آل
اس کی اصل ’’اہل‘‘ ہے۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ ’’آل‘‘ صرف شرفاء کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ’’اہل‘‘ اشراف و اراذل سب کے لیے بولاجاتا ہے۔ مثلاً اہل لغت کے علی الرغم اہل الحجام کہہ سکتے ہیں۔ آل الحجام نہیں کہہ سکتے۔ آل نبی آل رسول کہہ سکتے ہیں۔ اہل نبی اہل رسول نہیں کہہ سکتے۔ اہل لغت کی یہ تفریق محض شاعرانہ ہے، کیونکہ ہم ’’آل‘‘ کا اطلاق اللہ پر نہیں کرسکتے بلکہ اہل اللہ اور اہل بیت رسول اللہ اور اہل لغت بولا کرتے ہیں۔ اگر ’’اہل‘‘ صرف اراذل کے لیے مخصوص ہوتا تو اہل لغت کم از کم اپنے لیے اہل لغت کہلانا کب پسند کرتے لفظ اہل زمان ومکان کی طرف منسوب ہوجاتا ہے لفظ آل منسوب نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اہل کراچی اہل زبان کہہ سکتے ہیں آل کراچی، آل زبان نہیں کہہ سکتے۔
