Sample Page

Can Sadaqatul Fitr be Given in Ramadaan Before Eid ul Fitr?

Question

Is it permissible to give Sadaqatul fitr during Ramadan or is it necessary to give it only on the day of Eid-ul-Fitr?

Answer

It should be noted that sadaqatul fitr become obligatory on the day of Eid ul Fitr when suhoor ends and Fajr comes, it must be paid before going for Eid prayers.
If it is not paid, then it has to be paid later, but paying it later will destroy the virtue of this charity. Also, it is makrooh to delay it after the Eid ul Fitr prayers considering the need of the poor. It can also be given in the beginning of Ramadan, as mentioned in the hadiths of some of the Companions of the prophet Muhammad (peace be upon him) to give Sadaqatul Fitr before Eid.

Hazrat Ibn e Umar (may Allah be pleased with him) would give it to those who accepts it and they (some of the Companions of Prophet peace be upon them) used to give sadaqatul fitr one or two days before Eid.

وكان ابن عمر رضي الله عنهما يعطيها الذين يقبلونها، وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين. صحيح البخاري، ۲/۱۳۲، دار طوق النجاة

وجهه أن الوجوب إن لم يثبت فقد وجد سبب الوجوب وهو رأس يمونه ويلي عليه، والتعجيل بعد وجود السبب جائز كتعجيل الزكاة، والعشور وكفارة القتل. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ۲/۷۴، دار الکتب العلمیة

والأولى الاستدلال بحديث البخاري: وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين. قال في الفتح: وهذا مما لايخفى على النبي صلى الله عليه وسلم، بل لا بد من كونه بإذن سابق؛ فإن الإسقاط قبل الوجوب مما لايعقل، فلم يكونوا يقدمون عليه إلا بسمع. فتاوی شامی، ۲/۳۶۷، سعید

Allah Knows the best.

1,391 Views

Why is it Compulsory to Give Sadaqatul Fitr for a Minor?

Question

If a minor child does not have nisaab (required wealth) why is it obligatory to give Sadaqatul fitr on his behalf?

Answer

If a minor child have wealth and he is the owner of it although zakaat is not obligatory for him but he has to give sadqa ul Fitr.
It is not necessary for him to be an adult or sane to give sadaqatul fitr if the minor have nisaab it should be given from his wealth but if he does not have nisaab and his father is the owner of nisaab (wealth) it is obligatory on the father to give sadaqatul fitr on behalf of himself and his minor children. If children are the owner of nisaab the father can give Sadaqatul fitr from their nisaab. The prophet Mohammad (peace and blessings of Allah upon him) commanded that every free man slave young or old should pay sadaqatul fitr as it is declared obligatory.

“عن ابن عمر قال : فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة”. مشکاۃ المصابیح

“عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ فَقَالَ: « أَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ وَصَغِيرٍ وَكَبِيرٍ”. دار قطني زكاة الفطر ۲۱۴۱

“ويخرج عن، أولاده الصغار وإذا كانوا فقراء لقوله صلى الله عليه وسلم: «أدوا عن كل صغير وكبير». ولأن نفقتهم واجبة على الأب وولاية الأب عليهم تامة”. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 2/ 71

“(على كل) حر (مسلم) ولو صغيراً مجنوناً، حتى لو لم يخرجها وليهما وجب الأداء بعد البلوغ (ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم) كما مر.
(قوله: ولو صغيراً مجنوناً) في بعض النسخ: أو مجنونا بالعطف بأو وفي بعضها بالواو، وهذا لو كان لهما مال، قال في البدائع.
وأما العقل والبلوغ فليسا من شرائط الوجوب في قول أبي حنيفة وأبي يوسف، حتى تجب على الصبي والمجنون إذا كان لهما مال ويخرجها الولي من مالهما، وقال محمد وزفر: لاتجب فيضمنها الأب والوصي لو أدياها من مالهما اهـ وكما تجب فطرتهما تجب فطرة رقيقهما من مالهما، كما في الهندية والبحر عن الظهيرية. (قوله: حتى لو لم يخرجها وليهما) أي من مالهما. ففي البدائع أن الصبي الغني إذا لم يخرج وليه عنه فعلى أصل أبي حنيفة وأبي يوسف أنه يلزمه الأداء؛ لأنه يقدر عليه بعد البلوغ. اهـ.قلت: فلو كانا فقيرين لم تجب عليهما بل على من يمونهما كما يأتي. والظاهر أنه لو لم يؤدها عنهما من ماله لا يلزمهما الأداء بعد البلوغ والإفاقة لعدم الوجوب عليهما”. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 2/ 359

Allah Knows the best.

1,359 Views

Zakat Applicable on Gold Kept in a Bank

Question

Is there Zakat on gold kept in a bank?

Answer

Whether the gold is for investment or for use, in the form of jewelry kept in a bank locker, Zakaat is obligatory on gold in all cases.
If the gold kept in the bank alone is equal to the Nisaab (ie seven and a half tola 87.479 grams or more) or the gold kept in the bank is less than seven and a half tola but other goods i.e. silver, cash or merchandise reaches the price of 52 tola (or 612.35 grams) silver then zakaat is obligatory on it annually. Two and a half percent of the total value will be deducted as zakaat.

Allah Knows the best.

1,735 Views

النبی الخاتم ﷺ

النبی الخاتم ﷺ

مولانا سید مناظر احسن گیلانی
(پہلی بار مشکل الفاظ کے معانی اور مفید حاشیہ کے ساتھ)
تدوین وحواشی: مفتی عمر انور بدخشانی

کتاب کا تعارف

النبی الخاتم سیرت رسول ﷺ کے موضوع پر اپنے انداز کی ایک منفرد،  نادر اور مشہور کتاب ہے ، اکابر اہل علم کی زبانی اس کا تعارف اور خصوصیات نیچے آپ ملاحظہ فرمالیں گے ، مختلف ادوار میں تحریر کیے جانے والے ان تاثرات میں دو باتیں یکساں طور پر مشترک ہیں

مولانا گیلانیؒ نے واقعات سیرت اس انداز سے بیان  کیے ہیں کہ ان سے قاری کا ذہن خود بخود عظیم الشان نتائج نکالتا چلا جاتا ہے ، اس طرح اس  مختصر سی کتاب میں علوم معارف کے دریا بند ہیں۔

دوسری بات یہ کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والا دل کی دنیا میں بیٹھ کر عشق کی کیفیت کے ساتھ ایک عجیب انداز سے لکھ رہا ہے ، اس کتاب کا مطالعہ کرکے واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ مولانا گیلانیؒ قلم کے بادشاہ تھے ۔

سیرت رسول کی مشہور یہ کتاب اپنے مخصوص ادبی اسلوب، الفاظ کی ندرت اور اختصار کی وجہ سے ایک عام قاری کے لیے کافی مشکل تھی ، کچھ عرصہ قبل زمزم پبلشرز کے روح رواں محترمی مولانا رفیق عبد المجید صاحب زیدہ مجدہ نے فرمائش کی کہ بیرون ملک کے اردو دان طبقے کی طرف سے اصرار ہے کہ اس معروف ومشہور کتاب کو آسان انداز میں پیش کیا جائے تاکہ اس سے استفادہ عام ہوسکے، چنانچہ ان کی خواہش پر یہ کتاب درج ذیل خصوصیات کے ساتھ پیش خدمت ہے ۔

کتاب کے متن میں موجود مشکل الفاظ کے معانی کو قوسین میں اس انداز سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مولانا گیلانیؒ کی تحریر متاثر نہ ہو ، پڑھنے والے کی روانی میں بھی خلل نہ آئے اور اس علمی وادبی شاہکار کتاب کا حقیقی حسن بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔

مولانا گیلانی نے گذشتہ مذاہب، تاریخی واقعات و حوادث اور شخصیات کی طرف جا بجا اشارات وکنایات سے کام لیا ہے ، حاشیہ میں ان کی وضاحت بھی کردی گئی ہے ، اضافہ شدہ حواشی کے آخر میں امتیاز کے لیے بطور علامت م ۔ ع ۔ ا درج ہے ۔

کتاب کی تصحیح قدیم نسخوں کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے ، موجودہ مطبوعہ نسخوں میں ایسی غلطیاں بکثرت موجود تھیں جس سے معنی کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں ، مثال کے طور پر موجودہ تمام نسخوں میں ہے ’’ہے کوئی مؤید! جو کوئی پوچھنے والوں کی تسلی دوسروں کی شہادتوں سے نہیں‘‘ جبکہ صحیح یوں ہے ’’ہے کوئی موبّد! (پارسیوں کا مذہبی پیشوا) جو پوچھنے والوں کی تسلی دوسروں کی شہادتوں سے نہیں‘‘۔ یہ اور اس جیسی دیگر کئی غلطیوں کی اصلاح کردی گئی ہے ۔

آغاز کتاب میں قارئین کی دل چسپی کے لیے ’’النبی الخاتم‘‘ کے بارے میں بعض اکابر اہل علم وتحقیق کے ذاتی احساسات وتاثرات کو بھی شامل کیا گیا ہے جن سے اس کتاب کی اہمیت، افادیت اور وقعت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، سرورق پر کتاب کا نام مشہور خطاط سید انیس الحسینی مرحوم کا لکھا ہوا ہے جس کے لیے میں محترمی جناب فیصل صاحب الفیصل لاہور کا بے حد ممنون ہوں، دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ، آمین۔

 ۱۴۳۲ عمر انور بدخشانی،۲۷ رجب

النبی الخاتم پر حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کے تأثرات

مولانا گیلانیؒ کی تصنیفات میں سے غالبا سب سے پہلے ’’النبی الخاتم‘‘ پڑھی، کتاب عجیب البیلے انداز میں لکھی گئی ہے ، صحف سماوی کا انداز بیان، خطیبوں کا جوش وبرجستگی، عشاق کی مستگی اور وارفتگی، عقل وجذب کی لطیف آمیزش، حسب معمول معمولی اور مشہور واقعات سے لطیف نکتے اور عظیم نتیجے نکالتے چلے جاتے ہیں اور وہ اس سرعت وکثرت کے ساتھ کہ پڑھنے والا مصنف سے شکایت کرنے لگتا ہے کہ دامان نگہ تنگ وگل حسن تو بسیار

میں نے اپنی ساری عمر میں سیرت نبوی میں ’’رحمۃ للعالمین‘‘ اور ’’النبی الخاتم‘‘ سے زیادہ مؤثر کتاب نہیں پڑھی ، کتاب پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف علم وانشاء پردازی کی کرشمہ سازی نہیں ہے ، اس کے اندر ان کا سوز دروں اور خون جگر بھی شامل ہے اور واقعہ یہی ہے کہ :

رنگ ہو یاخشت وسنگ، چنگ ہو یا حرف وصوت

معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود

ان سے جب زیادہ ملنا ہوا اور کچھ دن ساتھ رہنا ہوا تو اس حقیقت کی تصدیق ہوئی اور حیدر آباد کے قیام میں خود انہوں نے اپنے بعض واقعات سنائے جن سے بارگاہ رسالت سے خصوصی تعلق ومناسبت اور اس کتاب کی مقبولیت و تاثیر کا راز معلوم ہوا۔

الفرقان لکھنو، افادات گیلانی نمبر ۱۹۵۷، پرانے چراغ جلد ۱، صفحہ ۶۷

النبی الخاتم پر علامہ سید سلیمان ندویؒ کا تبصرہ

النبی الخاتم ایک گلدستہ عقیدت ہے جسے مولانا مناظر احسن کے عقیدت مند قلم نے سجایا ہے ، اس میں مولانا نے اپنے خاص والہانہ رنگ میں سیرت پاک کے واقعات کو ایک خاص انداز وترتیب کے ساتھ پیش کرکے نہایت لطیف نتائج پیدا کیے ہیں، اس حیثیت سے یہ اپنے طرز میں منفرد ہے کہ تاریخی واقعات کو وارفتگی بیان کے ساتھ اس طرح نبھایا گیا ہے کہ ناقد مؤرخین اور ارباب وجد وحال دونوں اپنے اپنے ذوق کے مطابق لطف اٹھا سکتے ہیں ، زبان صاف وسادہ لیکن صنائع لفظی سے مالا مال ہے ۔

ماہنامہ معارف، اعظم گڑھ، اپریل 1957

النبی الخاتم پر جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے تاثرات

مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی لکھی ہوئی یہ انوکھی سیرت اب پڑھے لکھے طبقے میں تعارف کی محتاج نہیں رہی ، خود راقم الحروف نے اسے بار بار پڑھا اور ہر بار نیا لطف محسوس کیا ہے ، سیرت طیبہ کے اہم واقعات کا ایک نقشہ پہلے سے ذہن میں موجود ہو تو اس کتاب کے مطالعے کا صحیح لطف آتا ہے ، مولانا نے واقعات اس انداز سے بیان کیے ہیں کہ ان سے قاری کا ذہن خود بخود عظیم الشان نتائج نکالتا جاتا ہے ، اس طرح اس مختصر سی کتاب میں علوم ومعارف کے دریا بند ہیں ، ایک مثال ’’جن پر تلوار چلائی گئی وہ نہیں، بلکہ جنہوں نے تلوار چلائی ، انہوں نے مسلمان ہوکر ان جھوٹوں کو جھٹلایا ، جنہوں نے بازاروں میں پھیلایا تھا کہ جو کچھ پھیلایا گیا تلوار کے زور سے پھیلاگیا‘‘۔

اور زبان کی روانی ، شوکت اور جوش وخروش کا تو یہ عالم ہے کہ بار بار پڑھ کر بھی طبیعت سیر نہیں ہوتی، کتاب کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ’’یوں آنے کو تو سب ہی آئے، سب میں آئے ، سب جگہ آئے، سلام ہو ان پر کہ بڑی کٹھن گھڑیوں میں آئے ، لیکن کیا کیجیے ان میں جو بھی آیا جانے کے لیے آیا، پر ایک اور صرف ایک ، جو آیا اور آنے ہی کے لیے آیا، وہی جو آنے کے بعد پھر کبھی نہیں ڈوبا، چمکا اور چمکتا ہی چلا جارہا ہے، بڑھا اور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ، چڑھا اور چڑھتا ہی چلا جارہا ہے، جو پچھلوں میں بھی اس طرح ہے جس طرح پہلوں میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ الخ

پوری کتاب کا انداز یہی ہے ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری کتاب ایک ہی نشست اور دھن میں لکھ دی گئی ہے ، پھر اس اسلوب بیان کے ساتھ صرف سیرت ہی کے نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی بڑی علمی بحثیں چھیڑی گئی ہیں ، بلا شبہ یہ کتاب اردو کے علمی و ادبی ذخیرے کی ایک قیمتی متاع ہے ۔

ماہنامہ البلاغ ، ذیقعدہ ۱۳۸۸ 

النبی الخاتم پر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحبؒ کا تبصرہ

سیرت نگاری میں ایک نیا اسلوب جو بیسویں صدی میں پیدا ہوا وہ سیرت کا ادیبانہ اسلوب تھا، ہمارے دور میں یہ انداز شروع ہوا اور اردو کے علاوہ خود عربی میں بھی اس انداز کی کتابیں لکھی گئیں، اس موضوع پر سب سے دل چسپ اور البیلی کتاب جو ادبی انداز سیرت کا بہت عمدہ نمونہ ہے وہ برصغیر کے ایک بزرگ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی ایک کتاب ہے ، مولانا نے ’’النبی الخاتم‘‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب لکھی تھی ، اس میں نہ واقعات میں کوئی ترتیب ہے ، نہ بظاہر اس میں کوئی نئی تحقیق ہے ، لیکن پڑھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا لکھنے والا دل کی دنیا میں بیٹھ کر ایک عجیب انداز سے لکھ رہا ہے ۔

محاضرات سیرت، صفحہ ۶۸۹

4,782 Views

خلاصہ مضامین قرآنی قرآن کریم کے مضامین کا ترتیب وار خلاصہ

مستند خلاصہ مضامین قرآنی
تالیف: مولانا سلیم الدین شمسی

جمع وترتیب: مفتی عمر انور بدخشانی
تصدیق وپسند فرمودہ: مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد ولی حسن ٹونکی صاحبؒ
حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحبؒ

کتاب کا تعارف

ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ قرآن کریم کی صحیح تلاوت ، سمجھے اور اس پر عمل کرے، چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے منتخب بندوں سے مختلف صورتوں میں تفسیر وتشریح کے ذریعہ اس کی خوب خدمت لی اور ان شاء اللہ تا روز قیامت اس کی خدمت ہوتی رہے گی ، اللہ کے انہی خاص بندوں میں سے مولانا سلیم الدین شمسی بھی ہیں ، جنہوں نے زیر نظر کتاب میں پورے قرآن کریم کا خلاصہ انتہائی آسان اسلوب اور شستہ زبان میں رکوع وار بیان کردیا ہے۔

خلاصہ مضامین قرآنی طبع جدید کے ساتھ پیش خدمت ہے نئی طبع میں کتاب کی ترتیب وتنسیق میں چند اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں ، اس عنوان سے کتب خانوں میں کئی کتابیں موجود ہیں، لیکن اس کتاب کی نمایاں انفرادیت اور خاصیت یہ ہے کہ بر صغیر پاک وہند کے جید اکابر مفتیان عظام وعلماء کرام نے اس خلاصہ قرآن کی نظر ثانی فرماکر اس کی تصحیح وتصدیق فرمائی، کتاب کے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ان کے نام یہاں درج کیے جارہے ہیں

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد ولی حسن ٹونکی صاحبؒ

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحبؒ

حضرت مولانا محمد متین خطیب صاحبؒ خطیب وناظم جامعہ دار العلوم کراچی

حضرت مولانا حامد علی صاحبؒ ناظم تعلیمات جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی

اسی طرح حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ نے بھی اس کتاب کی نظر ثانی کرکے اطمینان کا اظہار فرمایا جیسا کہ مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنی تقریظ میں لکھا ہے۔

اس موضوع پر مستند کتاب کی کافی قلت محسوس کی جارہی تھی ، اگرچہ  خلاصہ قرآن کے موضوع پر دیگر کتب بھی موجود ہیں، لیکن وہ صرف اور صرف علماء کے لیے ہیں ، عوام کا ان سے استفادہ کرنا انتہائی دشوار ہے ، راقم نے اس کتاب سے استفادے میں آسانی کے لیے کچھ اضافات کیے ہیں ، مثلا ہر رکوع رکوع کے شروع میں اس رکوع کی پہلی آیت شامل کردی ہے ، نیز بعض جگہ بہت اختصار تھا وہاں پر بھی اضافہ کردیا گیا ہے ،  اس نئی اشاعت میں کتاب کے آغاز میں حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ کے مقدمہ تفسیر سے قیمتی مضمون ’’تفسیر قرآن کے بارے میں ایک شدید غلط فہمی‘‘ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے ، تاکہ بڑھتے ہوئے فتنوں کے اس دور میں خلاصہ قرآن اور اس جیسی دیگر کتب کے مطالعہ سے صحیح استفادہ کیا جاسکے، دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آمین۔

عمر انور بدخشانی ، جمادی الاخری ۱۴۳۲

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے تاثرات

قرآن کریم کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کرانے کی ضرورت کسی مسلمان سے مخفی نہیں ، مگر یہ کام جس قدر ضروری اور اہم ہے اسی قدر احتیاط کا متقاضی ہے ، دنیا کی دوسری کتابوں کی طرح نہیں کہ اس کا جو مفہم جس کا جی چاہے بیان کرے ، یا اس کا خلاصہ مضمون نکال کر اس کو قرآن کی طرف منسوب کردے ، مولانا سلیم الدین صاحب شمسی نے ایک خاص انداز میں خلاصہ مضامین قرآنیہ کو جمع فرمایا، مجھے اس پر کلمات تقریظ لکھنے کی فرمائش کی ، احقر نے اپنی قلت فرصت کے سبب دار العلوم کراچی کے دو مدرس مولانا رشید احمد صاحب اور مولانا سلیم اللہ خان صاحب کو سپرد کیا اور ان حضرات نے اس کا مطالعہ کرکے بتلایا کہ اس تعارف مضمون میں کوئی بات ایسی نہیں پائی جو مفہوم قرآنی کے خلاف ہو ، اس سے اطمینان ہوا، لیکن اس کے ساتھ پڑھنے سننے والوں کویہ ہر وقت ملحوظ رہنا چاہیے کہ نہ یہ قرآن کا ترجمہ ہے نہ تفسیر کہ جس کے ذریعہ قرآن کے احکام اور معارف کو سمجھا جاسکے، بلکہ اس کا مقصد خود مصنف سلمہ کی تحریر کے مطابق یہ ہے کہ ’’زیر نظر خلاصہ قرآنی مضامین کا ایک مختصر تعارف ہے جو کم سے کم وقت میں قرآن مجید کے بعض طرز خطاب سے متعارف کرنے کا ایک ذریعہ ہے ، اس کو مطالعہ کرنے کے بعد قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنا ایک مبتدی کے لیے آسان ہوجاتا ہے ۔

اس مقصد کے لیے بلاشبہ یہ تعارف مضامین یا فہرست مضامین قرآنیہ ایک نہایت مفید کتاب ہے ، شرط یہ ہے کہ اس کو اسی کے مقام پر رکھا جائے ، غلو نہ کیا جائے ، دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کو نافع ومفید اور مقبول بنائے۔

بندہ : محمد شفیع عفی عنہ ، ۲ ربیع الاول۱۳۸۲

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحبؒ کے تاثرات

مولانا سلیم الدین شمسی کی تالیف تعارف مضامین قرآن کا جستہ جستہ مقامات سے دیکھنے کا موقعہ ملا، مولانا کا مقصد اس تالیف سے یہ ہے کہ قرآن کریم کے مضامین کا ایک مختصر سا تعارف اپنی بساط کے موافق لوگوں کے سامنے پیش کردیا جائے ، تاکہ لوگ مفہوم القرآن جیسی ملحدانہ کتابوں کے مقابلہ میں قرآن کریم کے صحیح مفہوم تک پہنچنے کی کوشش کریں ، کتاب ان شاء اللہ ایک حد تک مفید رہے گی ، بشرطیکہ اس کو اسی مقام پر رکھا جا ئے جو اس کا ہے ، واللہ الموفق

احقر ولی حسن عفی عنہ

دار الافتاء مدرسہ عربیہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحبؒ کے تاثرات

حامدا ومصلیا ومسلما ، اما بعد

بندہ نے مولانا سلیم الدین صاحب شمسی کی زیر نظر تالیف تعارف مضامین قرآن کو متعدد مقامات سے دیکھا ، باجماع مسلمین کتاب اللہ کا مفہوم وہی معتبر اور صحیح ہوگا جو رسول اللہ ﷺ اور رجال اللہ یعنی صحابہ ومن بعدہم نے سمجھا ہو، زیر نظر کتاب میں بیان کردہ مفہوم کو اس معیار پر صحیح پایا، پہلے پوری سورت کا خلاصہ اور پھر ہر رکوع کا مفہوم ماشاء اللہ اختصار کے ساتھ ایسے عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ بہت معمولی استعداد رکھنے والے کے بھی ذہن نشین ہوجائے ، اور معمولی سی توجہ دینے سے ہر سورت کا اجمالی مفہوم حفظ بھی کیا جاسکتا ہے۔

اللہ تعالی مؤلف کی اس محنت کو اہل اسلام کے لیے نافع اور مؤلف کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے اور شرف قبول سے نوازیں ، وما ذلک علی اللہ بعزیز۔

رشید احمد عفی عنہ از دار العلوم کراچی

یوم جمعہ ۲۴ صفر ۱۳۸۲

5,249 Views

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی Holy Quran Persian (Dari) Translation By Molana Muhammad Anwar Badakhshani

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی
جامعه علوم اسلامیه علامه بنوری تاون کراچی پاکستان

Holy Quran Persian (Dari) Translation
By Molana Muhammad Anwar Badakhshani
Jamia Banuri Town karachi Pakistan

لعل بدخشاں! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز

از قلم: مولانا محمد شفیع چترالی

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پیغام ہدایت ہے اور ذریعۂ شفاء ہے۔ اُمت کی ذلت و ادبار کے موجودہ دور میں بھی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا یہ ایک پہلو موجود ہے کہ اس امت کے پاس اللہ کا کلام آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے، جس کی طرف کسی بھی لمحے رجوع کرکے ہم دوبارہ رفعتوں اور بلندیوں کی طرف سفر شروع کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم کو پڑھنے، یاد کرنے، اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے، اس کے معانی و معارف کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے میں ہر دور ہر زمانے میں کام ہوا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اُمت کے افراد اور علماء میں سے جس جس نے بھی جتنے جذبے، لگن اور محنت کےساتھ قرآن کریم کی خدمت کی ’’إن اللّٰہ یر فع بہذا القرآن أقواما‘‘ کی بشارت کے عین مطابق قرآن کریم نے اس کے مقام اور مرتبے کو اتنا ہی بلند کردیا۔ اگر ہم ہندوستان کی ہی مثال سامنے رکھیں تو یہاں قرآن کریم کی سب سے زیادہ خدمت حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان نے کی اور اللہ نے اس خدمت کے عوض اس خاندان کو پورے برصغیر کے لیے علمی و روحانی سند کا درجہ عطا فرمایا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک شہ پارہ ہے، تاہم حضرت کی دیگر تمام تصانیف کو اگر ایک طرف اور’’ بیان القرآن‘‘ کو دوسری طرف رکھا جائے تو ان کی قرآن دانی کا یہ شاہکار سب پر بھاری نظر آتا ہے۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کا اصل شعبہ افتاء تھا، اس شعبے میں مفتی صاحب کا کام ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان کے لیے کافی ہے، لیکن آج حضرت مفتی صاحبؒ کا زیادہ تعارف ’’معارف القرآن‘‘ کے مؤلف کی حیثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ مفتی صاحبؒ کے قابل فخر صاحب زادے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیفات سے آج ایک دنیا استفادہ کر رہی ہے اور مفتی صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا ہے، اس کا حق ادا کیا ہے، لیکن ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جو تاریخ میں ان کے نام کو اَمر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔

ہمارے استاذ گرامی حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان خدمت کرنے کی سعادت بخشی اور ان کی زندگی میں ہی اس خدمت کو ایسی پذیرائی عطا فرمائی کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز بن گیا۔ مولانا کا فارسی ترجمۂ قرآن مدینہ منورہ میں قائم’’ مجمع الملک فہد لطباعۃ القرآن الکریم‘‘ -جو کہ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں طباعت و اشاعت کا سرکاری ادارہ ہے- نے فارسی زبان میں لکھے گئے تمام تراجم میں سے منتخب کرکے شائع کیا اور یہ ترجمہ اب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر سعودی حکومت کی جانب سے پوری دنیائے فارسی میں مفت تقسیم ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کی قومی زبان فارسی ہے اور وہاں بڑے بڑے علماء موجود ہیں، اس کے باوجود پاکستان کے ایک عالم کا ترجمۂ قرآن طباعت کے لیے منظور ہونا پاکستان کے لیے اور پاکستان کے دینی مدارس کے لیے اور بالخصوص مادرِعلمی جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے افغانستان کی وزارتِ مذہبی امور سمیت متعدد فارسی زبان بولنے والے ممالک کے حکام سے اس سلسلے میں تجاویز مانگیں تو سب سے زیادہ آراء مولانا بدخشانی کے ترجمے کے حق میں آئیں اور کچھ لوگوں نے مخصوص وجوہ کی بنا پر اس رائے سے اختلاف کیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ اس پائے کا دوسرا ترجمہ لے کر آئیں، مگر وہ اس کی مثل نہ لاسکے۔ یہ فخر اور اعزاز حاصل کرنے سے پہلے استاذ گرامی مولانا محمد انور بد خشانی مدظلہٗ العالی نے بہت طویل علمی سفر طے کیا۔ قرآن کریم کو سمجھنے، سمجھانے کے لیے جتنے علوم اور معاون فنون (بیس کے قریب) برصغیر پاک و ہند میں پڑھائے جاتے رہے ہیں، ان میں سے ہر علم اور فن کو مولانا نے پڑھا، پڑھایا اور ان میں سے تقریباً ہر ایک علم پر ایک یا ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

اگر میری اس بات کو تلمیذانہ عقیدت پر محمول نہ کیا جائے تو میری نظر میں (جو کہ یقینا محدود ہے) اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا عالم موجود نہیں ہے جو تقریباً تمام مروّجہ منقولات و معقولات پرمولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ جیسا مجتہدانہ عبور رکھتا ہو۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، بلاغت، منطق، فلسفہ اور صرف و نحو وغیرہ کی وہ کتابیں جو موجودہ نصاب میں شامل ہیں، وہ تو آپ نصف صدی سے پڑھارہے ہیں اور ان میں سے ہر موضوع پر آپ کی کتابیں بہت سے اداروں میں شامل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ معقولات کی وہ اعلیٰ پائے کی کتابیں جن کے صرف نام لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے ہیں، مثلاً: صدرا، شمس بازغہ، خیالی، مطول، مسلم الثبوت، سلم، ملاحسن، قاضی مبارک، حمد اللہ، شرح مواقف، شرح چغمینی وغیرہ، یہ سب کتابیں مولانانے اپنے زمانے کے جید ترین معقولی علماء سے باقاعدہ پڑھیں۔

مولانا محمد انور بدخشانی کا مختصر خاندانی و تعلیمی پس منظر یہ ہے کہ آپ۱۹۴۳ء کو افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گاؤں زردہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا مولانا محمد شریف افغانستان کے نامور عالم دین تھے، جو جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی کے ممتاز شاگرد تھے۔ اس طرح مولانا نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور قرآن کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا سے ہی حاصل کی۔ اس زمانے میں تخار افغانستان میں علم و ادب کا ایک بڑا مرکز تھا، اس لیے آپ نے درجاتِ ثانویہ میں صرف و نحو، ادب، بلاغت، فقہ، تفسیر اور منطق کی کتابیںوہاں جاکر پڑھیں اور چھ سال کے عرصے میں اس زمانے کی غیر نصابی ترتیب کے مطابق بیسیوں کتابیں پڑھیں اور ان موضوعات پر بڑی کتابوں کی تعلیم کے لیے دوبارہ اپنے چچامولانا محمد شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشکوٰۃ اور مطول تک کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر آپ۱۹۶۵ء میں پاکستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ کوہاٹ کے دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن میں رہے اور منقولات میں بیضاوی شریف اور معقولات میں میبذی وقاضی مبارک تک کی کتابیں وہاں پڑھیں۔ ۱۹۶۶ء میں آپ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخل ہوئے اور فرید العصر مفتی محمد فریدؒ و دیگر مشایخ سے تفسیر، عقائد او ر فقہ کی کتابوں کی تکمیل کی اور پھر معقولات کی تکمیل کے لیے سوات کا قصد کیا اور دارالعلوم سیدو شریف و دیگر مدارس میں وقت کے ممتاز معقولی علماء مارتونگ بابا جیؒ و دیگر سے منطق، فلسفہ، فلکیات، ہندسہ، حساب وغیرہ کی بیشتر مشہور کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کراچی تشریف لائے اور محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری و دیگر مشایخ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ کراچی کے بزرگوں نے بدخشان کے اس ہیرے کی خوب قدر دانی کی، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے اپنی صاحبزادی آپ کے عقد میں دی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کی نواسی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم اَوّل مولانا نور احمد صاحبؒ کی صاحبزادی آپ کی رفیقۂ حیات بنیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے آپ کو جامعہ فاروقیہ میں تدریس کے لیے منتخب فرمایا اور دو تین سال بعد حضرت بنوریؒ نے آپ کو ان سے واپس مانگ لیا۔ ۱۹۷۲ء سے تاایں دم آپ اپنے شیخ کے ادارے سے وابستہ ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ نے نے نصف صدی سے زائد عرصہ کراچی میں گزارا، مگر ان کی زبان، لہجے اور تلفظ پر فارسی کا اثر آج بھی غالب ہے، ہم کبھی سوچا کرتے تھے کہ اگر استاذ جی اردو زبان وادب پر توجہ دیتے تو شاید عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی آپ کی علمی خدمات کا فیض عام ہوتا، مگر اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے شاید فارسی زبان میں آپ سے اتنا بڑا کام لینا تھا، اس لیے فارسی کے ساتھ آپ کارشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ واللّٰہ غالب علی أمرہٖ ولکن أکثر الناس لایعلمون

3,781 Views

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی Holy Quran Persian (Dari) Translation By Molana Muhammad Anwar Badakhshani

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی
جامعه علوم اسلامیه علامه بنوری تاون کراچی پاکستان

Holy Quran Persian (Dari) Translation
By Molana Muhammad Anwar Badakhshani
Jamia Banuri Town karachi Pakistan

لعل بدخشاں! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز

از قلم: مولانا محمد شفیع چترالی

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پیغام ہدایت ہے اور ذریعۂ شفاء ہے۔ اُمت کی ذلت و ادبار کے موجودہ دور میں بھی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا یہ ایک پہلو موجود ہے کہ اس امت کے پاس اللہ کا کلام آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے، جس کی طرف کسی بھی لمحے رجوع کرکے ہم دوبارہ رفعتوں اور بلندیوں کی طرف سفر شروع کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم کو پڑھنے، یاد کرنے، اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے، اس کے معانی و معارف کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے میں ہر دور ہر زمانے میں کام ہوا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اُمت کے افراد اور علماء میں سے جس جس نے بھی جتنے جذبے، لگن اور محنت کےساتھ قرآن کریم کی خدمت کی ’’إن اللّٰہ یر فع بہذا القرآن أقواما‘‘ کی بشارت کے عین مطابق قرآن کریم نے اس کے مقام اور مرتبے کو اتنا ہی بلند کردیا۔ اگر ہم ہندوستان کی ہی مثال سامنے رکھیں تو یہاں قرآن کریم کی سب سے زیادہ خدمت حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان نے کی اور اللہ نے اس خدمت کے عوض اس خاندان کو پورے برصغیر کے لیے علمی و روحانی سند کا درجہ عطا فرمایا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک شہ پارہ ہے، تاہم حضرت کی دیگر تمام تصانیف کو اگر ایک طرف اور’’ بیان القرآن‘‘ کو دوسری طرف رکھا جائے تو ان کی قرآن دانی کا یہ شاہکار سب پر بھاری نظر آتا ہے۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کا اصل شعبہ افتاء تھا، اس شعبے میں مفتی صاحب کا کام ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان کے لیے کافی ہے، لیکن آج حضرت مفتی صاحبؒ کا زیادہ تعارف ’’معارف القرآن‘‘ کے مؤلف کی حیثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ مفتی صاحبؒ کے قابل فخر صاحب زادے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیفات سے آج ایک دنیا استفادہ کر رہی ہے اور مفتی صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا ہے، اس کا حق ادا کیا ہے، لیکن ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جو تاریخ میں ان کے نام کو اَمر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔

ہمارے استاذ گرامی حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان خدمت کرنے کی سعادت بخشی اور ان کی زندگی میں ہی اس خدمت کو ایسی پذیرائی عطا فرمائی کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز بن گیا۔ مولانا کا فارسی ترجمۂ قرآن مدینہ منورہ میں قائم’’ مجمع الملک فہد لطباعۃ القرآن الکریم‘‘ -جو کہ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں طباعت و اشاعت کا سرکاری ادارہ ہے- نے فارسی زبان میں لکھے گئے تمام تراجم میں سے منتخب کرکے شائع کیا اور یہ ترجمہ اب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر سعودی حکومت کی جانب سے پوری دنیائے فارسی میں مفت تقسیم ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کی قومی زبان فارسی ہے اور وہاں بڑے بڑے علماء موجود ہیں، اس کے باوجود پاکستان کے ایک عالم کا ترجمۂ قرآن طباعت کے لیے منظور ہونا پاکستان کے لیے اور پاکستان کے دینی مدارس کے لیے اور بالخصوص مادرِعلمی جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے افغانستان کی وزارتِ مذہبی امور سمیت متعدد فارسی زبان بولنے والے ممالک کے حکام سے اس سلسلے میں تجاویز مانگیں تو سب سے زیادہ آراء مولانا بدخشانی کے ترجمے کے حق میں آئیں اور کچھ لوگوں نے مخصوص وجوہ کی بنا پر اس رائے سے اختلاف کیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ اس پائے کا دوسرا ترجمہ لے کر آئیں، مگر وہ اس کی مثل نہ لاسکے۔ یہ فخر اور اعزاز حاصل کرنے سے پہلے استاذ گرامی مولانا محمد انور بد خشانی مدظلہٗ العالی نے بہت طویل علمی سفر طے کیا۔ قرآن کریم کو سمجھنے، سمجھانے کے لیے جتنے علوم اور معاون فنون (بیس کے قریب) برصغیر پاک و ہند میں پڑھائے جاتے رہے ہیں، ان میں سے ہر علم اور فن کو مولانا نے پڑھا، پڑھایا اور ان میں سے تقریباً ہر ایک علم پر ایک یا ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

اگر میری اس بات کو تلمیذانہ عقیدت پر محمول نہ کیا جائے تو میری نظر میں (جو کہ یقینا محدود ہے) اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا عالم موجود نہیں ہے جو تقریباً تمام مروّجہ منقولات و معقولات پرمولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ جیسا مجتہدانہ عبور رکھتا ہو۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، بلاغت، منطق، فلسفہ اور صرف و نحو وغیرہ کی وہ کتابیں جو موجودہ نصاب میں شامل ہیں، وہ تو آپ نصف صدی سے پڑھارہے ہیں اور ان میں سے ہر موضوع پر آپ کی کتابیں بہت سے اداروں میں شامل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ معقولات کی وہ اعلیٰ پائے کی کتابیں جن کے صرف نام لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے ہیں، مثلاً: صدرا، شمس بازغہ، خیالی، مطول، مسلم الثبوت، سلم، ملاحسن، قاضی مبارک، حمد اللہ، شرح مواقف، شرح چغمینی وغیرہ، یہ سب کتابیں مولانانے اپنے زمانے کے جید ترین معقولی علماء سے باقاعدہ پڑھیں۔

مولانا محمد انور بدخشانی کا مختصر خاندانی و تعلیمی پس منظر یہ ہے کہ آپ۱۹۴۳ء کو افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گاؤں زردہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا مولانا محمد شریف افغانستان کے نامور عالم دین تھے، جو جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی کے ممتاز شاگرد تھے۔ اس طرح مولانا نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور قرآن کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا سے ہی حاصل کی۔ اس زمانے میں تخار افغانستان میں علم و ادب کا ایک بڑا مرکز تھا، اس لیے آپ نے درجاتِ ثانویہ میں صرف و نحو، ادب، بلاغت، فقہ، تفسیر اور منطق کی کتابیںوہاں جاکر پڑھیں اور چھ سال کے عرصے میں اس زمانے کی غیر نصابی ترتیب کے مطابق بیسیوں کتابیں پڑھیں اور ان موضوعات پر بڑی کتابوں کی تعلیم کے لیے دوبارہ اپنے چچامولانا محمد شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشکوٰۃ اور مطول تک کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر آپ۱۹۶۵ء میں پاکستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ کوہاٹ کے دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن میں رہے اور منقولات میں بیضاوی شریف اور معقولات میں میبذی وقاضی مبارک تک کی کتابیں وہاں پڑھیں۔ ۱۹۶۶ء میں آپ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخل ہوئے اور فرید العصر مفتی محمد فریدؒ و دیگر مشایخ سے تفسیر، عقائد او ر فقہ کی کتابوں کی تکمیل کی اور پھر معقولات کی تکمیل کے لیے سوات کا قصد کیا اور دارالعلوم سیدو شریف و دیگر مدارس میں وقت کے ممتاز معقولی علماء مارتونگ بابا جیؒ و دیگر سے منطق، فلسفہ، فلکیات، ہندسہ، حساب وغیرہ کی بیشتر مشہور کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کراچی تشریف لائے اور محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری و دیگر مشایخ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ کراچی کے بزرگوں نے بدخشان کے اس ہیرے کی خوب قدر دانی کی، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے اپنی صاحبزادی آپ کے عقد میں دی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کی نواسی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم اَوّل مولانا نور احمد صاحبؒ کی صاحبزادی آپ کی رفیقۂ حیات بنیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے آپ کو جامعہ فاروقیہ میں تدریس کے لیے منتخب فرمایا اور دو تین سال بعد حضرت بنوریؒ نے آپ کو ان سے واپس مانگ لیا۔ ۱۹۷۲ء سے تاایں دم آپ اپنے شیخ کے ادارے سے وابستہ ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ نے نے نصف صدی سے زائد عرصہ کراچی میں گزارا، مگر ان کی زبان، لہجے اور تلفظ پر فارسی کا اثر آج بھی غالب ہے، ہم کبھی سوچا کرتے تھے کہ اگر استاذ جی اردو زبان وادب پر توجہ دیتے تو شاید عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی آپ کی علمی خدمات کا فیض عام ہوتا، مگر اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے شاید فارسی زبان میں آپ سے اتنا بڑا کام لینا تھا، اس لیے فارسی کے ساتھ آپ کارشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ واللّٰہ غالب علی أمرہٖ ولکن أکثر الناس لایعلمون

5 Views

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی Holy Quran Persian (Dari) Translation By Molana Muhammad Anwar Badakhshani

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی
جامعه علوم اسلامیه علامه بنوری تاون کراچی پاکستان

Holy Quran Persian (Dari) Translation
By Molana Muhammad Anwar Badakhshani
Jamia Banuri Town karachi Pakistan

لعل بدخشاں! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز

از قلم: مولانا محمد شفیع چترالی

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پیغام ہدایت ہے اور ذریعۂ شفاء ہے۔ اُمت کی ذلت و ادبار کے موجودہ دور میں بھی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا یہ ایک پہلو موجود ہے کہ اس امت کے پاس اللہ کا کلام آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے، جس کی طرف کسی بھی لمحے رجوع کرکے ہم دوبارہ رفعتوں اور بلندیوں کی طرف سفر شروع کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم کو پڑھنے، یاد کرنے، اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے، اس کے معانی و معارف کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے میں ہر دور ہر زمانے میں کام ہوا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اُمت کے افراد اور علماء میں سے جس جس نے بھی جتنے جذبے، لگن اور محنت کےساتھ قرآن کریم کی خدمت کی ’’إن اللّٰہ یر فع بہذا القرآن أقواما‘‘ کی بشارت کے عین مطابق قرآن کریم نے اس کے مقام اور مرتبے کو اتنا ہی بلند کردیا۔ اگر ہم ہندوستان کی ہی مثال سامنے رکھیں تو یہاں قرآن کریم کی سب سے زیادہ خدمت حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان نے کی اور اللہ نے اس خدمت کے عوض اس خاندان کو پورے برصغیر کے لیے علمی و روحانی سند کا درجہ عطا فرمایا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک شہ پارہ ہے، تاہم حضرت کی دیگر تمام تصانیف کو اگر ایک طرف اور’’ بیان القرآن‘‘ کو دوسری طرف رکھا جائے تو ان کی قرآن دانی کا یہ شاہکار سب پر بھاری نظر آتا ہے۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کا اصل شعبہ افتاء تھا، اس شعبے میں مفتی صاحب کا کام ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان کے لیے کافی ہے، لیکن آج حضرت مفتی صاحبؒ کا زیادہ تعارف ’’معارف القرآن‘‘ کے مؤلف کی حیثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ مفتی صاحبؒ کے قابل فخر صاحب زادے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیفات سے آج ایک دنیا استفادہ کر رہی ہے اور مفتی صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا ہے، اس کا حق ادا کیا ہے، لیکن ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جو تاریخ میں ان کے نام کو اَمر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔

ہمارے استاذ گرامی حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان خدمت کرنے کی سعادت بخشی اور ان کی زندگی میں ہی اس خدمت کو ایسی پذیرائی عطا فرمائی کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز بن گیا۔ مولانا کا فارسی ترجمۂ قرآن مدینہ منورہ میں قائم’’ مجمع الملک فہد لطباعۃ القرآن الکریم‘‘ -جو کہ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں طباعت و اشاعت کا سرکاری ادارہ ہے- نے فارسی زبان میں لکھے گئے تمام تراجم میں سے منتخب کرکے شائع کیا اور یہ ترجمہ اب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر سعودی حکومت کی جانب سے پوری دنیائے فارسی میں مفت تقسیم ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کی قومی زبان فارسی ہے اور وہاں بڑے بڑے علماء موجود ہیں، اس کے باوجود پاکستان کے ایک عالم کا ترجمۂ قرآن طباعت کے لیے منظور ہونا پاکستان کے لیے اور پاکستان کے دینی مدارس کے لیے اور بالخصوص مادرِعلمی جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے افغانستان کی وزارتِ مذہبی امور سمیت متعدد فارسی زبان بولنے والے ممالک کے حکام سے اس سلسلے میں تجاویز مانگیں تو سب سے زیادہ آراء مولانا بدخشانی کے ترجمے کے حق میں آئیں اور کچھ لوگوں نے مخصوص وجوہ کی بنا پر اس رائے سے اختلاف کیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ اس پائے کا دوسرا ترجمہ لے کر آئیں، مگر وہ اس کی مثل نہ لاسکے۔ یہ فخر اور اعزاز حاصل کرنے سے پہلے استاذ گرامی مولانا محمد انور بد خشانی مدظلہٗ العالی نے بہت طویل علمی سفر طے کیا۔ قرآن کریم کو سمجھنے، سمجھانے کے لیے جتنے علوم اور معاون فنون (بیس کے قریب) برصغیر پاک و ہند میں پڑھائے جاتے رہے ہیں، ان میں سے ہر علم اور فن کو مولانا نے پڑھا، پڑھایا اور ان میں سے تقریباً ہر ایک علم پر ایک یا ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

اگر میری اس بات کو تلمیذانہ عقیدت پر محمول نہ کیا جائے تو میری نظر میں (جو کہ یقینا محدود ہے) اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا عالم موجود نہیں ہے جو تقریباً تمام مروّجہ منقولات و معقولات پرمولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ جیسا مجتہدانہ عبور رکھتا ہو۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، بلاغت، منطق، فلسفہ اور صرف و نحو وغیرہ کی وہ کتابیں جو موجودہ نصاب میں شامل ہیں، وہ تو آپ نصف صدی سے پڑھارہے ہیں اور ان میں سے ہر موضوع پر آپ کی کتابیں بہت سے اداروں میں شامل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ معقولات کی وہ اعلیٰ پائے کی کتابیں جن کے صرف نام لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے ہیں، مثلاً: صدرا، شمس بازغہ، خیالی، مطول، مسلم الثبوت، سلم، ملاحسن، قاضی مبارک، حمد اللہ، شرح مواقف، شرح چغمینی وغیرہ، یہ سب کتابیں مولانانے اپنے زمانے کے جید ترین معقولی علماء سے باقاعدہ پڑھیں۔

مولانا محمد انور بدخشانی کا مختصر خاندانی و تعلیمی پس منظر یہ ہے کہ آپ۱۹۴۳ء کو افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گاؤں زردہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا مولانا محمد شریف افغانستان کے نامور عالم دین تھے، جو جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی کے ممتاز شاگرد تھے۔ اس طرح مولانا نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور قرآن کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا سے ہی حاصل کی۔ اس زمانے میں تخار افغانستان میں علم و ادب کا ایک بڑا مرکز تھا، اس لیے آپ نے درجاتِ ثانویہ میں صرف و نحو، ادب، بلاغت، فقہ، تفسیر اور منطق کی کتابیںوہاں جاکر پڑھیں اور چھ سال کے عرصے میں اس زمانے کی غیر نصابی ترتیب کے مطابق بیسیوں کتابیں پڑھیں اور ان موضوعات پر بڑی کتابوں کی تعلیم کے لیے دوبارہ اپنے چچامولانا محمد شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشکوٰۃ اور مطول تک کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر آپ۱۹۶۵ء میں پاکستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ کوہاٹ کے دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن میں رہے اور منقولات میں بیضاوی شریف اور معقولات میں میبذی وقاضی مبارک تک کی کتابیں وہاں پڑھیں۔ ۱۹۶۶ء میں آپ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخل ہوئے اور فرید العصر مفتی محمد فریدؒ و دیگر مشایخ سے تفسیر، عقائد او ر فقہ کی کتابوں کی تکمیل کی اور پھر معقولات کی تکمیل کے لیے سوات کا قصد کیا اور دارالعلوم سیدو شریف و دیگر مدارس میں وقت کے ممتاز معقولی علماء مارتونگ بابا جیؒ و دیگر سے منطق، فلسفہ، فلکیات، ہندسہ، حساب وغیرہ کی بیشتر مشہور کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کراچی تشریف لائے اور محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری و دیگر مشایخ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ کراچی کے بزرگوں نے بدخشان کے اس ہیرے کی خوب قدر دانی کی، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے اپنی صاحبزادی آپ کے عقد میں دی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کی نواسی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم اَوّل مولانا نور احمد صاحبؒ کی صاحبزادی آپ کی رفیقۂ حیات بنیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے آپ کو جامعہ فاروقیہ میں تدریس کے لیے منتخب فرمایا اور دو تین سال بعد حضرت بنوریؒ نے آپ کو ان سے واپس مانگ لیا۔ ۱۹۷۲ء سے تاایں دم آپ اپنے شیخ کے ادارے سے وابستہ ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ نے نے نصف صدی سے زائد عرصہ کراچی میں گزارا، مگر ان کی زبان، لہجے اور تلفظ پر فارسی کا اثر آج بھی غالب ہے، ہم کبھی سوچا کرتے تھے کہ اگر استاذ جی اردو زبان وادب پر توجہ دیتے تو شاید عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی آپ کی علمی خدمات کا فیض عام ہوتا، مگر اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے شاید فارسی زبان میں آپ سے اتنا بڑا کام لینا تھا، اس لیے فارسی کے ساتھ آپ کارشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ واللّٰہ غالب علی أمرہٖ ولکن أکثر الناس لایعلمون

5 Views

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی Holy Quran Persian (Dari) Translation By Molana Muhammad Anwar Badakhshani

قرآن کریم و ترجمه معانی آن به زبان فارسی دری، از مولانا محمد انور بدخشانی
جامعه علوم اسلامیه علامه بنوری تاون کراچی پاکستان

Holy Quran Persian (Dari) Translation
By Molana Muhammad Anwar Badakhshani
Jamia Banuri Town karachi Pakistan

لعل بدخشاں! مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہ کی قرآنی خدمت کا دنیوی اعزاز

از قلم: مولانا محمد شفیع چترالی

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابدی پیغام ہدایت ہے اور ذریعۂ شفاء ہے۔ اُمت کی ذلت و ادبار کے موجودہ دور میں بھی ہمارے لیے اطمینان اور تسلی کا یہ ایک پہلو موجود ہے کہ اس امت کے پاس اللہ کا کلام آج بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے، جس کی طرف کسی بھی لمحے رجوع کرکے ہم دوبارہ رفعتوں اور بلندیوں کی طرف سفر شروع کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم کو پڑھنے، یاد کرنے، اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے، اس کے معانی و معارف کو سمجھنے سمجھانے اور اس کی تعلیمات کو پھیلانے میں ہر دور ہر زمانے میں کام ہوا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اُمت کے افراد اور علماء میں سے جس جس نے بھی جتنے جذبے، لگن اور محنت کےساتھ قرآن کریم کی خدمت کی ’’إن اللّٰہ یر فع بہذا القرآن أقواما‘‘ کی بشارت کے عین مطابق قرآن کریم نے اس کے مقام اور مرتبے کو اتنا ہی بلند کردیا۔ اگر ہم ہندوستان کی ہی مثال سامنے رکھیں تو یہاں قرآن کریم کی سب سے زیادہ خدمت حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان نے کی اور اللہ نے اس خدمت کے عوض اس خاندان کو پورے برصغیر کے لیے علمی و روحانی سند کا درجہ عطا فرمایا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل تحریر فرمائے، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک شہ پارہ ہے، تاہم حضرت کی دیگر تمام تصانیف کو اگر ایک طرف اور’’ بیان القرآن‘‘ کو دوسری طرف رکھا جائے تو ان کی قرآن دانی کا یہ شاہکار سب پر بھاری نظر آتا ہے۔

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کا اصل شعبہ افتاء تھا، اس شعبے میں مفتی صاحب کا کام ان کے علمی مقام و مرتبے کے بیان کے لیے کافی ہے، لیکن آج حضرت مفتی صاحبؒ کا زیادہ تعارف ’’معارف القرآن‘‘ کے مؤلف کی حیثیت سے ہی کیا جاتا ہے۔ مفتی صاحبؒ کے قابل فخر صاحب زادے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیفات سے آج ایک دنیا استفادہ کر رہی ہے اور مفتی صاحب نے جس موضوع پر بھی لکھا ہے، اس کا حق ادا کیا ہے، لیکن ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جو تاریخ میں ان کے نام کو اَمر کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے گا۔

ہمارے استاذ گرامی حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ (استاذِ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی) کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک عظیم الشان خدمت کرنے کی سعادت بخشی اور ان کی زندگی میں ہی اس خدمت کو ایسی پذیرائی عطا فرمائی کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز بن گیا۔ مولانا کا فارسی ترجمۂ قرآن مدینہ منورہ میں قائم’’ مجمع الملک فہد لطباعۃ القرآن الکریم‘‘ -جو کہ قرآن کریم کی مختلف زبانوں میں طباعت و اشاعت کا سرکاری ادارہ ہے- نے فارسی زبان میں لکھے گئے تمام تراجم میں سے منتخب کرکے شائع کیا اور یہ ترجمہ اب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوکر سعودی حکومت کی جانب سے پوری دنیائے فارسی میں مفت تقسیم ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی ممالک ہیں جن کی قومی زبان فارسی ہے اور وہاں بڑے بڑے علماء موجود ہیں، اس کے باوجود پاکستان کے ایک عالم کا ترجمۂ قرآن طباعت کے لیے منظور ہونا پاکستان کے لیے اور پاکستان کے دینی مدارس کے لیے اور بالخصوص مادرِعلمی جامعۃ العلوم الاسلامیۃ علامہ بنوری ٹاؤن کے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی حکومت نے افغانستان کی وزارتِ مذہبی امور سمیت متعدد فارسی زبان بولنے والے ممالک کے حکام سے اس سلسلے میں تجاویز مانگیں تو سب سے زیادہ آراء مولانا بدخشانی کے ترجمے کے حق میں آئیں اور کچھ لوگوں نے مخصوص وجوہ کی بنا پر اس رائے سے اختلاف کیا تو ان سے کہا گیا کہ آپ اس پائے کا دوسرا ترجمہ لے کر آئیں، مگر وہ اس کی مثل نہ لاسکے۔ یہ فخر اور اعزاز حاصل کرنے سے پہلے استاذ گرامی مولانا محمد انور بد خشانی مدظلہٗ العالی نے بہت طویل علمی سفر طے کیا۔ قرآن کریم کو سمجھنے، سمجھانے کے لیے جتنے علوم اور معاون فنون (بیس کے قریب) برصغیر پاک و ہند میں پڑھائے جاتے رہے ہیں، ان میں سے ہر علم اور فن کو مولانا نے پڑھا، پڑھایا اور ان میں سے تقریباً ہر ایک علم پر ایک یا ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

اگر میری اس بات کو تلمیذانہ عقیدت پر محمول نہ کیا جائے تو میری نظر میں (جو کہ یقینا محدود ہے) اس وقت پاکستان میں کوئی ایسا عالم موجود نہیں ہے جو تقریباً تمام مروّجہ منقولات و معقولات پرمولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ جیسا مجتہدانہ عبور رکھتا ہو۔ تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، بلاغت، منطق، فلسفہ اور صرف و نحو وغیرہ کی وہ کتابیں جو موجودہ نصاب میں شامل ہیں، وہ تو آپ نصف صدی سے پڑھارہے ہیں اور ان میں سے ہر موضوع پر آپ کی کتابیں بہت سے اداروں میں شامل نصاب ہیں۔ اس کے علاوہ معقولات کی وہ اعلیٰ پائے کی کتابیں جن کے صرف نام لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہ گئے ہیں، مثلاً: صدرا، شمس بازغہ، خیالی، مطول، مسلم الثبوت، سلم، ملاحسن، قاضی مبارک، حمد اللہ، شرح مواقف، شرح چغمینی وغیرہ، یہ سب کتابیں مولانانے اپنے زمانے کے جید ترین معقولی علماء سے باقاعدہ پڑھیں۔

مولانا محمد انور بدخشانی کا مختصر خاندانی و تعلیمی پس منظر یہ ہے کہ آپ۱۹۴۳ء کو افغانستان کے صوبہ بدخشان کے گاؤں زردہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے چچا مولانا محمد شریف افغانستان کے نامور عالم دین تھے، جو جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی کے ممتاز شاگرد تھے۔ اس طرح مولانا نے ایک علمی ماحول میں آنکھ کھولی اور قرآن کریم اور عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے چچا سے ہی حاصل کی۔ اس زمانے میں تخار افغانستان میں علم و ادب کا ایک بڑا مرکز تھا، اس لیے آپ نے درجاتِ ثانویہ میں صرف و نحو، ادب، بلاغت، فقہ، تفسیر اور منطق کی کتابیںوہاں جاکر پڑھیں اور چھ سال کے عرصے میں اس زمانے کی غیر نصابی ترتیب کے مطابق بیسیوں کتابیں پڑھیں اور ان موضوعات پر بڑی کتابوں کی تعلیم کے لیے دوبارہ اپنے چچامولانا محمد شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے، مشکوٰۃ اور مطول تک کتابیں ان سے پڑھیں۔ پھر آپ۱۹۶۵ء میں پاکستان تشریف لائے اور کچھ عرصہ کوہاٹ کے دارالعلوم انجمن تعلیم القرآن میں رہے اور منقولات میں بیضاوی شریف اور معقولات میں میبذی وقاضی مبارک تک کی کتابیں وہاں پڑھیں۔ ۱۹۶۶ء میں آپ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخل ہوئے اور فرید العصر مفتی محمد فریدؒ و دیگر مشایخ سے تفسیر، عقائد او ر فقہ کی کتابوں کی تکمیل کی اور پھر معقولات کی تکمیل کے لیے سوات کا قصد کیا اور دارالعلوم سیدو شریف و دیگر مدارس میں وقت کے ممتاز معقولی علماء مارتونگ بابا جیؒ و دیگر سے منطق، فلسفہ، فلکیات، ہندسہ، حساب وغیرہ کی بیشتر مشہور کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کراچی تشریف لائے اور محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری و دیگر مشایخ سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ کراچی کے بزرگوں نے بدخشان کے اس ہیرے کی خوب قدر دانی کی، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری نے اپنی صاحبزادی آپ کے عقد میں دی اور ان کی وفات کے بعد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع کی نواسی اور دارالعلوم کراچی کے ناظم اَوّل مولانا نور احمد صاحبؒ کی صاحبزادی آپ کی رفیقۂ حیات بنیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے آپ کو جامعہ فاروقیہ میں تدریس کے لیے منتخب فرمایا اور دو تین سال بعد حضرت بنوریؒ نے آپ کو ان سے واپس مانگ لیا۔ ۱۹۷۲ء سے تاایں دم آپ اپنے شیخ کے ادارے سے وابستہ ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی مدظلہٗ نے نے نصف صدی سے زائد عرصہ کراچی میں گزارا، مگر ان کی زبان، لہجے اور تلفظ پر فارسی کا اثر آج بھی غالب ہے، ہم کبھی سوچا کرتے تھے کہ اگر استاذ جی اردو زبان وادب پر توجہ دیتے تو شاید عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی آپ کی علمی خدمات کا فیض عام ہوتا، مگر اب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ نے شاید فارسی زبان میں آپ سے اتنا بڑا کام لینا تھا، اس لیے فارسی کے ساتھ آپ کارشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ واللّٰہ غالب علی أمرہٖ ولکن أکثر الناس لایعلمون

5 Views

استخارہ سنت کے مطابق کیجیے

جمع وترتیب: مفتی عمر انور بدخشانی
استاذ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

کتاب کا تعارف

بزرگوں سے سنا ہے کہ انسان سنت نبوی سے جتنا دور ہوتا جاتا ہے اتنا ہی بدعات اور گمراہیوں میں گھرتا چلا جاتا ہے ، جیسے جیسے وقت گذرتا جارہا ہے اسلام کی سادہ اور آسان تعلیمات کے بارے میں بخوبی اس کا مشاہدہ بھی سامنے آرہا ہے کہ زندگی کے جس گوشے میں سنت طریقے کو چھوڑا گیا وہاں خرابیوں نے جنم لیا، پھر وہ آسان کام مشکل اور زحمت بن گیا اور اسے پورا کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت استخارہ کے ساتھ بھی اسی قسم کا معاملہ ہوتا جارہا ہے ، استخارہ کا طریقہ حدیث نبوی میں صراحت کے ساتھ موجود ہے ، لیکن عوام میں استخارہ کا آسان اور مسنون عمل شعبدہ بازی اور جادو کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے ، استخارہ کیا ہے؟ اس کی حقیقت اور مقصد کیا ہے ؟ استخارہ کب کرنا چاہیے ؟ استخارہ خود کرنا چاہیے یا کسی سے کروانا چاہیے ؟ استخارہ کے لیے کیا کوئی خاص وقت مقرر ہے ؟ پیش نظر کتاب میں استخارہ سے متعلق مذکورہ اور دیگر ضروری باتوں کو سنت نبوی اور حضرات علماء کرام کی تشریحات کی مدد سے اس کتاب میں جمع کردیا گیا ہے ، ساتھ ہی استخارہ سے متعلق مختلف قسم کی جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں ہیں ان کی بھی نشاندہی کردی گئی ہے ۔

 اللہ تعالی نے اپنے فضل اور بزرگوں کی برکت سے اسے کو بہت مقبولیت عطا فرمائی ، یہ مضمون ماہنامہ بینات جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں پہلی بار قسط وار شائع ہوا ، اس کے بعد ماہنامہ دار العلوم دیوبند، الحق دار العلوم حقانیہ ، الفاروق جامعہ فاروقیہ اور اس جیسے دیگر کئی وقیع جرائد میں بھی شائع ہوا، علاوہ ازیں گذشتہ بارہ سال سے  مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بھی بہت زیادہ پڑھا گیا ، دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین

عمرانور بدخشانی

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب کے تاثرات

استخارہ مسنون عمل ہے ، حضور ﷺ ، صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کو استخارہ کی باقاعدہ تعلیم دیا کرتے تھے ، استخارہ کرنا سعادت مندی اور نہ کرنا یا اسے ترک کردینا یہ محرومی کی علامت ہے ، ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ استخارہ کا اہتمام کرنے والا ناکام نہیں ہوتا، اور مشورے کا اہتمام کرنے والے کو شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی، اس وقت امت مسلمہ کا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ وہ اس مسنون عمل سے بے خبر ہے ، دوسری طرف استخارے کے نام پر لوگوں نے کئی خرافات متعارف کروا رکھی ہیں جو سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دے کر ان سے مال ہتھیانے میں مصروف ہیں، ایسے مواقع پر اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ استخارے کی حقیقت ، اس کا مسنون طریقہ اور اس کے فوائد وثمرات کو عام فہم دینی انداز میں پیش کریں ، اس سے جہاں عوام الناس کی صحیح دینی رہنمائی ہوگی وہاں ایک سنت کا احیا بھی ہوگا، اوردین نا آشنا دور میں کسی سنت کا احیا کرنا مقام شہادت پانے کے مترادف ہے ۔

اللہ تعالی علمائے دین کو جزائے خیر عطا فرمائے انہوں نے اس موضوع پر مختصر ومفصل کئی کتابچے اور رسالے مرتب فرمائے ہیں جن سے امت فائدہ اٹھارہی ہے ، اکابر امت کے انہی علمی جواہر پاروں سے استفادہ کرتے ہوئے ہماری جامعہ کے استاذ عزیزم مولوی محمد عمر انور سلمہ نے استخارے کے موضوع پر ایک مضمون لکھا تھا جو ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، بینات کی اشاعت میں شامل ہونے کی وجہ سے اور عوام الناس کے لیے عام فہم اور سہل انداز میں ہونے کی وجہ سے یہ مضمون بہت پسند کیا گیا ، کئی معاصر رسالوں نے اسے شامل اشاعت بھی کیا ، یہ پذیرائی اس مضمون کے قابل استفادہ ہونے کی دلیل ہے ۔

عزیزم مولوی محمد عمر انور کو اللہ تعالی جزائے خیر دے انہوں نے امت کی طلب وضرورت کے پیش نظر اس مضمون کو طبع کرکے شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے ، اللہ تعالی اس مفید کوشش کو بار آورا فرمائے ، موصوف کو اس قسم کے کاموں کی مزید توفیق نصیب فرمائے اور ان کے علم وعمل میں برکت وترقی مقدر فرمائے ، آمین

ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

رئیس جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

۱۴۳۲-۴-۲۴

4,085 Views
error: Content is protected !!