Menu Close

محمد حسن عسکریؒ اور ان کی کتاب جدیدیت از مفتی محمد تقی عثمانی

prof muhammad hasan askari aur un ki kitab jadediyat mufti muhammad taqi usmani پروفیسر محمد حسن عسکری اور ان کی کتاب جدیدیت مفتی محمد تقی عثمانی

وضاحت: اُردودُنیا اوربرصغیر کے مشہور ادیب ونقاد پروفیسر محمد حسن عسکری مرحوم کی وفات پر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ان کی شخصیت وخدمات پرتفصیلی مضمون لکھا ،اسی طرح حسن عسکری صاحب کی آخری تصنیف ’’جدیدیت‘‘ پربھی مفتی صاحب نے مختصر تبصرہ تحریر فرمایا تھا ،یہ دونوں مضامین ماہنامہ ’’البلاغ ‘‘میں چھپ چکے ہیں ، قارئین کی دل چسپی کے لیے یہاں وہ دونوں مضامین شائع کیے جارہے ہیں۔

آہ! پروفیسر حسن عسکری مرحوم

۷ صفر ۱۳۹۸ ھ کی صبح اچانک یہ جانکاہ خبر بجلی بن کر گری کہ میرے محسن، کرم فرما اور بزرگ دوست پروفیسر محمد حسن عسکری اچانک اس سفر پر روانہ ہوگئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ ’’بزرگ دوست‘‘ کی ترکیب شاید اجنبی اور ناموس ہو۔ لیکن میرے ساتھ مرحوم کے تعلقات کی جو نوعیت تھی اس کے اظہار کے لئے مجھے بہت سوچنے کے بعد بھی کوئی اور لفظ نہیں ملا، وہ اپنی عمر، معلوما ت، تجربے، کہنہ مشقی اور مجھ پر احسانات کی بناء پر میرے بزرگ تھے، لیکن اپنی محبت، بے تکلفی، سادگی اور میرے ساتھ مجموعی طرز عمل کے لحاظ سے میرے بہترین دوست بھی تھے۔

ان کے اچانک انتقال کی خبر ایسی غیر متوقع اور ناگہانی تھی کہ انہیں خود کندھا دینے، ان کی نماز جنازہ پڑھانے اور انہیں اپنے سامنے قبرمیں اتارنے کے باوجود ا س کی تصدیق کرنے کو جی نہیں چاہتا، بمشکل پچاس پچپن سال کے درمیان ہوں گے اور ان کے ساتھ میرے گیارہ سالہ تعلق میں کبھی یہ وہم و گمان بھی نہیں ہوا کہ وہ اتنی جلدی ہم سے بچھڑجائیں گے، لیکن موت ایسی چیز ہے کہ جس نے اندازوں اور تخمینوں کو ہمیشہ شکست دی ہے، پھر بھی انسان اپنی زندگی میں موت کو وہم اور تخمینوں کو یقین سمجھتا آیا ہے۔ اپنے پیاروں کو اپنے ہاتھ سے مٹی دینے کے بعد بھی اس کا نفس یہی فریب دیتا رہتاہے کہ ’’ابھی تو میں جوان ہوں۔‘‘

بہرکیف! عسکری صاحب اچانک ہم سے جدا ہوگئے،ان کی موت نے نہ جانے کتنے بڑے بڑے منصوبے، کتنی بڑی بڑی امیدیں اور کتنی خوشگوار آرزوئیں پل بھر میں جلا کر راکھ کردی ہیں اور آج جب کہ راکھ کے اس ڈھیر میں سے ان کے ساتھ گذرے ہوئے لمحات کی یادیں جمع کرنا چاہتا ہوں تو حیرت و حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

عسکری صاحب مرحوم کے ساتھ میرے تعلق کی کہانی بھی عجیب ہے۔ بظاہر ہم دونوں کی دنیا ایک دوسرے سے بالکل الگ تھی۔ وہ اصلاً افسانوی ادب و شعر و تنقید کے آدمی تھے، اور میں شروع سے دین کا خشک طالب علم، وہ اپنی ادبی تحریروں کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور اور میں بالکل گمنام، وہ شعر و ادب سے لے کر فلسفہ و سیاست تک ہر کوچے کی خاک چھانے ہوئے اور میں سدا سے بسم اللہ کے گنبد میں گوشہ نشین۔ اس لئے بظاہر دونوں میں کسی دیرپا تعلق کا سوال نہ تھا۔ کبھی کبھی ادبی پرچوں میں ان کے مضامین ضرور نظر سے گذرتے تھے، لیکن کبھی وہم بھی نہ آیا تھا کہ ان سے کوئی قرابت قائم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ آج سے گیارہ سال پہلے جب وہ اچانک میرے مکان پر تشریف لائے اور اپنا نام ’’محمد حسن عسکری‘‘ بتایا تو ایک لمحے کے لئے توذہن اس ’’محمد حسن عسکری‘‘ کی طرف گیا جس کی تنقیدی شہ پاروں سے ادبی دنیا گونج رہی تھی، لیکن دوسرے ہی لمحے ذہن نے اس خیال کی تردید کردی، دل نے کہا کہ میں کہاں اور وہ کہاں؟ یقینا یہ کوئی دوسرے صاحب ہوں گے او رجو سراپا مجھے نظر آیا وہ اس مشہور فسانہ نگار اور نقاد کے تصور سے کوئی مطابقت نہ رکھتا تھا۔ سادہ سی شیروانی اور پاجامہ، سر پر ململ کی وہ دو پلی ٹوپی اَدا اَدا میں سکونت اور تواضع۔ آکر بیٹھے بھی تو آدھے گھنٹے کی نشست میں دوچار ضروری باتوں کے سوا کچھ نہ بولے۔ اس کم سخن، مرنجان و مرنج اور مسکین شخصیت میں مجھے ڈھونڈے سے بھی وہ گونجتا گرجتا نقاد نظر نہ آسکا جس کے تیکھے مضامین اور چومکھے فقروں سے جدید مغربی ادیب کا کلیجہ چھلنی ہے۔

وہ میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کسی دینی مسئلے میں معلومات حاصل کرنے آئے تھے اور جب انہیں پتہ چلا کہ میں عیسائیت پر کوئی کتاب لکھ رہا ہوں تو ازراہ عنایت میرے پاس بھی تشریف لے آئے، اور اپنے محبوب فرانسیسی مصنف ’’رینے گینوں‘‘ کی ایک انگریزی کتاب مجھے دے کر چلے گئے۔ اس پہلی ملاقات میں مجھے آخر تک اندازہ نہ ہوسکا کہ یہ وہی ’’محمد حسن عسکری‘‘ ہیں جو اپنی افسانوں اور تنقیدوں کے لئے مشہور ہیں۔

لیکن اس کے بعد جب ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوا اور اجنبیت کے حجاب اٹھے تب یہ راز کھلا یہ کہ معروف افسانہ نگار شعر و ادب، تنقید، مصوری او رموسیقی کی سیاحی کے بعد بالآخر دین و مذہب اور تصوف کی آغوش میں آسودہ ہوگیا ہے۔

عسکری صاحب کو شروع ہی سے مطالعے کا شوق تھا، اسی وجہ سے انہوں نے شادی بھی نہیں کی اور یہی شوق انہیں کشاں کشاں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف اور ان کے مواعظ و ملفوظات تک لے گیا، یہاں پہنچ کر انہیں محسوس ہوا کہ جس علم و حکمت کی تلاش میں انہوں نے اردو، ہندی، انگریزی اور فرانسیسی ادب اور فلسفے کی خاک چھانی ہے وہ تھانہ بھون کے ایک درویش مصنف ؒ کی بظاہر بے آب و رنگ تصانیف میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد ایک ہزار تک پہنچتی ہے، عسکری صاحب نے ان میں سے بیشتر کتابوں کا ذوق و شوق سے مطالعہ کیا ۔ اس دوران ان کی علمی زندگی میں بھی دینی اعتبار سے بڑا خوشگوار تغیر پیدا ہوا۔ سالہا سال سے وہ نہ صرف نماز باجماعت کے پابند بلکہ بہت سے اذکار و اَوراد کے بھی عادی تھے۔ تصوف ان کے مطالعے اور دلچسپی کا خاص موضوع تھا اور حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے خصوصی عقیدت کی بناء پر وہ ان سے تعلق رکھنے والے علماء کے پاس آنے جانے لگے اور میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اتوار کی مجلس میں اکثر و بیشتر پہنچ جاتے تھے۔

جوں جوں عسکری صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا دل میں ان کی محبت و عظمت بڑھتی گئی، وہ صرف اپنے وسیع مطالعے اور وافر معلومات کی بناء پر ہی قابل قدر نہ تھے، بلکہ اپنی خوش خلقی، تواضع،ایثاراور سادگی میں اپنی مثال آپ تھے۔ شرافت و متانت کے ایسے پیکر میں نے زندگی میں کم دیکھے ہیں۔ سالہا سال اس طرح گذرے کہ میں اکثر جمعہ کو ان کے یہاں چلا جاتا اور وہ تقریباً ہر اتوار کو دارالعلوم آجاتے ا ور بسا اوقات سارا سارا دن میرے پاس رہتے تھے۔ اس پورے عرصے میں، میں نے ان کے اندر ایک تڑپ موجزن پائی، اور وہ یہ کہ ہمارے زمانے میں جو لوگ مغربی افکار کی چمک دمک سے مرعوب ہیں، کسی طرح انہیں قدیم عربی، فارسی اور اردو کتابوں میں چھپے ہوئے لعل و جواہر سے آشنا کیا جاسکے، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ بہت سی وہ بحثیں اور وہ الجھے ہوئے مسائل جو مغربی مفکرین کی ہزار کوششوں کے باوجود الجھتے ہی جارہے ہیں، انہیں ان’’دقیانوسی‘‘ کتابوں نے کس خوبصورتی سے حل کردیا ہے؟

اپنے آخری دنوں میں وہ عربی اور فارسی کے علم بلاغت کے مطالعے میں مصروف تھے اور میرے ساتھ ہر نشست میں وہ بلاغت کے کسی مسئلے پر تبادلہ خیال کرتے تھے، مجھ سے اس موضوع پر کئی پرانی کتابیں لے کر پڑھیں اور آخری نشست میں شیخ محمد علی تھانوی ؒ کی عربی کتاب ’’کشاف اصطلاحات الفنون‘‘ سے ’’افعال ناقصہ‘‘ کی ایک بحث کا خلاصہ میری زبانی سنا تو اس کے ایک ایک لفظ پر وجد کرتے رہے کہ اس بحث نے ایک ایسے مسئلے کوبالکل صاف کردیا ہے جو آج کل مغربی علم لغت کے ماہرین میں طویل مباحث کا محور بنا ہواہے۔

میرے نزدیک عسکری مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مضامین کے ذریعے مغربی کی مرعوبیت بلکہ ذہنی غلامی کے بتوں کو پاش پاش کیا ہے، وہ اپنے وسیع و عمیق مطالعے کے ذریعے اس راز کو پاچکے تھے کہ مغرب کی سب سے بنیادی گمراہی مابعد الطبیعت سے اعراض ہے، اور یہ گمراہی صرف فلسفے اور اخلاق وغیرہ تک محدودنہیں رہی، بلکہ اس نے مغرب کی ایک ایک حرکت و نقل کو متاثر کیا ہے، یہاں تک کہ وہ ادب، شاعری اور تنقید میں بھی ایسے غیر محسوس انداز سے رچ بس گئی ہے کہ سرسری نظر میں اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ چنانچہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کی ابتداء میں جن مسلمانوں نے مغربی ادب کا مطالعہ کیا انہوں نے اس کی بہت سی باتیں معصوم اور بے ضرر سمجھ کر اپنالیں، حالانکہ ان کا رشتہ درحقیقت مغرب کی اسی بنیادی گمراہی سے جڑا ہوا تھا۔ اس ضمن میں عسکری صاحب نے سرسید، حالی اور شبلی مرحوم پر جو تنقیدیں کی ہیں وہ ان کی باریک بینی اور سوچ کی گہرائی کی دلیل ہیں۔میری ادارت میں نکلنے والے ماہنامے ’’البلاغ‘‘ میں انہوں نے بڑے گرانقدر مضامین لکھے ہیں، ان میں سب سے پہلے مضمون کا عنوان تھا ’’اردو کی ادبی روایت کیا ہے؟‘‘ اس مضمون کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ شعر و ادب اور تنقید میں بھی ہم نے شعوری یا غیرشعوری طور پر مغرب کی تقلید کرکے اپنا رشتہ اپنے اس عظیم سرمائے سے کاٹ لیا ہے جو نہ صرف مغرب کی فکری اڑان سے بالاتر تھا، بلکہ آج مغرب کے مفکرین جن مسائل کے گرداب میں سرگرداں ہیں ان سے نجات کا واحد راستہ بھی وہیں سے نکل سکتا ہے۔ عسکری صاحب کا یہ مضمون ادبی حلقوں میں عرصے تک موضوع گفتگو بنا رہا، اس پر کچھ لے دے بھی ہوئی، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے ادب اور تنقید کے شائقین کے سامنے فکر و نظر کی نئی راہیں کھولی ہیں۔

عسکری صاحب چونکہ مختلف افکار، فلسفوں اور نظام ہائے حیات کے مشاہدہ نما مطالعے کے بعد پوری بصیرت کے ساتھ دین کی طرف آئے تھے۔ اس لئے ان کی دینی فکر میں دور دور تک معذرت خواہی کی کوئی پرچھائیں نہیں تھی، انہوں نے دینی فکر کو پورے اعتماد و یقین کے ساتھ اپنایا تھا، اس لئے انہیں وہ مکتب فکر کبھی ایک آنکھ نہیں بھایا جو مغربی افکار سے مرعوب ہوکر دین میں کتر بیونت کے درپے ہے۔ چنانچہ وہ دین میں تحریف کی کوششوں کو سیکولر ازم سے زیادہ خطرناک سمجھتے تھے۔

ان کی بیشتر زندگی انگریزی ادب پڑھانے میں گزری، اور وہ اردو کی طرح انگریزی کے بھی صاحب طرز ادیب تھے، اس لئے میں نے بارہا ان سے فرمائش کی کہ وہ بعض دینی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کریں ،شروع میں یہ کہہ کر عذر کرتے رہے کہ دین کا معاملہ نازک ہے، لیکن پھرانہوں نے خود ہی سب سے پہلے میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مقالے ’’اسلام کا نظام تقسیم دولت‘‘ کا انگریزی ترجمہ کیا جو جناب پروفیسر کرار حسین کی نظرثانی کے بعد Distribution of Wealth in Islam کے نام سے چھپا، اور اب تک بلامبالغہ لاکھوں کی تعدادمیں شائع ہوچکا ہے۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ؒ کی کتاب ’’الانتباہات المفیدہ‘‘ میری طرح عسکری صاحب کو بھی پسند تھی، کیونکہ اس میں مغرب کی اہم گمراہیوں اور مغربی طرز استدلال کی بنیادی خامیوں کو بڑے مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ میری فرمائش پر عسکری صاحب نے اس کتاب کا بھی بڑا دلکش ترجمہ کیا۔ اصل کتاب چونکہ بہت مختصر اور اصطلاحات سے پُر تھی، اس لئے یہ بڑا مشکل کام تھا، لیکن عسکری صاحب نے اس کے ترجمے میں غیر معمولی فضل و کمال کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ کتاب بھی جناب پروفیسر کرار حسین صاحب کی نظر ثانی کے بعد Answer to Modernism کے نام سے شائع ہوچکی ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ یہ انگریزی ترجمہ مجھے اصل سے زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے۔

میری فرمائش پر عسکری صاحب نے اردو میں بھی ایک کتاب لکھی تھی جس میں ارسطو اور افلاطون سے لے کر جدید مغربی فلاسفہ تک تمام مشہور مفکرین کے بنیادی فلسفوں کو بڑے اختصار اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا تھا، اور مغرب کی فکری گمراہیوں کی ایک جامع فہرست بڑی دیدہ ریزی سے مرتب کی تھی۔ انہوں نے بارہا یہ کتاب شائع کرانی چاہی، مگر وہ نظر ثانی کے ارادے سے ٹلتی رہی۔ ابھی چند ماہ پہلے انہوں نے اس کی اشاعت پر رضامندی ظاہر کردی تھی لیکن ابھی چھپ نہیں سکی تھی کہ وہ رخصت ہوگئے۔ یہ کتاب ان کے مسودات میں محفوظ ہوگی۔

پھر اللہ تعالیٰ کو عسکری صاحب سے ایک اور عظیم الشان کام لینا تھا جو ان کی زندگی کے تمام دوسرے کاموں پربھاری تھا۔ میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اردو تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ آٹھ جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، اور غالباً عصر حاضر کی اردو تفاسیر میں سب سے زیادہ مفصل اور جامع تفسیر ہے۔ میں نے عسکری صاحب سے فرمائش کی کہ وہ اس کا انگریزی ترجمہ شروع کردیں۔ ابتداء میں وہ عذر کرتے رہے، لیکن چونکہ وہ خود اس کی ضرورت محسوس کرتے تھے کہ انگریزی میں کوئی مستند اور مفصل تفسیر منظر عام پر آئے۔ اس لئے بالآخر اس شرط پر راضی ہوگئے کہ میں بھی مشورے میں برابر شریک رہوں۔ چنانچہ تقریباً تین سال پہلے انہوں نے ایک عظیم الشان کام کا بیڑا اٹھالیا۔

وہ ہفتہ بھر تفسیر کا ترجمہ کرتے، جمعہ کے دن مغرب کے بعد میں اور عبدالوحید قریشی صاحب ان کے پاس پہنچ جاتے۔ رات گئے تک ہماری نشست رہتی جس میں وہ اپنا لکھا ہوا مسودہ ہمیں سناتے، مشورہ طلب امور میں مشورہ کرتے، اور مسودہ میرے حوالے کردیتے، ان کا معمول یہ تھا کہ قرآن کریم کی آیات کا ترجمہ میری موجودگی ہی میں کرتے تھے اور اس غرض کے لئے وہ اتنی محنت اٹھاتے تھے کہ جتنے انگریزی اور فرانسیسی تراجم ان کے پاس موجود تھے۔ ان سب میں سے متعلقہ آیات کا ترجمہ وہ ترتیب وار ایک کاپی میں لکھ لیتے تھے، تاکہ سارے تراجم ایک نظر میں سامنے آجائیں، اس کے بعد باہمی مشورے سے الفاظ اور ترکیبوں کا انتخاب کرکے آیات کا طے شدہ ترجمہ لکھ لیتے تھے۔ عسکری صاحب بھی کہا کرتے تھے اور خود میرا تجربہ بھی یہی تھا کہ تصنیف و تحریر کا کوئی کام قرآن کریم کے ترجمے سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔

عسکری صاحب کے ساتھ یہ ہفتہ وار نشست جو تین سال سے تقریباً بلاناغہ جاری تھی، اس قدر دلچسپ مفید اور معلومات آفریں ہوتی تھی کہ پہلے سے اس کا انتظار لگا رہتا تھا اور میں بھی اس کا اس قدر اہتمام کرتا تھا کہ بعض اوقات سفر سے کراچی پہنچ کر اپنے مکان کے بجائے سیدھا عسکری صاحب کے یہاں پہنچ جایا کرتا تھا۔ لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ یہ پرکیف مجلس اس قدر جلد اجڑ جائے گی۔ ابھی قرآن کریم کا سوا پارہ،تفسیر کی پہلی جلد کا دو تہائی حصہ، اور انگریزی مسودے کے تقریباً پانچ سو صفحات ہوپائے تھے کہ عسکری صاحب رخصت ہوگئے:

فصل گل سیر نہ دیدیم و بہار آخرشد

عسکری صاحب نے تفسیر کا یہ کام اس قدر اخلاص کے ساتھ شروع کیا کہ اس پر کوئی ادنیٰ معاوضہ لینے کا تو میرے اصرار کے باوجود ان کے یہاں کوئی سوال نہ تھا، انہوں نے اصل اردو تفسیر بھی دام دے کر خریدی تھی، اور اس کوبھی میری ناگواری کے باوجود ہدیتہ لینا گوارا نہیں کیا، ان کا کہنا یہ تھا کہ میں آپ سے کوئی اور کتاب تحفہ میں لے سکتا ہوں، لیکن تفسیر تحفہ میں لوں گا تو مجھے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

عسکری صاحب سگریٹ نوشی کے جیسے عادی تھے اسے ان کے سب ملنے والے جانتے ہیں، لیکن تفسیر کے کام کے دوران وہ کبھی سگریٹ نہیں پیتے تھے، حالانکہ ہماری یہ نشست بعض اوقات کئی کئی گھنٹے دراز ہوجاتی تھی۔ ’’معارف القرآن‘‘ کا ترجمہ شروع کرتے وقت انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ حضرت مفتی صاحب ؒ نے اس کے شروع میں لکھا ہے کہ ’’قرآن کریم ختم کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایسی چیز ہے جس میں عمر ختم کردی جائے‘‘ میں بھی یہ کام اسی نیت سے شروع کررہا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے یہ نیت ایسی قبول فرمائی کہ وہ یہی کام کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، اور سوا پارے کا ترجمہ کرکے پوری تفسیر کا ثواب سمیٹ لے گئے اور آج معارف القرآن کے مصنف حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ کے بالکل قریب آرام فرما ہیں، اور یہ بھی قدرت کا کرشمہ ہے کہ ’’حرا مجادی‘‘ جیسے افسانوں کا مصنف بالآخر قرآن کریم اور اس کی تفسیر کا مترجم بن کر رخصت ہوا اور ایک دینی مدرسے کی فضا میں پاکستان کے مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور عظیم مفسر کے پہلو میں محو آرام ہے۔ میں جب ان کی قبر پر جاتا ہوں تو وہ زبان حال سے یہ کہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کہ:

بافلک گویم کہ آرامم نگر
دیدئہ آغازم، انجامم نگر

ماخوذ از:نقوش رفتگاں ، مفتی محمد تقی عثمانی، ص ۱۱۹ تا ۱۲۵،بحوالہ ماہنامہ البلاغ ، جلد ۱۲، شمارہ ۴۔

پروفیسر محمد حسن عسکری مرحوم کی کتاب ’’جدیدیت‘‘

جناب محمد حسن عسکری صاحب مرحوم ادبی دنیا میں تو معروف تھے ہی ، قارئین ’’البلاغ‘‘ بھی ان سے اچھی طرح واقف ہوں گے ، کیونکہ موصوف کے بہت سے مضامین ’’البلاغ‘‘ کی زینت بنتے رہے ہیں ، اور’’معارف القرآن‘‘ کے انگریزی ترجمے کے سلسلے میں مرحوم کی خدمات کا ذکر بھی ’’البلاغ‘‘ میں آتا رہا ہے ۔

زیر نظر کتاب[جدیدیت] آج سے تقریبا گیارہ سال پہلے عسکری صاحب مرحوم نے احقر کی فرمائش پر مرتب کی تھی ، مرحوم کا موضوع اگرچہ ادب و تنقید تھا ، لیکن مغربی فلسفے پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی ، اور فرانس کے ایک مسلمان فلسفی ’’رینے گینوں ‘‘ (جن کا اسلامی نام شیخ عبدالواحد یحییٰ تھا ) نے مغربی فلسفے پر جو تنقیدیں کی ہیں ، عسکری صاحب مرحوم نے ان کا نہ صرف بہ نظر غائر مطالعہ کیا تھا ، بلکہ وہ ان کے بے حد مداح بھی تھے ، احقر کو فرانسیسی زبان سے ناواقفیت کے سبب رینے گینوں کی کتب کے مطالعے کا تو موقع نہ مل سکا ، لیکن عسکری صاحب مرحوم جب ان کی باتیں کبھی سناتے تو ان سے بڑی سلیم ، متصلّب اور بے آمیز دینی فکر جھلکتی نظر آتی تھی ، اور یہ محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے مغربی فکر کی دکھتی ہوئی رگوں پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔

اس لیے احقر نے عسکری صاحب مرحوم سے فرمائش کی تھی کہ وہ جدید مغربی افکار اور مختلف فلسفوں کا خلاصہ عام فہم انداز میں مرتب فرماکر رینے گینوں کے افکار کی روشنی میں ان کی بنیادی گمراہیوں کی نشاندہی فرمادیں ، میرا مقصد یہ تھا کہ یہ کتاب دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ کے لیے کار آمد ہوگی اور اس کی مدد سے وہ جدید مغربی افکار اور ان کی گمراہیوں کو بہتر طریقے پر سمجھ سکیں گے ، زیر نظر کتاب اسی فرمائش کی تعمیل ہے ۔

کتاب کے دو حصے ہیں ، پہلے حصے میں فاضل مصنف نے یورپ کی فکری تاریخ اس جامعیت ، اختصار اور انضباط کے ساتھ بیان فرمائی ہے کہ اسے ’’دریا بکوزہ‘‘ کہنا چاہیے ، پہلے ابواب میں انہوں نے یونانی اور رومی ادوار اور ازمنۂ وسطی کے فکری رجحانات کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیاہے ، پھر ’’نشأۃ ثانیہ‘‘ کے بعد سے یورپ میں جتنے فکری انقلابات آئے ہیں اور جتنے فلسفوں نے مقبولیت حاصل کی ہے ، ان کو انتہائی دل نشین ترتیب سے بیان کیا ہے ، انداز بیان ایسا ہے کہ مختصر الفاظ میں ان فلسفوں کی بنیادی خصوصیات بھی واضح ہوجاتی ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی گمراہیوں کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں ۔

دوسرے حصے میں ان فکری گمراہیوں کی فہرست ہے جو ان مغربی افکار کے زیر اثر جدید تعلیم یافتہ طبقے میں عام ہوچکی ہیں ، اور جن کی وجہ سے دین کی صحیح فہم سے روز افزوں بعد ہوتا جا رہا ہے ۔

فاضل مؤلف نے اس مختصر کتاب کی ترتیب میں بڑی محنت اٹھائی ہے اور یہ نہ جانے کتنی ضخیم اور مفصل کتابوں کے مطالعے کا نچوڑ ہے ۔

یوں تو یہ کتاب ہر اس شخص کو پڑھنی چاہیے جس کے ذہن پر مغربی افکار اور فلسفوں کا رعب مسلط ہو ، لیکن خاص طور پر دینی مدارس کے علماء وطلباء کے لیے یہ کتاب نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ اس کے ذریعے جدید مغربی ذہن کا صحیح مطالعہ کر سکتے ہیں ، اور جو فائدہ بہت سی کتابیں پڑھنے کے بعد بھی حاصل ہونا مشکل تھا ، وہ اس چھوٹی سی کتاب کے مطالعے سے بآسانی حاصل ہوسکتا ہے ، چنانچہ اس کتاب کی اشاعت سے قبل جب اس کا مسودہ ایک مدت تک احقر کے پاس رہا تو احقر نے دارالعلوم میں اس کے مضامین تقریروں کی شکل میں پڑھائے اور اس کا فائدہ محسوس کیا، ہم دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ سے اس کے مطالعے کی پر زور سفارش کرتے ہیں ۔

ماخوذ از:تبصرے ، مفتی محمد تقی عثمانی ، ص۱۹۹ تا۲۰۱، بحوالہ ماہنامہ البلاغ ،محرم الحرام ۱۴۰۱ء۔

273 Views
Posted in Urdu, تذکرہ و سوانح

Related Posts

Leave a Reply

error: Content is protected !!