وحدت ادیان اور قرآن ، از حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ

کیا نجات کے لیے قرآن اور حضور ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں؟

﴿إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَالَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالنَّصَارَی وَالصَّابِئِیْنَ مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُون﴾․ (البقرہ، آیت:62)

ترجمہ:” بے شک جو لوگ مسلمان ہوئے اورجو لوگ یہودی ہوئے او رنصاری اور صائبین ، جو ایمان لایا (ان میں سے ) الله پر اور روز قیامت پر او رکام کیے نیک… تو ہے ان کے لیے ان کا ثواب، ان کے رب کے پاس اور نہیں ان پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“

ربط: گزشتہ آیات میں یہودیوں کی جن شرارتوں اور نافرمانیوں کا تذکرہ تھا اسے پڑھ کر کسی یہودی کو یہ خلجان ہو سکتا تھا کہ ہماری نالائقیوں کی طویل فہرست ندامت کے آنسو سے بھی نہیں دھل سکتی ، اب اگر ایمان بھی قبول کر لیا جائے تو شاید بارگاہ الہٰی میں قبول نہ ہو ، اس آیت میں الله تعالیٰ اپنی شان رحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مایوسانہ کیفیت کو دور فرما رہے ہیں۔

تفسیر: اس آیت میں الله تعالیٰ نے چارگروہوں کا تذکرہ فرماکر انہیں نجات او رکام یابی کے ایسے معیار سے آگاہ فرما دیا ہے جس پر پورا اتر کر ہر گروہ رضائے الہی کا پروانہ حاصل کر سکتا ہے۔

۱-پہلے گروہ کا بیان’’ان الذین اٰمنوا‘‘ سے ہو رہا ہے، اس سے منافقین مراد ہیں، جو زبان سے ایمان کا اقرار کرتے ہیں، لیکن درحقیقت کافرانہ اعتقاد پر قائم ہیں۔

(عن سفیان الثوری: أنہم المؤمنون بألسنتھم، وھم المنافقون، بدلیل انتظامہم فی سلک الکفرة، والتعبیرعنہم بذلک دون عنوان النفاق للتصریح بأن تلک المرتبة وإن عبر عنہا بالإیمان لا تجدیہم نفعاً، ولا تنقذھم من ورطة الکفر قطعاً) (روح المعانی، البقرة، تحت آیة رقم:62)

۲-دوسرے گروہ کا بیان ’’والذین ہادوا‘‘ (اور جو لوگ یہودی ہوئے) سے ہو رہا ہے۔ اس سے یہودی مراد ہیں۔

۳-تیسرے گروہ کا بیان’’والنصاری‘‘ سے ہو رہا ہے، نصاری جمع ہے نصرانی کی۔ نصرانی حضرت عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں کا نام ہے، جس بستی میں آپ کی رہائش تھی، اس کا نام ناصرہ تھا ، اسی نسبت سے آپ کے پیروکاروں کو نصرانی کہا جاتا ہے ۔ ( احکام القرآن للقرطبی، البقرة تحت آیة رقم:62)

۴-چوتھے گروہ کا بیان’’والصابئون‘‘ سے ہو رہا ہے، صابی لغت میں اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنا دین چھوڑ کر دوسرے دین کی طرف چلا جائے یا اس کی طرف مائل ہو جائے۔ ( مفردات القرآن للراغب: ص، ب، ی:ص:475)

صابی: اصطلاح میں ایک مذہبی فرقے کا نام ہے، اس فرقے کے لوگ توحید اور عقیدہٴ رسالت کے قائل تھے ۔ حضرت عمر فاروق اور عبدالله بن عباس رضی الله عنہم نے صابیوں کو اہل کتاب میں شمار کیا ہے۔ (معالم التنزیل، البقرة، تحت آیة رقم:62)

اب یہ نجوم پرستی میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ ستاروں کو مقدس جاننا، نجم قطب شمالی کی طرف متوجہ ہونا، تین نمازیں پڑھنا او رمختلف روزے رکھنا، بہتے پانی میں نہانا اس مذہب کی اہم علامات ہیں ،یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ عراق میں دجلہ وفرات کی نچلی پٹیوں او رایران کے ساحلی علاقوں میں آباد ہیں، ان کا دعوی ہے کہ ہم حضرت یحییٰ علیہ السلام کے امتی ہیں۔ ( مذاہب عالم کا جامع انسائیکلو پیڈیا، ص:274)

نجات کا اصول اور معیار

آیت کریمہ میں الله تعالیٰ نے ان چارگروہوں کا تذکرہ فرماکر… نجات کا اصول او راس کا ایک معیار مقرر کر دیا ہے کہ جو شخص بھی الله تعالیٰ کی ذات وصفات پر ایمان اور اسی ضمن میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کا صدق دل سے اقرار کر لے گا او رانہوں نے روز محشر کے متعلق جو خبردی ہے اس کو حق اور سچ جان کر اعمال صالحہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے گا تو اس کی برکت سے ہم ان کی سابقہ غلطیوں اور شرارتوں کو معاف فر ما دیں گے، انہیں نہ اپنے ماضی کے اعمال پر حسرت ہو گی نہ مستقبل کے متعلق خوف ہو گا۔’’ولا خوف علیہم ولاھم یحزنون‘‘(اورنہیں ان پر کچھ خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔) فتنہ محشر کی حشر سامانیوں میں بھی ان پر اطمینان وسکون کی چادر تنی ہو گی ۔ اگرچہ اس معیار پر اترنے سے پہلے وہ منافقانہ روش پر چل چکا ہو یایہودی ونصرانی اور صابی رہ چکا ہو، ہماری رحمت کسی گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، صاحب ایمان اور صاحب اعمال صالحہ کے ساتھ مخصوص ہے، اگرچہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو۔

فلسفہ وحدت ادیان کی حقیقت

بعض لوگوں نے قرآن کریم کی اسی مذکورہ بالا آیت سے وحدت ادیان کا فلسفہ کشید کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یعنی جو شخص بھی الله تعالیٰ کی ذات وصفات پر اور آخرت پر ایمان ویقین رکھنے کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی جستجو میں لگا رہا ،وہ نجات اخروی کا مستحق ہو گا، اگرچہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ محبوب کبریا حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانا ضروری نہیں، وحدت ادیان کے علم برداروں سے اس آیت کریمہ کے سمجھنے میں بنیادی طور پر دو غلطیاں صادر ہوئیں:

۱-انہوں نے آیت کریمہ کا معنی ومفہوم سمجھنے کے لیے فقط لغت کو پیش نظر رکھ کر اس کے لغوی معنی مراد لیے، حالاں کہ یہاں ایمان بالله کے اصطلاحی معنی مراد ہیں۔

۲-.قرآنی آیت کی تفسیر سمجھنے میں کسی دوسری آیت یا حدیث رسول صلی الله علیہ وسلم سے مدد نہیں لی، حالاں کہ قرآن فہمی کے سلسلے میں یہ دونوں چیزیں مسلمہ اصول کی حیثیت رکھتی ہیں ، آیت کریمہ سے وحدت ادیان کا استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے:

1…قرآن کریم میں لفظ ، ایمان کا استعمال پورے اسلام کے عنوان کے طور پر ہوا ہے، اس کا لغوی معنی مراد نہیں، بلکہ اصطلاحی معنی مراد ہے، اصطلاح میں ایمان کہتے ہیں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرنے کے بعد، ان کی تعلیمات کی روشنی میں الله تعالیٰ کی ذات وصفات اور قیامت کے احوال وواقعات پر صدق دل سے ایمان لانااوراخروی زندگی سدھارنے کے لیے شریعت محمدی کے موافق زندگی بسر کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ آلوسی رحمہ الله تعالیٰ نے’’ من آمن بالله‘‘ کی تفسیر ”بالدخول فی ملة الاسلام“( دخول اسلام) سے فرمائی۔ ( روح المعانی، البقرہ، تحت آیہ رقم:62)

علاوہ ازیں قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے بعض ایسے مدعیان ایمان سے ”ایمان“ کی نفی فرمائی ہے جو ذات الہی اور آخرت پر صدق دل سے ایمان رکھتے تھے، لیکن آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کے منکر تھے۔ یعنی ان کا ایمان لغوی (آمنا بالله والیوم الآخر) موجود تھا، لیکن ایمان اصطلاحی نہ تھا، بنا بریں ان کے بارے میں فرمایا گیا :

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن یَقُولُ آمَنَّا بِاللّہِ وَبِالْیَوْمِ الآخِرِ وَمَا ہُم بِمُؤْمِنِیْنَ (روح المعانی، البقرة، تحت آیہ رقم:8)

ترجمہ:”اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے الله پر او ردن قیامت پر اور وہ ہر گز مؤمن نہیں۔“

( المشہور کانوا یھوداً وھم مخلصون فی اصل الإیمان بالله والیوم… أنھم قصدوا بتخصیص الإیمان بھما التعرض بعدم الإیمان بخاتم الرسل ا وما بلغہ ففي ذلک بیان لمزید خبثھم)

2…قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے واضح اعلان فرما دیا ہے کہ الله کے ہاں دین اسلام ہی مقبول ہے:

إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَم (آل عمران:19)

ترجمہ:” اور بارگاہِ الہٰی میں فقط دین اسلام کو سند قبولیت حاصل ہے۔“

﴿وَمَن یَبْتَغِ غَیْْرَ الإِسْلاَمِ دِیْناً فَلَن یُقْبَلَ مِنْہ(آل عمران:85)

ترجمہ:” او رجو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے اور کوئی دین، سو اس سے ہر گز قبول نہ ہو گا۔“

علاوہ ازیں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! میری اس امت میں سے جو شخص بھی میری بات سن لے وہ یہودی ہو یا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔ صحیح مسلم میں اس حدیث مبارکہ کے لیے عنوان ہی یہی باندھا گیا ہے،ہمارے نبی محمد صلی الله علیہ وسلم کی رسالت پر وجوب ایمان کا بیان“ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالة نبینا محمد صلی الله علیہ وسلم، رقم الحدیث:386)

اس سے پتہ چلا کہ وحدت ادیان کی گم راہی درحقیقت قرآنی آیات اورحدیث رسول صلی الله علیہ وسلم کو نظر انداز کرکے عقلی گھوڑے دوڑانے کا نتیجہ ہے۔

3…اس نظریہ کی رو سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی رسالت انسانیت کے کسی ایک طبقے کے ساتھ مخصوص ہو جائے گی، حالاں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کا ئنات کے ہر انسان کے لیے ہے:

قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللّہِ إِلَیْْکُمْ جَمِیْعاً﴾․ (الاعراف:158)

ترجمہ:” تو کہہ اے لوگو !میں رسول ہوں الله کا تم سب کی طرف‘‘

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا کَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَنَذِیْرا﴾․ (السبا:28)

ترجمہ:” اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے، خوشی اور ڈر سنانے کو۔“

4…اس نظریہ کی رو سے وہ تمام ادیان، جو الله تعالیٰ کی ذات گرامی اور روز آخرت پر یقین رکھتے ہوں،برحق ہیں ، حالاں کہ الله تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ قیامت کے دن میں ان کے مابین فیصلہ کروں گا کہ کون حق پر تھا؟ اگر سب برحق ہیں تو پھر روز محشر کے اس فیصلے کا کیا مطلب ہے؟

﴿إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَالَّذِیْنَ ہَادُوا وَالصَّابِئِیْنَ وَالنَّصَارَی وَالْمَجُوسَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُوا إِنَّ اللَّہَ یَفْصِلُ بَیْْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْد( الحج:17)

ترجمہ:”جولوگ مسلمان ہیں اور جویہود ہیں اور صابئین اور نصاریٰ اور مجوس اور جو شرک کرتے ہیں، مقرر الله فیصلہ کرے گا ان میں قیامت کے دن، الله کے سامنے ہے ہرچیز۔“

﴿وَقَالَتِ الْیَہُودُ لَیْْسَتِ النَّصَارَی عَلَیَ شَیْْء ٍ وَقَالَتِ النَّصَارَی لَیْْسَتِ الْیَہُودُ عَلَی شَیْْء ٍ وَہُمْ یَتْلُونَ الْکِتَابَ کَذَلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِہِمْ فَاللّہُ یَحْکُمُ بَیْْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیْمَا کَانُواْ فِیْہِ یَخْتَلِفُون (البقرة:113)

ترجمہ:” اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاری نہیں کسی راہ پر اور نصاری کہتے ہیں کہ یہود نہیں کسی راہ پر، باوجود یہ کہ وہ سب پڑھتے ہیں کتاب، اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو جاہل ہیں، ان ہی کی سی بات، اب الله حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن، جس بات میں جھگڑتے تھے۔“

﴿لِکُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَکاً ہُمْ نَاسِکُوہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِیْ الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَی رَبِّکَ إِنَّکَ لَعَلَی ہُدًی مُّسْتَقِیْمٍ، وَإِن جَادَلُوکَ فَقُلِ اللَّہُ أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ،اللَّہُ یَحْکُمُ بَیْْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیْمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُون(سورہ الحج:67۔69)

ترجمہ:”ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کر دی ایک راہ بندگی کی کہ وہ اسی طرح کرتے ہیں بندگی ، سو چاہیے تجھ سے جھگڑا نہ کریں اس کام میں اور تو بلائے جا اپنے رب کی طرف، بے شک تو ہے سیدھی راہ پر، سوجھ والا اور اگر تجھ سے جھگڑنے لگیں تو تو کہہ! الله بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو، الله فیصلہ کرے گا قیامت کے دن جس چیز میں تمہاری راہ جدا جدا تھی۔“

اس نظریے کی رو سے اسلامی بنیادوں پر حکومت کا قیام، کافروں سے جزیہ کی وصول یابی ، اسلامی حدود وتعزیرات کا نفاذ ، اعلائے کلمة الله کے لیے جہادو وقتال کی تمام تر کوششیں بے معنی مقاصد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بلکہ اس فلسفے کی اٹھان اسلام کے سیاسی نظریات کے انہدام پر ہی قائم ہے، برصغیر میں برطانیہ کے استعماری دور میں یہ فلسفہ بڑے زور وشور سے پھیلایا گیا تھا، تقسیم ہند کے بعد گواس کا زور ٹوٹ گیا ،لیکن اب یہی صدا مغرب کی فضا سے ”مکالمہ بین المذاہب“ کے عنوان سے سنائی دے رہی ہے، الله تعالیٰ اس کے شر سے اہل ایمان کو محفوظ رکھے۔ ( آمین)

ماخوذ از: ماہنامہ الفاروق ، ربیع الاول 1435ھ ۔

وحدت ادیان کے موضوع پر مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکس پر کلک کیجیے:

1,366 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!