Menu Close

شب برات اور پندرہ شعبان کا روزہ ، حقیقت فضیلت اور چند غلط فہمیاں از مفتی محمد تقی عثمانی

shab e barat aur 15 pandrah shaban ka roza haqiqat fazeelat mufti muhammad taqi usmani

شب برأت کی حقیقت اورفضیلت کا ثبوت

شعبان کا مہینہ شروع ہوچکا ہے ،اس ماہ میں ایک مبارک رات آنے والی ہے جس کا نام ’’شب برات‘‘ ہے ،چونکہ اس رات کے بارے میں بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ اس رات کی کوئی فضیلت قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ،اوراس رات میں جاگنا ،اوراس رات میں عبادت کو خصوصی طور پر باعث اجر وثواب سمجھنابے بنیاد ہے ، بلکہ بعض حضرات نے اس رات میں عبادت کو بدعت سے بھی تعبیر کیا ہے ، اس لیے لوگوں کے ذہنوں میں اس رات کے بارے میں مختلف سوالات پیدا ہورہے ہیں ، اس لیے اس کے بارے میں کچھ عرض کردینا مناسب معلوم ہوا۔

اس سلسلے میں مختصرا گزارش یہ ہے کہ میں آپ حضرات سے بار بار یہ بات عرض کرچکا ہوں کہ جس چیز کا ثبوت قرآن میں ،یا سنت میں ،یا صحابہ کرام کے آثار میں ، تابعین بزرگان دین کے عمل میں نہ ہو ،اس کو دین کا حصہ سمجھنا بدعت ہے ، اور میں ہمیشہ یہ بھی کہتا رہا ہوں کہ اپنی طرف سے ایک راستہ گھڑ کر اس پر چلنے کا نام دین نہیں ہے ، بلکہ دین اتباع کا نام ہے ، کس کی اتباع ؟ حضور اقدس ﷺ کی اتباع ، آپ کے صحابہ کرام کی اتباع ، تابعین اور بزرگان دین کی اتباع، اب اگر واقعۃ یہ بات درست ہو کہ اس رات کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ، تو بیشک اس رات کو کوئی خصوصی اہمیت دینا بدعت ہوگا ، جیسا کہ شب معراج کے بارے میں عرض کر چکا ہوں کہ شب معراج میں کسی خاص عبادت کا ذکر قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ شب برات (پندرہ شعبان) کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرامؓسے احادیث مروی ہین، جن میں نبی کریمﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بے شک کچھ کمزور ہیں، اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو،لیکن اس کی تائید بہت سی احادیث سے ہوجائے تواس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں، لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں، اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بالکل غلط ہے، چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اتنے انسانوں کی مغفرت فرماتے ہیں جتنے قبیلہ کلب کی بکریوں کے جسم پر بال ہیں۔

امت مسلمہ کی جو خیر القرون ہیں، یعنی صحابہ کرام کا دور، تابعین کا دور، تبع تابعین کا دور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائد اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے، لوگ اس رات کے اندر عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں،لہذاا س کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے، ا س رات میں جاگنا، اس میں عبادت کرنا باعث اجرو ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے۔

شب برأت کی خاص عبادت کیا ہے؟

البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں فلاں طریقہ سے عبادت کی جائے، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب برات میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے، مثلاً پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی امرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، وغیرہ وغیرہ اس کا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے،بلکہ نفلی عبادات جس قدر ہوسکے، وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفلی نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، ذکر کریں، تسبیح پڑھیں، دعائیں کریں، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں، لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔

شب برأت میں قبرستان جانا

اس رات میں ایک اور عمل ہے، جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ کہ حضور نبی کریمﷺ جنت البقیع میں تشریف لے گئے، اب چونکہ حضور اس رات میں جنت البقیع تشریف لے گئے تھے، اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شب برات میں قبرستان جائیں، لیکن میرے والد ماجد حضرت مفتی محمدشفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے، ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے، فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریمﷺ سے جس درجے میں ثابت ہو، اسی درجہ میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھانا چاہئے، لہٰذا ساری حیات طیبہ میں رسول کریمﷺ سے ایک مرتبہ جنت البقیع جانا مروی ہے، کہ آپ شب برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے، اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاؤ تو ٹھیک ہے، لیکن ہر شب برات میں جانے کا اہتمام کرنا، التزام کرنا، اور اس کو ضروری سمجھنا، اور اس کو شب برات کے ارکان میں داخل کرنا، اور اس کو شب برات کا لازمی حصہ سمجھنا، اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برأت نہیں ہوئی، یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے، لہٰذا اگر کبھی کوئی شخص اس نقطہ نظر سے قبرستان چلا گیا کہ حضور نبی کریمﷺ تشریف لے گئے تھے، میں بھی آپﷺ کی اتباع میں جارہا ہوں، تو ان شاء اللہ اجرو ثواب ملے گا، لیکن اس کے ساتھ یہ کرو کہ کبھی نہ بھی جاؤ، لہٰذا اہتمام اورالتزام نہ کرو، پابندی نہ کرو، یہ درحقیقت دین کی سمجھ کی بات ہے، کہ جو چیز جس درجہ میں ثابت ہو اس کو اسی درجہ میں رکھو، اس سے آگے مت بڑھاؤ، ور اس کے علاوہ دوسری نفل عبادت ادا کرلو۔

شب برات اور شب قدر میں صلوٰۃ التسبیح اور نفل کی جماعت

میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ اس رات میں اور شب قدر میں نفلوں کی جماعت کرتے ہیں، پہلے صرف شبینہ باجماعت ہوتا تھا، اب سناہے کہ صلوٰۃ التسبیح کی بھی جماعت ہونے لگی ہے، یہ صلوٰۃ التسبیح کی جماعت کسی طرح بھی ثابت نہیں، ناجائز ہے، اس کے بارے میں ایک اصول سن لیجئے جو نبی کریمﷺ نے بیان فرمایا کہ فرض نماز کے علاوہ،ا ور ان نمازوں کے علاوہ جو حضور اقدسﷺ سے باجماعت ادا کرنا ثابت ہیں، مثلاً تراویح، کسوف اور استسقاء کی نماز، ان کے علاوہ ہر نماز کے بارے میں افضل یہ ہے کہ انسان اپنے گھر میں ادا کرے، صرف فرض نماز کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندرصرف افضل نہیں، بلکہ سنت موکدہ قریب بواجب ہے کہ اس کومسجد میں جا کر جماعت سے ادا کرے ، لیکن سنت اور نفل میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ اس کو انسان اپنے گھر میں ادا کرے، لیکن جب فقہاء نے یہ دیکھاکہ لوگ گھر جا کر بعض اوقات سنتوں کو ترک کرد یتے ہیں، اس لئے انہوں نے یہ بھی فرمادیا کہ اگر سنتیں چھوٹنے کا خوف ہو تو مسجد ہی میں پڑھ لیا کریں، تاکہ چھوٹ نہ جائیں، ورنہ اصل قاعدہ یہی ہے کہ گھر میں جا کر ادا کریں، اور نفل کے بارے میں تمام فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ نفل نماز میں افضل یہ ہے کہ اپنے گھر میں ادا کرے، اور نفلوں کی جماعت حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے، یعنی اگر جماعت سے نفل پڑھ لئے تو ثواب تو کیا ملے گا، الٹا گناہ ملے گا۔

فرض نماز جماعت کے ساتھ اور نوافل تنہائی میں 

بات در اصل یہ ہے کہ فرائض دین کا شعار ہیں ، دین کی علامت ہیں ، لہذا ان کو جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا ضروری ہے ، کوئی آدمی یہ سوچے کہ اگر میں مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھوں گا تو اس میں ریاکاری کا اندیشہ ہے ، اس لیے میں گھر ہی میں نماز پڑھ لوں ، اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ، اس کو حکم یہ ہے کہ مسجد میں جاکر نماز پڑھے ، اس لیے کہ اس کے ذریعہ دین اسلام کا ایک شعار ظاہر کرنا مقصود ہے ، دین اسلام کی ایک شوکت کا مظاہرہ مقصود ہے ،اس لیے اس کو مسجد ہی میں ادا کرو،لیکن نوافل ایک ایسی عبادت ہے جس کا تعلق بس بندہ اور اس کے پروردگار سے ہے ، بس تم ہو اور تمہارا اللہ ، تم ہو اور تمہارا پروردگار ہو ،جیسا کہ حضرت صدیق اکبرؓ کے واقعہ میں آتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تلاوت اتنی آہستہ سے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ :

اسمعت من ناجیت

یعنی جس ذات سے یہ مناجات کررہا ہوں اس کو سنادیا ، اب دوسروں کو سنانے کی کیاضرورت ہے ؟لہذا نفلی عبادت کا تو حاصل یہ ہے کہ وہ ہو اور اس کا پروردگار ہو ، کوئی تیسرا شخص درمیان میں حائل نہ ہو ، اللہ تعالی یہ چاہتے ہیں کہ میرا بندہ براہ راست مجھ سے تعلق قائم کرے ، اس لیے نفلی عبادتوں میں جماعت اور اجتماع کو مکروہ قرار دے دیا ، اوریہ حکم دے دیا کہ اکیلے آؤ،تنہائی اورخلوت میں آؤ، اورہم سے براہ راست رابطہ قائم کرو ، یہ خلوت اورتنہائی کتنا بڑا انعام ہے ، ذرا غور تو کرو، بندہ کو کتنے بڑے انعام سے نوازا جارہاہ ے کہ خلوت اور تنہائی میں ہمارے پاس آؤ۔

گوشہ تنہائی کے لمحات

یہ فضیلت والی راتیں شور وشغب کی راتیں نہیں ہیں ، میلے ٹھیلے کی راتیں نہیں ، یہ اجتماع کی راتیں نہیں ، بلکہ یہ راتیں اس لیے ہیں کہ گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر تم اللہ تعالی کے ساتھ تعلقات استوار کرلو ،اور تمہارے اور اس کے درمیان کوئی حائل نہ ہو:

میان عاشق ومعشوق رمزیست
کراما کاتین را ہم خبر نیست

’’ہم سے اکیلے اور تنہائی میں عبادت نہیں ہوتی‘‘

لوگ یہ عذر کرتے ہیں کہ اگر تنہائی میں عبادت کرنے بیٹھتے ہیں تو نیند آجاتی ہے ، مسجد میں شبینہ اور روشنی ہوتی ہے ، اورایک جم غفیر ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے نیند پر قابو پانے میں آسانی ہوجاتی ہے ، ارے !اس پر یقین کرو کہ اگر تمہیں چند لمحات گوشہ تنہائی میں اللہ تعالی سے ہم کلام ہونے کے میسر آگئے تو وہ چند لمحات اس ساری رات سے بدرجہابہتر ہیں جو تم نے میلے میں گزاری ، اس لیے کہ تنہائی میں جو وقت گزارا وہ سنت کے مطابق گزارا ، اورمیلے میں جو وقت گزارا وہ خلاف سنت گزارا ،وہ رات اتنی قیمتی نہیں جتنے وہ چند لمحات قیمتی ہیں جو آپ نے اخلاص کے ساتھ ریا کے بغیر گوشہ تنہائی میں گزارلیے۔

میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ اپنی عقل کے مطابق کام کرنے کا نام دین نہیں ، اپنا شوق پورا کرنے کا نام دین نہیں ، بلکہ ان کے کہنے پر عمل کرنے کا نام دین ہے ، ان کی پیروی اور اتباع کا نام دین ہے ، یہ بتاؤ کہ اللہ تعالی تمہارے گھنٹے شمار کرتے ہیں کہ تم نے مسجد میں کتنے گھنٹے گزارے ؟وہاں گھنٹے شمار نہیں کیے جاتے ، وہاں تو اخلاص دیکھا جاتا ہے ، اگر چند لمحات بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ میں میسر آگئے تو وہ چند لمحات ہی ان شاء اللہ بیڑا پار کردیں گے ، لیکن اگر آپ نے عبادت میں کئی گھنٹے گزار دیے ،مگر سنت کے خلاف گزارے تواس کا کچھ بھی حاصل نہیں۔

عورتوں کی جماعت کا مسئلہ

ایک مسئلہ عورتوں کی جماعت کا ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں کی جماعت پسندیدہ نہیں ہے ، چاہے وہ فرض نماز کی جماعت ہو ، یا سنت کی ہو ، یا نفل کی ہو ، اس لیے کہ اللہ تعالی نے عورتوں کو یہ حکم فرمادیا کہ اگر تمہیں عبادت کرنی ہے تو تنہائی میں کرو، جماعت عورتوں کے لیے پسندیدہ نہیں ، جیساکہ میں عرض کیا کہ دین اصل میں شریعت کے اتباع کا نام ہے ، اب یہ مت کہو کہ ہمارا تواس طرح عبادت کرنے کو دل چاہتا ہے ، اس دل کے چاہنے کو چھوڑ دو ، اس لیے کہ دل تو بہت ساری چیزوں کو چاہتا ہے ، اور صرف دل چاہنے کی وجہ سے کوئی چیز دین میں داخل نہیں ہوجاتی ، جس بات کو رسول اللہ ﷺ نے پسند نہیں کیا ،اس کو محض دل چاہنے کی وجہ سے نہ کرنا چاہیے ۔

شب برات اورحلوہ

بہرحال یہ شب برات الحمد للہ فضیلت کی رات ہے، اور اس رات میں جتنی عبادت کی توفیق ہو، اتنی عبادت کرنی چاہئے، باقی جو اور فضولیات اس رات میں حلوہ وغیرہ پکانے کی شروع کرلی گئی ہیں، ان کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ شب برأت کا حلوہ سے کوئی تعلق نہیں، اصل بات یہ ہے کہ شیطان ہر جگہ اپنا حصہ لگا لیتا ہے، اس نے سوچا کہاس شب برات میں مسلمانوں کے گناہوں کی مغفرت کی جائے گی، چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اتنے انسانوں کی مغفرت فرماتے ہیں جتنے قبیلہ کلب کی بکریوں کے جسم پر بال ہیں،شیطان نے سوچا کہ اگر اتنے سارے آدمیو ں کی مغفرت ہوگئی، پھر تو میں لٹ گیا،اس لئے اس نے اپنا حصہ لگا دیا، چنانچہ اس نے لوگوں کو یہ سکھا دیا کہ شب برأت آئے تو حلوہ پکایا کرو، ویسے تو سارے سال کے کسی دن بھی حلوہ پکانا جائز اور حلال ہے، جس شخص کا جب دل چاہے، پکا کر کھالے، لیکن شب برات سے اس کا کیا تعلق؟ نہ قرآن میں اس کا ثبوت ہے، نہ حدیث میں اس کے بارے میں کوئی روایت، نہ صحابہ کے آثار، نہ بتابعین کے عمل میں اور بزرگان دین کے عمل میں کہیں اس کا کوئی تذکرہ نہیں، لیکن شیطان نے لوگوں کو حلوہ پکانے میں لگادیا، چنانچہ سب لوگ پکانے اور کھانے میں لگ گئے، اب یہ حال ہے کہ عبادت کا اتنا اہتمام نہیں، جتنا اہتمام حلوہ پکانے کا ہے۔

پندرہ شعبان کا روزہ

ایک مسئلہ شب برأت کے بعد والے دین یعنی پندرہ شعبان کے روزے کا ہے، اس کو بھی سمجھ لینا چاہئے، وہ یہ کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برات کے بعد والے دن روزہ رکھو، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، لہٰذا اس روایت کی وجہ سے خاص اس پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماء کے نزدیک درست نہیں، البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضلیت ثابت ہے، یعنی یکم شعبان سے ستائیس شعبان تک روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے، لیکن ۲۸، اور ۲۹، شعبان کو حضور ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو، تاکہ رمضان کے روزوں کے لئے انسان نشاط کے ساتھ تیاررہے، لیکن یکم شعبان سے ۲۷ شعبان تک ہر ردن روزہ رکھنے میں فضیلت ہے، دوسرے یہ کہ پندرہ تاریخ ایام بیض میں سے بھی ہے، اور حضور اقدسﷺ اکثر ہر ماہ کے ایام بیض میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے، یعنی ۱۳،۱۴،۱۵، تاریخ کو، لہٰذا اگر کوئی شخص ان دو وجہ سے ۱۵ تاریخ کا روزہ رکھے، ایک اس وجہ سے کہ یہ شعبان کا دن ہے، دوسرے اس وجہ سے کہ یہ ۱۵ تاریخ ایام بیض میں داخل ہے، اگر اس نیت سے روزہ رکھ لے تو ان شاء اللہ موجب اجر ہوگا،لیکن خاص پندرہ تاریخ کی خصوصیت کے لحاظ سے اس روزے کو سنت قرار دینا بعض علماء کے نزدیک درست نہیں، اسی وجہ سے اکثر فقہاء کرام نے جہاں مستحب روزون کا ذکر کیا ہے وہاں محرم کی دس تاریخ کے روزے کا ذکر کیا ہے، یوم عرفہ کے روزے کا ذکر کیا ہے، لیکن پندرہ شعبان کے روزے کا علیٰحدہ سے ذکر نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ شعبان کی کسی بھی دن میں روزہ رکھنا افضل ہے، بہر حال اگر نقطہ نظر سے کوئی شخص روزہ رکھ لے تو انشاء اللہ اس پر ثواب ہوگا، باقی کسی دن کی کوئی خصوصیت نہیں، جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ ہر معاملے کو اس کی حد کے اندر رکھنا ضروری ہے، ہر چیز کو اس کے درجہ کے مطابق رکھنا ضروری ہے، دین اصل میں حدود کی حفاظت ہی کا نام ہے، اپنی طرف سے عقل لڑا کر آگے پیچھے کرنے کا نام دین نہیں، لہذااگر ان حدود کی رعایت کرتے ہوئے کوئی شخص روزہ رکھے تو بہت اچھی بات ہے، ان شاء اللہ اس پر اجرو ثواب ملے گا، لیکن اس روزے کو باقاعدہ سنت قرار دینے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

رمضان کے لیے پاک صاف ہوجاؤ!

بہرحال حقیقت یہ ہے کہ اس رات کی فضیلت کو بے اصل کہنا غلط ہے ، اور مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالی نے یہ شب برات رمضان المبارک سے دو ہفتے پہلے رکھی ہے ، یہ درحقیقت رمضان المبارک کااستقبال ہے ، رمضان کی ریہرسل ہورہی ہے ، رمضان کی تیاری کرائی جارہی ہےکہ تیار ہوجاؤ، اب وہ مقدس مہینہ آنے والا ہے ، جس میں ہماری رحمتوں کی بارش برسنے والی ہے ، جس میں ہم مغفرت کے دروازے کھولنے والے ہیں ،اس کے لیے ذرا تیار ہوجاؤ، دیکھیے جب آدمی کسی بڑے دربار میں جاتا ہے تو جانے سے پہلے اپنے آپ کو پاک صاف کرتا ہے ، نہاتا دھوتا ہے ، کپڑے وغیرہ بدلتا ہے ، لہذا جب اللہ تعالی کا عظیم دربار رمضان کی صورت میں کھلنے والا ہے تواس دربار میں حاضری سے پہلے ایک رات دے دی ، اوریہ فرمایا کہ آؤ ، ہم تمہیں اس رات کے اندر نہلا دھلا کر پاک صاف کردیں ، گناہوں سے پاک صاف کردیں ، تاکہ ہمارے ساتھ تمہار ا تعلق صحیح معنی میں قائم ہوجائے ، اور جب یہ تعلق قائم ہوگا اور تمہارے گناہ دھلیں گے تواس کے بعد تم رمضان المبارک کی رحمتوں سے صحیح معنی میں فیض یاب ہوجاؤگے ،اس غرض کے لیے اللہ تعالی نے ہمیں یہ رات عطا فرمائی ، اس کی قدر پہچاننی چاہیے ، اللہ تعالی ہمیں اس مبارک رات کی قدر کرنے اوراس رات میں عبادت کی توفیق عطا فرمائے ، آمین۔

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

1,658 Views
Posted in Featured, Urdu, سنت و حدیث

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!