مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ ، تحریر مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ

حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمہ اللہ

استاذ تفسیر حدیث ومدیر ماہنامہ بینات،جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
صدر :وفاق المدارس العربیہ پاکستان
سابق استاذ :جامعہ دارالعلوم کراچی

۲۴ جمادی الاخریٰ ۱۴۰۹ھ مطابق ۲ فروری ۱۹۸۹ء بروز پنج شنبہ پونے بارہ بجے کے قریب،ہمارے معمر ترین بزرگ، ماہنامہ بینات کے مدیر مسئول، وفاق المدارس العربیہ کے صدر عالی قد،ر اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے استاذحدیث و تفسیر حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی سفر آخرت پر تشریف لے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

جامعہ دارالعلوم کراچی ، ادارہ شرقیہ اور جامعہ بنوری ٹاؤن میں تدریس

حضرت مرحوم کا سن نوے سے بڑھ چکا تھا، ان کا شمار امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب نوراللہ مرقدہ کے قدیم ترین تلامذہ میں تھا۔ فراغت کے بعد دہلی کے مدرسہ امینیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی کے ساتھ دارالمصنفین سے بھی تعلق رہا۔ عربیت کا خاص ذوق تھا اور علوم میں استعداد بڑی پختہ تھی۔ دہلی میں السنہ شرقیہ کی تعلیم کے لیے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس میں مولوی فاضل اور منشی فاضل کی تیاری کرائی جاتی تھی، قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہوئے تو یہاں بھی اُسی طرز کا ایک ادارہ قائم کیا۔ جس سے بہت سے لوگوں نے استفادہ کیا۔ حضرت اقدس مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے دارالعلوم کورنگی کی بنیاد رکھی تو وہاں تدریسی خدمات انجام دینے لگے، برادرم مولانا محمد تقی عثمانی زید مجدہم نے حضرت مرحوم کی اس دور کی کیفیت کا بہت خوبصورت نقشہ کھینچا ہے، مناسب ہوگا کہ اس کا اقتباس یہاں نقل کردیا جائے، مولانا لکھتے ہیں:

’’یہ وہ وقت تھا، جب ۱۳۷۷ھ (۱۹۵۷ء) میں دارالعلوم نانک داڑھ کی قدیم عمارت سے عالیہ جدید عمارت میں منتقل ہوا تھا۔ اس وقت دارالعلوم کے آس پاس نہ کورنگی کی آبادی تھی، نہ اس کا کوئی تصور، دارالعلوم کی زمین جنگلی جھاڑیوں اور ریتیلے ٹیلوں کے درمیان دو پختہ اور ایک زیرتعمیر عمارت پر مشتمل تھی۔ قریب ایک قدیم شرافی گوٹھ کے سوا کوئی آبادی نہ تھی۔ نہ بجلی، نہ پانی، نہ ٹیلیفون اور شہر سے رابطے کے لیے بس بھی ایک میل کے فاصلے سے ملتی تھی اور یہ پورا فاصلہ لق و دق صحرا پر مشتمل تھا۔ مولانا کے لیے ادارہ شرقیہ کی ذمے داری کو یک لخت چھوڑنا ممکن نہیں تھا اور اس لیے وہ دارالعلوم میں مستقل قیام بھی نہیں فرماسکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے دارالعلوم میں تدریس کے لیے روزانہ آمدورفت کا سلسلہ شروع کیا۔ شہر سے روزانہ دوبسیں بدل کر لانڈھی پہنچنا اور وہاں سے ایک ڈیڑھ میل کا فاصلہ اس طرح پیدل طے کرنا کہ ساتھ کتابیں بھی ہوتیں اور چونکہ مولانا چائے اور پان کے نہ صرف عادی ،بلکہ بلانوش تھے، اس لیے ساتھ چائے کا تھرماس بھی ہوتا اور پان کا سامان بھی اور پھر کئی گھنٹے جم کر درس دینا اور بعد میں اسی طرح شہر واپس جانا اور وہاں جاکر ادارہ شرقیہ کی ذمے داریاں نبھانا روزمرہ کا معمول تھا، جسے دیکھ کر ہم نوجوانوں کو بھی پسینہ آتا تھا اور یہ معمول ایک دو دن یا چند ماہ نہیں، مسلسل چار سال تک جاری رہا اور اس ساری مشقت کے صلے میں مولانا نے کوئی مالی معاوضہ لینا گوارہ نہیں فرمایا‘‘۔

دار العلوم کراچی میں دیوان حماسہ کی تدریس

’’برادرمحترم جناب مولانا محمد رفیع عثمانی صاحب اور احقر کو یہ شرف حاصل ہے کہ اسی زمانے میں ہم نے دیوان حماسہ حضرت مولانا سے پڑھا۔ مولانا بڑے لطیف ادبی مذاق کے حامل تھے اور واقعہ یہ ہے کہ ان کے دیوان حماسہ کے درس کی حلاوت ۳۳ سال گذر جانے کے بعد بھی قلب و ذہن میں اسی طرح تازہ ہے اور دیوان حماسہ کے اشعار ان کے مخصوص انداز و آہنگ اور آواز کی اسی گھن گرج کے ساتھ آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں اور بہت سے اشعار کی تشریحات اور اس کے ذیل میں بتائے ہوئے افادات اسی طرح یاد ہیں، جیسے کل ہی ان سے یہ درس لیا ہو۔ درس کی یہ تاثیر بہت کم اساتذہ کے حصے میں آتی ہے کہ طالب علم کو سالہا سال گذرنے پر بھی اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہی نہیں، استاذ کا لب و لہجہ بھی مستحضر رہ جائے‘‘۔

’’مولانا اپنے حماسہ کے درس میں الفاظ کی لغوی تحقیق اور نحوی ترکیب کے علاوہ شعر کے مختلف ممکن معانی پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتے اور اس کے ذیل میں عربوں کی معاشرت، ان کی تاریخ، ان کی عادات و نفسیات اور بالخصوص جاہلی اور اسلامی عہد کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کی ایسی وضاحت فرماتے کہ طلبہ کے سامنے عرب کی خانہ بدوش اور قبائلی زندگی کا نقشہ کھنچ جاتا۔ جاہلیت کی شاعری میں مشاہدہ کی جوقوت اور ذہنوں کی نفسیاتی کیفیت کا جو بے ساختہ بیان پایا جاتا ہے، اس سے خود بھی لطف لیتے اور پڑھنے والے کو اس لطف میں حصہ دار بناتے، چنانچہ اسی وقت سے حماسہ کے بیشتر اشعار جو مولانا سے پڑھے تھے، کسی کوشش کے بغیر ازبر ہوگئے تھے اور آج بھی جب کبھی وہ اشعار پڑھتا ہوں تو مولانا کی تصویر آنکھوں میں پھر جاتی ہے‘‘۔

جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن آمد

’’مولانا بڑے بلند آواز بزرگ تھے۔ دارالعلوم کی درس گاہوں اور دارالاقامہ کے درمیان کافی وسیع و عریض میدان حائل ہے اور اس وقت اس میدان میں ٹیلوں اور جھاڑیوں کی بھی کثرت تھی، لیکن ہم دارالاقامہ میں بیٹھ کر درسگاہ سے مولانا کی آواز سنا کرتے تھے اور اس طرح مولانا کی تشریف آوری کی اطلاع ہوجاتی تھی،دارالعلوم کے اس دور افتادہ مقام کا اور اس بے سروسامانی کے دور میں روزانہ شہر سے آکر کئی گھنٹے پڑھانا یقینا مولانا کے لیے ایک شدید مجاہدہ سے کم نہ تھے، لیکن مولانا نے یہ مجاہدہ کئی سال جاری رکھا۔ پھر بالآخر حضرت مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری ؒ کے مدرسہ میں جواب جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹائون کے نام سے معروف ہے۔ تدریس شروع فرمادی۔ وہاں پہنچ کر مولانا نے رفتہ رفتہ ’’ادارہ شرقیہ‘‘ کے مشغلہ کو بالکل ختم ہی کردیا اور ہمہ تن مدرسہ کے ہوکر رہ گئے، تدریس کے علاوہ مولانا انتظامی امور میں بھی حضرت مولانا بنوری صاحب قدس اللہ سرہ کے دست و بازو بنے رہے اور جب حضرت مولانا نے مدرسہ سے ماہنامہ ’’بینات‘‘ جاری کیا تو اس کے مدیر اور طابع و ناشر کی حیثیت سے مولانا ہی کو منتخب فرمایا‘‘۔

مولانا میرٹھیؒ کاذوق نمازوعبادات

حضرت مولانا جیسی بزرگ شخصیت کا وجود ہمارے مدرسہ کے لیے خیر و برکت کا باعث تھا۔ ان کی بعض صفات اس ناکارہ کے لیے ہمیشہ لائق رشک رہیں، ان میں سب سے اہم نماز کی لذت ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے ان کو نماز کا خاص ذوق نصیب فرمایا تھا۔ انہیں تمام تر ضعف و ناتوانی اور معذوری کے باوجود نماز باجماعت اور صف اول کا ایسا اہتمام تھا جس کی مثایں اکابر اہل علم میں بھی بہت کمیاب ہیں۔ انہیں مہینوں نہیں بلکہ برسوں تک کبھی مسبوق دیکھنے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ صف میں ان کے برابر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کا کبھی اتفاق ہوتا تو ایک خاص خنکی اور سکینت کا احساس ہوتا تھا۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے:

ان احدکم اذا قام فی الصلوٰۃ فانما یناجی ربہ، وان ربہ بینہ وبین القبلۃ (رواہ البخاری، مشکوٰۃ ص ۷۱)

’’بے شک تم میں سے ایک جب کھڑا ہوتا ہے۔ نماز میں تو اس کے سوا نہیں کہ سرگوشی کرتا ہے اپنے رب سے اور بے شک اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے:

ان المصلی یناجی ربہ فلینظر مایناجیہ بہ (رواہ احمد، مشکوٰۃ ص ۸۱)

’’بے شک نمازی اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتا ہے، پس اسے اُس چیز کو دیکھنا چاہیے، جس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے۔‘‘

نماز میں حضرت مولانا کے قلب کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟ اس کو تو سینوں کے بھید جاننے والا ہی جانتا ہے، تاہم دیکھنے والوں کو حضرت مولانا کی نماز میں ’’فانما یناجی ربہ‘‘ کی جھلک نظر آتی تھی، وہ نماز کے سجدے میں دعائیں کرنے کے عادی تھے۔ ایک بار راقم الحروف سے فرمایا کہ حنفیہ کے یہاں فرض نماز کے سجدے میں دعا کا معمول کیوں نہیں۔ اس کی مشہور وجہ جو کتابوں میں لکھی ہے عرض کی گئی تو بگڑ کر فرمایا: نہیں جی! حدیث شریف میں دعا کا صاف حکم آیا ہے:

اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثر الدعا (صحیح مسلم، مشکوٰۃ ص ۸۴)

’’بندے کو اپنے رب کا سب سے زیادہ قرب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، لہٰذا کثرت سے دعا کرو۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے:

واذا سجدتم فاجتھدوا فی الدعاء فانہ فمن ان یستجاب لکم (نسائی، ج ۱ ص ۱۶۸)

’’اور جب سجدے میں جائو تو دعا میں خوب کوشش کیا کرو، کیونکہ یہ اس لائق ہے کہ اسے قبول کیا جائے۔‘‘

غرض کیا کہ یہ احادیث تونوافل سے متعلق ہیں۔ ویسے اگر مقتدیوں کو گراں نہ ہو تو فرض میں بھی کوئی مضائقہ نہیں، اس پر خاموش ہوگئے۔

ایک بار فرمایا کہ مجھے پیشاب کی تکلیف ہوگئی ہے۔ میں نے نماز کے سجدے میں یہ دعا شروع کردی ہے: رب انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین۔ ان شاء اللہ جلد شفا ہوجائے گی۔

حج وعمرہ اور حرمین شریفین سے شغف

نماز کے بعد انہیں سب سے زیادہ شغف حج و عمرہ سے تھا، قریباً پچیس تیس سال سے سال میں دو مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کا معمول چلا آتا تھا، ایک بار رمضان مبارک میں عمرہ کے لیے، اور دوسری بار حج کے لیے، حج و عمرہ کے موسم میں جب تک انہیں ویزا نہ مل جاتا، ان پر بے قراری و بے چینی کی کیفیت طاری رہتی۔ وہ دوسری تمام دلچسپیوں کو بھول جاتے اور انہیں کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنا یا سننا گوارا نہ ہوتا اور جب منظوری کی اطلاع آجاتی تو یکایک ان پر مسرت و شادمانی اور انشراح و انبساط کی ایسی کیفیت طاری ہوجاتی جسے ہر شخص ان کے چہرے مہرے سے پہچان سکتا تھا۔ رمضان مبارک میں معمول تھا کہ قبیل مغرب طواف شروع کرتے اور طواف ختم کرکے ملتزم پر افطار کرتے، آخر میں یہ معمول چھوٹ گیا تھا۔ ایک دن ملتزم کے سامنے بڑی حسرت سے فرمایا کہ پچیس سال سے یہاں روزہ افطار کرنے کا معمول رہا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل احباب کی رائے ہوئی کہ حضرت مولانا کی ناتوانی و کمزوری اب حج کی مشقتوں کی متحمل نہیں، ان کے لیے چند قدم چلنا بھی مشکل ہے۔ مناسک کے دوران گرجانے اور بے ہوش ہوجانے کی نوبت بھی آئی۔ اس لیے اس سال حضرت کا ویزا نہ لیا جائے، چنانچہ جب انہیں ویزا نہ ملنے کی اطلاع دی گئی ان پر غم و اندوہ اور افسردگی کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ دیکھنے والوں کو رحم آنے لگا۔ گزشتہ سال بھی ان کا ویزا نہیں ہوا تھا۔ راقم الحروف کو بلوا کر بہت لجاجت کے انداز میں فرمایا:’’ مجھے ساتھ لے کر جائیے۔‘‘حج و عمرہ کے شائقین تو بہت دیکھے ہیں اور بعض خوش نصیبوں کو اس بارگاہِ اقدس کی حاضری کا شرف بھی بار بار حاصل ہوتا ہے۔ لیکن بیت اللہ سے عشق اور حج و عمرہ کے لیے سوزوگداز، عشق و انجذاب اور فریفتگی ووالہیت کی جو کیفیت حضرت مولانا میں دیکھی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ فرماتے تھے کہ بس دو چیزوں کے لیے زندہ ہوں، ایک حرمین شریفین کی حاضری۔ دوسرے حدیث و تفسیر کا درس۔

ماہنامہ بینات اوروفاق المدارس: مولانا کا آہنی عزم وارادہ اوربے پناہ لگن

حضرت مولانا کی ایک لائق رشک خصوصیت، اپنے کام سے ان کی بے پناہ لگن تھی۔ جو کام ان کے سپرد کردیا جاتا، یا جس کام کو وہ اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔ اس میں فنائیت کی حد تک ڈوب جانے کے عادی تھے اور جب تک وہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ جاتا، انہیں کسی دوسرے طرف متوجہ کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ عشاق کی اصطلاح میں ’’ان کے کوچہ میں رقیب کا گزر نہ تھا‘‘، اس دوران نہ انہیں کھانے پینے کا ہوش رہتا اور نہ راحت و آرام کا خیال آتا۔ صحت کے دنوں میں فرماتے تھے کہ ’’بس چائے اور پان دیے جائو، پھر جتنا چاہو بٹھائے رکھو‘‘۔

اس ناکارہ کی حاضری سے پہلے ’’بینات‘‘ کی ترتیب و ادارت کا کام انہی کے سپرد تھا۔ ان کو ’’بینات‘‘ کے کام میں اسی شان سے منہمک دیکھا۔ جب ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ کی تنظیم عمل میں آئی تو حضرت مولانا کو اس کا ناظم مقرر کیا گیا اور جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ حضرت مرحوم ہی کی شخصیت تھی، جس نے وفاق کو خونِ جگر سے سینچ کر پاکستان میں دینی مدارس کے لیے شجرۂ طوبیٰ بنادیا۔ اس ضمن میں ان کے واقعات و سوانح کی ایک تاریخ ہے۔

حضرت مولانا آہنی عزم و ارادہ کے مالک تھے۔ ان کے یہاں عزیمت ہی عزیمت تھی۔ وہ مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی رخصت پر عمل کرنے کے قائل نہیں تھے۔ آخری برسوں میں ان کی جسمانی قوتیں ان کے بلند حوصلہ اور جوان عزم کا ساتھ دینے سے معذور تھیں لیکن وہ اپنے ضعف و ناتوانی کی رعایت کرنے پر آمادہ نہ ہوتے، جس کی وجہ سے ان کے خدام کو بعض اوقات تشویش ناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا۔

کام ، آرام یا عبادات

ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ تم مومن کو تین چیزوں میں سے کسی ایک بھی مشغول دیکھوگے وہ یا تو اپنی معاش میں لگا ہوا ہوگا، یا عبادت میں مشغول ہوگا ،یا آرام کررہا ہوگا۔ حضرت مولانا کے لمحات زندگی انہی تین حرفوں کی شرح تھے۔ وہ کام، آرام یا عبادت کے سوا کسی چوتھی چیز میں مشغول نہیں ہوتے تھے۔ انہیں فضول مجلس آرائی، گپ تراشی اور تبصرہ بازی سے نفرت تھی۔ خصوصاً حرمین شریفین میں ان کا مجاہدہ بہت بڑھ جاتا تھا اور وہ اس سفر کا ایک ایک لمحہ وصول کرنا چاہتے تھے، راقم الحروف سے ایک بار فرمایا کہ اس سے قطع نظر کہ یہاں کے اوقات بہت قیمتی ہیں، میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم نے اس سفر پر کتنے گرانقدر مصارف برداشت کیے ہیں، ہمارا یہاں کا ایک ایک دن ہزار ہزار روپے میں پڑتاہے۔ اس قدر گراں مصارف اٹھانے کے بعد ان اوقات کو ضائع کرنا کس قدر افسوس ناک حرکت ہے۔

حضرت بنوریؒ سے والہانہ عقیدت ومحبت

انہیں حضرت اقدس سیدی و سندی مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس سرہٗ و نوراللہ مرقدہٗ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی۔ وہ انہیں اپنے شیخ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نوراللہ مرقدہ کا آئینہ سمجھتے تھے اور حضرت بنوری ؒ کی شخصیت میں انہیں اپنے محبوب شیخ ؒ کا سراپا جھلکتا نظر آتا تھا، انہوں نے حضرت بنوری ؒ کی وفات پر ’’نابغۃ العصر‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جو ’’بینات‘‘ کے ’’بنوری‘‘ نمبر میں شامل ہے، اس کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:

حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ میری نظر میں

’’مدرسہ عربیہ اسلامیہ سے تعلق او روابستگی کے ابتدائی کسی سال میں ایک دن اپنی نشست گاہ میں حضرت مولانا ؒ تنہا تشریف فرماتے تھے۔میں کسی سلسلہ میں حاضر تھا، سلسلہ گفتگو تو مجھے یاد نہیں، بہرحال میں نے عرض کیا۔ حضرت میری آپ سے وابستگی کا راز صرف یہ ہے کہ میں آپ کے آئینہ میں اس محبوب ہستی کا عکس دیکھتا ہوں، جس سے مجھے انتہائی محبت ہے، حضرت مولانا یہ سن کر خاموش ہوگئے اور حقیقت ہے کہ میں آپ کی بیشتر مجلسوں میں صرف حضرت شیخ نوراللہ تعالیٰ مرقدہ کی باتیں آپ کی زبان سے سننے کے لیے بیٹھتا تھا، کیوں کہ آپ حضرت شیخ نوراللہ تعالیٰ مرقدہ کی باتوں کا ٹیپ ریکارڈ تھے۔ بالکل اسی انداز اور اسی لب و لہجہ میں بعینہ وہی الفاظ نقل فرماتے تھے جو شیخ کی زبان مبارک سے نکلے ہوتے، بالکل ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ ہی بول رہے ہیں اور جب تک حضرت مولانا شیخ نوراللہ تعالیٰ مرقدہ کی باتیں نقل کرتے رہتے۔ انتہائی محویت اور کیف و سرور کے عالم میں سنتا رہتا اور جب آپ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرتے تو تکدرکے ساتھ بیٹھا رہتا یا اٹھ کر چلا آتا اور جب حضرت مولانا مکان سے آہستہ آہستہ مدرسہ تشریف لاتے اور میں دور سے آپ کو دیکھتا تو بالکل ایسا محسوس ہوتا جیسے حضرت شاہ صاحب خراماں خراماں تشریف لارہے ہیں‘‘۔

’’اسی تعلق کی بنیاد پر جب مولانا عبدالرشید صاحب نعمانی نے جامعہ عباسیہ بہاولپور میں تقرر کے بعد ماہانہ رسالہ بینات کی ادارت سے استعفیٰ دیا اور آئندہ رسالہ پر اپنا نام نہ لکھنے پر اصرار کیا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ’’مدیر مسئول‘‘ کس کو بنائیں، کیوں کہ مدیر مسئول بنانا چاہتے ہیں، جس کا فیصلہ یہ ہو کہ میں مدرسہ سے قبرستان ہی جائوں گا تو میرا نام دے دیجیے۔چناں چہ جب سے رسالہ کا مدیر مسئول میں ہوں، باوجودیکہ ادارت کا تمام کام مولانا محمد یوسف صاحب کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ اور عزم صرف حضرت مولانا بنوری ؒ کی دائمی رفاقت کی بنیاد پر ہی تھا جس کا باعث وہیں اشتیاق دیدار محبوب اور استماع کلام محبوب تھے، مگر افسوس کہ وفات کے مرحلہ پر پہنچ کر میں اس رفاقت کے عزم کو نہ نبھا سکا، وہ چلے گئے اور میں رہ گیا، مگر روزانہ قبر مبارک پر حاضری دیتا ہوں:’’ السلام علیکم یااھل القبور انتم سلفنا‘‘ کے بعد ’’وانا ان شاء اللہ بکم للاحقون‘‘ اسی امید پر کہتا ہوں کہ اللہ نے فضل و کرم سے آخرت میں پھر یہ رفاقت نصیب ہو۔ باقی یہ عہد بدستور ہے کہ زندگی بھر حضرت مولانا بنوری ؒ کی یادگار مدرسہ عربیہ اسلامیہ کو سینے سے لگائے رہوں گا اور مدرسہ کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ کام نہ کروں گا۔ اگرچہ وہاں دنیاوی منافع کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو‘‘۔

’’اپنا یہی عہد میں نے تیسرے یا چوتھے سال مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب بانی ندوۃ المصنفین دہلی کے سامنے دہرایا تھا جب کہ حضرت مولانا آخری عشرئہ رمضان میں مسجد نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں معتکف تھے اور مفتی عتیق الرحمن صاحب ان سے ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے اور اطلاع ملنے پر میں حاضر ہوا تھا اور مفتی صاحب نے (نہ معلوم کیوں) مجھ سے مولانا کے سامنے دریافت کیا: ’’آپ مولانا کے مدرسہ میں مطمئن ہیں؟‘‘ تو میں نے عرض کیا۔ ’’نہ صرف مطمئن بلکہ میں نے تو حضرت مولانا سے عرض کیا ہے کہ میں مدرسہ عربیہ سے بس قبرستان ہی جائوں گا‘‘ ،میرا جواب موصوف نے کچھ عجیب حیرانی سے سنا، اس کے بعد میں اپنی جگہ پر جا بیٹھا‘‘۔

مولانا میرٹھی ؒ:ناکارہ کے کراچی آنے اوربینات میں تقررکا ذریعہ

احسان ناشناسی ہوگی اگر یہ ذکر نہ کروں کہ حضرت مولانا مرحوم اس ناکارہ کے عظیم محسن تھے کیوں کہ اس ناکارہ کے کراچی آنے کا ذریعہ وہی بنے تھے۔ یہ ۸۶-۱۳۸۵ھ کا قصہ ہے، یہ ناکارہ مدرسہ احیاء العلوم، ماموں کانجن ضلع لائل پور میں مدرس تھا، ان دنوں ڈاکٹر فضل الرحمن کے فتنہ تجدد کا غلغلہ تھا، ماہنامہ ’’بینات‘‘ اس تجدد کے اژدھا کا سر کچلنے کے لیے تابڑ توڑ ضربیں لگارہا تھا۔ میں نے بھی اس موضوع پر بینات میں شائع شدہ فضل الرحمانی اقتباسات کی مدد سے ایک مقالہ تیار کیا، جس کا عنوان تھا: ’’ڈاکٹر فضل الرحمن اور ان کے تحقیقاتی فلسفہ کے بنیادی اصول‘‘، اس مقالہ کی دو نقلیں تیار کیں، ایک برادرم مولانا سمیع الحق صاحب زید مجدہ مدیر ’’الحق‘‘ کو اشاعت کے لیے بھیج دی، اور دوسری حضرت مولانا مرحوم کی خدمت میں اس نوٹ کے ساتھ بھیجی کہ ’’اس مقالہ کو ’’بینات‘‘ میں چھپوانا مطلوب نہیں، چونکہ اس میں بعض نازک مسائل اور نازک تعبیرات آئی ہیں اس لیے اس کو ملاحظہ فرما لیجیے اور جہاں کوئی چیز اصلاح طلب نظر آئے اس کی اصلاح فرما کر اسے واپس کردیجیے، کسی پرچے میں چھپ جائے گا‘‘، میرے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں ہوا کہ یہ مضمون ’’بینات‘‘ میں شائع ہوجائے گا، میں اپنے آپ کو اس لائق نہیں سمجھتا تھا کہ میری تحریر ’’بینات‘‘ میں شائع ہوسکے۔

مولانا مرحوم نے اس مقالہ کو ملاحظہ فرمایا تو غالباً یہ خیال فرمایا کہ ’’ایں ہم بچۂ شتراست‘‘۔ حضرت اقدس بنوری نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں انہوں نے نہ جانے کیا کہا کہ چند دن بعد حضرت بنوری ؒ کا گرامی نامہ اس ناکارہ کے نام موصول ہوا کہ تمہارا مضمون ’’بینات‘‘ میں شائع کیا جارہا ہے، ہماری خواہش ہے کہ تم رمضان المبارک ہمارے پاس گزارو، اور اگر یہ تعلق مستقل مستقل ہوجائے تو بہت اچھا ہے۔

یہ اس ناکارہ کے ’’بینات ‘‘ سے تعلق کی ابتدا تھی، جس کی تحریک حضرت مولانا مرحوم نے فرمائی اور یہ حضرت مولانا مرحوم کا اس ناکارہ کی گردن پر وہ احسان ہے، جس کے تشکر سے کبھی عہد برا نہیں ہوسکتا۔

مولانا میرٹھیؒ کے میرے نام دو کارڈ

اس ضمن میں حضرت مولانا مرحوم کے دو کارڈ اس ناکارہ کے پاس محفوظ چلے آتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد مدیر بینات کی یہ امانت ’’بینات‘‘ کے سپرد کرتا ہوں:

(۱)
از دفتر رسالہ بینات کراچی
۲۵ ؍اگست۱۹۶۶ء
محترمی کثر اللہ خیرکم
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہٗ

’’مقالہ‘‘موصول ہوا (۱)، بہت خوب ہے، میں خاص طور پر شکرگذار ہوں اس لیے کہ آپ کے لیے توجہ دلانے کے باوجود (۲) میں ’’فضل الرحمانیات‘‘ کے لیے انتہائی کوشش کے باوجود وقت نہیں نکال سکا تھا جزاکم اللہ خیراً۔آپ نے اس ضرورت کو پورا کردیا۔

اب لگے ہاتھوں اتنا اور کیجیے کہ ماہنامہ ’’فکر و نظر‘‘ کے سہ سالہ تمام پرچے سامنے رکھ کر(۳) ایک فہرست بنایے کہ اب تک ادارہ تحقیقات اسلامی کے اس ترجمان ماہنامہ ’’فکر و نظر ‘‘ میں کن کن عنوانات پر کن کن اہل قلم نے خامہ فرسائی کی ہے اور کس کس طریق پر دین کو مسخ کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان رکھیے ’’ادارہ تحقیقات اسلامی کی اسلامی تحقیقات‘‘ یا ’’ادارہ تحقیقات اسلامی کے اسلامی شاہ کار‘‘۔ یہ فہرست مضمون نگاروں کے نام سے بنایے، مثلاً رفیع اللہ قریشی نے کن کن عنوانات پر مضمون لکھے اور کس طرح مسخ و تحریف کی، اور عمر احمد عثمانی نے کن عنوانات پر، علیٰ ہذا القیاس۔ اور نیت یہ رکھیے کہ اللہ تعالیٰ یا تو صحیح معنی میں اس ادارہ کو اسلامی ادارہ بنادیں (۴) ورنہ اس کو غرق فرمادیں، اس لیے کہ آنے والی نسل کے لیے یہ ادارہ انتہائی خطرناک مواد فراہم کررہا ہے۔

آپ کا یہ مضمون رسالہ میں اس طرح شائع ہوگا کہ اس کی سو دو سو کاپیاں رسالہ کے علاوہ پمفلٹ کی شکل میں تیار کرالی جائیں گی۔ اسی طرح مذکورہ بالا مضمون کی۔ اور ان کو حسب ضرورت ملک میں تقسیم کیا جائے گا۔اس سلسلے میں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے لکھئے۔ خاص طور پر اگر فل اسکیپ سائز رول دار کاغذماموں کانجن میں نہ ملتا ہو تو فوراً لکھئے، میں بھیج دوں گا۔

والسلام
خادم محمد ادریس

(۲)
از ادارہ ماہنامہ بینات
مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی نمبر ۵
رجب ۸۶ھ اکتوبر ۶۶ء
عزیز محترم کثر اللہ خیرکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے اور حضرت ہارون کی طرف آپ کو خادم کے ساتھ ’’بینات‘‘ کے ادارت کے لیے شریک کار بنادیا ہے۔
ماہنامہ بینات کے دو مستقل عنوانات اب تک ہم پر قرض ہیں جو ہم اب تک ادا نہیں کرسکے: ایک ’’جواہر حدیث‘‘ دوسرے ’’جواہر قرآن‘‘ (لف و نشر و غیر مرتب) (۵) طے ہوا تھا کہ ہر ماہ چار صفحے ایک عنوان کے لیے اور چار دوسرے عنوان کے لیے آیات قرآن عظیم اور احادیث رسول اللہ ﷺ کا انتخاب عام معاشرہ کی اصلاح کی غرض سے غیراہل علم (علماء) طبقہ کی فہم کے معیار سے کیا جائے۔ حسن انتخاب ظاہر ہے ،ذوق انتخاب پر موقوف ہے۔ میں آپ کو اس کارِخیر کے لیے بہت موزوں پاتا ہوں،میری درخواست ہے کہ ’’بینات‘‘ کے ماہانہ ۸ صفحات کے ذمے دار آپ بن جایے۔ وقتی تقاضوں کے پیش نظر ایک یا چند آیات اسی طرح ایک یا چند احادیث کا انتخاب فرما کر لکھ دیا کریں، محض زادِراہ آخرت کی نیت سے۔

ازراہِ کرم ’’بینات‘‘ کے تین چار ماہ قبل کے شمارے اٹھا کر دیکھئے، جواہر حدیث کے عنوان سے اخلاق النبی ﷺ سے متصل، کبھی پہلے، کبھی بعد، یہ انتخاب مولانا محمد طاسین ناظم مجلس علمی کراچی کے نام سے شائع ہوا ہے، وہی انداز بہت مناسب ہے۔ مولانا نے ’’بینات‘‘ کے خادموں سے ناراض ہوکر اس سلسلہ کو بند کردیا ہے۔ میں ہمہ وقت کی مصروفیت کے باوجود اس زادِراہ کے لیے وقت نہ نکال سکا اور تین چار ماہ سے یہ سلسلہ بند ہے۔ آپ جہاں بھی ہوں، ماموں کانجن یا ملتان یا کراچی یا حرمین شریفین میں (اللہ تعالیٰ آپ کو بلالیں، آمین) یہ عنوان اپنے ذمے سمجھیں۔ اگر کسی زمانے میں زیادہ فرصت نصیب ہو تو چند ماہ کے لیے اکٹھا لکھ دیں اور تجزیہ کردیں ورنہ ماہ بماہ بھیجتے رہیں۔
آخر میں پھر بارگاہ رب العزت میں دعا کرتا ہوں:

رب اشددبہ ازری واشرکہ فی امری کی نسبحک کثیرًا ونذکرک کثیرًا انک کنت بنا بصیرًا

دل کہہ رہا ہے کہ دعا ضرور قبول ہوگی اور جواب آئے گا:

قد اوتیت سؤلک یاادریس ، اللھم تقبل منی انک انت السمیع الدعا۔ (۶)

والسلام
خادم محمد ادریس

مولانا میرٹھیؒ کی وفات

اس دنیا سے رخصت ہونے والوں کے ساتھ رب کریم کا معاملہ کیا ہوتا ہے؟ اس کو تو وہ علیم و خبیر ہی جانتا ہے، لیکن بعض آثار و قرائن اور علامات سے کچھ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کریم مالک نے رحمت و عفو کا معاملہ فرمایا ہوگا۔

حضرت مولانا مرحوم کی وفات بھی اچھی علامات کا مظہر تھی، ۲۵ جمادی الاخریٰ جمعرات کی صبح کو طبیعت زیادہ ناساز تھی۔ اس لیے نماز فجر کے لیے تشریف نہیں لاسکے۔ گھر ہی پر نماز پڑھی۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا، انہوں نے آرام کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد سوانوبجے جلالین شریف کے درس کے لیے نیچے تشریف لائے اور فرمایا کہ ڈاکٹر نے تو منع کیا تھا، مگر میرا جی چاہا کہ سبق پڑھالوں۔ سورئہ مطففین کے نصف ان الابرار لفی نعیم سے آخر سورہ تک کا درس دیا اور اوپر تشریف لے گئے۔ یہ ان کا آخری درس تھا۔ صحیح مسلم شریف کا ایک سبق باقی تھا جو بعد میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب مدظلہ العالی نے پورا کرایا۔ ۱۱ بجے کے قریب غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوئی، تیمارداروں نے خیال کیا کہ چونکہ رات نیند نہیں ہوسکی تھی، اس لیے سونا چاہتے ہیں۔ اسی دوران ڈاکٹر صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے دیکھ کر فرمایا کہ آخرت وقت ہے۔ چنانچہ پونے بارہ بجے روح پرواز کر گئی اور نوے سال کا تھکا ماندہ مسافر آرام سے ابدی نیند سوگیا۔

یاایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی

تجہیز و تکفین کے بعد عصر و مغرب کے درمیان جنازہ زیارت کے لیے دارالحدیث میں رکھا گیا، چہرئہ مبارک نہایت روشن اور سفید تھا جو سفید کفن میں بے حدپرنورلگ رہا تھا۔ مغرب کے بعد حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن مدظلہ العالی نے نمازِ جناز پڑھائی اور دارالعلوم کورنگی میں تدفین عمل میں آئی۔

صد شکر کہ آپہنچا لب گور جنازہ
لو بحرِ محبت کا کنارہ نظر آیا

حق تعالیٰ شانہ ٗ اپنے اس مخلص بندے سے رحمت و عنایت کا خاص معاملہ فرمائیں۔ ان کی زلاّت اور لغزشوں کو معاف فرما کر رحمت و رضوان کے درجات عالیہ نصیب فرمائیں۔

اللھم ابدلہ داراً خیراً من دارہ واھلاً خیراً من اھلہ۔ اللھم لاتحرمنا اجرہٗ ولا تفتنا بعدہ، ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غللا للذین امنوا، ربنا انک روف رحیم۔ سبحان ربک رب العزۃ العزۃ عمّا یصفون، وسلامٌ علی المرسلین، والحمدللہ رب العالمین۔

حواشی

(۱)مقالہ سے وہی مضمون مراد ہے جس کا اوپر ذکر ہوا، یعنی ’’ڈاکٹر فضل الرحمن اور ان کے تحقیقاتی فلسفہ کے بنیادی اصول‘‘ یہ مقالہ ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک میں جمادی الاولیٰ ۸۶ھ میں شائع ہوا تھا اور حضرت مولانا مرحوم نے بہت سی پیوندکاری کےبعد اسے بینات جمادی الاخریٰ ۸۶ھ کے ضمیمہ کے طور پر شائع کیا تھا۔

(۲) یہ ناکارہ فضل الرحمانی فتنہ کی مؤثر سرکوبی کے لیے حضرت اقدس بنوری ؒ کو بھی اور حضرت مولانا محمد ادریس ؒ کو بھی خط لکھتا رہتا تھا۔ ان خطوط کی طرف اشارہ ہے۔

(۳) ’’فکر و نظر‘‘ ادارئہ تحقیقات اسلامی کا اردو ماہنامہ تھا، میرے پاس ماموں کانجن میں اس کے پرچے کہاں سے آتے؟ میں نے اپنے مقالہ میں ’’فکر و نظر‘‘ کے حوالے ’’بینات‘‘ ہی سے نقل کیے تھے۔

(۴)حق تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے حضرت مرحوم کی یہ دعا قبول فرمالی، ڈاکٹر فضل الرحمان آنجہانی کو جلد ہی ادارے سے چھٹی مل گئی۔ اس کے بعد اس ادارے کی حالت میں رفتہ رفتہ تبدیلی آئی اور اس نے اچھی اسلامی خدمات انجام دیں۔ اب ادارے میں غلبہ الحمدللہ خوش عقیدہ لوگوں کا ہے۔

(۵) افسوس ہے یہ قرض اب تک باقی ہے ’’بینات‘‘ سے منسلک ہونے کے بعد یہ ناکارہ کوشش کرتا رہا کہ جو حضرات اس کام کے اہل ہیں، وہ اس خدمت جلیلہ کو بجا لائیں، لیکن کوئی بزرگ اس کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ میرے حضرت بنوری ؒ نے فرمایا کہ جواہر حدیث کی جگہ تم خود ہی ترمذی شریف کے ابواب الزہد کا ترجمہ شروع کردو۔ لیکن یہ ناکارہ اس کی جرأت نہ کرسکا۔ حضرت بنوری ؒ کے وصال کے بعد حضرت اقدس سیدی و سندی قطب الاقطاب مولانا الحاج الحافظ محمد زکریا کاندہلوی مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں لکھا کہ یہ خدمت کسی پر محول فرمادیں۔ حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ نے فرمایا کہ میں تمہی کو حکم کرتا ہوں۔ چناں چہ حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ کے حکم پر اس ناکارہ نے یہ سلسلہ شروع کردیا۔ الحمدللہ ابواب الزہد، ابواب صفۃ القیامۃ، ابواب صفۃ الجنۃ اور ابواب صفۃ جہنم مکمل ہوچکے ہیں۔ انشاء اللہ یہ حصہ الگ کتابی شکل میں بھی آرہا ہے اور اب ’’ابواب البرّالصلہ‘‘ کا سلسلہ شروع ہوگا، لیکن شدید خواہش کے باوجود تفسیر قرآن کا سلسلہ شروع کرنے کی یہ ناکارہ اب تک جرأت نہیں کرسکا۔ بعض احباب نے اصرار کیا کہ مسجد میں جو درس قرآن کا سلسلہ جاری ہے، صاف کرکے اسی کو ’’بینات‘‘ میں دے دیا جائے، لیکن اس کی بھی جرأت نہیں ہوئی۔ اگر کسی واجب الاحترام بزرگ نے حکم فرمادیا ہوتاتو تعمیل حکم واجب ہوجاتی۔ ولعل اللہ بحدث بعد ذالک امرًا۔

(۶) حضرت مولانا مرحوم نے خط کے آغاز اور خاتمہ پر جس دعاکا ذکر فرمایا اور اس کی قبولیت کا جزم ظاہر فرمایا۔ واقعی اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمالیا۔یہ خط رجب ۸۶ھ کا لکھا ہوا ہے اور جب کے ختم ہوتے ہی یہ ناکارہ یکم شعبان ۸۶ھ کو ’’بینات‘‘ کی خدمات کے لیے بلالیا گیا۔ ۲۳ سال ہوتے ہیں (شعبان ۸۶ ھ سے شعبان ۱۴۰۹ھ تک) کہ ناکارہ حضرت مولانا کی اس دعا کی برکت سے بحمداللہ اس خدمت میں مشغول ہے۔ حق تعالیٰ شانۂ اپنی رحمت سے حضرت مولانا مرحوم کی دعا کے طفیل بقیہ زندگی بھی اسی میں صرف کرادیں اور محض اپنے لطف و عنایت سے آخرت میں بھی اپنے ان مخلص بندوں کی رفاقت و معیت نصیب فرمادیں۔ امین یارب العالمین۔

1,247 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!