حضرت بنوری کا خواب اور تعبیر : مولانا سید سلیمان یوسف بنوری

تحریر: عبد الرحمن یوسفی

تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر حضرت بنوریؒ کا خواب اور اس کی تعبیر
مولانا سید سیلمان یوسف بنوری کا نسبی و تعلیمی تعارف

گزشتہ روز برصغیرکی عظیم دینی و علمی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے سابق مہتمم و شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کے سانحہ ارتحال سے خالی ہونے والے عہدوں پر تقرریوں کے لیے جامعہ کی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا ، مجلس شوریٰ میں اتفاق رائے سے نائب مہتمم مولانا سید سلیمان یوسف بنوری کو مہتمم ،اور مولانا سید احمدیوسف بنوری کونائب مہتمم ،جبکہ مولانا محمدانور بدخشانی کو شیخ الحدیث مقرر کر دیا گیا ،قارئین کے لیے سردست حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحب کے صاحبزادے مولانا سید سلیمان یوسف بنوری کا مختصر نسبی وعلمی تعارف پیش کیا جارہا ہے ۔

سیدآدم بنوری – مولانا سید سلیمان بنوری

جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حسینی محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے چھوٹے فرزند ہیں،آپ کا نسبی تعلق حضرت سید آدم بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے ہےجو امام ربانی، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے خلیفہ تھے،ان کی جائے پیدائش ’’بنور‘‘ تھی‘ جو ریاست پٹیالہ میں سرہند کے قریب ایک قصبہ ہے،اسی کی نسبت سے آپ کی اولاد ’’بنوری‘‘ کہلاتی ہے،چنانچہ مولانا سلیمان بنوری کاسلسلۂ نسب دسویں جدِ امجد عارف محقق حضرت سید آدم حسینی بنوری کی وساطت سے حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔

سادات حسینی – مولانا سیدسلیمان بنوری

جیساکہ ابھی ذکر ہواکہ مولانا سیدسلیمان بنوری کاسلسلۂ نسب دسویں جدِ امجد عارف محقق حضرت سید آدم حسینی بنوری کی وساطت سے حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچتاہے،گویامولانا کا نسب صرف چوبیس واسطوں سے آنحضرت ﷺتک جاپہنچتا ہے ، اور اس وقت سادات حسینی کا یہ مستند ترین شجرہ واسطوں کے اعتبار سے غالبا دنیا کے ان نایاب اورمستندشجروں میں سے ہیں کہ جس میں حضور اکرم ﷺ تک سب سے کم واسطے پائے جاتے ہیں ، حضرت مولاناسید محمد یوسف بنوریؒ نے اپنا نسب نامہ مفتی غلام سرور کی کتاب ’’خزینۃ الاصفیاء ‘‘کے ابتدائی اوراق پر اپنے قلم سے اس طرح تحریرفرمایا ہے:

احقر محمد یوسف بن محمد زکریا بن سید مزمل شاہ بن سید میر احمد شاہ بن سید میر موسیٰ بن سید غلام حبیب بن سید رحمت اللہ شاہ بن سید عبدالاحد بن حضرت سید محمد اولیاء بن سید السادات شیخ المشائخ صفوۃ الشجرۃ النبویۃ معدن علوم الاولین والآخرین، قطب الاقطاب سلطان العارفین حاجی الحرمین الشریفین مخزن اسرار الٰہی السید آدم بنوری (علیہ وعلیٰ اولادہٖ الی یوم القیامۃ من اللہ الرحمۃ والرضوان) بن سید اسمٰعیل بن سید یہوا ابن سید حاجی یوسف بن سید یعقوب بن سید حسین بن سید دولت بن سید قلیل بن سید سعدی بن سید قلندر کہ از فرزندان حضرت سید محمد کہ از اولاد سید اسمٰعیل ولد ابراہیم برادر خورد امام حضرت موسیٰ بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن سید امام جعفر صادق بن سید امام باقر بن سید امام زین العابدین بن سید شباب اہل الجنۃ قرۃ العینین لرسول الثقلین الحسین بن امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ (امہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا بنت نبی الانبیاء محمدمصطفی احمدمجتبیٰ علیہ وعلیٰ آلہ افضل الصلوٰۃ وازکی التحیات واتم السلام) انتھیٰ بلفظہ۔

حضرت بنوریؒ کی امارت میں تحریک ختم نبوت کی کامیابی

مولانا سلیمان بنوری کی پیدائش سے تقریبا دو سال قبل ان کے والد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا اوراس کی تعبیر بھی خود تحریر فرمائی ، خواب اور اس کی تعبیر سے پہلے وضاحت کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ حضرت بنوری رحمہ اللہ دیگر مناصب کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت کے امیر بھی تھے ، ۱۵ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ مطابق ۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو یہ عبقری شخصیت ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کی مسندِ امارت پر رونق افروز ہوئی،کسی جماعت کی صدارت قبول کرنا حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے مزاج و مشاغل کے قطعاً منافی تھا،لیکن مخلصین کے اصرار پر آپ کو یہ منصب قبول کرنا پڑا،حضرت بنوری قدس سرہ کادورِ امارت اگرچہ بہت ہی مختصر رہا اور اس میں بھی حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے بے شمار مشاغل اور ضعف و پیرانہ سالی کی بناء پر جماعت کے امو رپر خاطر خواہ توجہ نہیں فرماسکتے تھے،اس کے باوجود حق تعالیٰ شانہ نے آپ کی پرخلوص قیادت کی برکت سے جماعت کے کام کو،ثریٰ سے ثریا تک پہنچادیا اور ’’بنوری دور میں‘‘ جماعت نے وہ خدمات انجام دیں جن کی اس سے پہلے صرف تمنا کی جاسکتی تھی، تحریک ختم نبوت کی کامیابی پربہت سے اکابر امت نے حضرت بنوریؒ کو تہنیت اور مبارکباد کے گرامی نامے لکھے، یہاں صرف دو خطوط کا اقتباس پیش کیا جاتا ہے ۔

تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر حضرت بنوری ؒ کے نام حضرت شیخ الحدیثؒ کا پیغام

برکۃ العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ تحریر فرماتے ہیں:

’’سب سے اول تو جناب کی انتہائی کامیابی پر انتہائی مبارکباد پیش کرتا ہوں‘ مژدہ سننے کے بعد سے آپ کے لئے دل سے دعائیں نکلیں کہ ان کا اصل سہرا تو آپ ہی کے سر ہے۔ اگرچہ:

مصلحت راتہمتے برآ ہوئے چین بستہ اند

لوگ جو چاہیں لکھیں، یا جو چاہیں کہیں، میرے نزدیک تو آپ ہی کی روحانی قوت اور بدنی جانفشانی کا ثمرہ ہے‘ اللہ تعالیٰ مبارک کرے‘ آپ نے جو دعائیہ کلمات اس نابکار کے حق میں لکھے ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور آپ کی دعا کی برکت سے اس نابکار کو بھی کارآمد بنادے۔‘‘

تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر حضرت بنوری ؒ کے نام مفکراسلام مولاناعلی میاںؒ کا پیغام

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ایک خط میں حضرت بنوری ؒ کو تحریر فرماتے ہیں:

’’سب سے پہلے تو آپ کو اس عظیم کامیابی پر آپ کے اسلاف کے ایک ادنیٰ نیاز مند کی حیثیت سے مخلصانہ مبارکباد پیش کرتاہوں‘ جس کے متعلق بدیع الزمان الہمدانی کے یہ الفاظ بالکل صادق ہیں:

فتح فاق الفتوح وأمنت علیہ الملائکۃ والروح‘‘

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے اس کارنامہ سے آپ کے جد امجد حضرت سید آدم بنوری اور ان کے شیخ حضرت امام ربانی اور آپ کے استاد و مربی حضرت علامہ سید انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی روح ضرور مسرور مبتہج ہوئی اور اس کی بھی امید ہے کہ روح مبارک نبوی علیھا الف الف سلام کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی۔’’فھنیئاً لکم و طوبیٰ‘‘ اگر میری ملاقات ہوئی تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دے کر اپنے جذبات کا اظہار ضرور کروں گا۔‘‘

تحریک کے اختتام پر حضرت بنوریؒ کو خواب کے ذریعہ بشارت وانعام

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی پر صرف زمین کے باشندوں ہی کو خوشی نہیں ہوئی‘ بلکہ ملاء اعلیٰ میں جشنِ مسرت منایا گیا اور عالم ارواح میں بھی ، حضرت اقدس رحمۃ اللہ علیہ کو اس فیصلہ کے بعد عجیب و غریب مبشرات سے نوازا گیا،چنانچہ تحریک ختم نبوت کی کامیابی پرآپ کو ایک اور انعام بھی ملا، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: تحریک کے بعد غالباً رمضان مبارک میں، میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطا کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف سے یہ آیت لکھی گئی ہے:

’’انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘

میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختم نبوت کی کامیابی پر مجھے انعام دیا جارہا ہے او راس کی یہ تعبیر کی کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطا فرمائیں گے او رمیںاس کا نام ’’سلیمان ‘‘رکھوں، چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطا فرمایا اور آپ نے اس کا نام’’ سلیمان‘‘ تجویز فرمایا،حضرت بنوری رحمہ اللہ نے یہ خواب اور اس کی تعبیر اپنی ڈائری میں اپنے ہاتھ سے تحریر فرمائی اور حضرت بنوری ؒ کی وہ ڈائری آج بھی ان کے ورثاء کے پاس محفوظ ہے ۔

مولانا سید سلیمان یوسف بنوری:مختصر تعارف

مولانا سید سلیمان یوسف بنوری کی پیدائش نومبر 1976 میں ہوئی،جب حضرت بنوری رحمہ اللہ کا انتقال ہوا تو اس ان کی عمر گیارہ ماہ تھی،آٹھ سال کی عمر میں جامعہ میں شعبہ تحفیظ میں داخلہ لیا،جامعہ کے بزرگ استاد حضرت مولانا قاری حبیب الرحمن سے آپ نے حفظ قرآن کی تکمیل کی ،اور اس کے بعد درس نظامی کے تمام درجات میں تعلیم کے بعد 1998 میں جامعہ بنوری ٹاؤن سے فراغت ہوئی۔

تعلیمی قابلیت ابتدا سے تھی، وفاق المدارس اورمدرسہ کی سطح پر امتحانات میں ہمیشہ پوزیشن حاصل کرتے تھے ، آخری سال یعنی دورہ حدیث میں بھی وفاق المدارس کے تحت ملکی سطح پر پوزیشن حاصل کی ، تعلیم سے فراغت کے بعد تدریس کی ذمہ داریوں کے ساتھ جامعہ کی مجلس شوری نے نائب مہتمم کے عہدہ پر مقرر کیا تھا۔اس دوران آپ جامعہ کی مجلس شوری کے رکن بھی بنائے گئے اور بعد میں مجلس تعلیمی کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ۔ اس کے علاوہ شعبہ بینات ، شعبہ دارالتصنیف سمیت دیگر شعبوں کے بھی ذمہ دار کی حیثیت سے تقریبا گزشتہ تئیس (23) سالوں سے ذمہ داریاں ادا کررہے تھے ،جبکہ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رحمہ اللہ کی غیر موجودگی میں ان کے تمام امور کی نیابت بھی کرتے رہے،آپ نے دنیا کے کئی ممالک میں علمی و دعوتی اسفار بھی کئے جن میں حرمین شریفین ، جنوبی افریقہ ، برطانیہ ، یورپ ، ترکی ، کینیا، زمبیا، متحدہ عرب امارات وغیرہ سرفہرست ہیں،اردو ،عربی اور انگریزی زبان پر عبور رکھتے ہیں، اپنے والد حضرت بنوری کی شہرہ آفاق کتاب ’’یتیمۃ البیان فی شیئ من علوم القرآن‘‘ کا اردو ترجمہ بھی کیا جو اصول تفسیر وعلوم قرآن کے نام سے شائع ہوچکا ہے ، اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر جامعہ کے مجلہ ماہنامہ بینات میں وقتا فوقتا مضامین بھی شائع ہوچکے ہیں ۔

آپ کے اساتذہ کرام میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ ، حضرت مولانا عبد الرشید نعمانیؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرؒ ، مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ ،حضرت مولانا قاری عبد الحق ؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحلیم چشتی ؒ ، حضرت مولانا محمد انور بدخشانی ، مولانا سجاد حسن ٹونکی ، مفتی عبدالسمیع شہیدؒ ، مولانا قاری مفتاح اللہ، مولانا عطاء الرحمن شہید ؒسمیت دیگر کبار علما شامل ہیں۔

آپ کو تصوف کے چاروں سلاسل میں مختلف مشائخ کی جانب سے اجازت بھی حاصل ہے،جس میں قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز پیر طریقت حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی رحمہ اللہ اور سلسلہ قادریہ کے شیخ حضرت مولانا محمد انور دامت برکاتہم (سکھر) سرفہرست ہیں۔

محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری کی خود نوشت سوانح (داستان آغاز جامعہ بنوری ٹاؤن) نیچے دیے گئے لنک پر پڑھیے:

3,411 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!