مارٹن لنگز کی سیرت نگاری اور وحدت ادیان ، ڈاکٹر مفتی عبد الواحدؒ

تحریر:مولانا ڈاکٹر مفتی عبدالواحد رحمہ اللہ
ترتیب وتدوین:مفتی عمر انور بدخشانی

سیرت نگاری میں مارٹن لنگز کے چند گمراہانہ افکار 

اردو بازار لاہور کے مشہور ناشر و تاجر کتب ’’الفیصل‘‘ نے چند سال پہلے رسول اللہ ﷺ کی سیرت ایک کتاب ’’حیات سرور کائنات محمد ﷺ‘‘ کے نام سے شائع کی ہے۔ یہ ترجمہ ہے انگریزی کتاب Mohammad (Basced on Earliest Sources)کا جوایک انگریز نومسلم مارٹن لنگز (Martin Lings)نے لکھی ہے۔ مصنف کا اسلامی نام ابوبکر سراج الدین ہے اور انگریزی میں اصل کتاب لاہور کے مشہور ناشر کتب سہیل اکیڈمی نے شائع کی ہے۔

مغرب کا کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص اسلام قبول کرلے تو مسلمانوں کو بجا طور پر اس پر خوشی ہوتی ہے اور وہ اس کے عقیدت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اسی عقیدت کے تحت ’’سہیل اکیڈمی‘‘ اور ’’الفیصل‘‘ نے یہ کتاب شائع کی ہوگی، لیکن اس خوشی اور عقیدت کے باوجود مسلمانوں کو ان کے بارے میں چوکنارہنا چاہیے کیوں کہ ان حضرات کا اسلام کے بارے میں علم عام طور پر محض اپنے مطالعہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اہل حق علماء سے اُن کا رابطہ کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ حضرات بعض ایسی غلطیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جب وہ غلطیاں سامنے آتی ہیں تو وہ خوشی اور عقیدت کافور ہوجاتی ہے اور مسلمانوں کی حسرتوں میں ایک اور حسرت کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

ہم نے سیرت کی اس کتاب کا از اول تا آخر مطالعہ کیا، اس کی وجہ ہم بعد میں ذکر کریں گے، پہلے ہم اس کتاب سے متعلق چند باتیں ذکر کرتے ہیں۔

کیا نبی اور پیغمبر کی ضرورت صرف عربوں کو تھی؟
کیا عیسائی اور یہودی نبی اور پیغمبر کے محتاج نہ تھے؟

۱- صفحہ ۵۵ پر ہے:
’’ورقہ عیسائی ہوگئے تھے اور اس علاقے کے عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک نبی کی بعثت کا زمانہ قریب آلگا ہے۔ جہاں تک یہودیوں کا تعلق ہے۔ جن کے لیے آس کا قائل ہونا آسان تر تھا، کیوں کہ انبیاء کے سلسلہ مسیح ؑ پر ختم ہوچکا تھا۔ ایک نبی کا انتظار کرنے کے بارے میں تقریباً وہ سب کے متفق تھے۔ ان کے ربی اور دانش مند انہیں یقین دلاتے تھے کہ ایک نبی بس آنے ہی والا ہے۔ اس کی آمد سے متعلق بیشتر علامات جن کی پیشین گوئی ہوچکی تھی ظاہر ہوچکی تھیں۔ یہ ربی یہودیوں کو یہ بھی یقین دلاتے تھے کہ آنے والا نبی یہودی ہی ہوگا، کیوں کہ وہی برگزیدہ امت ہیں’’عیسائی‘‘۔ اور ورقہ ان میں سے ایک تھے جو اس مسئلے میں اپنے سکوک رکھتے تھے۔ انہیں کوئی وجہ نظر نہ آتی تھی کہ آخر وہ نبی قبائل عرب میں سے کیوں نہ ہو؟ یہودیوں سے بڑھ کر عربوں کو ایک نبی کی حاجت تھی۔ یہودی کم از کم اس حد تک تو دین ابراہیمی کے پیرو تھے کہ ان کے یہاں بت نہ تھا اور وہ خدائے واحد کے پرستار تھے اور ایک نبی کے سوا کون تھا جو عر کے بادیہ نشینوں کو معبودان باطل کی پرستش سے نجات دلا سکتا تھا‘‘۔

بادی النظر میں تو ہر پڑھنے والا یہی سمجھے گا کہ مصنف نے امر واقع کو ذکر کیا ہے، لیکن اگر کچھ غور کیا جائے تو پڑھنے والا ضرور چونکے گا۔ مثلاً یہ کہـ:

’’انہیں (یعنی عیسائیوں کو) کوئی وجہ نظر نہ آتی تھی کہ آخر وہ نبی قبائل عرب میں سے کیوں نہ ہو۔‘‘

’’یہودیوں سے بڑھ کر عربوں کو ایک نبی کی حاجت تھی۔‘‘

ہم کہتے ہیں کہ جب نبی کی ضرورت کو بیان کیا جارہا ہو اور یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ وہ نبی تمام قوموں کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے ہو تو ضرورت تو ہر قوم کو تھی۔ پھر مصنف کا طرز عمل کہ عربوں کی ضرورت کو تو تفصیل سے بیان کیا اور اُن کی بت پرستی کے تمام گوشوں کو آگے پورے ایک پیرے میں بیان کیا، لیکن عیسائیوں کی ضرورت کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا اور یہود کی ضرورت کو عربوں سے کمتر خیال کیا، حالاں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے جو دینی حالات تھے وہ آخرت کے اعتبار سے مشرکین عرب سے کچھ بھی بہتر نہ تھے۔ قرآن پاک میں’’ مغضوب علیھم ‘‘اور ’’ضالین‘‘ یہودیوں اور عیسائیوں ہی کو کہا گیا ہے۔

پھر مصنف کا یہ کہنا کہ: ’’یہ ربی یہودیوں کو یہ بھی یقین دلاتے تھے کہ آنے والا نبی یہودی ہی ہوگا۔‘‘ یہ بات بھی حقیقت کے خلاف ہے، یہ تو یہودیوں نے جب نبی ﷺ کا انکار کیا تب یہ بہانہ بنایا ،ورنہ اس سے پہلے وہ کوئی ایسا دعویٰ نہ کرتے تھے بلکہ وہ جانتے تھے اور بتاتے بھی تھے کہ نئے آنے والا نبی مکہ مکرمہ کی طرف سے ظاہر ہوں گے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کریں گے۔

سیرت ابن ہشام میں ہے،ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ سلمہ بن سلامہ ؓ جو کہ اصحاب بدر میں سے ہیں انہوں نے بنی عبدالاشہل میں سے اپنے ایک یہودی پڑوسی کا قصہ ذکر کیا کہ اس نے ایک مرتبہ مجمع عام میں قیامت اور حساب و کتاب، جنت اور دوزخ کا ذکر کیا۔ لوگوں کے کچھ سوال کرنے پر اس نے بتایا:

نبی مبعوث من نحو ھذہ البلاد واشار بیدہ ولی مکۃ والیمن

ان علاقوں کی طرف سے ایک نبی مبعوث ہونے والے ہیں اور اپنے ہاتھ سے مکہ اوریمن کی طرف اشارہ کیا۔ سیرت ابن ہشام ہی میں ہے ابن اسحاق نے یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے ایک بڑے آدمی سے یہ واقعہ ذکر کیا کہ شام کا ایک یہودی مدینہ منورہ آکر آباد ہوگیا۔ وہ بہت ہی عبادت گزار تھا۔ اپنی وفات کے وت اس نے مدینہ منورہ کے یہودیوں کو نصیحت کی کہ میں نے شام کا زرخیز علاقہ چھوڑ کر تنگی اور بھوک کا یہ علاقہ محض ایک نبی کے انتظار میں اختیار کیا ہے، کیوں کہ ان کا زمانہ آچکا ہے اور اسی شہر کی طرف وہ ہجرت کرکے آئیں گے۔

اسی طرح ابن اسحاق نے مدینہ منورہ کے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی یہ وجہ ذکر کی کہ انصار کا مدینہ کے یہودیوں سے مستقل جھگڑا رہتا تھا۔ یہودی اُن کو کہتے تھے کہ ایک نبی کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ ہم ان کے ساتھ ہوکر تمہیں خوب قتل کریں گے۔ جب نبی ﷺ کا ظہور ہوا تو انصار کایہودیوں کی دھمکی یاد آئی اور انہوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی اور یہود نے کفر کیا۔ (سیرت ابن ہشام، ص ۲۲۵ تا ۲۲۸)

ہم کہتے ہیں کہ اگر مصنف کے کہنے کے مطابق علمائے یہود نے لوگوں کو باور کرایا تھا کہ آنے والا نبی یہود میں سے ہوگا تو انصار رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے پہلے آپ کے غیر یہودی ہونے پر یقینا تردد اور پس و پیش کرتے۔

مصنف کی بات اس اعتبار سے بھی غلط ہے کہ قرآن پاک میں ہے یہود آپ کو اپنے بیٹوں کی پہچانتے ہیں۔ اگر یہودی علماء اور عوام کے دماغوں میں یہی بات بھری ہوتی کہ آنے والے نبی کی پہچان یہ ہے کہ وہ یہودی میں سے ہوگا تو قرآن کا یہ دعویٰ غلط ٹھہرتا۔

غرض مصنف مارٹن لنگز یا ابوبکر سراج الدین کی یہ کوشش نظر آتی ہے کہ وہ اپنے قارئین کو بتائیں کہ نبی ﷺ عیسائیوں کے لیے نبی نہ تھے بلکہ اصلاً صرف عربوں کے لیے تھے۔البتہ جیسے آگے واضح ہوگا، ان کے نزدیک آپ کی نبوت اور آپ کا دین اس اعتبار سے عالمی ہے کہ اور اقوام کے لوگ اس کو قبول کرسکتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی نبوت پوری ’’امت ‘‘کے لیے یاکسی ’’قوم‘‘کے لیے ؟

۲- صفحہ ۱۱۶ پر مصنف لکھتے ہیں:

’’حضرت خدیجہ ؓ کو تسلی دیتے ہوئے ورقہ بن نوفل نے کہا ’’بالیقین محمد(This People)اس ’’قوم ‘‘کے نبی ہیں‘‘:

وانہ لنبی ھذہ الامۃ

یعنی بلاشبہ یہ اس امت کے نبی ہیں۔

پھر دوبارہ خود نبی ﷺ کو خطاب کرکے کہا:

والذی نفسی بیدہ انک لنبی ھذہ الامۃ

قسم ہے اس ذات کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ اس امت کے نبی ہیں۔

’’امت ‘‘اور ’’قوم‘‘ میں جو فرق ہے وہ محتاج بیان نہیں، لیکن مصنف نے یہاں ’’قوم ‘‘کا لفظ استعمال کرکے اپنے مخصوص فکر کا اظہار کیا ہے۔

مسلمانوں کی خوشی کی وجہ رومیوں کی فتح نہیں!

۳-صفحہ ۶۹۰ پر لکھا ہے:

’’غزوہ حنین پر زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ شہنشاہ ہرقل نے مقدس صلیب یروشلم واپس پہنچادی اور یہ کارروائی رومیوں کی ایرانیوں پر آخری فتح کی تکمیل کی علامت بن گئی۔ وہ فتح جس کی وحی نے پیشین گوئی کی تھی اور جس کے بارے میں کہا تھا کہ اس دن اہل ایمان خوشی منائیں گے۔ واقعی یہ خوشی منانے کا دن تھا۔ ایرانیوں کو شام اور مصر دونوں مقات سے اپنی فوجوں کا انخلا کرنا پڑا‘‘۔

مصنف کی اس عبارت سے عام قاری یہی سمجھے گا کہ رو میوں کی فتح ہی اہل ایمان کی خوشی کا سبب تھی، حالانکہ قرآن پاک میں ہے:

ویومئذ یفرح المومنون بنصراللہ

’’اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے اللہ کی مدد کی وجہ سے‘‘،اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی مدد دو طرح سے حاصل ہوئی:

(۱) اسی دن مسلمانوں کو بھی مشرکین عرب پر جنگ بدر میں فتح حاصل ہوئی۔

(۲)مشرکین عرب کے خلاف قرآن کی پیشین گوئی پورا ہونے کی وجہ سے۔

مارٹن لنگز اور حضور اکرم ﷺ کے اقدام کی تحقیر

۴- صفحہ ۶۹۱ پر لکھتے ہیں:

’’مدینے میں افواہ کی گرم بازاری تھی کہ ہرقل نے یثرب کے خلاف اپنی لمبی مہم کے پیش نظر فوج کو ایک سال کی پیشگی تنخواہ دے دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رومی جنوب میں بلقاء پہنچ چکے ہیں اورانہوں نے عاملہ، غسان، جزام اور لخم کے قبائل کو جمع کرلیا ہے۔ یہ خبریں جزوی طور پر مبالغہ آمیز اور جزوی طور پر خلاف حقیقت تھیں۔ سب سے بڑھ کر یہ اب تک عام طور پر معلوم نہ تھا کہ ایرانی مہم کے دوران ہرقل نے یہ خواب دیکھا تھا کہ پورے شام پر ایک مختون شخص کی حکومت کا غلبہ ہے جس کو اس نے وہ مکتوب نگار قرار دیا، جس نے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی۔ یہ خواب اتنا زوردار اور اتنا واضح تھا کہ جنوب کی جانب اس کے کوچ اور ایک حد تک خود شام کے دفاع کو اس نے متاثر کیا۔ وہ اب یروشلم سے حمص لوٹ چکا تھا اور اپنے اس یقین کی بناء پر کہ پورا صوبہ ہی بالآخر اسلامی فوجوں کے ذریعے پامال ہوجائے گا اپنے جنرلوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ نبی ﷺ سے معاہدہ صلح کرلیا جائے اور شام کا صوبہ اس شرط پر دے دیا جائے کہ شمالی سرحدوں کے آگے مزید پیش قدمی نہ ہوگی۔ اس تجویز پر ان کی حیرت اور اس سے ان کی شدید ناگواری اور عدم اتفاق کے سبب اس نے اس تجویز کو ترک کردیا، مگر وہ اپنا خواب کبھی نہ بھولا‘‘۔

’’نبی ﷺ بھی یقین رکھتے تھے کہ اللہ ان کی اسلامی فوجوں کے لیے شام کا دروازہ کھول دے گا اور خواہ اس کے لیے آپ ﷺ کے نزدیک وقت آگیا تھا یا اس لیے کہ آپ ﷺ چاہتے تھے کہ اپنی فوجون کو ناگریز شمالی مہم کے لیے کچھ تربیت دیں۔ آپ ﷺ نے رومیوں کے خلاف مہم کا اعلان کردیا اور اب تک کی ہمیشہ سے زیادہ مسلح اور بھاری فوج یکجا کرنے کے بندوبست میں لگ گئے‘‘۔

پھر صفحہ ۶۹۵ پر لکھا ہے:

’’فوج نے بیس دن تک تبوک میں قیام کیا۔ یہ واضح تھا کہ رومیوں کی جانب سے خطرے کی افواہ بالکل بے بنیاد تھی اور دوسری طرف شام کی موعودفتح کا وقت بھی نہیں آیا۔‘‘

ہم کہتے ہیں کہ مصنف نے یہاں رسول اللہ ﷺ کے اقدام کی خاصی تحقیر کی ہے، جس کا بیان یہ ہے:

ٍ(۱) مصنف نے یہ تاثر دیا کہ محض ایک بے بنیاد افواہ پر مسلمانوں نے اقدام کیا، حالاں کہ ہرقل کی شام پر قبضہ میں دلچسپی نہ رہی تھی۔

(۲) رسول اللہ ﷺ نے شام کی فتح کے وقت کے بارے میں اندازہ کرنے میں خطا کی۔

(۳) رسول اللہ ﷺ کا اگر تربیت دینے کا ارادہ تھا تو وہ بھی پورا نہ ہوسکا۔محض ساز و سامان اکٹھا کرنا اور فوج کو جمع کرنا کوئی کارنامہ نہ تھا، کیوں کہ مسلمان تو جنگجو لوگ تھے، جن کو بہت سی جنگوں کا تجربہ ہوچکا تھا۔ اس سے پہلے جنگ موتہ کا تجربہ بھی ہوچکا تھا۔

اس کتاب کے مطالعہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
مارٹن لنگز ، گائے ایٹن ، فرتھ جوف شواں اور فلسفہ وحدت ادیان

ہم نے اس کتاب کا مطالعہ کیوں کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تقریباً تیرہ چودہ سال پیشتر امریکا میں مقیم چند مسلمانوں کی طرف سے کیے ایک سوال کی خاطر ہم نے مارٹن لنگز اور ان کے دیگر ساتھیوں مثلاً فرتھ جوف شواںFrithjof Schuon اور گائے ایٹنEaton وغیرہ کی کچھ کتابوں کا مطالعہ کیا اور معلوم ہوا کہ یہ لوگ درحقیقت’’ وحدت ادیان‘‘ کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ اور قرآن کو نہ ماننے والا بھی اسلام میں داخل ہے۔ ان لوگوں نے تصوف کو اوڑھنا بچھونا بنا دیا ہے، لیکن اپنے گمراہ اور غیر اسلامی فکر کی وجہ سے یہ قرآن پاک کی تحریف معنوی پر بھی جری ہیں۔ سیرت کی مذکورہ کتاب دیکھ کر ہمیں ڈر ہوا کہ انہوں نے اپنے فکر کو اس میں بھی سمویا ہوگا اور خصوصاً عیسائیت کے بارے میں جو ان کے اندر نرم گوشہ ہے اس کی وجہ سے ہم مذکورہ بالا اقتباسات تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اب آپ ان کی تحریروں کے اقتباسات سے ان کی گمراہی فکر کو ملاحظہ فرمائیے۔ ان پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں:

Islam & The Destiny of Manکے مصنف گائے ایٹن نے لکھا:

Since the word of Islam means “Self-surrender” (to God), it is in this sense that most commentators and translators understood the verse acknowledging that the surrender of heart and will and mind to God is a basic principle of every authentic religion.

1) Whosoever follows any other religion than al-Islam, it shall not be accepted of him, and in the Hereafter he will be among the losers.

چونکہ لفظ’’ اسلام ‘‘کا مطلب ہے (خدا کے سامنے) اپنے آپ کو تسلیم کردینا اس لیے اکثر مفسرین اور مترجمین آیت:

ومن یتبغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرۃ من الخسرین

ؔ(جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا)میں ’’اسلام ‘‘کا یہی مذکور مطلب سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح اعتراف کرتے ہیں کہ دل و دماغ اور ارادے کو خدا کے آگے تسلیم کردینا ہر مستند دین کا بنیادی اصول ہے۔

مارٹن لنگزنے لکھا:

In the same context, versed affirming that Muhammad has been sent for all people have to be understood in a less monopolizing way than they have been throughout the centuries by Muslims with little or no general knowledge about other religions and their distribution. What the Quran tells us here is that Islam, unlike Judaism or Hinduism, is a world religion. But it is not denying that Buddism and Christianity are also world religions, that I, open to everybody, at last in principle. These last words are important, “for God doth what He will’ and our only means of knowing His will in this respect are by the results. With regard to the world as it has been in its geographical distribution of peoples for the last two thousand years. It will not escape the notice of an observant Muslim any more than an observant Christian that there is, spatially speaking, a certain sector in which providence has worked wonders for Buddhism and done relatively little for either Christianity or Islam. The same Muslim will also notice that there is another sector in which Providence has worked wonders for the Christianity and done very little for the other religions.

اس سیاق میں وہ آیات جن میں یہ دعویٰ ہے کہ حضرت محمد ﷺ تمام لوگوں کے لیے بھیجے گئے ان کو اجارہ داری سے کمتر طریقے پر سمجھنے کی ضرورت ہے بہ نسبت اس کے جد صدیوں سے مسلمان سمجھے چلے آئے ہیں، حالانکہ ان کو دیگر ادیان اور ان کے پھیلائو کے بارے میں عام معلومات بھی یا تو بہت کم تھیں یا سرے سے نہ تھیں۔ قرآن ہمیں جو بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہودیت اور ہندمت کے برخلاف اسلام ایک عالمی دین ہے، لیکن قرآن بدھ مت اور عیسائیت کے عالمی دین ہونے کی نفی نہیں کرتا جیسا کہ کم از کم اصولی طور پر ہر ایک کے سامنے عیاں ہے یہ آخری الفاظ ’’اللہ جو ارادہ کرتے ہیں اُس کو کر گزرتے ہیں‘‘ بہت اہم ہے اوریہاں اللہ کے ارادے کو صرف اس کے نتائج اور اثرات ہی سے جانا جاسکتا ہے۔ پچھلے دو ہزار سال میں مختلف اقوام کی جغرافیائی تقسیم کے اعتبار سے جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو ایک تیز نگاہ عیسائی کی طرح ایک تیز نگاہ مسلمان کی نظر سے یہ بات مخفی نہ ہوگی کہ دنیا میں ایک حصہ ایسا ہے جہاں فضل خداوندی نے بدھ مت کی بہت مدد کی اور دیگر ادیان کے لیے خواہ وہ عیسائیت ہو یا اسلام ہو بہت کم کیا ہے۔ وہی مسلمان اس بات کا بھی مشاہدہ کرے گا کہ دنیا میں ایک اور حصہ ایسا ہے جس میں خدا کے فضل نے عیسائیت کے دیگر ادیان کی بہ نسبت بہت زیادہ مدد کی ہے:

ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔

وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔

اس آیت کے بارے میں مارٹن لنگز کا تبصرہ پڑھیے:

The most that a sound intelligence can accept are the claims which naturally result from the fact the Islam represents the most recent Divine Intervention upon the earth. But these claims, though considerable; are relative, not absolute; and a Muslim intellectual in the modern world will not find peace of mind except by assenting to this. It should not however be difficult for him to do so, for a glance at those passages of the Quran on which the theologians. Exclusivism is based shows that the verses in question call for a deeper and more universal interpretation than is generally given.

One of these passages is the following:

He it is who hath sent his messenger with the guidance and the religion of Truth, that He may make it prevail over all religion, though the idolators are averse.

This verse can be given a narrower or wider interpretation. Its more immediate meaning is clearly the narrower one: the messenger is Muhammad, the religion of Truth is the Quranic message and the idolaters are the pagan Arabs; Persians, Berbers, and certain other pagans. But what of the words that He may make it prevail over all religion? It is here that the crux of the matter may be said to lie.

Whatever the disadvantages of modern education, it serves to implant a more global concept of world history and geography than is normally held by members of traditional civilization which tend, as we have seen, to be aloof and introspective. The wider knowledge is a mixed blessing, but where it exists it must be taken into account. An intelligent Muslim, living in the modern world, is bound to realize sooner or later, suddenly or gradually, not only that the Quranic message has not been made to prevail over all religion, but also that providence itself is directly responsible for the short-coming. The shock of this realization may shatter his belief unless he is enabled to understand that the verse in question has a wider significance. in the narrower sense, all religion can only be taken to mean all religion in your part of the world. But if all religion be interpreted in an absolute sense, and if idolators are made to include such people as Germans and Celts, many of whom were still pagan at the outset of Islam, then the religion of Truth must also be given its widest application, and the words once again’ must be understood (i.e. He it is who hath sent…), for the divinity has sent messengers before, and never with anything other than the religion of Truth. These last four words, like the term Islam itself, can be taken in a universal sense, to include all true religion. The Quran makes it clear that the religions of Adam, Noah, Abraham, Moses, and Jesus may be called Islam in the literal meaning of submission to God. In this sense, Islam may be said to have been made to prevail over all religion. But in its narrower sense, Islam has only been allowed to prevail overall religion in a limited part of thw world. It is now fourteen hundred years since the revelation of the Quran and Providence has allowed non. Quranic modes of the religion of Truth remain as barriers of the Quranic message in more than half the globe.

فہم سلیم جو زیادہ سے زیادہ قبول کرسکتی ہے وہ وہ دعوے ہیں جو اس حقیقت کے قدرتی نتائج ہیں کہ اسلام روئے زمین پر سب سے جدید تصرف الٰہی ہے یہ دعوے اگرچہ معتدبہ ہیں لیکن مطلق نہیں بلکہ اضافی ہیں۔ جدید دنیا کا ایک مسلمان دانشور اس بات کو تسلیم کیے بغیر بے چین رہے گا اور اس کو تسلیم کرنا اس کے لیے دشوار بھی نہیں ہے کیوں کہ قرآن کی وہ آیات جن پر علماء دینیات کی فکر عدم شرکت (دین غیر) مبنی ہے۔ ان پر ایک نظر ڈالنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیات کی جو تاویل عام طور پر کی جاتی ہے وہ اس سے کہیں زیاہ عمیق اور عالمگیر تفسیر و تاویل کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ آیت ہے:

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔

’’وہ اللہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوںپر غالب کردے گا گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔‘‘

اس آیت کا محدود مفہوم بھی لیا جاسکتاہے اور وسیع مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے، بادی النظر میں اس کا جو معنی سامنے آتا ہے وہ وہ ہے جو محدود ہے، یعنی یہ کہ محمد رسول ہیں اور دین حق قرآنی پیغام ہے اور مشرکین میں بت پرست عرب، آتش پرست، بربر اوربعض دیگر جاہلی اقوام لیکن پھر ان الفاظ کا کیا مطلب ہوگاکہ وہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے۔ اصل مسئلہ اور عقدہ تو یہی ہے۔

جدید تعلیم کے جو بھی نقصان ہوں لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ تنہا اور خودبینی میں مشغول روایتی تہذیب کے افراد دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ کا جو تصور رکھتے ہیں۔ جدید تعلیم اس سے بڑھ کر عالمی تصور دیتے ہے۔ وسعت علمی اگرچہ ایک ملی جلی نعمت ہے، لیکن اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ جدید دنیا میں رہنے والا دانشور مسلمان جلد یا بدیر، اچانک یا تدریجاً اس حقیقت کو سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ قرآنی پیغماکو دیگر تمام ادیان پر غلبہ نہیں دیا گیا اور اس کوتاہی کو براہ راست ذمہ دار خود فضل خداوندی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک صدمہ بن کر شاید اس کے عقیدے کو بکھیر کر رکھ دے اگروہ یہ سمجھنے کے قابل نہ ہو کہ اس آیت کا مطلب اتنا محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ ہاں محدود معنی میں یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے تمہارے حصے میں دیگر تمام ادیان پر غلبہ دیا گیا ہے، لیکن اگردیگر ادیان کو مطلق لیا جائے اور بت پرستوں میں جرمنوں اور Celtsوغیرہ قوموں کو بھی شمارکیا جائے کہ جن میں بہت سے ابتدائے اسلام کے وقت بت پرستی میں مبتلا تھے، پھر دین حق کا اطلاق وسیع تر رکھنا پڑے گا اور آیت کے الفاظ کو دوبارہ سمجھنا پڑے گا (اس طرح سے) کہ خدا نے ہی پہلے بھی رسولوں کو بھیجا ہے اور صرف دین حق ہی دے کر بھیجا ہے۔ لفظ اسلام کی طرح ان چارالفاظ ارسلہ رسولہ بالھدی و دین الحق کا بھی عالمی مفہوم لیا جاسکتا ہے، تاکہ ان میں تمام سچے ادیان شامل ہوجائیں۔ قرآن نے یہ واضح کردیا ہے کہ (حضرات) آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے ادیان کو لغوی معنی یعنی خداکی تابعداری کے اعتبار سے اسلام کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کو دیگر تمام ادیان پر غلبہ دیا گیا، جب کہ محدود تر معنی کے اعتبار سے اسلام کو دنیا کے دیگر تما م ادیان پر صرف ایک محدود علاقے میں غلبہ دیا گیا ہے۔ قرآن کو نازل ہوئے چودہ سو سال ہوچکے ہیں اور خود فضل خداوندی نے دین حق کے غیر قرآنی طریقوں کو نصف سے زیادہ دنیا میں قرآنی پیغام کے لیے حجاب و رکاوٹ بناکر رکھا ہوا ہے۔

مارٹن لنگز نے لکھا:

A religions claim to unique efficacy must be allowed the status of half-truth because there is, in fact in the vast majority of cases, no alternative choice.

’’دین کے بارے میں یہ دعویٰ کہ تنہا وہی مؤثر ہے اس کو صرف نصف حقیقت قرار دیا جاسکتا ہے، کیوں کہ ایک عظیم اکثریت کے لیے حقیقت میں کوئی متبادل اختیار نہیں ہے‘‘۔

Frithjof Schuonفرتھ جوف شواں نے لکھا:

For those who come face to face with the founder of a new religion, the lack of alternative choice becomes as it were absolute in virtue of the correspondingly absolute greatness of the Divine Messenger himself. It is moreover at its outset, that is, during its brief moment of ‘absoluteness, that the claims of religion are for the most part formulated. But with the passage of time, there is inevitably a certain leveling out between the new and the less new, the more so in that less new may have special claims on certain peoples.

جن لوگوں کا سابقہ ایک نئے دین کے بانی سے ہوتا ہے تو چوں کہ اُن کے سامنے کوئی متبادل اختیار نہیں ہوتا اور رسول کی عظمت مطلقہ ان کے ذہنوں میں چھائی ہوتی ہے، اس لیے وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ یہی دین مطلق ہے۔ مطلقیت (یعنی ملطق سمجھنے) کے اس مختصر زمانے میں ہی دین کے بارے میں (ایسے) دعوے وجود میں آتے ہیں، لیکن پھر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو نئے اور پرانے ادیان کے درمیان ناگزیر طور پر ایک توازن قائم ہوجاتا ہے۔ خصوصاً اس اعتبار سے کہ پرانے ادیان بھی بعض قوموں پر اپنی خصوصیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔

آگے ہم مارٹن لنگز وغیرہ کے فلسفہ وحدت ادیان کا دلائل سے رد کرتے ہیں۔

وحدت ادیان کی تردید یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد
قرآنی اسلام ہی میں نجات منحصر ہونے کے دلائل

(۱) ذلک الکتب لاریب فیہ ھدی للمتقین۔ الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلٰوۃ ومما رزقنتھم ینفقون والدین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرۃ ھم یوقنون اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون۔

ترجمہ: یہ کتاب ایسے ہے جس میں کوئی شبہ نہیں۔ راہ بتلانے والی ہے خدا سے ڈرنے والوں کو۔ وہ خدا سے درنے والے لوگ ایسے ہیں کہ یقین لاتے ہیں چھپی ہوئی چیزوں پر اور قائم رکھتے ہیں نماز کو اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے ان میں سے خرچ کرتے ہیں اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکھتے ہیں اس کتاب پربھی جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جاچکی ہیں اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔ بس یہ لوگ ہیں ٹھیک راہ پر جو اُن کے پروردگار کی طرف سے ملی ہے اور یہی لوگ ہیں کامیاب۔

اس آیت میں خدا سے ڈرنے والوں کی صفات بیان کرکے ہدایت و فلاح کو ان میں منحصر ہونا ذکر کیا ہے۔ ان کے اوصاف میں سے ایک وصف ایسا مذکور ہے جو مسلمانوں کے علاوہ کسی اور اہل مذہب میں نہیں پایا جاتا، یعنی قرآن پر ایمان۔

(۲) وآمنوا بما انزلت مصدقالما معکم ولا تکونوا اول کافربہ

ترجمہ:’’اور (اے بنی اسرائیل) ایمان لے آئو اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے (یعنی قرآن پر) ایسی حالت میں کہ وہ تصدیق کرنے والی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے اور مت بنو تم سب میں پہلے انکار کرنے والے اس قرآن کے)۔

مذکورہ بالا آیت میں یہود و نصاریٰ کو حکم ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لائیں اور انکار کرنے سے منع کیا اور انکار کرنے کو کفر بتایا۔

(۳) وقالوا کونوا ھودا اونصاری تھتدوا قل بل ملۃ ابراھیم حنیفا وماکان من المشرکین قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراہیم واسمٰعیل واسحاق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسٰی و عیسٰی وما اوتی النبیون من ربھم لانفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون فان آمنوا بمثل بما آمنتم بہ فقد اھتدوا وان تولوا فانما ھم فی شقاق فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم (۱۳۵ تا ۱۳۷- سورہ بقرہ)

ترجمہ:’’اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم لو گ یہودی ہوجائو یا نصرانی ہوجائو تم بھی ہدایت پر ہوجائوگے۔ آپ کہہ دیجیے کہ ہم تو ملت ابراہیم پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں اور ابراہیم ؑ مشرک بھی نہ تھے۔ کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پرجو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس پربھی جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام اور اولاد یعقوب کی طرف بھیجا گیا اور اس پربھی جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو دیا گیا اور اس پربھی جو کچھ اور انبیاء علیہم السلام کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے اس کیفیت سے کہ ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرے اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں، سو اگر وہ بھی اسی طریق سے ایمان لے آئیں جس طریق سے تم ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی ہدایت پر لگ جائیں گے اور اگر وہ روگردانی کریں گے تو وہ لوگ تو برسرمخالفت ہیں ہی تو آپ کی طرف سے عنقریب ہی نمٹ لیں گے ان سے اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ سنتے ہیں جانتے ہیں۔‘‘

ان آیات میں مسلمانوں کی زبانی ان کے عقائد و ایمانیات کہلوائے گئے اور پھر ان کو معیار بناکر یہود و نصاریٰ کو ان معیار کے مطابق ایمان لانے کی دعوت دی اور واضح طور پر بتادیا کہ اگر انہوں نے اس معیار کو اختیار کیا تو ہدایت پائیں گے، ورنہ اس سے روگردانی کی صورت میں ہدایت سے ہٹے ہوئے ہوں گے۔

(۴) ان الدین عنداللہ الاسلام وما اختلف الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینھم ومن یکفر بایت اللہ فان اللہ سریع الحساب فان حاجوک فقل اسلمت وجھی اللہ ومن اتبعن وقل للذین اوتوا الکتب والامین ء اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا وان تولوا فانما علیک البلغ۔

ترجمہ:’’بلاشبہ دین (حق و مقبول) اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے جو اختلاف کیا ایسی حالت کے بعد کہ ان کو (اسلام کے حق ہونے کی) دلیل پہنچ چکی تھی۔ محض ایک دوسرے سے بڑا بننے کی وجہ سے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرے گا (جیسا کہ ان لوگوں نے کیا) تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والے ہیں(اسلام کے حق ہونے کی دلیل قائم ہونے کے بعد) پھر بھی اگر یہ لوگ آپ سے حجتیں نکالیں تو آپ فرمادیجیے کہ (تم مانو یا نہ مانو) میں تواپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکا اور جو میرے پیرو تھے وہ بھی (اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکے۔ یہ کنایہ ہے اس سے کہ ہم سب اسلام اختیار کرچکے) اور کہیے اہل کتاب سے اور عرب سے کہ کیا تم بھی اسلام لائے ہو۔ سو اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں تو وہ لوگ بھی راہ پر آجائیں اور اگر وہ لوگ روگردانی کریں تو آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے۔‘‘

(۵) واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب وحکمۃ ثم جائکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ ولتنصرنہ قال ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری قالوا اقررنا قال فاشھدوا وانا معکم من الشاھدین فمن تولی بعد ذلک فاولئک ھم الفاسقون افغیر دین اللہ یبغون ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا و کرھا والیہ یرجعون۔ قل آمنا باللہ وما انزل علینا وما انزل علی ابراھیم واسمٰعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسی و عیسی والنبیون من ربھم لانفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرۃمن الخاسرین۔

ترجمہ:اور جب کہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء سے کہ جو کچھ میں تم کو کتاب اور علم (شریعت) دوں پھر تمہارے پاس کوئی (اور) پیغمبر آئے جو مصداق ہو اس (علامت) کا جو تمہارے پاس (کی کتاب و شریعت میں) ہے (یعنی دلائل معتبرہ عندالشرع سے اس کی رسالت ثابت ہو) تو ضرور تم اس رسول پر اعتقاد بھی لانا اور اس کی طرفداری (و مدد) بھی کرنا۔ (پھر) فرمایا کہ آیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ وہ بولے ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد فرمایا تو (اپنے اس اقرار پر) گواہ رہنا اور میں اس پر تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں (یعنی واقعہ کی اطلاع اور علم رکھنے والا ہوں)۔

سو جو شخص (امتوں میں سے) اس (عہد) کے بعد پھرا تو ایسے ہی لوگ بے حکمی کرنے والے ہیں۔ کیا پھر دین خداوندی کے سوا کسی اور طریقہ کو چاہتے ہیں، حالاں کہ حق تعالیٰ (کی یہ سان ہے کہ ان) کے (حکم کے) سامنے سب سرافگندہ ہیں۔ جتنے آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور بے اختیاری سے اور سب خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

آپ فرمادیجیے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا اور اس پر جو ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف بھیجا گیا اور اس پر بھی جو موسیٰ و عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو دیا گیا ان کے پروردگار کی طرف سے اس کیفیت سے کہ ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان رکھیں اور کسی پر نہ رکھیں) اور ہم تو اللہ ہی کے مطیع ہیں اور جو شخص اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے مقبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔

نوٹ: یہاں یہ واضح رہے کہ انبیاء سے یہ عہد ان کی امتوں سے بھی ہے۔

(۶) قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم (آل عمران، ۳۱)

ترجمہ:’’آپ فرمادیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو۔ خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیں گے۔‘‘

اس آیت میں خطاب عام ہے تمام انسانوں سے ہے جن میں یہود و نصاریٰ بھی آگئے اور دیگر اہل ادیان بھی۔ سبکے لیے رسول اللہ ﷺ کا اتباع لازم ہے۔ اس کے علاوہ اللہ کی محبت اور اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں آیا ہے:

ولو کان موسٰی حیّا ماوسعہ الا اتباعی

اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے علاوہ چارہ نہ ہوتا۔

(۷) یاایھا الذین آمنوا ان تطیعوا فریقا من الذین اوتوا الکتاب یردوکم بعد ایمانکم کافرین۔

ترجمہ:’’اے ایمان والو! اگر تم کہنا مانو گے کسی فرقہ کا ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے تو وہ لوگ تم کو تمہارے ایمان لائے پیچھے کافر بنادیںگے۔‘‘

اہل کتاب کے کسی بھی گروہ کی اطاعت کا موجب کفر ہونا محض اسی بناء پر ہے کہ وہ خود کفر میں مبتلا ہیں، لہٰذا قابل اعتبار ایمان و ہدایت کا انحصار صرف اسلام میں ہوا۔

(۸) یاایھا الناس قد جاء کم الرسول بالحق من ربکم فامنوا خیرا لکم وان تکفروا فان للہ ما فی السموت والارض۔

ترجمہ:’’اے تمام لوگو تمہارے پاس یہ رسول سچی بات لے کر تمہارے پروردگار کی طرف سے تشریف لائے ہیں، سو تم یقین رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا (کیوں کہ نجات ہوگی) اور اگر تم منکر رہے تو خدا تعالیٰ کی ملک ہے یہ سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے)۔

(۹) یااھل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثرا مما کنتم تخفون من الکتب ویعفو عن کثیر قد جاء کم من اللہ نور وکتب مبین یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ ویھدیھم الی صراط مستقیم۔

ترجمہ:’’اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے یہ رسول آئے ہیں۔ کتاب میں سے جن امورکا تم اخفا کرتے ہو ان میں سے بہت سی باتوں کو تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور بہت سے امور کو واگذاشت کردیتے ہیں۔ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور (وہ) ایک واضح کتاب ہے (یعنی قرآن مجید) کہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کو جو کہ رضائے حق کے طالب ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں اور ان کو اپنی توفیق سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آتے ہیں اور ان کو راہ راست پر قائم رکھتے ہیں۔

(۱۰) یااھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین الکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ماجاء نا من بشیر ولا نذیر فقد جاء کم بشیر ونذیر واللہ علی کل شیئٍ قدیر۔

ترجمہ:’’اے اہل کتاب تمہارے پاس یہ ہمارے رسول (محمد ﷺ) آپہنچے جو کہ تم کو (شریعت کی باتیں) صاف صاف بتلاتے ہیں ایسے وقت میں کہ رسولوں (کے آنے) کا سلسلہ (مدت سے)موقوف تھا اور بوجہ حوادث کے شرائع سابقہ مفقود ہوگئی تھی اور فترت رسل سے ان کے علم کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لیے کسی رسول کے آنے کی بہت ضرورت تھی تو ایسے وقت میں آپ کی تشریف آوری کو نعمت عظمیٰ سمجھنا چاہیے تاکہ تم (قیامت میں) یوں نہ کہنے لگو کہ (ہم دین کے باب میں کوتاہی کرنے میں اس لیے معذور ہیں کہ) ہمارے پاس کوئی (رسول جو کہ) بشیر و نذیر (ہو جس سے ہم کو دین کے بارے میں صحیح علم مع تنبہ کے ہوتا) نہیں آیا (اور پہلی شرائع ضائع ہوچکی تھیں۔ اس لیے ہم سے کوتاہیاں ہوگئیں) سو (سمجھ رکھو کہ اب عذر کی گنجائش نہیں رہی کیوں کہ) تمہارے پاس بشیر اور نذیر (یعنی محمد ﷺ) آچکے ہیں (اب ماننا نہ ماننا اس کو تم دیکھ لو) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔

ان مذکورہ بالا دو حوالوں سے بخوبی واضح ہوگیا کہ اہل کتاب بھی اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے میں اور گمراہی کی تاریکیوں سے ہدایت کی روشنی میں آنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور قرآن کے محتاج ہیں۔

اوپر کے تین حوالہ جات میں بیان کردی حقیقت کو ایک اور آیت میں یوں بیان فرمایا:

(۱۱) وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرًا و نذیرًا۔

ترجمہ:’’اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بناکر بھیجا ہے خوش خبری سنانے اور ڈرانے والے۔‘‘

ظہور اسلام کے وقت کوئی مذہب بھی حق پر نہ تھا!

اس بات میں تو کوئی شک و شبہ ہی نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام جو دین لے کر آئے تھے وہ بالکل حق تھا، لیکن اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جس شکل میں وہ دین آئے تھے وہ پھر باقی نہ رہی۔ تحریفات اور بدعات کی بناء پر وہ دین اللہ کی مرضی کے مطابق نہ رہے۔ اس بات کو ہم چند آیات قرآنیہ کی مدد سے واضح کرتے ہیں:

(۱) افتطمعون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعد ماعقلوہ وھم یعلمون۔

ترجمہ :کیا اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے، حالاں کہ ان میں کچھ لوگ ایسے گزرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام (توریت) سنتے تھے اور پھر اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اس کو سمجھنے کے بعد، اور جاننے تھے کہ تم برا کررہے ہو۔‘‘

(۲) فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عنداللہ لیشتروا بہ ثمنًا قلیلًا۔

ترجمہ:تو بڑی بربادی ان کی ہوگی جو لکھتے ہیں(بدل سدل کر) کتاب (تورات) کو اپنے ہاتھوں سے (اور) پھر (عوام سے) کہہ دیتے ہیں کہ یہ (حکم) خدا کی طرف سے (یوں ہی آیا) ہے (اور) غرض(صرف) یہ ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے کچھ نقد قدرے قلیل وصول کرلیں۔

(۳) یااھل الکتب لم تلبسون الحق بالباطل وتکتمون الحق وانتم تعلمون۔

ترجمہ:’’اے اہل کتاب کیوں مخلوط کرتے ہو واقعی (مضمون یعنی نبوت محمدیہ) کو غیر واقعی (مضمون یعنی تحریف شدہ عبارت یا تفسیر فاسد) سے اور (کیوں) چھپاتے ہو واقعی بات کو حالاں کہ تم جانتے ہو (کہ حق بات کو چھپا رہے ہو)۔

(۴) وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما۔

ترجمہ:’’اور ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم ؑ پر بڑا بھاری بہتان دھرنے کی وجہ سے۔

(۵) ولا تقولوا ثلثۃ انتھوا خیرا لکم انما اللہ الہ واحد سبحنہ ان یکون لہ ولد۔

ترجمہ:اور مت کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ (اس شرک سے) باز آجائوتمہاریے بہتر ہوگا (اورتوحید کے قائل ہوجائو، کیوں کہ) معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے (اور) وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے۔

مذکورہ بالا آیات کی تائید ان بے تحاشا تحریفات سے ہوتی ہے جو تورات و انجیل وغیرہ میں ہوتی رہی ہیں اور جن کا سلسلہ ابھی تک ختم ہونے میں نہیں آیا۔

حاصل یہ ہے کہ ظہور اسلام کے وقت جتنے بھی مذاہب پہلے سے موجود تھے خواہ وہ آسمانی ہی کیوں نہ ہوں، ان میں وہ تغیرات آچکے تھے کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی و پسند کے موافق نہ رہے تھے اور سوائے چند ایک بچے کھچے راہبوں کے جو توحید پر تھے، باقی سب اہل ارض اللہ تعالیٰ کے غصہ و ناراضگی کے موجب کاموں میں مبتلا تھے، یہی مضمون مذکورہ حدیث میں موجود ہے:

وانی خلقت عبادی حنفاء کلھم وانھم اتتھم الشیاطین فاحتالتھم عن دینھم وحرمت علیھم ما احللت لھم وأمرتھم ان یشرکوا بی مالم انزل بہ سلطانا وان اللہ نظر الی اھل الارض فمفتھم عربھم وعجمھم الا بقایا من اھل الکتاب۔

ترجمہ:’’اور میں نے اپنے تمام بندوں کو شرک سے یکسوا پیدا کیا اور ان کے پاس شیطان آئے اور ان کو ان کے دین سے ہٹا دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کیں اور ان شیاطین نے ان کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ایسوں کو شریک ٹھہرائیں جن کے بارے میں میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور اللہ نے اہل زمین کی طرف نظر کی تو سب عرب و عجم پر غصہ فرمایا، سوائے اہل کتاب میں سے کچھ (دین حق پر) بچے ہوئے لوگوں کے یہود و نصاریٰ باطل مذہب پر ہیں۔

(۱) ولو آمن اھل الکتاب لکان خیرا لھم منھم المؤمنون واکثر ھم الفسقون۔

ترجمہ :اور اگر (یہ) اہل کتاب (بھی جو تم سے مخالفت کررہے ہیں تمہاری طرح) ایمان لے آتے تو ان کے لیے (ان کی حالت موجودہ سے جس کو بزعم خود اچھی سمجھتے ہیں زیادہ اچھا ہوتا (کیوں کہ پھر یہ بھی اسی مذکورہ اچھی جماعت یعنی خیر امۃ میں داخل ہوجاتے مگر دائی برحال ایشاں کہ سب مسلمان نہ ہوئے بلکہ) ان میں سے بعضے تو مسلمان ہیں اور زیادہ حصہ ان میں سے کافر ہیں۔

یہودیوں کی ذلت کا بیان

(۲) ضربت علیھم الذلۃ این ماثقفوا الا بحبل من اللہ وحبل من الناس وباء وا بغضب من اللہ وضربت علیھم المسکنۃ ذلک بانھم کانوا یکفرون بایت اللہ ویقتلون الانبیاء بغیر حق ذالک بما عصوا وکانو یعتدون۔

ترجمہ: جمادی گئی ان پر (خاص) بے قدری (یعنی بے امنی جان کی) جہاں کہیں بھی پائے جائیں گے مگر یوں (دو ذریعوں سے امن میسر ہوجاتا ہے) ایک تو ایسے ذریعہ کے سبب جو اللہ کی طرف سے ہے اور ایک ایسے ذریعہ جو آدمیوں کی طرف سے ہے اور مستحق ہوگئے (یہ لوگ) غضب الٰہی کے اور جمادی گئی ان پر پستی۔ یہ (ذلت و غضب) اس وجہ سے ہوا کہ وہ لوگ منکر ہوجاتے تھے احکام الٰہی کے۔ اور قتل کردیا کرتے تھے پیغمبروں کو (اس طرح سے کہ وہ قتل خود اُن کے نزدیک بھی ناحق (ہوتا تھا) اور (نیز) یہ (ذلت و غضب) اس وجہ سے ہوا کہ ان لوگوں نے اطاعت نہ کی اور دائرہ (اطاعت) سے نکل نکل جاتے تھے۔

(۳) مایود الذین کفروا من اھل الکتب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم۔

ترجمہ :ذرا بھی پسند نہیں کرتے کافر لوگ (خواہ) اہل کتاب میں سے (ہوں) اور (خواہ) مشرکین میں سے اس امر کو کہ تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے کسی طرح کی بہتری (بھی) نصیب ہو اس آیت میں کس صراحت سے اہل کتاب کو کفار میں شمارکیا۔

(۴) وقالوا قلوبنا غلف بل لعنھم اللہ بکفرھم فقلیلا مایؤمنون ولما جاء ھم کتب من عنداللہ مصدق لما معھم وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاء ھم ماعرفوا کفروا بہ فلعنۃ اللہ علی الکفرین بئسما اشتروا بہ انفسھم ان یکفروا بما انزل اللہ بغیا ان ینزل اللہ من فضلہ علی من یشآء من عبادہ فباء وا بغضب علی غضب وللکفرین عذاب مھین۔

ترجمہ :’’اور وہ (یہودی فخر سے) کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب (ایسے) محفوظ ہیں (کہ اس میں مخالف مذہب یعنی اسلامکا اثر ہی نہیں ہوتا تو مذہب پر ہم خوب پختہ ہیں۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ محفوظی اور پختگی نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر کے سبب سے ان پر خدا کی مار ہے۔ سو بہت ہی تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں (اور تھوڑا ایمان مقبول نہیں پس وہ کافر ہی ٹھہرے)۔

اور جب ان کو ایک ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن) جو من جانب اللہ ہے (اور) اس (کتاب) کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے جو (پہلے سے) اُن کے پاس ہے (یعنی تورات) حالاں کہ اس کے قبل (خود) بیان کرتے تھے (اور) کفار سے (یعنی مشرکین عرب سے کہ ایک نبی آنے والے ہیں اور ایک کتاب لانے والے ہیں مگر) پھر جب وہ چیز آپہنچی جو کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے۔ سو (بس) خدا کی مار ہو ایسے منکروں پر (کہ جان بوجھ کر محض تعصب کے سبب سے انکار کریں)۔

وہ حالت (بہت ہی) بری ہے، جس کا اختیار کرکے (وہ بزعم خود) اپنی جانوں کو (عقوبت آخرت سے) چھڑانا چاہتے ہیں (اور وہ حالت) یہ (ہے) کہ کفر (و انکار) کرتے ہیں ایسی چیز کا جو حق تعالیٰ نے (ایک سچے پیغمبر پر) نازل فرمائی (یعنی قرآن اور وہ انکار بھی) محض (اس) ضد پر کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جس بندہ پر اس کو منظور ہو (یعنی محمد ﷺ پر کچھ) نازل فرمائے سو (اس حسد بالائے کفر سے) وہ لوگ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے اور (آخرت میں) ان کفر کرنے والوں کو ایسی سزا ہوگی جس میں (تکلیف کے علاوہ) ذلت (بھی) ہے۔

(۵) فبما نقضھم میثاقھم لعنھم وجعلنا قلوبھم قسیۃ یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسواحظا مما ذکروا بہ ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم فاعف عنھم واصفح ان اللہ یحب المحسنین ومن الذین قالو انا نصری اخذنا میثاقھم فنسوا حظا مما ذکروا بہ فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ وسوف ینبئھم اللہ بما کانو یصنعون۔

ترجمہ :تو صرف ان کی (یعنی بنی اسرائیل کی) عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا (کہ حق بات کا ان پر اثر ہی نہیں ہوتا اور اس سخت دلی کے آثار سے یہ ہے کہ) وہ لوگ (یعنی ان کے علماء) کلام (ہی یعنی تورات) کو اس کے (الفاظ یا مطالب کے) مواقع سے بلدتے ہیں(یعنی تحریک لفظی یا تحریف معنوی کرتے ہیں) اور (اس تحریف کا اثر یہ ہوا کہ)وہ لوگ جو کچھ ان کو (تورات میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا، فوت کر بیٹھے اور (حالت یہ ہے کہ) آپ کو آئے دن (یعنی ہمیشہ دین کے باب میں) کسی نہ کسی (نئی) خیانت کی اطلاع ہوتی رہتی ہے جو ان سے صادر ہوتی رہتی ہے، بجز ان کے معدودے چند شخصوں کے (جو کہ مسلمان ہوگئے تھے) سو آپ ان کو معاف کیجیے اور ان سے درگزر کیجیے۔

اور جو لوگ (نصرت دین کے دعویٗ سے) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی ان کا عہد (مثل عہد یہود کے) لیا تھا سو وہ بھی کچھ ان کو (انجیل وغیرہ میں) نصیح کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا) فوت کر بیٹھے (کیوں کہ وہ امر جس کو فوت کر بیٹھے توحید ہے اور ایمان ہے جناب رسول اللہ ﷺ پر جس کا حکم ان کو بھی ہوا تھا جب توحید کو چھوڑ بیٹھے) تو ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لیے بغض و عداوت ڈال دی اور عنقریب (آخرت میں) کہ وہ بھی قریب ہی ہے ان کو اللہ تعالیٰ ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے (پھر سزا دیں گے)۔

عقیدۂ تثلیث شرک ہے!

(۱) یااھل الکتب لاتغلوا فی دینکم ولا تقولوا علی اللہ الا الحق انما المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ ألقھا الی مریم وروح منہ فامنوا باللہ ورسلہ ولا تقولوا ثلاثۃ انتھوا خیرا لکم انما اللہ الہ واحد سبحنہ ان یکون لہ ولد لہ مافی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا۔

ترجمہ :اے اہل کتاب (یعنی انجیل والو) تم اپنے دین (کے بارے) میں (عقیدہ حقہ) کی حد سے مت نکلو اور خدا تعالیٰ کی شان میں غلط مت کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اور کچھ بھی نہیں، البتہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ (کی پیدائش) ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک (جبرائیل ؑ) کے واسطہ سے پہنچایا اور اللہ کی طرف سے ایک جان (دار چیز) ہیں۔ سو اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائو اور یوں مت کہو کہ تین ہیں (اس شرک سے) باز آجائو، تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ معبود حقیقی تو ایک ہی معبود ہے۔ وہ صاحب اولاد ہونے سے منزہ ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجودات ہیں سب اس کی ملک ہیں۔

(۲) لقد کفرالذین قالو ان اللہ ثالث ثلاثۃ وما من الٰہ الا واحد وان لم ینتھوا عمایقولون لیمسن الذین کفروا منھم عذاب الیھم۔

ترجمہ :بلاشبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں کا ایک ہے، حالاں کہ بجز ایک معبود کے اور کوئی معبودنہیں اور اگر یہ لوگ اپنے اقوال سے باز نہ آئے تو جو لوگ ان میں کافر رہیں گے ان پر دردناک عذاب واقع ہوگا۔

ماخوذ از : ماہنامہ انوار مدینہ لاہور، شمارہ جمادی الاولی ، جمادی الاخری ۱۴۲۰ھ۔

وحدت ادیان کے موضوع پر مزید پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکس پر کلک کیجیے:

2,336 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!