﷺ کے نبی بننے کے پانچویں سال یہ شب معراج پیش آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد ۱۸ سال تک آپ ﷺ دنیا میں تشریف فرما رہے، لیکن ان اٹھارہ سال کے دوران یہ کہیں ثابت نہیں کہ آپﷺ نے شب معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو، یا اس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شب قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجرو ثواب کا باعث ہے، نہ تو آپﷺ کا ایسا کوئی ارشاد ثابت ہے، اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میںجاگنے کا اہتمام ثابت ہے، نہ خود حضورﷺ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی، اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔

صحابہ کرام سے زیادہ دین کو جاننے والا کون ؟

پھر سرکاردوعالمﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم دنیا میں موجودرہے، اس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ایسا ثابت نہیں ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ۲۷ رجب کو خاص اہتمام کر کے منایا ہو، لہٰذا جو چیز حضور اقدسﷺ نے نہیں کی، اور جو آپ کے صحابہ کرام نے نہیں کی، اس کو دین کاحصہ قرار دینا، یا اس کو سنت قرار دینا، یا اس کے ساتھ سنت جیسا معاملہ کرنا بدعت ہے، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں (معاذ اللہ) حضورﷺ سے زیادہ جانتا ہوں کہ کون سی رات زیادہ فضیلت والی ہے، یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے،اگر صحابہ کرام نے یہ عمل نہیں کیا تو میں اس کو کروں گاتو اس کے برابر کوئی احمق نہیں۔

لیکن جہاں تک دین کا تعلق ہے ، حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم)، تابعین اور تبع تابعین (رحمہم اللہ )دین کو سب سے زیادہ جاننے والے ، دین کو خوب سمجھنے والے اور دین پر مکمل عمل کرنے والے تھے ، اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں ، یاان سے زیادہ دین کا ذوق رکھتا ہوں ، یا ان سے زیادہ عبادت گزار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے ، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا۔

شب معراج میں کسی خاص عبادت کا اہتمام اور ۲۷ رجب کے روزے کا کیا حکم ہے؟

اس رات میں عبادت کے لئے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے، یوں تو ہر رات میںاللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دیدیں وہ بہتر ہی بہتر ہے، لہٰذا آج کی رات بھی جاگ لیں، کل کی رات بھی جاگ لیں، اسی طرح پھر ستائیسویں را ت کو بھی جاگ لیں، لیکن اس رات میں او ر دوسری راتوں میں کوئی فرق اور کوئی نمایاں امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔

اسی طرح ستائیس رجب کا روزہ ہے، بعض لوگ ستائیس رجب کے روزے کو فضیلت والا سمجھتے ہیں، جیسے کہ عاشورہ اور عرفہ کا روزہ فضیلت والا ہے، اسی طرح ستائیس رجب کے روزے کو بھی فضیلت والا روزہ خیال کیا جاتا ہے، بات یہ ہے کہ ایک یا دو ضعیف روایتیں تو اس کے بارے میں ہیں، لیکن صحیح سند سے کوئی روایت ثابت نہیں۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بعض لوگ ۲۷ رجب کو روزہ رکھنے لگے، جب حضرت فاروق اعظمؓ کو پتہ چلا کہ ۲۷ رجب کاخاص اہتمام کرکے لوگ روزہ رکھ رہے ہیں تو چونکہ ان کے یہاں دین سے ذرا ادھر ادھر ہونا ممکن نہیں تھا، چنانچہ وہ فوراً گھر سے نکل پڑے اور ایک ایک شخص کو جاکر زبردستی فرماتے کہ تم میرے سامنے کھانا کھاؤ،اور اس بات کا ثبوت دو کہ تمہارا روزہ نہیں ہے، باقاعدہ اہتمام کر کے لوگوں کو کھانا کھلایا تاکہ لوگوں کو یہ خیال نہ ہوکہ آج کا روزہ زیادہ فضیلت کا ہے، بلکہ جیسے اور دنوں میں نفلی روزے رکھے جاسکتے ہیں، اسی طرح اس دن کا بھی نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں، آپؓ نے یہ اہتمام اس لئے فرمایا تاکہ بدعت کا سدباب ہو، اور دین کے اندر اپنی طرف سے زیادتی نہ ہو۔

شب معراج میں جاگ کر ہم نے کون سی برائی کر لی؟

بعض لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اس رات میں جاگ کر عبادت کر لی اوردن میں روزہ رکھ لیا تو کون سا گناہ کر لیا؟ کیا ہم نے چوری کر لی ؟ یا شراب پی لی؟ یا ڈاکہ ڈالا؟ ہم نے رات میں عبادت ہی تو کی ہے اور اگر دن میں روزہ رکھ لیا تو کیا خرابی کا کام کیا ؟حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بتلادیا کہ خرابی یہ ہوئی کہ اس دن کے اندر روزہ رکھنا اللہ تعالیٰ نے نہیں بتایا اور خود ساختہ اہتمام والتزام ہی اصل خرابی ہے۔

دین اتباع کا نام ہے

میں یہ کئی بارعرض کر چکا ہوں کہ سارے دین کا خلاصہ ’’اتباع‘‘ ہے کہ ہمارا حکم مانو، روزہ رکھنے میں کچھ رکھا ہے، نہ افطار کرنے میں کچھ رکھا ہے اور نہ نماز پڑھنے میں کچھ رکھا ہے، جب ہم کہیں کہ نماز پڑھو تو نماز پڑھنا عبادت ہے اور جب ہم کہیں کہ نماز نہ پڑھو تو نماز نہ پڑھنا عبات ہے، جب ہم کہیں کہ روزہ رکھو تو روزہ رکھنا عبادت ہے، اور جب ہم کہیں کہ روزہ نہ رکھو تو روزہ نہ رکھنا عبادت ہے، اگر اس وقت روزہ رکھو گے تو یہ دین کے خلاف ہوگا، تو دین کا سارا کھیل ’’اتباع‘‘ میں ہے، اگر اللہ تعالیٰ یہ حقیقت دل میں اتار دے تو ساری بدعتوں کی خود ساختہ التزامات کی جڑ کٹ جائے۔ اب اگر کوئی شخص اس روزے کا کام زیادہ اہتمام سے کرے تو وہ شخص دین میں اپنی طرف سے زیادتی کررہا ہے اور دین کو اپنی طرف سے گھڑ رہا ہے، لہٰذا اس نقطہ نظر سے روزہ رکھنا جائز نہیں، ہاں! البتہ اگر کوئی شخص عام دنوں کی طرح اس میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہے تو رکھ لے، اس کی ممانعت نہیں، لیکن اس کی زیادہ فضیلت سمجھ کر، اس کو سنت سمجھ کر، اس کو زیادہ مستحب اور زیادہ اجر وثواب کا موجب سمجھ کر اس دن روزہ رکھنا یا اس رات میں جاگنا درست نہیں بلکہ بدعت ہے۔

رجب کے کونڈوں کی شرعاً کیا حقیقت ہے؟

شب معراج کی تو پھر بھی کچھ اصل ہے کہ اس رات میں حضور اقدسﷺ اتنے اعلیٰ مقام پر تشریف لے گئے تھے،لیکن اس سے بھی زیادہ آج کل معاشرے میں فرض وواجب کے درجے میں جو چیز پھیل گئی ہے وہ کونڈے ہیں، اگر آج کسی نے کونڈے نہیں کئے تو وہ مسلمان ہی نہیں، نماز پڑھے یا نہ پڑھے، روزے رکھنے یا نہ رکھے، گناہوں سے بچے یا نہ بچے، لیکن کونڈے ضرور کرے، اور اگر کوئی شخص نہ کرے، یا کرنے والوں کو منع کرے تو اس پر لعنت اور ملامت کی جاتی ہے، خدا جانے یہ کونڈ کہاں سے نکل آئے؟ نہ قرآن وحدیث سے ثابت ہیں،نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے، نہ تابعین رحمہم اللہ سے، اور نہ بزرگان دین سے، کہیں سے اس کی کوئی اصل ثابت نہیں، اور اس کو اتنا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ گھر میں دین کا کوئی دوسرا کام ہو یا نہ ہو، لیکن کونڈے ضرور ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ذرا مزہ اور لذت آتی ہے، اور ہماری قوم لذت اور مزہ کی خوگر ہے، کوئی میلہ ٹھیلہ ہونا چاہئے، اور کوئی حظ نفس کا سامان ہونا چاہئے، اورہوتا یہ ہے کہ جناب! پوریاں پک رہی ہیں، حلوہ پک رہا ہے، اور ادھر سے ادھر جارہی ہیں، اور ادھر سے ادھر آرہی ہیں اور ایک میلہ لگا ہوا ہے، تو چونکہ یہ بڑے مزے کا کام ہے، اس واسطے شیطان نے اس میں مشغول کر دیا کہ نماز پڑھو یا نہ پڑھو، وہ کوئی ضر وری نہیں، مگر یہ کام ضرور ہونا چاہئے،بھائی !ان چیزوں نے ہماری امت کو خرافات میں مبتلا کردیا ہے:

حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امت خرافات میں کھو گئی

اس قسم کی چیزوں کو لازمی سمجھ لیا گیا اور حقیقی چیزیں پس پشت ڈال دی گئیں ، اس کے بارے میں رفتہ رفتہ اپنے بھائیوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے ، اس لیے کہ بہت سے لوگ صرف ناواقفیت کی وجہ سے کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں کوی عناد نہیں ہوتا ، لیکن دین سے واقف نہیں ، ان بے چاروں کو اس کے بارے میں پتہ نہیں ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح عید الاضحی کے موقع پر قربانی ہوتی ہے ، اور گوشت ادھر سے ادھر جاتا ہے ، یہ بھی قربانی کی طرح کوئی ضروری چیز ہوگی ، اور قرآن وحدیث میں اس کا بھی کوئی ثبوت ہوگا ،اس لیے ایسے لوگوں کو محبت ، پیار اور شفقت سے سمجھایاجائے ،اورایسی تقریبات میں خود شریک ہونے سے پرہیز کیا جائے ۔

خلاصہ

بہرحال ! خلاصہ یہ ہے کہ رجب کا مہینہ رمضان کا مقدمہ ہے ، ا س لیے رمضان کے لیے پہلے سے اپنے آپ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے ، اس لیے حضور اقدس ﷺ دو مہینے پہلے سے دعا بھی فرمارہے ہیں ، اور لوگوں کو توجہ دلا رہے ہیں کہ اب اس مبارک مہینے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرلو ، اور اپنا نظام الاوقات ایسا بنانے کی فکر کرو کہ جب یہ مبارک مہینہ آئے تو اس کا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں صرف ہو ۔

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

1,879 Views
Posted in Urdu, سنت و حدیث, سیرت رسول و تاریخ

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!