حرمت صحابہؓ : قرآن کریم کیا کہتا ہے ؟ از مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ

حرمت صحابہ: دین اور شریعت کی حفاظت

حضرت رسول اللہ ﷺ جب خاتم النبیین ہوئے، او ر منصب رسالت ونبوت کی سیادتِ کبریٰ سے مشرف ہوئے اور آپ ﷺ کی شریعت کو آخری شریعت اور قیامت تک آنے والی تمام قوموں اور نسلوں کے لیے آخری قانون بنایا گیا تو اس کے لیے دوچیزوں کی ضرورت تھی:

۱-ایک یہ کہ آسمانی قانون قیامت تک جوں کاتوں محفوظ رہے، ہر قسم کی تحریف وتبدیل سے اس کی حفاظت کی جائے، الفاظ کی بھی اور معانی کی بھی، کیونکہ اگر الفاظ کی حفاظت ہو اور معانی کی حفاظت نہ ہو، تو یہ حفاظت بالکل بے معنی ہے۔
۲-دوم یہ کہ جس طرح علمی حفاظت ہو، اسی طرح عملی حفاظت بھی ہو۔

اسلام محض چند اصول ونظریات اور علوم وافکار کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ اپنے جلو میں ایک نظامِ عمل لے کر چلتا ہے، وہ جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں اصول وقواعد پیش کرتا ہے، و ہاں ایک ایک جزئیہ کی عملی تشکیل بھی کرتا ہے، اس لیے یہ ضروری تھاکہ شریعت محمدیہ (علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام) کی علمی وعملی دونوں پہلؤوں سے حفاظت کی جائے اور قیامت تک ایک ایسی جماعت کا سلسلہ قائم رہے جو شریعت مطہرہ کے علم وعمل کی حامل وامین ہو، حق تعالیٰ نے دین محمدی کی دونوں طرح حفاظت فرمائی، علمی بھی اور عملی بھی۔

حفاظت کے ذرائع میں صحابۂ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی جماعت سرفہرست ہے، ان حضرات نے براہ ِراست صاحب وحی ا سے دین کو سمجھا، دین پر عمل کیا اور اپنے بعد آنے والی نسل تک دین کو من وعَن پہنچایا، انہوںنے آپ ﷺ کے زیرِ تربیت رہ کر اخلاق واعمال کو ٹھیک ٹھیک منشائے خداوندی کے مطابق درست کیا، سیرت وکردار کی پاکیزگی حاصل کی، تمام باطل نظریات سے کنارہ کش ہو کر عقائد حقہ اختیار کیے، رضائے الٰہی کے لیے اپنا سب کچھ رسول اللہ ﷺکے قدموں پر نچھاور کردیا، ان کے کسی طرزِ عمل میں ذرا خامی نظر آئی تو فوراً حق جل مجدہٗ نے اس کی اصلاح فرمائی، الغرض حضراتِ صحابہ کرامؓ کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے، جن کی تعلیم وتربیت اورتصفیہ وتزکیہ کے لیے سرورِ کائنات محمدرسول اللہ ا کو معلم ومزکّی اور استاذواتالیق مقرر کیا گیا۔ اس انعامِ خداوندی پروہ جتنا شکر کریں کم ہے، جتنا فخر کریں بجا ہے:

’’ لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلٰی الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً مِّنْ أَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ أٰیٰـتِـہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘‘۔ (آل عمران:۱۶۴)

’’بخدا بہت بڑا اِحسان فرمایا اللہ نے مومنین پر کہ بھیجا ان میں ایک عظیم الشان رسول ان ہی میں سے،وہ پڑھتا ہے ان کے سامنے اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور گہری دانائی۔ بلاشبہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے‘‘۔

صحابہ کرام: قرآن کریم کی روشنی میں

آنحضرت ﷺ کی علمی وعملی میراث اور آسمانی امانت چونکہ ان حضرات کے سپردکی جارہی تھی، اس لیے ضروری تھا یہ حضرات آئندہ نسلوں کے لیے قابل اعتماد ہوں، چنانچہ قرآن وحدیث میں جابجا ان کے فضائل ومناقب بیان کیے گئے، چنانچہ:

۱-صحابہ کرام: رسالت محمدیہ کے عادل گواہ

الف:…وحیِ خداوندی نے ان کی تعدیل فرمائی، ان کا تزکیہ کیا، ان کے اخلاص وللہیت پر شہادت دی اور اُنہیں یہ رتبۂ بلند ملا کہ ان کو رسالت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف صلاۃ وسلام) کے عادل گواہوں کی حیثیت سے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا:

’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَ شِدَّائُ عَلٰی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ تَرَاھُمْ رُکَّعاً سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًامِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَا ھُمْ فِیْ وُجُوْھِھِمْ مِّنْ أَثَرِالسُّجُوْدِ‘‘۔(الفتح:۲۹)۔

’’محمد( ﷺ) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیںاور جو ایماندار آپ (ﷺ)کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں شفیق ہیں،تم ان کو دیکھو گے رکوع، سجدے میں۔ وہ چاہتے ہیں صرف اللہ کا فضل اوراس کی رضا مندی، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدے کا نشان ہے‘‘۔

گویا یہاں’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘(محمد -ﷺ-اللہ کے رسول ہیں) ایک دعویٰ ہے اور اس کے ثبوت میں حضرات صحابہ کرامؓ کی سیرت وکردار کو پیش کیا گیا ہے کہ جسے آنحضرت ﷺ کی صداقت میں شک وشبہ ہو، اسے آپ ﷺ کے ساتھیوں کی پاکیزہ زندگی کا ایک نظر مطالعہ کرنے کے بعد خود اپنے ضمیر سے یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ جس کے رفقاء اتنے بلند سیرت اور پاکباز ہوں وہ خود صدق وراستی کے کتنے اونچے مقام پر فائز ہوں گے:’’ کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا ‘‘

۲-صحابہ کرام :معیارحق

ب:…حضراتِ صحابہؓ کے ایمان کو ’’معیارِ حق‘‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی، بلکہ ان حضرات کے بارے میں لب کشائی کرنے والوں پر نفاق وسفاہت کی دائمی مہرثبت کردی گئی:

’’ وَإِذَا قِیْلَ لَھُمْ أٰمِنُوْا کَمَا أٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْا أَ نُؤْمِنُ کَمَا أٰمَنَ السُّفَہَائُ أَ لَا إِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَہَائُ وَلٰـکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ‘‘۔ (البقرۃ:۱۳)۔

’’اور جب ان (منافقوں) سے کہا جائے :تم بھی ایسا ہی ایمان لاؤ جیسا دوسرے لوگ (صحابہ کرامؓ) ایمان لائے ہیں،تو جواب میں کہتے ہیں ’’کیاہم ان بے وقوفوں جیسا ایمان لائیں؟ سن رکھو یہ خود ہی بے وقوف ہیں، مگر نہیں جانتے‘‘۔

۳-صحابہ کرام: اللہ ان سے راضی ہے

ج:…حضراتِ صحابہ کرامؓ کو باربار’’ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْاعَنْہُ ‘‘(اللہ ان سے راضی ہوا، وہ اللہ سے راضی ہوئے) کی بشارت دی گئی اور اُمت کے سامنے یہ اس شدت وکثرت سے دہرایا گیا کہ صحابہ کرامؓ کا یہ لقب امت کا تکیہ کلام بن گیا ،کسی نبی کا اسم گرامی آپ’’ علیہ السلام‘‘ کے بغیر نہیں لے سکتے اور کسی صحابی رسول کا نامِ نامی ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے بغیر مسلمان کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ظاہر کو دیکھ کرراضی نہیں ہوا، نہ صرف ان کے موجودہ کارناموں کو دیکھ کر، بلکہ ان کے ظاہروباطن اور حال ومستقبل کو دیکھ کر ان سے راضی ہوا ہے، یہ گویا اس بات کی ضمانت ہے کہ آخر دم تک ان سے رضائے الٰہی کے خلاف کچھ صادر نہیں ہو گا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جس سے خداراضی ہوجائے، خدا کے بندوں کو بھی اس سے راضی ہو جاناچاہیے۔ کسی اور کے بارے میں توظن وتخمین ہی سے کہاجاسکتا ہے کہ خدا اس سے راضی ہے یا نہیں؟ مگر صحابہ کرامؓ کے بارے میں تونصِ قطعی موجود ہے، اس کے باوجوداگر کوئی ان سے راضی نہیں ہوتا تو گویا اُسے اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہے اور پھر اتنی بات کو کافی نہیں سمجھا گیا کہ ’’ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا‘‘بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ان حضرات کی عزت افزائی کی انتہا ہے۔

۴-صحابہ کی مخالفت گویا رسول اللہ ﷺ کی مخالفت

د:…حضرات صحابہ کرامؓ کے مسلک کو ’’معیاری راستہ‘‘قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کو براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کے ہم معنی قراردیا گیا اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو وعید سنائی گئی:

’’ وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہٗ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی‘‘۔ (النساء:۱۱۵)۔

’’اور جو شخص مخالفت کرے رسول اللہ( ﷺ) کی جب کہ اس کے سامنے ہدایت کھل چکی اور چلے مومنوں کی راہ چھوڑ کر، ہم اُسے پھیر دیں گے جس طرف پھرتا ہے‘‘۔

آیت میں ’’المؤمنین‘‘ کا اولین مصداق اصحاب النبی کی مقدس جماعت ہے، رضی اللّٰہ عنہم۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اتباعِ نبوی کی صحیح شکل صحابہ کرامؓ کی سیرت وکردار اور ان کے اخلاق و اعمال کی پیروی میں منحصر ہے او ریہ جب ہی ممکن ہے جب کہ صحابہؓ کی سیرت کو اسلام کے اعلیٰ معیار پر تسلیم کیا جائے۔

۵-صحابہ کرام کے لیے آخرت میں اللہ تعالی کی طرف سےخصوصی اعزاز

ہ:…اور سب سے آخری بات یہ کہ اُنہیں آنحضرت ﷺ کے سایۂ عاطفت میں آخرت کی ہر عزت سے سرفراز کرنے اور ہر ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھنے کا اعلان فرمایاگیا:

’’ یَوْمَ لَا یُخْزِیْ اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ أٰمَنُوْا مَعَہٗ نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ أَیْدِیْھِمْ وَبِأَیْمَا نِھِمْ‘‘۔ التحریم:۸)۔

’’جس دن رسوا نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ نبی کو اور جو مومن ہوئے آپ (ﷺ) کے ساتھ،ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے داہنے‘‘۔

اس قسم کی بیسیوں نہیں، بلکہ سینکڑوں آیات میں صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب مختلف عنوانات سے بیان فرمائے گئے ہیں اور اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ دین کے سلسلۂ سند کی یہ پہلی کڑی اور حضرت خاتم الا نبیاء ﷺکے صحبت یافتہ حضرات کی جماعتؓ-معاذ اللہ- ناقابل اعتماد ثابت ہو، ان کے اخلاق واعمال میں خرابی نکالی جائے اور ان کے بارے میں یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ دین کی علمی وعملی تدبیر نہیں کرسکے تو دین اسلام کا سارا ڈھانچہ ہل جاتا ہے اور خاکم بدہن! رسالت محمدیہ مجروح ہوجاتی ہے۔

یہ مضمون انگریزی زبان میں پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:

https://islaminsight.org/2020/06/16/the-sanctity-of-companions-what-quran-says-about-the-sahabah-the-orthodox-position-by-maulana-syed-muhammad-yusuf-banuri/
3,410 Views

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!