اسلام اور دور حاضر کے شبہات ومغالطے از مفتی محمد تقی عثمانی
Islam aur Daor e Hazir kay Shubhaat o Mughaltay
اسلام اور دور حاضر کے شبہات ومغالطے از مفتی محمد تقی عثمانی
جمع وترتیب: مفتی عمر انور بدخشانی
استاذ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
کتاب کا تعارف اور پس منظر
یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم اور والد محترم حضرت مولانا محمد انور بد خشانی مدظلہ کا علمی ذوق وشوق ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا کتابوں کو ہمیشہ اپنے ارد گرد پایا، اور جب مطالعہ کا کچھ شعور بیدار ہوا تو ابتدائی کتابوں میں ہی جسٹس (ر) حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدہ مجدہ کا معرو ف ومشہور سفر نامہ ’’جہاں دیدہ‘‘ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، حضرت مفتی صاحب زیدہ مجدہ کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں، آپ کی دوسری کتاب جو بہت شوق سے پڑھی اور باربار پڑھی وہ وفیاتی سوانحی خاکوں پر مشتمل ’’نقوش رفتگاں‘‘ تھی، ا س کے بعد ہمیشہ یہ انتظار لگا رہتا کہ آپ کی کوئی نئی تحریر یا نئی کتاب آئے اور اسے فوراً سے پیش تر حاصل کر کے پڑھا جائے، یہ آپ کی تحریروں سے بندہ کی واقفیت کی ابتدا تھی۔
بچپن میں چھٹی کے دن جب کبھی نانا حضرت مولانا نور احمد صاحب رحمہ اللہ (ناظم اول جامعہ دارالعلوم کراچی) کے ہاں جانا ہوتا تو جمعہ کی نماز نعمان مسجد لسبیلہ چوک کراچی میں ادا کرتے، ان دنوں نعمان مسجد میں جمعہ حضرت مفتی صاحب زید مجدہ پڑھایا کرتے تھے، چنانچہ پہلی مرتبہ یہیں آپ کا بیان سننے کا موقع ملا، اس زمانے میں ہر جمعہ کے دن بعد نماز عصر مسجد البیت المکرم گلشن اقبال کراچی میں بھی آپ کا اصلاحی بیان ہوا کرتاتھا، تشنگان علوم ومعرفت دور دور سے بیان سننے کے لئے آتے اور سیراب ہو کر جاتے، کبھی کبھار بندہ کو وہاں بھی شرکت اور استفادہ کی سعادت حاصل ہوجاتی، آپ کے یہی اصلاحی بیانات بعد میں ’’اصلاحی خطبات‘‘ کے نام سے شائع ہونا شروع ہوئے جو اَب اٹھارہ جلدوں پر مشتمل ہیں، تخصص فی الفقہ کے سال ۲۰۰۴ء میں پہلی مرتبہ بندہ کو جمعہ پڑھانے کی سعادت ملی تو ’’اصلاحی خطبات‘‘ سے خطاب جمعہ کی تیاری کی، اس کے بعد جب کبھی جمعہ پڑھانے کی توفیق ملتی تو ’’اصلاحی خطبات‘‘ سے خطاب جمعہ کی تیاری آسان ہوجاتی، نیز آپ کے خطبات سے ہمیشہ خود ذاتی طور پر سب سے زیادہ فائدہ محسوس کیا۔
سن ۲۰۰۷ میں مادر علمی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور اساتذہ کرام زید مجدہم کی طرف سے جامع مسجد قبا گلشن اقبال کراچی میں امامت وخطابت کی ذمہ داری بندہ کے سپرد کی گئی، دروس وخطبات کی تیاری کے لئے دیگر کتب کے ساتھ ساتھ حضرت مفتی صاحب زید مجدہ کی تالیفات وخطبات کا زیادہ انہماک سے مطالعہ واستفادہ کیا، حضرت کی تحریر وخطبات کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ کی تحریرووعظ کا مرکزی مقصد اسلام اور اسلامی نظام زندگی سے متعلق ان غلط فہمیوں، مغالطوں اور شبہات کو پر حکمت انداز سے دور کرنا بھی ہوتا جو اکثر وبیشتر لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں، پڑھنے او ر سننے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
چنانچہ مطالعہ کے دوران جہاں کہیں ایسا مضمون ملتا جس میں حضرت مفتی صاحب زید مجدہ نے دین اسلام، دینی احکام، ور دینی حلقوں سے متعلق شبہات ومغالطے دور فرمائے ہیں بندہ ان کو کمپوز کرتا رہا یہاں تک کہ ایک مجموعہ کی شکل اختیار کر گیا، اس کے بعد دل میں خیال آیا کہ یہ مجموعہ اگر شائع ہوجائے تو سب کے لئے نافع اور مفید ہوگا، ابتدائی مسودہ تیار ہونے کے بعد جب حضرت کی خدمت میں پیش کیا تو الحمدللہ آپ نے اسے پسند فرمایا اور طباعت کی اجازت بھی عنایت فرمائی، اب یہ مجموعہ آپ کے سامنے ہے، واضح رہے کہ یہ مجموعہ حضرت کی تالیفات وخطبات میں بکھرے ہوئے مضامین کا مجموعہ ہے، راقم نے موضوع سے معلق ان مضامین کو جمع کر کے عنوانات کا اضافہ کیا اور ساتھ ہی متعلقہ مضمون کا حوالہ بھی درج کردیا، پیش نظر کتاب کی جمع وترتیب میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا: (۱) مقدمہ آسان ترجمہ قرآن (۲) علوم القرآن (۳)ذکر وفکر
(۴) فقہی مقالات (۵) اصلاحی خطبات ۱۸ جلد (۶)اصلاحی مجالس ۶ جلد
(۷) اسلام اور سیاسی نظر یات (۸) تقلید کی شرعی حیثیت (۹) خطبات عثمانی ۳ جلد
اس کتاب کا پس منظر تو بیان کردیا، لیکن جہاں تک اس کے مضامین کا تعلق ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مرادف ہے، کتاب کی طوالت کے پیش نظر کچھ مضامین شامل کرنے سے رہ گئے جسے ان شاء اللہ آئندہ اشاعت میں منظر عام پر لایا جائے گا۔
استاذ محترم حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری مدظلہ کا شکر گذار ہوں کہ انہوںنے اس مجموعہ کی تیاری میں اپنی توجہات، سر پرستی اور مفید مشوروں کے ساتھ ساتھ اس کا نام بھی تجویز فرمایا، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب زید مجدہ کی زندگی میں برکت عطا فرمائے، ان کا سایہ تادیر ہم قائم رکھے، اور اس مجموعہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے، آمین۔
عمر انور بدخشانی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
شب نصف شعبان ۱۴۳۵ھ
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ کے تاثرات
الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد
بندے کی تالیفات اور خطبات سے مختلف موضوعات پر متعدد حضرات نے کئی مجموعے مرتب کرکے شائع کئے ہیں، زیر نظر کتاب بھی اسی قسم کا ایک مجموعہ ہے جو عزیزم مولانا محمد عمر انور صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے ایک اچھوتے انداز میں مرتب فرمایا ہے، او ر اس کا موضوع وہ شبہات اور غلط فہمیاں ہیں جو دین سے متعلق عام طور سے لوگوں کے ذہنوں میں پائی جاتی ہیں، ان میں وہ شکوک وشبہات بھی ہیں جو دین کے کسی حکم سے متعلق ہیں، اور وہ غلط فہمیاں بھی ہیں جو دین کے نام سے لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں، اور وہ اعتراضات بھی ہیں جو دینی حلقوں پر عموماً کئے جاتے ہیں۔
فاضل مرتب نے ان شبہات اور مغالطوں کے بارے میں بندے کی متعدد تالیفات اورخطبات سے مضامین محنت سے تلاش کئے اور انہیں حسن ترتیب کے ساتھ عنوانات کے تحت جمع کردیا، ان مضامین کے بارے میں کچھ کہنا میرا منصب نہیں کہ یہ میرے ہی مضامین ہیں، لیکن جس جذبے اور محنت سے ان کو مرتب شکل میں جمع کیا گیا ہے وہ فاضل مرتب سلمہ کے ذوق کا آئینہ دار ہے، اگر ان مضامین میں کوئی بات نفع بخش ہے تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی توفیق سے ہے، اور اگر کوئی بات غلط ہے تو وہ میری غلطی ہے، لیکن امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ مجموعہ بہت سے معاملات میں شکوک کے کانٹے دل سے نکالنے میں معاون ہوگا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ عزیز موصوف کے علم وعمل اور خدمات دینیہ میں برکت عطا فرمائیں، انہیں حسن توفیق سے نوازیں اور ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول عطا فرمائیں آمین، والسلام
بندہ محمد تقی عثمانی
۱۲۔۸۔۱۴۳۵ھ